کھیل ختم
جب سیاسی دباؤ معمول بن جائے، معاشی راستے بند کیے جائیں،
اور سماجی سطح پر کسی قوم کو مسلسل غیر متعلق ثابت کیا جائے—
تو مایوسی پیدا ہونا فطری ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ یہی مایوسی جب شعور میں بدلتی ہے تو خاموشی نہیں رہتی، وہ فیصلہ بن جاتی ہے۔
آج عالمی منظرنامہ اسی تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
طاقت، قانون اور انسانی حقوق کے نام پر قائم نظام
اپنی اخلاقی بنیاد کھو چکا ہے۔
یورپی یونین کا امریکہ کے ساتھ بڑے تجارتی معاہدوں کو معطل کرنا
اس بات کا عندیہ ہے کہ عالمی سیاست اب یکطرفہ فیصلوں کو پہلے کی طرح قبول نہیں کر رہی۔
اسی بکھرتے نظام کی سب سے نمایاں مثال اقوامِ متحدہ کی غیر فعالیت ہے۔ فلسطین کے معاملے پر درجنوں قراردادیں موجود ہیں، کشمیر کا مسئلہ بھی دہائیوں سے اسی سرد خانے میں پڑا ہے۔ یہی بے عملی مظلوم اقوام کو
متبادل راستے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
جب ظلم مستقل صورت اختیار کرے تو ردِعمل ناگزیر ہو جاتا ہے۔ فلسطین کے امن پسند اور نہتے عوام اسی ردِعمل کی علامت ہیں۔ وہ عسکری لحاظ سے کمزور ہیں، مگر انکار کی قوت رکھتے ہیں—
اور تاریخ میں اکثر یہی قوت طاقت کے توازن کو بدل دیتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اور اس کے گرد و نواح میں شام، لبنان، لیبیا اور عراق کی مثالیں سامنے ہیں۔ ایک ایک خطہ عدم استحکام کا شکار ہوا، اور باقی اقوام یہ سمجھتی رہیں کہ خاموش رہ کر خود کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
لیکن وقت نے ثابت کیا کہ خاموشی تحفظ کی ضمانت نہیں بنتی۔
برسوں سے پاکستان کو براہِ راست اور بالواسطہ جارحیت کا سامنا ہے۔
سرحدی کشیدگی، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی، سفارتی دباؤ، اور داخلی عدم استحکام کو ہوا دینے کی کوششیں—یہ سب ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیںجس کے ذریعے ایک ریاست کو کمزور رکھنے کی سعی کی جاتی ہے۔
یہ صورتِ حال بھی اسی حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ مظلوم اقوام کو درپیش چیلنج علاقائی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کا ہے۔
یمن اور شام جیسے محاذوں پر غیر متوازن جنگ کے باوجود مزاحمت کا مکمل خاتمہ ممکن نہ ہو سکا۔ یہ محض عسکری کامیابیاں نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ فیصلہ کن عنصر ہتھیار نہیں، بلکہ ارادہ ہوتا ہے۔
اسی اصول کو 1987 کے سعودی واقعے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اس سال سعودی عرب نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے
ایسٹ ونڈ میزائل ریاض کے جنوب میں نصب ہوئے اور اسرائیل نے ان پر حملے پر غور شروع ہوا۔ مگر سعودی قیادت کے غیر مبہم مؤقف اسرائیل کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر گیا۔
جب ریاستیں خوف کے بجائے کر گذرنے کا ارادہ کر لیں تو طاقت کا رخ بدل جاتا ہے۔ پاکستان کا معرکہ حق اس کی عملی مثال ہے
غزہ کے امن پسند اور نہتے لوگوں نے ،چال قائم کی اور آج ایران دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقتوں کے سامنے ڈٹا ہوا ہے ۔ اس لیے نہیں کہ وہ طاقتور ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ مزید خاموش رہنے کو اپنی موت کے برابر سمجھتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ یہ راستہ کتنا مشکل ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے علاوہ کوئی راستہ باقی رہ گیا تھا؟
آخر میں ایک بات واضح رہنی چاہیے: مایوسی سے منع کیا گیا ہے۔مایوسی جمود پیدا کرتی ہے، جبکہ امید حرکت کو جنم دیتی ہے۔آج جو تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں وہ کسی فوری فتح کا اعلان نہیں، مگر یہ ضرور بتاتی ہیں کہ سمت درست ہو چکی ہے۔
پر امید رہیں—اب منزل زیادہ دور نہیں ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں