دشمنی سے محبت تک
یومِ حنین اسلامی تاریخ کا وہ دن ہے جب میدانِ جنگ صرف تلواروں سے نہیں بلکہ دلوں کے اندر بھی برپا تھا۔ اسی دن ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو انسان کے باطن میں ایمان کے انقلاب کی سب سے روشن مثال بن گیا۔
شیبہ بن عثمان خود بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسولِ اکرم ﷺ کو اس دن تنہا دیکھا۔ یہ تنہائی محض ظاہری تھی، مگر شیبہ کی نگاہ میں یہی لمحہ انتقام کا سنہری موقع تھا۔ ان کے ذہن میں اپنے باپ اور چچا کی یاد تازہ ہوئی—وہ دونوں جو علیؓ اور حمزہؓ کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ دل میں دفن کی ہوئی دشمنی نے سر اٹھایا اور شیطان نے سرگوشی کی: آج بدلہ لینے کا دن ہے۔
شیبہ نے دائیں جانب سے بڑھنے کا سوچا تو عباسؓ نظر آئے—رسول ﷺ کے چچا۔ دل نے گواہی دی کہ یہ شخص آخری سانس تک ساتھ چھوڑنے والا نہیں۔ بائیں جانب سے حملے کا خیال آیا تو ابوسفیان بن حارثؓ دکھائی دیے—چچا زاد بھائی، وہ بھی وفاداری کی دیوار۔ آخر پشت سے حملہ کرنے کا ارادہ کیا، مگر جیسے ہی قریب پہنچے، اچانک ان کے اور رسول ﷺ کے درمیان آگ کے شعلے حائل ہو گئے۔ یہ شعلے تیز بھی تھے اور روشن بھی—آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے، قدموں کو جکڑ دینے والے۔
اسی لمحے وہ ہوا جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے التفات فرمایا اور نام لے کر پکارا:
“اے شیبہ، میرے قریب آؤ۔”
پھر دعا فرمائی:
“اے اللہ! شیبہ سے شیطان کو دور فرما دے۔”
یہ الفاظ تلوار سے زیادہ کاٹ دار ثابت ہوئے۔ شیبہ کہتے ہیں کہ میں نے آنکھ اٹھا کر حضور ﷺ کو دیکھا تو وہ مجھے اپنی آنکھوں، کانوں اور جان سے بھی زیادہ عزیز ہو گئے۔ دشمنی پگھل چکی تھی، نفرت ایمان میں بدل چکی تھی، اور انتقام محبت کے سامنے ہار چکا تھا۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ صرف جسمانی جنگ نہیں لڑتے تھے، وہ دلوں کی جنگ بھی جیتتے تھے۔ آپ ﷺ کی قوت تلوار میں نہیں، دعا میں تھی۔ آپ ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ یہی تھا کہ دشمنوں کو دوست، قاتلانہ ارادوں کو وفاداری، اور اندھی نفرت کو زندہ ایمان میں بدل دیتے تھے۔
شیبہ بن عثمان کا یہ بیان—جو انہوں نے عبداللہ بن عباسؓ کے غلام عکرمہ کو سنایا—گواہ ہے کہ جب رحمتِ محمدی ﷺ کسی دل کو چھو لے، تو وہاں شیطان کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں