جمعہ، 9 جنوری، 2026

گمشدہ مگر کون؟



گمشدہ مگر کون؟
دنیا کے شور، مشینی زندگی کی تیز رفتاری اور مادیت کے ہجوم میں اگر کوئی شے واقعی کھو گئی ہے تو وہ انسان خود ہے۔
خدا نہیں کھویا — خدا تو اپنی جگہ، اپنی شانِ وجود اور اپنے نظام میں قائم و دائم ہے۔ گم اگر کوئی ہے تو وہ انسان کی بصیرت، انسان کا شعور، اور انسان کا باطن ہے۔
خدا نہ آسمانوں سے غائب ہوا، نہ زمین سے۔ وہ آج بھی "نظامِ کائنات" کی ہر دھڑکن میں بولتا ہے، ہر ذرے میں ظاہر ہے، اور ہر دل کے اندر کسی نہ کسی لمحے اپنی موجودگی کا احساس جگاتا ہے۔
لیکن انسان — جسے اس وجود کے راز سمجھنے کی اہلیت دی گئی تھی — اپنی خواہشوں، مفاد پرستی، اور نفس کے اندھیروں میں اپنا راستہ بھول گیا۔
گمشدگی کی اصل:
انسان کی گمشدگی اس کے ظاہری وجود میں نہیں، بلکہ اس کی روح میں ہے۔
وہ زمین پر آباد ہے مگر دل میں ویران۔
اس کے پاس علم ہے مگر عرفان نہیں،
ٹیکنالوجی ہے مگر تسکین نہیں،
آزادی ہے مگر امن نہیں۔
یہ وہی انسان ہے جس کے بارے میں قرآن نے کہا:
"اور ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے سب سے پست حالت میں لوٹا دیا — مگر وہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔"
(سورۃ التین: 4–5)
یعنی خدا نے انسان کو اپنے قریب ہونے کی صلاحیت دی تھی، مگر جب اس نے خدا کو بھلا دیا تو خود کو بھی بھلا بیٹھا۔
قرآن کا ارشاد ہے:
"اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے ان کو ان کا آپ بھلا دیا۔"
(سورۃ الحشر: 19)
یہ آیت گویا انسان کی گمشدگی کا خلاصہ ہے — خدا کو بھلانے کا انجام یہ ہے کہ انسان خود کو کھو بیٹھتا ہے۔
خدا گم نہیں ہوا:
خدا نہ وقت کے بدلنے سے بدلتا ہے، نہ تہذیبوں کے زوال سے چھپتا ہے۔
وہ تو ہر علم، ہر وجود، اور ہر شعور کی بنیاد ہے۔
انسان جب اپنی اندرونی آواز، اپنی فطرت کی سچائی، اور اپنی روح کے نور سے رشتہ توڑ دیتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ خدا کہیں کھو گیا ہے۔
حالانکہ خدا ہمیشہ سے ہے —
"وہ اول ہے اور آخر، ظاہر ہے اور باطن، اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔"
(سورۃ الحدید: 3)
مسئلہ یہ نہیں کہ خدا کہاں ہے،
مسئلہ یہ ہے کہ انسان کہاں ہے؟
وہ اپنے آپ سے کتنا دور جا چکا ہے؟
روحانی و فکری خلا:
جدید انسان نے خلا ناپ لیے، کہکشاؤں کی پیمائش کر لی،
مگر اپنے اندر کے خلا کو پر نہ کر سکا۔
اس نے زمین پر جنتیں بنائیں مگر دل میں جہنم بسایا۔
سائنس نے اسے پر لگا دیے، مگر ضمیر کے پنجرے میں قید کر دیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ انسان باہر سے کامیاب مگر اندر سے خالی ہے۔
یہی وہ گمشدگی ہے — خدا کی نہیں، انسان کی۔
واپسی کا راستہ:
انسان کا اصل سفر باہر نہیں، اندر کی طرف ہے۔
خدا کہیں باہر نہیں چھپا، وہ ہر دل کے اندر ہے۔
قرآن نے فرمایا:
"اور ہم اس سے زیادہ قریب ہیں جتنا اس کی شہ رگ۔"
(سورۃ ق: 16)
لہٰذا، خدا تک پہنچنے کے لیے کسی فلکی دوربین کی ضرورت نہیں،
بس دل کے زنگ کو صاف کرنا ہے۔
خدا کو پانے کا مطلب کسی نئے وجود کو ڈھونڈنا نہیں،
بلکہ اپنے کھوئے ہوئے انسان کو پانا ہے۔
اختتامیہ:
خدا کبھی گم نہیں ہوتا،
وہ تو ہر لمحہ ہماری سانسوں میں بولتا ہے، ہماری دھڑکنوں میں دھڑکتا ہے۔
گم اگر کوئی ہے تو انسان — جو خدا کو چھوڑ کر اپنی ہی بنائی ہوئی دنیا میں کھو گیا ہے۔
خدا کو ڈھونڈنے سے پہلے انسان کو خود کو ڈھونڈنا ہوگا،
کیونکہ جب انسان خود کو پا لیتا ہے، وہ خدا کو پا لیتا ہے۔ 

کوئی تبصرے نہیں: