منگل، 6 جنوری، 2026

دعا , تقدیر، ارادہ اور انسانی شعور



دعا , تقدیر، ارادہ اور انسانی شعور

اسلامی فکر میں دعا محض خواہشات کی فہرست یا مشکل وقت کی نفسیاتی پناہ گاہ نہیں، بلکہ یہ انسان کے شعوری اعترافِ عجز اور الٰہی اختیار کے سامنے خود سپردگی کا اظہار ہے۔ دعا دراصل اس تعلق کا نام ہے جو محدود علم و قدرت رکھنے والا انسان، مطلق علم و قدرت کے مالک خدا سے قائم کرتا ہے۔

کلامی مباحث میں دعا کی حقیقت پر سب سے بنیادی سوال تقدیر اور اختیار کے تناظر میں اٹھایا گیا۔ معتزلہ کے نزدیک اگر کائنات کا ہر واقعہ پہلے سے غیر متبدل طور پر طے شدہ ہو تو دعا ایک غیر مؤثر عمل بن جاتی ہے۔ اسی لیے وہ دعا کو انسانی سعی اور اخلاقی ذمہ داری سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق دعا دراصل انسان کی عملی کوشش اور اخلاقی ارادے کا تسلسل ہے، جس کے بغیر دعا محض زبانی عمل رہ جاتی ہے۔ اس زاویے سے دعا انسان کو جبر کے تصور سے نکال کر ذمہ دار فاعل بناتی ہے۔

اس کے برعکس اشاعرہ نے دعا کو خدا کی مطلق مشیت کے دائرے میں رکھا، مگر اسے غیر بامعنی قرار نہیں دیا۔ ان کے نزدیک دعا بھی اسی الٰہی نظامِ اسباب کا حصہ ہے جس کے ذریعے اللہ اپنے فیصلے نافذ فرماتا ہے۔ دعا کا قبول ہونا یا نہ ہونا انسانی عقل کے لیے قابلِ فہم نہیں، کیونکہ اس کی حکمت خدا کے علمِ کامل میں پوشیدہ ہے۔ یوں دعا بندے کے لیے امتحانِ اطاعت ہے، نہ کہ نتیجے پر قابو پانے کا ذریعہ۔

امام غزالی نے دعا کو ان دونوں انتہاؤں سے نکال کر ایک باطنی و اخلاقی عمل کے طور پر سمجھا۔ ان کے نزدیک دعا کا اصل فائدہ خارجی تبدیلی نہیں بلکہ داخلی تطہیر ہے۔ دعا انسان کے اندر تواضع، امید، صبر اور شکر جیسے اوصاف پیدا کرتی ہے۔ وہ انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اسباب اختیار کرنا ضروری ہے، مگر نتیجے پر غرور یا مایوسی دونوں بے معنی ہیں۔ اس طرح دعا انسان کی روحانی تربیت اور اخلاقی توازن کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

صوفیانہ فکر میں دعا کو محض مانگنے کا عمل نہیں بلکہ ہم کلامی سمجھا گیا۔ یہاں دعا کا مقصد یہ نہیں کہ خدا کو کسی فیصلے پر آمادہ کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ بندہ خود کو خدا کی مرضی کے مطابق ڈھال لے۔ اس زاویے سے دعا قبولیت کی شرط پر نہیں بلکہ اخلاص پر قائم ہے۔

یہ فکری مکالمہ واضح کرتا ہے کہ دعا کو صرف نتائج کی عینک سے دیکھنا اس کے مفہوم کو محدود کر دیتا ہے۔ دعا نہ تو تقدیر سے بغاوت ہے اور نہ ہی انسانی سعی کی نفی، بلکہ یہ دونوں کے درمیان ایک بامعنی رشتہ ہے۔ دعا انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ وہ کوشش بھی کرے، امید بھی رکھے، اور نتیجے کو خدا کی حکمت کے سپرد بھی کرے۔

یوں دعا کی حقیقت کسی ایک فلسفیانہ موقف میں مقید نہیں، بلکہ یہ انسانی کمزوری، اخلاقی ذمہ داری اور الٰہی قربت—تینوں کا جامع اظہار ہے۔

کوئی تبصرے نہیں: