بدھ، 21 جنوری، 2026

کرد: کون ہیں (1)



کرد: کون ہیں (1)

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو اگر سمجھنا ہو تو کرد قوم کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ کرد ایک قدیم نسلی و لسانی قوم ہیں جو بنیادی طور پر کردی زبان بولتی ہے، جو ہند۔ایرانی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ کرمانجی، سورانی اور پہلوانی جیسے لہجے اس زبان کی لسانی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ آج کرد زیادہ تر ترکی، ایران، عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں آباد ہیں، جسے مجموعی طور پر کردستان کہا جاتا ہے، مگر اس جغرافیے کے باوجود کردوں کی اپنی کوئی آزاد قومی ریاست موجود نہیں۔

آبادی کے اعتبار سے کرد دنیا کی ان بڑی قوموں میں شامل ہیں جن کا اپنا ملک نہیں۔ اندازاً تین سے چار کروڑ کرد مختلف ریاستوں میں بٹے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی تقسیم ان کی تاریخ کا سب سے مستقل اور تکلیف دہ پہلو رہی ہے۔

تاریخی اعتبار سے بہت سے مؤرخین کردوں کو قدیم میڈیائی تہذیب کا تسلسل قرار دیتے ہیں، جو ساتویں صدی قبل مسیح میں ایران کے خطے میں ایک طاقتور سلطنت تھی۔ اسلامی دور میں کرد علاقے مختلف مسلم سلطنتوں کا حصہ بنے، اور کرد تاریخ کی سب سے نمایاں شخصیت سلطان صلاح الدین ایوبی سامنے آئے۔ بارہویں صدی میں ایوبی سلطنت کا قیام اور بیت المقدس کی صلیبیوں سے آزادی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کرد تاریخ محض محرومی نہیں بلکہ قیادت اور وقار کی تاریخ بھی ہے۔

سولہویں صدی کے بعد کرد علاقے عثمانی اور صفوی سلطنتوں کے درمیان تقسیم ہو گئے۔ کرد سرداروں کو محدود خودمختاری تو ملی، مگر کوئی متحد قومی ریاست وجود میں نہ آ سکی۔ یہ صورتحال پہلی جنگِ عظیم کے بعد مزید پیچیدہ ہو گئی۔ معاہدۂ سیورے میں اگرچہ کرد ریاست کا امکان ظاہر کیا گیا، مگر معاہدۂ لوزان نے اس امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ یوں کرد مستقل طور پر چار ریاستوں میں تقسیم ہو گئے۔

اس کے بعد جدید کرد تاریخ بغاوتوں، ریاستی جبر، ثقافتی و لسانی پابندیوں اور خودمختاری کی تحریکوں سے عبارت رہی ہے۔ ہر ملک میں کردوں کا تجربہ مختلف رہا، مگر محرومی اور عدمِ تحفظ کا احساس تقریباً مشترک ہے۔

اسی پس منظر میں کرد۔اسرائیل تعلقات کو سمجھنا ضروری ہے، جو اکثر سادہ بیانیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاریخی طور پر اسرائیل اور بعض کرد گروہوں کے رابطے 1950 اور 1960 کی دہائی میں سامنے آئے۔ یہ روابط اسرائیل کی اس علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ تھے جسے “Peripheral Doctrine” کہا جاتا ہے، یعنی عرب اکثریتی ریاستوں کے گرد غیر عرب اقوام اور اقلیتوں سے تعلقات استوار کرنا۔

اسی تناظر میں اسرائیل نے شاہِ ایران کے دور میں ایران، ترکی اور بعض کرد گروہوں سے خفیہ اور محدود نوعیت کے روابط قائم کیے۔ خصوصاً عراق میں 1960 اور 1970 کی دہائی کے دوران اسرائیل کے بعض کرد دھڑوں، خاص طور پر مصطفیٰ بارزانی کے گروپ سے تعلقات رہے، جن کی نوعیت انٹیلی جنس اور عسکری تعاون تک محدود تھی۔ ان روابط کا مقصد کسی کرد ریاست کا قیام نہیں بلکہ عراق جیسی عرب ریاست پر اسٹریٹیجک دباؤ ڈالنا تھا۔

جدید دور میں عراقی کردستان ایک نیم خودمختار خطے کی حیثیت رکھتا ہے۔ 2017 میں جب کردستان کی آزادی کے لیے ریفرنڈم ہوا تو اسرائیل وہ واحد ریاست تھی جس نے کھل کر اس کی اخلاقی حمایت کی۔ اس اقدام پر عرب دنیا اور ایران میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ تاہم یہ بات نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ تمام کرد اسرائیل نواز نہیں، اور نہ ہی کرد سیاست یا عوام ایک ہی موقف رکھتے ہیں۔ بہت سے کرد گروہ فلسطینی مؤقف سے ہمدردی بھی رکھتے ہیں۔

یہاں ایک فکری تضاد بھی نمایاں ہوتا ہے۔ ایک طرف کرد خود کو ایک مظلوم اور بے ریاست قوم کے طور پر پیش کرتے ہیں، دوسری طرف اسرائیل سے تعلقات انہیں ایسے منصوبوں سے جوڑ دیتے ہیں جنہیں خطے میں توسیع پسندانہ یا استعماری تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے خود کرد سیاست کے اندر بھی ان تعلقات پر سنجیدہ اختلافات موجود ہیں۔

خلاصہ یہ کہ کرد ایک قدیم، بڑی اور باوقار قوم ہیں جن کی تاریخ جدوجہد، تقسیم اور مزاحمت سے بھری ہوئی ہے۔ اسرائیل سے ان کے تعلقات نہ تو نسلی ہیں اور نہ ہی عوامی، بلکہ مخصوص سیاسی حالات اور محدود قیادتوں کے فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔ ان تعلقات کو پوری کرد قوم کی ترجمانی سمجھنا نہ تاریخی طور پر درست ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر منصفانہ۔

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست میں کرد مسئلہ آج بھی ایک کھلا سوال ہے—ایسا سوال جو محض طاقت نہیں بلکہ انصاف، تاریخ اور تدبر کے تقاضوں کا بھی متقاضی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں: