بدھ، 9 اپریل، 2025

داتا صاحب کی ایک اصطلاح


 جب علم چراغ نہ رہے

ہم عموماً جاہل اور عالم کو دو متضاد خانوں میں رکھتے ہیں۔ ہمارے نزدیک جاہل وہ ہے جس کے پاس علم نہیں اور عالم وہ ہے جس نے کتابیں پڑھ رکھی ہوں، آیات و احادیث یاد ہوں، فقہ کے مسائل معلوم ہوں اور گفتگو میں علمی اصطلاحات استعمال کرنے پر قادر ہو۔ مگر حضرت علی ہجویریؒ کی کشف المحجوب ہمیں اس سادہ تقسیم سے آگے لے جاتی ہے۔ وہاں علم کی ایک ایسی تصویر سامنے آتی ہے جس میں آدمی بظاہر عالم ہو سکتا ہے، مگر حقیقت میں جاہل۔
یہ سوال اپنے اندر ایک پورا المیہ رکھتا ہے: کیا عالم بھی جاہل ہو سکتا ہے؟
جواب ہے: ہاں، اور بعض اوقات جاہل عالم، عام جاہل سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ عام جاہل کی بات کو لوگ شاید نظرانداز کر دیں، لیکن وہ شخص جس کے لباس، منصب، الفاظ اور شہرت سے علم جھلکتا ہو، اگر علم کی روح سے خالی ہو تو اس کی غلطی بھی دلیل بن جاتی ہے اور اس کی خواہش بھی دین کا نام اختیار کر لیتی ہے۔
علم صرف معلومات کا نام نہیں۔ علم کا مقصد انسان کے اندر بصیرت پیدا کرنا ہے؛ اسے حق اور باطل میں فرق کرنے، اپنے نفس کو پہچاننے اور اپنے عمل کو درست کرنے کی صلاحیت دینا ہے۔ اگر علم انسان کو عاجزی کے بجائے تکبر، انصاف کے بجائے تعصب، تقویٰ کے بجائے مفاد اور خدمت کے بجائے اقتدار کی طرف لے جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ علم کہاں گیا جس کا دعویٰ کیا جا رہا تھا؟
قرآن مجید نے ایسے علم کی ایک نہایت بلیغ مثال بیان کی ہے۔ سورۂ جمعہ میں ان لوگوں کی مثال دی گئی ہے جنہیں تورات کا علم دیا گیا مگر انہوں نے اس علم کی ذمہ داری ادا نہ کی۔ قرآن انہیں اس گدھے سے تشبیہ دیتا ہے جو کتابیں اٹھائے ہوئے ہو۔ کتابیں اس کی پیٹھ پر ہیں، مگر ان کا مفہوم اس کے شعور میں نہیں۔ گویا کتاب کا بوجھ علم نہیں، جب تک کتاب انسان کے کردار میں اتر نہ جائے۔
یہی فرق علم اور عالم کے درمیان ہے۔ علم کتاب میں ہو سکتا ہے، عالم کے اندر ہونا چاہیے۔
قرآن نے سورۂ اعراف میں ایک اور نہایت گہری مثال بیان کی ہے۔ ایک ایسے شخص کا ذکر آتا ہے جسے اللہ کی آیات کا علم دیا گیا تھا، مگر وہ ان سے نکل گیا اور خواہشات کے پیچھے چل پڑا۔ قرآن کہتا ہے: "فَانْسَلَخَ مِنْهَا" — وہ ان آیات سے نکل گیا۔ اس واقعے کی تفصیلات کے بارے میں مفسرین کے درمیان گفتگو موجود ہے، اور قرآن اس شخص کا نام بیان نہیں کرتا، لیکن یہ مثال اس حقیقت کو ضرور واضح کرتی ہے کہ علم کا حاصل ہونا اور علم پر قائم رہنا دو الگ چیزیں ہیں۔
انسان کتابیں پڑھ کر عالم بن سکتا ہے، مگر اپنے نفس کو شکست دیے بغیر دانا نہیں بنتا۔
اسی لیے صوفیاء نے علم کو محض حافظے کا ذخیرہ نہیں سمجھا بلکہ اسے قلب کی تبدیلی سے جوڑا۔ حضرت علی ہجویریؒ کے ہاں بھی علم کی قدر اس وقت ہے جب وہ انسان کو حقیقت تک پہنچائے۔ محض الفاظ کا جاننا انسان کو حقیقت شناس نہیں بنا دیتا۔
ہماری روایت میں حضرت علیؓ سے منسوب ایک مشہور قول ہے کہ دین کو دو قسم کے لوگ نقصان پہنچاتے ہیں: جاہل عابد اور فاسق عالم۔ اس قول میں ایک غیر معمولی سماجی بصیرت پوشیدہ ہے۔ جاہل عابد اپنی کم علمی کے باعث غلطی کر سکتا ہے، لیکن فاسق عالم کی مشکل یہ ہے کہ اس کے پاس غلطی کو درست ثابت کرنے کے لیے علم کے الفاظ موجود ہوتے ہیں۔
یہاں "جاہل عالم" اور "فاسق عالم" کے مفاہیم ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔ ایسا عالم جس نے علم کو اپنے نفس کی اصلاح کا ذریعہ بنانے کے بجائے اپنی خواہشات کا وکیل بنا لیا، وہ معلومات میں عالم مگر حقیقت میں جاہل ہو سکتا ہے۔
اس کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ وہ اپنی جہالت کو علم کے پردے میں چھپا لیتا ہے۔
وہ دین کی بات کرتا ہے مگر دین کے اخلاق کو بھول جاتا ہے۔ وہ دوسروں کو تقویٰ کی تلقین کرتا ہے مگر اپنے لیے استثنا تلاش کرتا ہے۔ وہ حق کی حفاظت کا دعویٰ کرتا ہے مگر اپنے گروہ، منصب یا مفاد کی حفاظت کو حق سمجھ بیٹھتا ہے۔ وہ اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے مخالف کو گمراہ قرار دینے میں جلدی کرتا ہے۔ یوں علم روشنی بننے کے بجائے ایک ایسا ہتھیار بن جاتا ہے جس سے دوسروں کو زخمی کیا جاتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف مذہبی علم تک محدود نہیں۔ دنیا کے ہر شعبے میں ایسا ممکن ہے۔ ایک فلسفی فلسفہ جانتا ہو مگر حکمت سے محروم ہو سکتا ہے، ایک قانون دان قانون جانتا ہو مگر انصاف سے خالی ہو سکتا ہے، ایک ڈاکٹر طب جانتا ہو مگر انسانی درد سے بے خبر ہو سکتا ہے، اور ایک استاد کتاب پڑھا سکتا ہے مگر خود کردار کا استاد نہ ہو۔
اصل سوال یہ نہیں کہ انسان کتنا جانتا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے علم نے اسے کیا بنا دیا ہے؟
اگر علم انسان کو نرم دل، عادل، متواضع، راست گو اور ذمہ دار بناتا ہے تو وہ علم زندہ ہے۔ اگر وہ اسے متکبر، خود پسند، متعصب اور مفاد پرست بنا دیتا ہے تو ممکن ہے اس کے پاس معلومات بہت ہوں، مگر معرفت کم ہو۔
اسی لیے کسی عالم کی پہچان صرف اس کی تقریر، اس کے القاب یا اس کی کتابوں سے نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے کردار کو بھی دیکھنا چاہیے۔ وہ اختلاف کرنے والے کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے؟ کمزور کے سامنے اس کا لہجہ کیا ہے؟ اقتدار کے سامنے اس کی زبان کتنی آزاد ہے؟ تنہائی میں اس کا کردار کیا ہے؟ اور جب کوئی اس کی بات سے اختلاف کرے تو کیا وہ دلیل دیتا ہے یا اپنے منصب کو دلیل بنا لیتا ہے؟
یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کہ معاشرہ عالم سے صرف معلومات نہیں لیتا، اپنی سمت بھی لیتا ہے۔
مسجد کا منبر، مدرسے کا محراب، یونیورسٹی کا کلاس روم اور کتاب کا صفحہ سب انسان کی تشکیل کرتے ہیں۔ اگر علم کے مراکز میں علم کے ساتھ اخلاق، دیانت، اختلافِ رائے کا احترام اور احتساب کا شعور پیدا نہ ہو تو علم معاشرے کو روشن کرنے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ بھی کر سکتا ہے۔
جاہل آدمی اپنی لاعلمی کا اسیر ہوتا ہے، لیکن جاہل عالم اپنی معلومات کا اسیر بن سکتا ہے۔ اسے اپنی غلطی کا احساس اس لیے نہیں ہوتا کہ اس کے پاس اپنی غلطی کو درست ثابت کرنے کے لیے الفاظ، حوالے اور دلائل موجود ہوتے ہیں۔
شاید اسی لیے حقیقی علم کی پہلی علامت عاجزی ہے۔
جو جتنا جانتا ہے، اسے اتنا ہی احساس ہوتا ہے کہ حقیقت اس کے علم سے کہیں وسیع ہے۔ وہ قطعی دعووں سے پہلے توقف کرتا ہے، اختلاف میں تہذیب کو نہیں چھوڑتا، اور علم کو اپنے نفس کی بڑائی کا ذریعہ نہیں بناتا۔
علم کا آخری امتحان زبان پر نہیں، کردار پر ہوتا ہے۔
کتابیں انسان کے ہاتھ میں بہت کچھ رکھ سکتی ہیں، مگر دل میں کچھ نہیں رکھ سکتیں۔ آیات زبان پر آ سکتی ہیں، مگر تقویٰ دل میں پیدا ہونا چاہیے۔ فتویٰ لکھا جا سکتا ہے، مگر عدل زندگی میں دکھائی دینا چاہیے۔
اسی لیے "جاہل عالم" دراصل ایک تنبیہ ہے: علم اگر انسان کو بدل نہ سکے تو وہ صرف معلومات کا بوجھ رہ جاتا ہے۔
حقیقی عالم وہ نہیں جو صرف یہ جانتا ہو کہ دین کیا کہتا ہے؛ حقیقی عالم وہ ہے جس کے کردار سے بھی محسوس ہو کہ اسے دین نے چھوا ہے۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں علم، عمل میں ڈھل کر حکمت بنتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں: