اتوار، 18 جنوری، 2026

رضا پہلوی — جلاوطنی کی سیاست،






رضا پہلوی — اقتدار کا خواب
ایران کے سابق شاہ محمد رضا پہلوی کے صاحبزادے رضا پہلوی آج خود کو ایرانی عوام کے لیے ایک “متبادل قیادت” کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ نہیں کہ وہ کون ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس کی نمائندگی کرتے ہیں، کن طاقتوں پر انحصار کرتے ہیں، اور ایران کے اندر ان کی سیاسی حیثیت کیا ہے؟
رضا پہلوی 1960ء میں پیدا ہوئے اور 1979ء کے اسلامی انقلاب کے وقت ولی عہد تھے۔ انقلاب کے بعد وہ خاندان سمیت ایران سے نکل گئے۔
ان کی پوری سیاسی شناخت ایک کھوئی ہوئی سلطنت کے گرد گھومتی ہے—ایسی سلطنت جسے تاریخ، عوام اور وقت تینوں مسترد کر چکے ہیں۔
وہ خود کو کبھی:
آئینی بادشاہت کے حامی
کبھی جمہوری ریپبلکن
اور کبھی قومی اتحاد کی علامت
کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر ان کے بیانیے میں واضح نظریاتی استقامت نظر نہیں آتی۔
رضا پہلوی کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ:
وہ ایران کے اندر موجود نہیں
ان کی کوئی فعال سیاسی جماعت نہیں
ان کا کوئی عوامی تنظیمی ڈھانچہ نہیں
ان کی حمایت زیادہ تر:
بیرونِ ملک مقیم ایرانیوں
سوشل میڈیا نیٹ ورکس
اور مغربی میڈیا تک محدود ہے۔
ایران کے اندر، خاص طور پر مذہبی، دیہی اور نچلے متوسط طبقے میں، ان کا اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔
رضا پہلوی کے امریکہ سے تعلقات حادثاتی نہیں، وراثتی ہیں۔
پہلوی خاندان امریکی حمایت سے اقتدار میں رہا
1953ء کی بغاوت امریکی کردار کا واضح ثبوت ہے
شاہی دور میں ایران امریکہ کا قریبی اتحادی تھا
رضا پہلوی: امریکی پالیسی تھنک ٹینکس
کانگریس کے حلقوں
اور امریکی میڈیا میں باقاعدہ رسائی رکھتے ہیں۔
ان کا مؤقف:
ایران پر دباؤ بڑھایا جائے
اسلامی جمہوریہ کو عالمی سطح پر تنہا کیا جائے
پابندیاں “عوام کے مفاد” میں ہیں
یہ مؤقف ایران کے اندر انہیں غیر ملکی ایجنڈے کا نمائندہ ثابت کرتا ہے۔
رضا پہلوی کا اسرائیل کے ساتھ تعلق ان کی سیاست کا سب سے حساس اور نقصان دہ پہلو ہے۔
انہوں نے: اسرائیل کے وجود کو تسلیم کیا
کھلے عام اسرائیلی قیادت سے ملاقاتیں کیں
ایران–اسرائیل دشمنی کو “مصنوعی” قرار دیا
یہ مؤقف: اسلامی جمہوریہ کے سخت خلاف
اور ایرانی عوام کی بڑی اکثریت کے جذبات سے متصادم
ہے۔
ایران میں اسرائیل کو:
فلسطینیوں کے خلاف جارح ریاست
خطے میں عدم استحکام کی علامت
سمجھا جاتا ہے۔
اس تناظر میں رضا پہلوی کا اسرائیل نواز رویہ انہیں:
“ایرانی مفادات کے بجائے اسرائیلی سلامتی کا وکیل”
بنا کر پیش کرتا ہے۔
رضا پہلوی کی سیاست ایک بنیادی تضاد کا شکار ہے:
وہ اقتدار عوام سے چاہتے ہیں مگر دباؤ بیرونی طاقتوں سے دلواتے ہیں
یہی تضاد: ان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے
ایران کی تاریخ گواہ ہے کہ:
بیرونی حمایت یافتہ قیادتیں ایران میں کبھی دیرپا قبولیت حاصل نہیں کر سکیں۔
ایران میں عوامی ناراضی ضرور ہے:
مہنگائی
پابندیاں
سماجی مسائل
مگر یہ ناراضی:
شاہی نظام کی بحالی یا مغرب نواز قیادت میں ڈھلتی نظر نہیں آتی۔

کوئی تبصرے نہیں: