جب طاقت بے بسی بن جائے
جو کچھ آج دنیا دیکھ رہی ہے، وہ نہ روایتی جنگ کا آغاز ہے اور نہ کسی منظم پسپائی کا اعلان۔ یہ دراصل ایک نایاب لمحہ ہے—وہ لمحہ جب امریکی طاقت کے گرد قائم وہم میں دراڑ پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مطلق قوت اب فیصلہ کرنے سے قاصر ہو چکی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ واشنگٹن نے فضائی طاقت کو مسئلے کا حتمی حل سمجھا ہو، مگر اس بار منظرنامہ مختلف ہے۔ مغربی رپورٹس خود اس حقیقت کا اعتراف کر رہی ہیں کہ امریکہ ایران کے معاملے میں 1999ء کے یوگوسلاویہ ماڈل کو دہرانا چاہتا ہے۔ اُس وقت نیٹو کی فضائی بمباری نے ایک کمزور اور منقسم ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مگر ایران یوگوسلاویہ نہیں۔
ایران ایک منظم ریاست ہے، جس کے پاس صرف میزائل ہی نہیں بلکہ ایک غصے سے بھرا ہوا سماج، نظریاتی ڈھانچہ اور جوہری صلاحیت کے قریب پہنچتی ہوئی تکنیکی مہارت بھی موجود ہے۔ واشنگٹن اب یہ سمجھنے پر مجبور ہے کہ جو فضائی حملے یوگوسلاویہ کو 78 دن میں توڑ گئے تھے، وہی ایران میں 78 مہینوں پر پھیلی ایک ایسی جنگ کو جنم دے سکتے ہیں جس کا انجام کسی کے قابو میں نہ ہو۔
امریکی حکمتِ عملی کا دوسرا، اور شاید زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ اب براہِ راست نظام گرانے کے بجائے ’’اندرونی تقسیم‘‘ پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ منصوبہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ اسلامی انقلابی گارڈز (پاسدارانِ انقلاب) کو کمزور کیا جائے، بسیج کو نشانہ بنایا جائے، مگر روایتی فوجی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ نہ کیا جائے—اس امید پر کہ کسی مرحلے پر فوج خود اقتدار سنبھال لے۔
لیکن یہاں وہ سوال کھڑا ہوتا ہے جس کا جواب امریکہ کے پاس نہیں
اگر فوج نے اقتدار سنبھال لیا… اور وہ ملک کو کنٹرول نہ کر سکی تو کیا ہو گا؟
اس سوال کے سائے میں ایک اور خوفناک حقیقت موجود ہے—جوہری خطرہ۔ مسئلہ صرف ایٹمی بم کا نہیں، بلکہ ’’کھوئے ہوئے یورینیم‘‘ کا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 400 کلوگرام ایسا یورینیم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ ہے۔ تکنیکی طور پر یہ مقدار چار ابتدائی نوعیت کے جوہری دھماکوں کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔
اگرچہ یہ مواد بیلسٹک میزائل کے لیے موزوں نہیں، مگر امریکی اسٹریٹجک حلقوں کا اصل ڈر کچھ اور ہے
اگر یہی یورینیم کسی تیز رفتار کشتی پر رکھ کر آبنائے ہرمز میں دھماکے کے طور پر استعمال ہو جائے؟
یا کسی صحرا میں ایک ’’تجرباتی دھماکہ‘‘ کر کے پوری جنگی حکمتِ عملی کو روک دیا جائے؟
یا اس سے بھی بدتر، اگر یہ مواد کسی ایسی ملیشیا تک پہنچ جائے جس کا کوئی واضح پتہ، پرچم یا جواب دہی نہ ہو؟
یہی وہ خوف ہے جو کسی ہمہ گیر امریکی حملے کو ایک وجودی خطرے میں بدل دیتا ہے—ایک ایسا خطرہ جو فائدے سے زیادہ نقصان کا امکان رکھتا ہے۔
ادھر یورپ بھی اس بحران میں واضح طور پر بکھرا ہوا نظر آتا ہے۔ گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ کے جارحانہ بیانات، یورپی ردعمل کی کمزوری، فرانس کی وقتی للکار، جرمنی کی خاموش پسپائی—یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ نیٹو اب ایک مضبوط اتحاد نہیں رہا۔ وہ اب ایسی ریاستوں کا مجموعہ بن چکا ہے جو امریکی ناراضی سے خوفزدہ تو ہیں، مگر اس کے ساتھ کھڑے ہونے پر آمادہ نہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ اگر ایران پر حملے کا لمحہ آتا ہے تو امریکہ اس بار نہ کسی مضبوط اتحاد کے ساتھ ہو گا، نہ کسی عالمی اخلاقی جواز کے
سائے میں۔
صیہونی ڈاکٹرائن پر عمل پیرا ہو کر
آج واشنگٹن کے سامنے سب راستے بند گلیوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں
وسیع فضائی حملہ—جو ناقابلِ اندازہ ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔
محدود کارروائی—جو کمزوری کا تاثر دے گی اور ایران کو اندر سے متحد کر دے گی۔
بالکل حملہ نہ کرنا—جو امریکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچائے گا۔
یوں امریکہ اپنی ہی مختصر المدت پالیسیوں کی قیمت ادا کر رہا ہے، جبکہ ایران برسوں سے غیر متناسب صلاحیتیں تعمیر کر کے اس لمحے کی تیاری کرتا رہا ہے۔
سب سے زیادہ پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ شاید ہم اس وقت امریکی طاقت کے عروج کو نہیں، بلکہ اس کے انکشاف کے نقطۂ آغاز کو دیکھ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے پاس تاریخ کی سب سے بڑی فوج ہے، مگر اس کے پاس ایک سادہ سوال کا جواب نہیں:
حملے کے بعد کیا؟
ایران یہ جانتا ہے۔ یورپ اسے سمجھ چکا ہے۔ روس اور چین خاموشی سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اور دنیا ایک ایسے فیصلے کی منتظر ہے جو شاید کبھی آئے ہی نہ—کیونکہ جب ضرب فتح کی ضمانت نہ دے، تو وہ فیصلہ نہیں بلکہ جوا بن جاتی ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں کبھی کبھی ہچکچاہٹ، غلطی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ اور شاید آنے والے دن طاقت کا نہیں، اس حقیقت کو قبول کرنے کا امتحان ہوں گے کہ
سب سے طاقتور ہونا، لازماً سب سے زیادہ مؤثر ہونا نہیں ہوتا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں