روح، موت اور بعد از حیات
انسانی فکر کی تاریخ میں اگر کوئی سوال مسلسل زندہ رہا ہے تو وہ روح، موت اور بعد از حیات کا سوال ہے۔ یہ محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ انسانی شعور، اخلاق اور وجودی اضطراب سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ ہر تہذیب نے اپنے فکری، روحانی اور فلسفیانہ سانچوں میں ان سوالات کے جواب تلاش کیے۔ عرب دنیا اور برصغیر کے مفکرین نے اس موضوع کو الٰہی ہدایت، اخلاقی ذمہ داری اور روحانی تربیت کے تناظر میں سمجھا، جبکہ مغربی فلسفہ نے اسے زیادہ تر تجربی، منطقی اور وجودی زاویے سے پرکھنے کی کوشش کی۔
اسلامی کلام اور فلسفہ میں روح کو انسان کی اصل اور غیر مادی حقیقت تصور کیا جاتا ہے۔ جسم فانی ہے، مگر روح وہ جوہر ہے جو انسانی شعور، اخلاق اور ذمہ داری کی بنیاد بنتا ہے۔ امام غزالی کے نزدیک روح جسم کی قید سے آزاد ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کو نیکی، بدی، ارادہ اور اخلاقی فیصلوں کے قابل بناتی ہے۔ یہی روح ہے جو انسان کو محض حیاتیاتی وجود سے بلند کر کے اخلاقی مخلوق بناتی ہے۔ ابن عربی اس تصور کو مزید گہرائی دیتے ہیں اور روح کو الٰہی معرفت کا مرکز قرار دیتے ہیں، جہاں انسان اپنے باطن میں حقیقتِ مطلق کی جھلک پاتا ہے۔ ان کے نزدیک روح کی بیداری دراصل انسان کے اخلاقی اور روحانی ارتقا کا نقطۂ آغاز ہے۔
عرب فلسفیوں نے بھی روح کے مسئلے کو محض مذہبی عقیدے کے طور پر نہیں بلکہ عقلی اور علمی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی۔ فخر الدین رازی نے روح کی وجودیت، اس کی بقا اور معاد سے اس کے تعلق کو منطقی استدلال کے ساتھ واضح کیا۔ ان کے ہاں روح کا تصور انسانی عقل کو ایک ایسے دائرے میں داخل کرتا ہے جہاں مادی قوانین اپنی حدیں ظاہر کر دیتے ہیں۔
یہی تصور ہمیں مغربی فلسفہ میں بھی مختلف صورتوں میں ملتا ہے۔ ڈیکارٹ نے ذہن اور جسم کی دوئی کے ذریعے روح یا شعور کو مادے سے ممتاز کیا، جبکہ جدید فلسفۂ شعور میں یہ سوال اب بھی زندہ ہے کہ انسانی تجربہ اور شعور کو محض مادی عمل سے کیسے مکمل طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اس مقام پر اسلامی اور مغربی مکالمہ ایک دوسرے کے قریب آتا دکھائی دیتا ہے، اگرچہ دونوں کی زبان اور استدلال مختلف ہے۔
موت، جو انسانی زندگی کا سب سے یقینی مگر سب سے زیادہ پراسرار مرحلہ ہے، اسلامی فکر میں محض اختتام نہیں بلکہ ایک انتقال ہے۔ جسمانی زندگی ختم ہو جاتی ہے، مگر روح باقی رہتی ہے اور اپنے اعمال کے نتائج کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔ اس تصور میں موت ایک خوفناک خلا نہیں بلکہ اخلاقی جواب دہی کا دروازہ ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک موت انسانی خودی کی نفی نہیں بلکہ اس کی اگلی منزل ہے۔ وہ اسے ایک روحانی تجربہ سمجھتے ہیں جو انسان کو اس کے حقیقی مقام اور ذمہ داری کا شعور عطا کرتا ہے۔ برصغیر کے صوفیاء بھی موت کو محض جسمانی فنا نہیں مانتے بلکہ اسے روحانی کمال اور اخلاقی آزمائش کی تکمیل قرار دیتے ہیں۔
مغربی فلسفہ میں موت کا تصور زیادہ پیچیدہ اور متنوع ہے۔ بعض مفکرین اسے شعور کے مکمل خاتمے کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ بعض کے نزدیک انسانی شعور اور ذاتی تجربات کو صرف مادی اصولوں کے ذریعے مکمل طور پر واضح نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بعد از مرگ تجربات، شعور کی بقا اور وجودی سوالات فلسفے کو ایک بار پھر ماورائے طبیعیات کی طرف لے جاتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں بعد از حیات کا تصور نہایت واضح اور اخلاقی بنیادوں پر قائم ہے۔ یہ تصور انسان کو یہ یقین دیتا ہے کہ زندگی بے مقصد نہیں، اور نہ ہی اخلاقی عمل بے نتیجہ۔ اعمال، نیت اور کردار کا حساب ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کو اس دنیا میں ذمہ دار بناتی ہے۔ اشعری فکر میں معاد خدا کی عدل اور حکمت کا اظہار ہے، جبکہ معتزلہ کے نزدیک بعد از حیات کا تصور انسانی آزادی اور اخلاقی ذمہ داری کو معنی عطا کرتا ہے۔ برصغیر کے مفکرین، خصوصاً شاہ ولی اللہ اور اقبال، نے معاد کو روحانی تربیت اور خودی کی تکمیل کے تناظر میں بیان کیا۔ ان کے ہاں بعد از حیات محض جزا و سزا نہیں بلکہ اخلاقی شعور کی تکمیل ہے۔
عرب فلسفہ میں ابن سینا اور ابن رشد جیسے مفکرین نے روح اور معاد پر گہری بحث کی۔ ابن سینا روح کو جسم سے مستقل وجود قرار دیتے ہیں، جبکہ ابن رشد عقل اور فلسفے کے ذریعے معاد کے تصور کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ اگرچہ فلسفیانہ تعبیر مختلف ہو سکتی ہے، مگر روح کی بقا اور اخلاقی جواب دہی سے انکار ممکن نہیں۔
اسلامی اور صوفیانہ روایت میں روح، موت اور بعد از حیات کا سب سے اہم پہلو اخلاقی اور روحانی تربیت ہے۔ روح انسان کی اصل پہچان ہے، موت اسے غفلت سے جھنجھوڑتی ہے، اور بعد از حیات اسے اس کے اعمال کی سچائی سے روبرو کرتی ہے۔ یہی تصورات انسان کو محض مفاد پرست وجود بننے سے روکتے ہیں اور اسے اخلاقی، ذمہ دار اور بامقصد زندگی کی طرف لے جاتے ہیں۔ صوفیاء کے نزدیک اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان موت کے بعد کیا پائے گا، بلکہ یہ ہے کہ وہ موت سے پہلے کیسا انسان بن سکا۔
خلاصہ یہ ہے کہ روح، موت اور بعد از حیات کا مسئلہ محض مذہبی عقیدہ یا فلسفیانہ سوال نہیں، بلکہ انسانی اخلاق اور وجود کا مرکز ہے۔ عرب اور برصغیر کی فکری روایت نے ان تصورات کو انسانی تربیت اور روحانی ارتقا کے ساتھ جوڑا، جبکہ مغربی فلسفہ نے انہیں عقل، تجربے اور وجودی تجزیے کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی۔ دونوں مکالمات اس نکتے پر آ کر ملتے ہیں کہ انسان محض جسم نہیں، اور زندگی محض لمحاتی تجربہ نہیں۔ روح کی حقیقت، موت کی معنویت اور بعد از حیات کا تصور انسان کو اس کی اصل ذمہ داری اور اخلاقی مقام کا شعور عطا کرتا ہے—اور یہی شعور انسانی فکر کا سب سے بڑا حاصل ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں