منگل، 20 جنوری، 2026



منظم جنون
یہ سوال محض سیاسی نعرہ نہیں رہتا کہ “کیا مغربی لبرل نظام اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے؟” اس کا جواب واشنگٹن 
کے دعوؤں میں نہیں، بلکہ برسلز کی خاموشی، تذبذب اور بے بسی میں لکھا جا رہا ہے۔


واشنگٹن پوسٹ کی  رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ناروے کے وزیرِاعظم کو ارسال کردہ پیغام میں گرین لینڈ کو نوبل امن انعام سے جوڑ دیا۔ مفہوم یہ تھا کہ چونکہ نوبل کمیٹی نے انہیں یہ اعزاز نہیں دیا، اس لیے وہ خود کو صرف امن کے تقاضوں تک محدود رکھنے کے پابند نہیں رہے۔ یہ خارجہ پالیسی نہیں، بلکہ عالمی سیاست کا ذاتی رنجش میں تبدیل ہو جانا ہے۔ جب ریاستوں کے فیصلے انعام نہ ملنے کے غصے سے جڑ جائیں تو اسے حکمت نہیں، منظم جنون کہنا زیادہ درست ہے۔

یہاں ایک اہم اور نظرانداز کیا جانے والا پہلو بھی ہے۔ پاکستان نے غزہ میں امن کی کوششوں کے تناظر میں ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔ یہ نامزدگی اس امید پر تھی کہ عالمی سطح پر جنگ بندی اور انسانی جانوں کے تحفظ کی کوششوں کو سراہا جائے گا۔ مگر نوبل انعام ایک ایسی شخصیت کو دیا گیا جس کا دل تل ابیب میں اٹکا ہوا تھا اور جس کی نگاہ اصل میں امن پر نہیں بلکہ اپنے ملک کی صدارت پر مرکوز تھی۔ یوں نوبل انعام بھی اخلاقی وزن کے بجائے سیاسی سمت کا عکاس بن گیا—اور یہی وہ لمحہ تھا جب انا نے پالیسی کی جگہ لے لی۔

اسی پس منظر میں یورپ کی بے بسی سب سے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ یورپی یونین کے پاس اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ کی صورت میں ایک طاقتور معاشی ہتھیار موجود ہے، جسے خود یورپی مبصرین “تجارتی بازوکا” کہتے ہیں۔ مگر یہ ہتھیار چلایا نہیں جا سکتا، کیونکہ امریکہ کے خلاف اس کا استعمال یورپ کے لیے معاشی خودکشی کے مترادف ہوگا۔ یوں یورپ ایک ایسے اسلحے سے لیس ہے جو طاقتور تو ہے، مگر ناقابلِ استعمال۔ نتیجہ یہ ہے کہ یورپ دو تباہ کن راستوں کے درمیان کھڑا ہے: یا دباؤ قبول کر کے اپنی خودمختاری قربان کرے، یا مزاحمت کر کے اپنی معیشت کو بحران میں دھکیل دے۔

یہ کیفیت ہمیں وینزویلا کے انجام کی یاد دلاتی ہے، جہاں ایک ملک اس وقت عالمی بساط پر تنہا پڑ گیا جب اس کے اتحادی پیچھے ہٹ گئے۔ مگر گرین لینڈ کا معاملہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ وینزویلا روس کی اتحادی تھی، جبکہ گرین لینڈ نیٹو کے دائرے میں آتی ہے۔ یہاں پسپائی کسی ایک خطے کی قربانی نہیں ہوگی، بلکہ پورے نیٹو اتحاد کی اخلاقی بنیادوں پر ضرب ہوگی۔ اگر نیٹو اپنے ہی دائرے میں شامل ایک خطے کی حفاظت نہ کر سکا تو اس کے وجود کا جواز خود سوال بن جائے گا۔

اس کے باوجود یورپ ایک خوش فہمی پر تکیہ کیے بیٹھا ہے، جسے واشنگٹن کی سیاسی لغت میں 
TACO
کہا جاتا ہے—یعنی یہ یقین کہ “ٹرمپ آخرکار پیچھے ہٹ جائے گا”۔ مگر حالات بتاتے ہیں کہ اس بار معاملہ مختلف ہے۔ ٹرمپ داخلی دباؤ میں ہے، مقبولیت کی گراوٹ کا سامنا کر رہا ہے، اور اسے ایک بڑی علامتی فتح درکار ہے۔ گرین لینڈ اب جغرافیہ نہیں، اس کی سیاسی مردانگی اور طاقت کے اظہار کا استعارہ بن چکا ہے۔ سوال یہ نہیں رہا کہ مطالبہ کتنا غیر معقول ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ ایک برفانی جزیرے کے لیے پورے اتحاد کو قربان کر سکتا ہے؟ موجودہ شواہد اس امکان کو رد نہیں کرتے۔

اسی دوران روس خاموشی سے اس سارے منظرنامے کو دیکھ رہا ہے اور چین گہری توجہ سے مشاہدہ کر رہا ہے۔ ان دونوں کے لیے یہ کسی جنگ سے کم اہم نہیں، کیونکہ یہاں امریکہ اپنے ہی ہاتھوں اس عالمی نظام کو کمزور کر رہا ہے جسے اس نے 1945 کے بعد خود تشکیل دیا تھا۔ پیغام صاف ہے: بیرونی دشمنوں سے زیادہ خطرناک وہ اتحادی ہوتا ہے جو اپنی طاقت کو عقل کے بجائے انا کے تابع کر دے۔

اصل سانحہ یہ ہے کہ یورپ نے بہت دیر سے یہ حقیقت دریافت کی کہ اس نے اپنی سلامتی ایک ایسے اتحادی کے ساتھ باندھ رکھی تھی جو اپنے غرور پر قابو کھو چکا ہے۔ آنے والے دن صرف گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ “مغرب” کے تصور کی بقا یا زوال کا بھی تعین کریں گے۔ یا تو یورپ جھک جائے گا اور اتحادوں کا تصور کھوکھلا ہو جائے گا، یا وہ مزاحمت کرے گا اور خود اتحاد ٹوٹ جائیں گے۔ دونوں صورتوں میں فائدہ ماسکو اور بیجنگ کو پہنچے گا۔

شاید یہی وہ لمحہ ہے جب یہ سوال محض سیاسی نعرہ نہیں رہتا کہ “کیا مغربی لبرل نظام اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے؟” اس کا جواب واشنگٹن کے دعوؤں میں نہیں، بلکہ برسلز کی خاموشی، تذبذب اور بے بسی میں لکھا جا رہا ہے۔
آج کے عالمی منظرنامے کو محض سفارتی کشیدگی یا تجارتی دباؤ کا نام دینا حقیقت سے فرار ہے۔ جو کچھ سامنے آ رہا ہے، وہ مغربی نظام کی اندرونی شکست ہے—ایک ایسی شکست جو کسی بیرونی دشمن نے مسلط نہیں کی، بلکہ خود اسی نظام کے مرکز میں بیٹھے غرور نے جنم دی ہے۔ ریاستی مفاد، اجتماعی سلامتی اور طویل المدت حکمتِ عملی اب ذاتی انا، ضد اور انتقامی نفسیات کے تابع دکھائی دیتی ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں: