اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو یہ محض دو ریاستوں کے درمیان عسکری تصادم نہیں ہوگا، بلکہ ایک سیاسی زلزلہ ہوگا جس
کے جھٹکے پورے خطے اور عالمی نظامِ معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔ اس جنگ میں پہلا نشانہ محاذ نہیں، بلکہ وہ توانائی کا نظام ہوگا جس پر جدید دنیا کی سیاست اور معیشت کھڑی ہے۔ تیل یہاں جنس نہیں رہے گا، بلکہ فیصلہ کن ہتھیار بن جائے گا۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں منظر ایران کی سرحدوں سے کہیں آگے پھیلا ہوا ہوگا۔ خلیجِ فارس میں آبنائے ہرمز پر صرف کشیدگی کی خبر ہی عالمی منڈیوں کو لرزا دے گی۔ جہازوں کی انشورنس مہنگی ہو جائے گی، سپلائی سست پڑ جائے گی اور قیمتیں کسی میزائل کے بغیر آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔ باب المندب میں یمنی دباؤ سمندری تجارت کو ایک اور محاذ پر الجھا دے گا، جہاں گولی چلائے بغیر راستے بند ہونے لگیں گے۔
اردن میں منظر مختلف مگر اتنا ہی سنگین ہوگا۔ عقبہ بندرگاہ پر ہر کنٹینر ایک سوال بن جائے گا اور ہر ریفائنری ایک سیاسی پیغام۔ ایک کمزور معیشت پر دباؤ دراصل واشنگٹن کے لیے یہ اعلان ہوگا کہ جنگ کو “کنٹرولڈ” رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔
متحدہ عرب امارات میں جنگ کی آواز دھماکوں سے نہیں بلکہ اسکرینوں پر نظر آئے گی۔ فجیرہ اور جبلِ علی میں ٹینکرز رکے کھڑے ہوں گے، سرمایہ دارانہ اعتماد متزلزل ہوگا اور عالمی منڈیاں خوف میں مبتلا ہوں گی۔ یہاں ایک دھمکی بھی حملے کے برابر اثر رکھتی ہے۔
قفقاز میں آذربائیجان کا منظر خاموش مگر خطرناک ہوگا۔ باکو–تبلیسی–جےحان پائپ لائن پر ہر سینسر، ہر والو سیاسی دباؤ کا مرکز بن جائے گا۔ یورپ کو پیغام ملے گا کہ یہ جنگ صرف مشرقِ وسطیٰ کی نہیں، بلکہ اس کی توانائی سلامتی کی بھی جنگ ہے۔
بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کی موجودگی ایک علامت سے سوال بن جائے گی۔ اگر یہاں عدم استحکام پیدا ہوا تو خلیج میں امریکی کنٹرول کا تصور کمزور پڑ جائے گا، اور یہی سب سے بڑا سیاسی نقصان ہوگا۔
اور اسرائیل میں منظر سب سے زیادہ نازک ہوگا۔ ڈی سیلینیشن پلانٹس کے گرد حفاظتی اقدامات بڑھیں گے، پانی ذخیرہ کیا جائے گا اور شہری زندگی غیر یقینی کیفیت میں داخل ہو جائے گی۔ یہاں جنگ کا مطلب صرف میزائل نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا بحران ہوگا۔
یہی وہ لمحہ ہوگا جب واضح ہو جائے گا کہ تیل میزائل سے زیادہ خطرناک کیوں ہے۔ میزائل ایک شہر کو نشانہ بناتا ہے، مگر توانائی پوری دنیا کو یرغمال بنا لیتی ہے۔ منڈیاں خوف سے چلتی ہیں اور اس جنگ میں خوف کا نام ہے: توانائی کی عدمِ استحکام۔
اگر ایران کو دیوار سے لگایا گیا تو وہ براہِ راست محاذ سے زیادہ ان جگہوں کو نشانہ بنائے گا جہاں دشمن کی سیاسی اور معاشی سانس چلتی ہے۔ اس کے لیے قبضہ ضروری نہیں، صرف اعتماد توڑنا کافی ہوگا۔
یہ جنگ دارالحکومتوں کی فتح و شکست کا معاملہ نہیں ہوگی، بلکہ تیل کی راہوں، سمندری گذرگاہوں اور توانائی کے مراکز پر سیاسی غلبے کی جنگ ہوگی۔ مشرقِ وسطیٰ میں جو ان راستوں کو کنٹرول کرتا ہے، وہی جنگ ہی نہیں، دنیا کی سیاست کی رفتار بھی طے کرتا ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں