جنگ، معیشت اور انسانیت کا خسارہ
دنیا ایک بار پھر اس مقام پر کھڑی ہے جہاں سفارت کاری کی میزیں بھی بچھی ہوئی ہیں اور جنگی طیارے بھی فضا میں گشت کر رہے ہیں۔ جینیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات نے وقتی طور پر یہ امید ضرور پیدا کی تھی کہ شاید ایک نیا معاہدہ جنم لے گا، جیسا کہ ماضی میں 2015 کے جوہری معاہدے کی صورت میں ہوا تھا۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا تھا، اور عالمی طاقتیں ایک ممکنہ تصادم کو روکنے کے قریب نظر آ رہی تھیں۔
مگر جون 2025 میں، انہی مذاکرات کے دوران، ایران پر حملہ ہوا۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب بات چیت کے ساتھ ساتھ طاقت کا استعمال کیا گیا ہو، مگر اس بار اس نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ عالمی سیاست میں اعتماد ایک نایاب شے بن چکا ہے۔
پھر 28 فروردی 2026 کا واقعہ—ایک ایسا موڑ جس نے اس تنازعے کو مکمل جنگی کیفیت میں بدل دیا۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت کو ابتدائی حملے میں نشانہ بنایا گیا، اور اس کے بعد متبادل قیادت کو بھی ختم کرنے کی مسلسل کوششیں جاری رہیں۔ یہ حکمت عملی کسی ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورے نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔
مگر ایران نے خاموشی اختیار نہیں کی۔ اس نے جواب دیا—مسلسل اور شدید۔ امریکی اور اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس ردعمل نے یہ واضح کیا کہ ریاستیں صرف قیادت سے نہیں بلکہ اجتماعی ارادے سے چلتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس مزاحمت کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔ یوٹیوبرز اور تجزیہ کار اسے استقامت اور حوصلے کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ مگر اس بیانیے کے پیچھے ایک حقیقت ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے—اور وہ ہے معیشت، اور اس سے جڑی عوام کی زندگی۔
ایران ایک طویل عرصے سے اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے۔ کرنسی کی قدر میں کمی، مہنگائی میں اضافہ، بے روزگاری، اور بنیادی اشیاء کی قلت—یہ سب عوامل پہلے ہی عوام کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔ اب جنگی اخراجات، سپلائی لائنز کی رکاوٹ، اور عالمی تنہائی اس دباؤ کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔
یہاں ایک اور بڑی حقیقت بھی سامنے آتی ہے جس پر کم بات ہو رہی ہے:
ہر گزرتے دن کے ساتھ دنیا مجموعی طور پر معاشی دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ توانائی کے وسائل—تیل اور گیس—صرف متحارب ممالک کا مسئلہ نہیں رہتے۔ ان کی کمیابی پوری دنیا کو متاثر کرتی ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو صرف ایک ملک نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت ہل جاتی ہے۔ ٹرانسپورٹ، صنعت، خوراک—سب کچھ متاثر ہوتا ہے۔
اس کے باوجود، امن کے لیے سنجیدہ کوشش کرنے والے ممالک کی تعداد نہایت کم دکھائی دیتی ہے۔ زیادہ تر ممالک ایک عجیب کیفیت میں مبتلا ہیں—"دیکھو اور انتظار کرو"۔ نہ کھل کر مداخلت، نہ مؤثر ثالثی، بس حالات کا مشاہدہ۔
یہ خاموشی بھی ایک طرح کا کردار ہے—اور بعض اوقات یہ کردار بھی نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے۔
جنگ کا دائرہ جب وسیع ہوتا ہے تو اس کا نقصان سرحدوں تک محدود نہیں رہتا۔ انسانیت اس کی سب سے بڑی قیمت ادا کرتی ہے۔ بچے، عام شہری، کمزور طبقات—یہ سب اس آگ میں جھلس جاتے ہیں جسے سیاسی اور عسکری فیصلے بھڑکاتے ہیں۔
ایسے میں ایک تلخ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ دنیا میں کچھ طاقتیں ایسی ہیں جو کشیدگی کو ختم کرنے کے بجائے اسے برقرار رکھنے میں اپنا فائدہ دیکھتی ہیں۔ خاص طور پر اسرائیل کے حوالے سے یہ نقطہ نظر سامنے آتا ہے کہ وہ خطے میں مسلسل دباؤ اور تصادم کی کیفیت کو اپنی سکیورٹی حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔ یہ تاثر درست ہو یا مبالغہ، مگر اس کی موجودگی خود عالمی بے اعتمادی کی علامت ہے۔
اصل سوال اب یہ نہیں رہا کہ کون جیت رہا ہے اور کون ہار رہا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اس سب میں ہار کون رہا ہے؟
اور جواب ہے: انسانیت۔
جنگیں وقتی فتح دے سکتی ہیں، مگر طویل المدت میں وہ معیشتوں کو کھوکھلا، معاشروں کو تقسیم، اور انسان کو بے بس کر دیتی ہیں۔ آج دنیا کو طاقت کے مظاہرے سے زیادہ امن کی ضرورت ہے، مگر افسوس کہ امن کی آوازیں کمزور اور جنگ کا شور زیادہ بلند ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں