ہفتہ، 17 جنوری، 2026

ایران کا نیا ہتھیار



ایران کا نیا ہتھیار
یہ بات کسی سائنسی افسانے سے مستعار نہیں، بلکہ ایک ایسا بیانیہ ہے جو حالیہ دنوں میں عالمی ذرائع ابلاغ، عسکری تحقیقی اداروں اور دفاعی ماہرین کے مباحث میں نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ مختلف رپورٹس اور تجزیوں کے مطابق ایران نے ایسی برقی اور خلائی جنگی صلاحیت فعال کی ہے جس کے باعث امریکی اور مغربی نگرانی کے لیے ایرانی فضائی حدود ایک ایسے خلا میں تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہے جہاں مشاہدہ، رابطہ اور رہنمائی کے نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر پا رہے۔
اس بیانیے کے مطابق تہران نے روایتی میزائل روکنے والے نظاموں کے بجائے ایک غیر مرئی دفاعی ڈھانچہ تیار کیا ہے، جس کا مقصد براہِ راست حملے کو روکنا نہیں بلکہ دشمن کی معلوماتی اور اعصابی ساخت کو مفلوج کرنا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت دشمن کی آنکھیں یعنی مصنوعی سیارے، اس کے کان یعنی حساس سینسر، اور اس کا دماغ یعنی کمانڈ اور کنٹرول نظام نشانے پر آ جاتے ہیں۔ نتیجتاً وہ خلائی برتری، جس پر امریکہ کی جدید جنگی منصوبہ بندی قائم ہے، مخصوص جغرافیے میں کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔
(حوالہ: RAND Corporation، Electronic Warfare in Modern Military Strategy)
کہا جا رہا ہے کہ اس نام نہاد ایرانی دائرۂ اثر کے اندر مغربی عسکری ٹیکنالوجی شدید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ عالمی محلِ وقوع بتانے والے نظام میں خلل کے باعث میزائل اپنی درست سمت کھو دیتے ہیں، بغیر پائلٹ فضائی نظام کنٹرول سے باہر ہو جاتے ہیں، جبکہ خودکار جنگی نظام عملی طور پر بے جان مشینوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اگر ان دعوؤں کو درست تسلیم کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جدید جنگ کا بنیادی تصور—جو مصنوعی سیاروں، معلوماتی روابط اور فوری انٹیلی جنس پر انحصار کرتا ہے—ایک غیر معمولی چیلنج سے دوچار ہو چکا ہے۔
(حوالہ: امریکی وزارتِ دفاع، GPS Vulnerability and Electronic Threats)
یہاں معاملہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ طاقت کے تصور میں بنیادی تبدیلی کا ہے۔ بیسویں صدی کی جنگیں فوجی تعداد اور اسلحے کی برتری سے جیتی جاتی تھیں، جبکہ اکیسویں صدی کی جنگیں معلومات، برقی لہروں اور ذہنی اثرات کے میدان میں لڑی جا رہی ہیں۔ برقی جنگ، محلِ وقوع بتانے والے نظام میں خلل، سگنلز کی نقل اور مصنوعی سیاروں کی نگرانی میں رکاوٹ اب محض نظریاتی تصورات نہیں رہے بلکہ عملی میدانِ جنگ کا حصہ بن چکے ہیں۔
(حوالہ: نیٹو ریویو، The Rise of Electronic and Cognitive Warfare)
ایران طویل عرصے سے اس حقیقت کا ادراک رکھتا ہے کہ وہ روایتی عسکری قوت میں امریکہ کا براہِ راست مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اسی لیے اس نے غیر متوازن جنگ کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی کی بنیاد بنایا۔ سخت معاشی پابندیوں کے باوجود میزائل ٹیکنالوجی، بغیر پائلٹ نظام اور برقی جنگی صلاحیتوں میں پیش رفت اسی سوچ کا منطقی نتیجہ ہے۔ اس پس منظر میں یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ ایران نے محدود مگر مؤثر برقی اور خلائی جنگی صلاحیت حاصل کر لی ہو۔
(حوالہ: انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز، Iran’s Military and Strategic Capabilities)
تاہم، یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ جدید جنگ میں بیانیہ بذاتِ خود ایک طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔ “آسمان کے اندھا ہو جانے” جیسے دعوے محض عسکری نوعیت کے نہیں بلکہ نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔ دشمن کو یہ احساس دلانا کہ اس کے دیکھنے، سننے اور فیصلہ کرنے کے نظام ناقابلِ اعتماد ہو چکے ہیں، اس کے اعتماد اور حکمتِ عملی کو کمزور کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ آج کے دور میں خوف، شکوک اور غیر یقینی ایک منظم اسٹریٹجک ہتھیار کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
(حوالہ: ہارورڈ کینیڈی اسکول، Psychological and Cognitive Warfare in Modern Conflicts)
اصل حقیقت غالباً ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ نہ آسمان مکمل طور پر اندھا ہو چکا ہے، اور نہ ہی یہ تمام دعوے محض افسانہ ہیں۔ قرینِ قیاس یہی ہے کہ ایران نے ایسی صلاحیت ضرور حاصل کر لی ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اپنی عسکری منصوبہ بندی، تکنیکی انحصار اور خلائی نگرانی کے تصورات پر نظرِ ثانی پر مجبور کر رہی ہے۔
اور شاید یہی اصل کامیابی ہے۔
کیونکہ جب کوئی بڑی طاقت یہ سوال کرنے لگے کہ
“کیا ہم واقعی دیکھ بھی پا رہے ہیں یا نہیں؟”
تو سمجھ لیجیے کہ جنگ کا پہلا مرحلہ بغیر کسی گولی کے خاموشی سے جیتا جا چکا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں: