منگل، 20 جنوری، 2026

اجتماعیت کہاں کھو گئی؟





 اجتماعیت کہاں کھو گئی؟

دنیا کے سب سے بڑے فرنیچر اسٹور 
IKEA
 کے بانی
 Ingvar Kamprad
 کی کہانی بظاہر ایک سرمایہ دار کی کامیابی کی داستان ہے، مگر درحقیقت یہ ایک اخلاقی سوال ہے۔ ساٹھ ارب ڈالر کی ذاتی دولت، چالیس ارب یورو سالانہ آمدنی—اور اس کے باوجود ایک سادہ زندگی، اکانومی کلاس سفر، پرانی گاڑی اور سیکنڈ ہینڈ کپڑے۔ یہ سب کچھ اس شخص کی زندگی کا حصہ رہا جو چاہتا تو شاہانہ طرزِ زندگی اپنا سکتا تھا، مگر اس نے دولت کو فرد کے بجائے اجتماع کے لیے وقف کر دیا۔
یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے:
دولت اگر ہاتھ میں ہو تو کیا وہ لازماً طرزِ زندگی کا معیار بن جانی چاہیے؟
مذہب—خصوصاً اسلام—اس سوال کا جواب بہت واضح دیتا ہے۔ اسلام فرد کو نہیں، معاشرے کو مرکز بناتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
"كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ"
(تاکہ دولت تمہارے امیروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتی رہے)
— الحشر: 7
یہ آیت مذہب کی معاشی اور اخلاقی اجتماعیت کا خلاصہ ہے۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ آج مذہب کی نمائندگی کرنے والے بعض حلقوں میں ایک نیا کلچر جنم لے چکا ہے۔ وہ مذہبی رہنما جو منبر سے سادگی، قناعت اور زہد کے درس دیتے ہیں، خود برانڈڈ لباس، وسیع و عریض رہائش گاہیں، پرتعیش گاڑیاں اور پروٹوکول والی زندگی اختیار کر چکے ہیں۔ مذہب کی اجتماعی نصیحت اب ان کے ہاں ذاتی جواز میں بدل چکی ہے۔
کہا جاتا ہے:
“اللہ نے دیا ہے، اس کا شکر ادا کر رہے ہیں۔”
مگر سوال یہ ہے کہ کیا شکر کا مفہوم صرف خرچ کرنا ہے، یا بانٹنا بھی؟
رسول اللہ کا طرزِ زندگی اس معاملے میں معیار ہے۔ آپ کے پاس اگر دولت آئی تو وہ ٹھہری نہیں۔ کبھی فاقہ آیا تو صبر کیا، کبھی مال آیا تو تقسیم کر دیا۔ حضرت عمرؓ خلیفہ تھے مگر لباس میں پیوند، حضرت علیؓ بیت المال کے چراغ میں ذاتی بات نہیں کرتے تھے، اور حضرت عثمانؓ جیسا تاجر اپنی دولت عوام کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ یہ سب مثالیں مذہب کی اجتماعی روح کی عملی تصویر ہیں۔
اس کے برعکس، آج بعض مذہبی طبقات میں دین ایک برانڈ بن چکا ہے—مہنگے ملبوسات، قیمتی گھڑیاں، سیکیورٹی اسکواڈ، اور خطابات کے نرخ۔ مسئلہ دولت نہیں، مسئلہ نمونہ 
(Example) 
ہے۔ جب مذہبی رہنما خود آسائش کو معمول بنا لیں تو عوام کے لیے صبر، قناعت اور ایثار محض خطیبانہ الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں 
Ingvar Kamprad
 جیسے غیر مسلم انسان ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں۔ اس نے نہ مذہب کا دعویٰ کیا، نہ منبر سنبھالا، مگر اپنی دولت کو انسانیت کے لیے وقف کر دیا۔ اس نے اپنی اولاد کو ارب پتی بنانے کے بجائے لاکھوں خاندانوں کو جینے کا موقع دیا۔
یہ سوال اب ہمارے اجتماعی شعور سے ہے:
کیا مذہب صرف وعظ کا نام ہے، یا ذاتی مثال کا بھی تقاضا کرتا ہے؟
اگر مذہب اجتماعیت سکھاتا ہے تو اس کا پہلا امتحان وہی لوگ ہیں جو اس کے نمائندے کہلاتے ہیں۔ جب رہنما خود کو عوام سے الگ کر لے، تو مذہب بھی ایک طبقاتی شے بن جاتا ہے—اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دین کمزور نہیں ہوتا، بدنام ہو جاتا ہے۔
اصل عظمت اس میں نہیں کہ انسان کیا کہتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کیسا جیتا ہے۔
Ingvar Kamprad 
نے مذہب کے بغیر اجتماعیت کو سمجھ لیا—اور ہم مذہب کے ہوتے ہوئے بھی اسے بھولتے جا رہے ہیں۔




کوئی تبصرے نہیں: