جمعہ، 23 جنوری، 2026

سوال اب یہ نہیں کہ اسرائیل کس کے خلاف ہے




 اسرائیل کے لیے اسٹریٹجک راستے کہاں بچتے ہیں؟
عالمی سیاست میں بعض امکانات محض مفروضے نہیں ہوتے بلکہ آنے والے بحرانوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ اگر سعودی عرب، ترکی اور پاکستان پر مشتمل ابھرتا ہوا اتحاد—جسے پہلے ہی عسکری، معاشی اور ایٹمی وزن حاصل ہے—اس میں ایران بھی شامل ہو جائے، اور چین اس پورے بلاک کو سفارتی، معاشی اور تکنیکی سرپرستی فراہم کرے، تو یہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی طاقت کے توازن میں ایک تاریخی زلزلہ ہوگا۔ ایسے منظرنامے میں سب سے زیادہ دباؤ جس ریاست پر پڑے گا، وہ اسرائیل ہے۔
یہ اتحاد محض چار مسلم ممالک کا مجموعہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ جغرافیائی تسلسل، توانائی کے وسائل، آبنائے ہرمز سے بحیرۂ روم تک اثرورسوخ، اور ایٹمی صلاحیت کے امتزاج کے ساتھ ایک ایسا بلاک بن جائے گا جو امریکی بعد از انخلا دور میں خطے کی نئی حقیقت کو متعین کرے گا۔ چین کی حمایت اس بلاک کو محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر تحفظ فراہم کرے گی، خاص طور پر سلامتی کونسل، عالمی تجارت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں۔
ایسے میں سوال یہ نہیں کہ اسرائیل کو مسئلہ ہوگا یا نہیں—سوال یہ ہے کہ اسرائیل کے پاس بچے گا کیا؟

اسرائیل کا سب سے واضح راستہ یہ ہوگا کہ وہ چین کے ساتھ ہر قسم کی معاشی، تکنیکی اور سفارتی قربت ترک کر کے خود کو مکمل طور پر امریکی بلاک میں ضم کر دے۔ اس کا مطلب ہوگا:
چینی سرمایہ کاری کا خاتمہ
ایشیائی منڈیوں سے محدود رسائی
یورپی خودمختار پالیسیوں سے بڑھتا ہوا فاصلہ
یہ راستہ اسرائیل کو عسکری تحفظ تو فراہم کرے گا، مگر معاشی اور سفارتی تنہائی کی قیمت پر۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں امریکا واحد فیصلہ ساز نہیں رہا، یہ آپشن طویل مدت میں کمزور ثابت ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب اس پر گھیراؤ تنگ ہوتا ہے تو وہ پیشگی عسکری کارروائی کو ایک آپشن کے طور پر دیکھتا ہے—چاہے وہ ایران ہو، لبنان ہو یا غزہ۔
لیکن اس نئے بلاک کی موجودگی میں یہ راستہ انتہائی خطرناک ہو جاتا ہے، کیونکہ:
ایران کی شمولیت کا مطلب براہِ راست جوابی صلاحیت
ترکی اور پاکستان کی عسکری گہرائی
ایسی کسی مہم جوئی کا نتیجہ محدود جنگ نہیں بلکہ وسیع علاقائی تصادم ہو سکتا ہے، جس کے نتائج اسرائیل کے لیے ناقابلِ پیش گوئی ہوں گے۔
ایک کمزور مگر حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ اسرائیل:
فلسطین کے معاملے میں حقیقی سیاسی رعایت دے
عرب اور مسلم دنیا سے تصادم کی پالیسی ترک کرے
خود کو ایک توسیع پسند ریاست کے بجائے ایک نارمل علاقائی ریاست کے طور پر پیش کرے
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل کی داخلی سیاست، نظریاتی ساخت اور طاقتور دائیں بازو کی قیادت اس راستے کو عملی طور پر تقریباً ناممکن بنا دیتی ہے۔
چوتھا آپشن: یورپ اور ایشیا میں متبادل اتحاد
اسرائیل کوشش کر سکتا ہے کہ:
یورپی یونین کے ساتھ تعلقات گہرے کرے
بھارت، جاپان اور بعض افریقی ریاستوں کے ساتھ اسٹریٹجک روابط بڑھائے
مگر چین کی غیر موجودگی اور مسلم بلاک کی جغرافیائی برتری کے سامنے یہ اتحاد توازن قائم کرنے کے لیے ناکافی ہوں گے۔
اگر ایران اس اتحاد میں شامل ہو جاتا ہے اور چین اس کا محافظ بن جاتا ہے، تو اسرائیل پہلی بار صرف عسکری خطرے میں نہیں بلکہ اسٹریٹجک گھٹن (Strategic Suffocation) کا شکار ہوگا۔ نہ وہ آزادانہ جنگ چھیڑ سکے گا، نہ بیک وقت امریکا اور چین کے ساتھ کھیل جاری رکھ سکے گا، اور نہ ہی معاشی وسعت کے پرانے راستے کھلے رہیں گے۔
صدر شی جن پنگ کا پیغام اس منظرنامے میں اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے:
نئی دنیا میں دو کشتیوں پر سوار رہنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔
اسرائیل کے لیے اصل سوال اب یہ نہیں کہ وہ کس کے خلاف ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس کے ساتھ رہ سکتا ہے—اور کس قیمت پر۔


کوئی تبصرے نہیں: