چین کو تنہا کرنے کی امریکی کوششیں
عالمی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کے روایتی توازن تیزی سے بدل رہے ہیں۔ سرد جنگ کے بعد امریکہ نے جس یک قطبی عالمی نظام کو قائم رکھا، اس کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ عالمی فیصلہ سازی کا مرکز واشنگٹن ہی رہے۔ مگر چین کے معاشی، سفارتی اور عسکری عروج نے اس تصور کو عملاً چیلنج کر دیا ہے۔ آج دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے چین کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں دراصل اسی کثیر قطبی نظام کی تشکیل کو تیز کر رہی ہیں، جسے روکنا امریکی پالیسی کا اصل ہدف تھا۔
امریکہ نے چین کے خلاف تجارتی جنگ، ٹیکنالوجی پر پابندیاں، سیمی کنڈکٹرز کی فراہمی محدود کرنے اور انڈو پیسیفک میں عسکری اتحادوں کے قیام جیسے اقدامات کیے۔ کواڈ اور آکس جیسے اتحاد چین کے گرد اسٹریٹجک دباؤ بڑھانے کی علامت ہیں۔ بظاہر یہ حکمتِ عملی چین کو محدود کرنے کے لیے تھی، مگر اس کے نتائج عالمی سطح پر ایک مختلف سمت میں سامنے آ رہے ہیں۔
حالیہ عرصے میں وہ ممالک بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے دکھائی دے رہے ہیں جو کبھی امریکی موقف کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ آسٹریلیا، جو چند سال قبل چین کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے تھا، اب اپنے تعلقات کو دوبارہ متوازن اور فعال بنانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آسٹریلیا کی جانب سے چین کے ساتھ تجارتی اور سفارتی روابط کی بحالی اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ محض امریکی دباؤ کی بنیاد پر کسی بڑی عالمی طاقت سے مستقل لاتعلقی ممکن نہیں۔
اسی طرح برطانیہ کے وزیرِ اعظم کا دورۂ چین غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس دورے کا مقصد چین کے ساتھ تعلقات کو اس کے ’’سنہری دور‘‘ (Golden Era) کی طرف دوبارہ لے جانا قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یورپی طاقتیں بھی اب چین کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کے امریکی تصور سے فاصلہ اختیار کر رہی ہیں اور اپنے معاشی و اسٹریٹجک مفادات کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھ رہی ہیں۔
چین نے امریکی دباؤ کے جواب میں اپنی عالمی حکمتِ عملی کو مزید وسعت دی ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے چین نے ایشیا، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکہ میں متبادل اتحاد اور شراکتیں قائم کیں۔ روس، ایران اور گلوبل ساؤتھ کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا اب کسی ایک طاقت کے اشاروں پر چلنے کو تیار نہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکہ کی چین مخالف پالیسیوں نے صرف چین کو نہیں بلکہ دیگر ممالک کو بھی یہ احساس دلایا ہے کہ یک قطبی نظام میں ان کی خودمختاری کس قدر محدود ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی طاقتیں اب متوازن خارجہ پالیسی، کثیر جہتی تعلقات اور متبادل مالی و تجارتی نظاموں کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ مقامی کرنسیوں میں تجارت، ڈالر کی بالادستی پر سوالات، اور نئی معاشی شراکتیں اسی بدلتی سوچ کا اظہار ہیں۔
یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ چین کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی امریکی کوششیں اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے بجائے ایک نئے عالمی توازن کو جنم دے رہی ہیں۔ ایک ایسا نظام جہاں طاقت، اثر و رسوخ اور فیصلے کسی ایک دارالحکومت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مختلف مراکز میں تقسیم ہوں گے۔ بظاہر امریکہ جس کثیر قطبی عالمی نظام کو روکنا چاہتا تھا، آج وہی نظام تیزی سے حقیقت کا روپ دھار رہا ہے—اور اس کی رفتار کو خود امریکی پالیسیاں ہی مزید تیز کر رہی ہیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں