جمعہ، 30 جنوری، 2026

اسرائیل کا مستقبل



اسرائیل کا مستقبل
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو اگر سادہ زبان میں سمجھا جائے تو یہ امریکہ اور ایران کے درمیان کھلی جنگ نہیں، بلکہ ایک منظم دباؤ کا مرحلہ ہے۔ اس مرحلے میں ہر طاقت یہ کوشش کر رہی ہے کہ وہ خود کو بچا لے، کم سے کم نقصان اٹھائے اور آنے والے نظام میں اپنی جگہ محفوظ کر لے۔ ایران اور خلیجی ریاستیں شاید یہ کھیل کسی نہ کسی طرح سنبھال لیں—مگر سوال یہ ہے کہ اسرائیل اس نئے منظرنامے میں کہاں کھڑا ہوگا؟
ایران اس دباؤ کو جنگ میں بدلنے کے بجائے محدود  ردِعمل کی حکمتِ عملی پر چل رہا ہے۔ وہ ایسا جواب دے رہا ہے جو اس کی طاقت بھی دکھائے اور مکمل تصادم سے بھی بچائے۔
ایران جانتا ہے کہ اس کا اصل ہدف حکومت کا تحفظ اور خطے میں اپنے اثر کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ ایسی جنگ جس سے وہ خود بھی ٹوٹ جائے۔ اسی لیے وہ ہرمز، توانائی، اڈوں اور اتحادی محاذوں کے ذریعے دباؤ بڑھاتا ہے مگر دروازہ بند نہیں کرتا۔
سعودی عرب، قطر اور عمان اس کشیدگی میں فریق بننے کے بجائے خود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کی اولین ترجیح ہے کہ تیل کی برآمدات، معیشت اور داخلی استحکام محفوظ رہے۔ اسی لیے وہ نہ کھل کر ایران کے خلاف کھڑے ہیں اور نہ اسرائیل کی جنگی مہم کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
یہ ریاستیں ثالثی، رابطوں اور توازن کے ذریعے وقت خرید رہی ہیں—اور بڑی حد تک کامیاب بھی دکھائی دیتی ہیں۔
مگر اسرائیل…؟
یہاں آ کر تصویر بدل جاتی ہے۔ اسرائیل کے پاس ایران یا خلیجی ریاستوں جیسی گنجائش نہیں۔
اسرائیل کا مسئلہ یہ ہے کہ 
(وہ سیاسی محاذ پر تہنا کھڑا ہے (یا اس کے ساتھ خطے کا وہ ملک ہے جس کی اپنی سیاسی حیثیت قابل ذکر بھی نہیں ہے ۔
اگر امریکہ پیچھے ہٹتا ہے اور خلیجی ریاستیں غیرجانبداری یا ثالثی کی راہ لیتی ہیں تو ایران کے ممکنہ ردِعمل کا قدرتی ہدف اسرائیل ہی بنتا ہے۔
اسرائیل نہ جغرافیائی طور پر بچ سکتا ہے، نہ سیاسی طور پر غیرجانبدار رہ سکتا ہے۔
ایران دباؤ بڑھانے کے لیے اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے کیونکہ اس سے عالمی توجہ بھی ملتی ہے اور امریکہ بھی کھنچتا ہے۔
اسرائیل کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ وہ نہ پوری جنگ جیت سکتا ہے اور نہ خود کو اس دائرے سے نکال سکتا ہے۔

خلیجی ریاستیں اب اسرائیل کو اپنے تحفظ کی ضمانت نہیں سمجھتیں بلکہ ایک خطرہ بننے والا فریق تصور کرنے لگی ہیں۔
ریاض، انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان ابھرتا ہوا محور اسرائیل کے لیے اس لیے خطرناک ہے کہ یہ نہ اس کے کنٹرول میں ہے اور نہ اس کے بیانیے کا حصہ۔
 ممکنہ نئے نظام میں  ایران اور خلیج کے لیے گنجائش نظر آتی ہے مگر اسرائیل کے لیے تنگ دائرہ
کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا
اگر موجودہ دباؤ کے بعد نیا علاقائی نظام بنتا ہے تو

ایران ایک “برداشت کرنے والی طاقت” کے طور پر اپنی جگہ بنا لے گا
خلیجی ریاستیں ثالث اور معاشی ستون بن سکتی ہیں،
مگر اسرائیل ایک ایسا سوالیہ نشان بن جائے گا جو نہ  جنگ جیتا، نہ امن کا معمار بن سکا۔
اسرائیل کے سامنے انتخاب محدود ہوتے جا رہے ہیں یا تو وہ مسلسل تصادم میں رہے، یا اپنے علاقائی کردار پر نظرِ ثانی کرے—جو اس کی موجودہ قیادت کے لیے سب سے مشکل راستہ ہے۔
ایران اور خلیجی ریاستیں شاید اس طوفان میں خود کو بچا لیں، مگر اسرائیل کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں۔
یہ بحران اس کی عسکری طاقت کا نہیں، بلکہ اس کی علاقائی حیثیت اور سیاسی بقا کا امتحان ہے۔
جب موجودہ بے یقینی کے بادل چھٹنے کے بعد سیاسی آسمان صاف ہو گا تو
 ایران اور خلیج سنبھل چکے ہوں گے—تو اسرائیل کہاں کھڑا ہوگا
اس کا جواب آنے والا وقت دے گا اور 
وقت
کے بارے میں 

 سینیکا  

نے کہا تھا

" وقت تیزی سے نہیں گزرتا، ہم اسے ضائع کر دیتے ہیں۔"

 

کوئی تبصرے نہیں: