خوش فہمیاں اور بدلتا ہوا خطہ
ٹرمپ کے ذریعے ایران کو گرانے کے خواب دیکھنے والے صہیونی حلقے دراصل وہی ہیں جنہوں نے اس سے پہلے یمنی فوج کے خاتمے پر امیدیں باندھ رکھی تھیں۔ یہ وہی پرانی شرط ہے، وہی پرانا اندازِ فکر اور وہی غلط اندازے—بس میدان بدل گیا ہے، کردار وہی ہیں اور انجام بھی کم و بیش وہی دکھائی دیتا ہے۔
اس وقت خواہش یہ تھی کہ یمنی فوج کو فیصلہ کن شکست دی جائے، غزہ کے حق میں یمن کی بحری عسکری کارروائیوں کو روکا جائے، باب المندب میں یمنیوں کے قائم کردہ محاصرے کو توڑا جائے، صہیونی ریاست کی گہرائی تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا خاتمہ کیا جائے، اور اس علاقائی اتحاد—جس میں امارات اور اسرائیل شامل تھے—کو گزشتہ دس برسوں کی ناکامیوں اور ذلت آمیز شکستوں کا بدلہ دلایا جائے۔ یہ صرف ایک عسکری منصوبہ نہیں تھا بلکہ ساکھ، غرور اور برتری کی بحالی کا خواب تھا۔
اسی لیے سب کی نظریں ڈونلڈ ٹرمپ پر مرکوز تھیں۔ بائیڈن کے برعکس ٹرمپ کو ایک جری، سخت گیر اور جارح رہنما سمجھا جاتا تھا۔ بائیڈن کو برطانیہ کے ساتھ مل کر یمن کے خلاف ناکام فوجی مہم پر تنقید کا سامنا رہا، جبکہ ٹرمپ سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ آ کر طاقت کے بل پر پورا منظرنامہ بدل دے گا۔
اسی تناظر میں امریکی انتظامیہ نے ایک فوجی وفد اسرائیلی نمائندوں کے ہمراہ ریاض بھیجا تاکہ سعودی اور اماراتی نظاموں کو دوبارہ جنگ میں جھونکنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ ابتدا میں عرب اور اسلامی عوامی رائے عامہ کا حوالہ دے کر انکار کیا گیا، کیونکہ یمنی مزاحمت کو خطے میں غیر معمولی اخلاقی اور عوامی تائید حاصل تھی۔ مگر امریکی دباؤ کے بعد ایک شرط رکھ دی گئی: اگر امریکہ ساٹھ دن کے اندر یمنی فوج کی اعلیٰ قیادت کو ختم کر دے، میزائل خطرے کو مکمل طور پر بے اثر کر دے اور یمنی عسکری صلاحیت کو مٹا دے، تو وہ باضابطہ طور پر امریکی کیمپ میں شامل ہو جائیں گے۔
ٹرمپ کی مکار اور متکبر شخصیت پر ان کا اندازہ بظاہر درست ثابت ہوا۔ چند ہی مہینوں میں اس نے یمن کے خلاف فوجی مہم دوگنی کرنے کا اعلان کیا، یمنی افواج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی دھمکیاں دیں، اضافی طیارہ بردار بحری جہاز، اسٹریٹجک بمبار، ایٹمی آبدوزیں اور جدید اسٹیلتھ طیارے تعینات کر دیے۔
وہ اسلحہ میدان میں اتارا گیا جو امریکہ عموماً باقاعدہ ریاستوں اور منظم افواج کے خلاف استعمال کرتا ہے، نہ کہ ایسے ملک کے خلاف جو دس برس سے محاصرے میں ہو۔ بحرِ عرب، بحرِ احمر اور بحرِ ہند تک امریکی عسکری قوت پھیلا دی گئی، اس خوش فہمی میں کہ یمن کو کچل کر ایک فیصلہ کن فتح حاصل کر لی جائے گی اور بائیڈن کو کمزور اور ناکام ثابت کیا جا سکے گا۔
امریکی اسٹریٹجک بمبار، اسٹیلتھ طیارے اور فضائی ایندھن بردار جہاز یمن کی فضاؤں میں داخل ہوئے۔ ایٹمی آبدوزوں اور بحری بیڑوں نے ٹوماہاک میزائلوں سے شدید بمباری کی۔ زیرِ زمین اہداف کو تباہ کرنے والے دنیا کے طاقتور ترین بم یمن کے پہاڑوں اور شہروں پر برسائے گئے۔ ٹرمپ خود سوشل میڈیا پر ان مناظر کو طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کرتا رہا۔
مگر دن گزرتے گئے اور زمینی حقیقت نہ بدلی۔ سمندر بدستور بند رہا، صہیونی ریاست کی طرف میزائل اور ڈرون حملے جاری رہے۔ اس کے برعکس امریکی افواج اس وقت ششدر رہ گئیں جب یمنی بحری اور بیلسٹک میزائلوں، اور درجنوں ڈرونز نے بحرِ عرب اور بحرِ احمر میں موجود طیارہ بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔ شدید بمباری کے باوجود امریکی ساختہ جدید ڈرون بڑی تعداد میں مار گرائے گئے۔
پھر یمنیوں نے ایک اور حیران کن قدم اٹھایا۔ جدید فضائی دفاعی نظام استعمال کرتے ہوئے انہوں نے امریکی اسٹیلتھ بمباروں اور F-35 طیاروں کو خطرے میں ڈال دیا۔ امریکیوں کو قیمتی بمبار ہٹانا پڑے۔ بعدازاں بحریہ کے F-18 سپر ہارنیٹ طیاروں کی تباہی سامنے آئی، جسے چھپانے کے لیے کمزور اور غیر قائل وضاحتیں پیش کی گئیں۔
تقریباً پچاس دن کی شدید اور بے نتیجہ جنگ کے بعد ٹرمپ نے سلطنتِ عمان سے مداخلت کی درخواست کی۔ یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے کی خواہش ظاہر کی گئی، اس شرط کے ساتھ کہ یمنی امریکی جہازوں کو نشانہ نہ بنائیں اور امریکہ بمباری روک دے۔ اس کے باوجود یمنی فوج نے صہیونی ریاست کے خلاف بحری محاصرہ اور فضائی کارروائیاں جاری رکھیں۔
دنیا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز شکست کے ساتھ واپس لوٹ گئے۔ یوں دہائیوں سے قائم امریکی بحری برتری کا افسانہ ٹوٹ گیا۔ صہیونی ریاست تنہا رہ گئی، جبکہ یمنیوں نے محاصرے اور بھاری نقصانات کے باوجود آخری دم تک مزاحمت جاری رکھی۔
آج حقیقت یہ ہے کہ یمن ایک اسٹریٹجک علاقائی طاقت بن چکا ہے۔ برسوں سے لگائی گئی شرط ہار چکی ہے، اور اب یمن سے برابری اور احترام کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ہتھیار یا دباؤ ہو جو ان کے خلاف آزمایا نہ جا چکا ہو۔
سوال یہ ہے کہ جب دنیا کی سب سے بڑی جنگی مشین یمنیوں کو ختم نہ کر سکی تو اب ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے نعرے کس بنیاد پر لگائے جا رہے ہیں؟ کیا ایران یمن سے بھی کمزور ہے؟ امریکہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے بہت کچھ کر سکتا ہے، مگر نہ وہ ایران کو مٹا سکے گا اور نہ اس کی حکومت گرا سکے گا۔ ایران اور وینزویلا میں وہی فرق ہے جو گرین لینڈ اور مشرقِ وسطیٰ میں ہے—جغرافیہ، تاریخ اور طاقت کے توازن کو نعروں سے نہیں بدلا جا سکتا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں