ہفتہ، 24 جنوری، 2026

آسمانی آگ



آسمانی آگ
مارچ 1945 کی وہ رات انسانی تاریخ کے سب سے ہولناک ابواب میں سے ایک ہے، مگر اسے شاذ ہی وہ توجہ دی جاتی ہے جو اس کی سنگینی کا تقاضا کرتی ہے۔ 334 امریکی بمبار طیاروں نے صرف ایک رات میں ٹوکیو پر 1665 ٹن آتش گیر بم برسائے۔ گنجان آباد شہر، جہاں زیادہ تر مکانات لکڑی سے بنے تھے، لمحوں میں ایک دہکتی ہوئی بھٹی میں بدل گیا۔ آگ اس شدت سے پھیلی کہ ایک لاکھ سے زائد انسان جل کر مر گئے اور دس لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہو گئے۔ یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی، بلکہ آسمان سے برسنے والی ایسی آگ تھی جس نے پورے شہر کو اجتماعی قبر میں تبدیل کر دیا۔  جانی نقصان کے اعتبار سے یہ تباہی  ہیروشیما اور ناگاساکی سے بھی زیادہ بڑی تھی۔
ٹوکیو کا یہ واقعہ کوئی استثنا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے سلسلے کی کڑی تھا جس میں جدید جنگ نے شہری آبادی کو براہِ راست ہدف بنانا معمول بنا لیا۔ اس سے قبل جرمنی کے شہر ڈریسڈن پر اتحادی بمباری نے ہزاروں شہریوں کو زندہ جلا دیا تھا۔ ہیمبرگ میں فائر اسٹورم نے پورے محلّے صفحۂ ہستی سے مٹا دیے، جبکہ برطانیہ کا شہر کوونٹری بھی آسمان سے برسنے والی آگ کی علامت بن گیا۔ ان تمام واقعات میں ایک قدرِ مشترک نمایاں ہے: جنگ کا میدان سپاہیوں سے نکل کر عام انسانوں کے گھروں تک آ چکا تھا۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد بھی یہ روایت ختم نہیں ہوئی، بلکہ ٹیکنالوجی کے ساتھ مزید مہلک ہو گئی۔ کوریا کی جنگ میں امریکی بمباری نے شمالی کوریا کے شہروں کو اس حد تک تباہ کیا کہ بعد میں خود امریکی تجزیہ نگاروں نے اعتراف کیا کہ وہاں کھڑا رہنے کے قابل شاید ہی کوئی بڑا شہر بچا ہو۔ ویتنام میں نیپام بموں نے جنگل ہی نہیں، دیہات اور انسانوں کے جسم تک جلا ڈالے۔ آسمان سے گرنے والی آگ نے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے درمیان کوئی فرق نہ کیا۔
یہی منظر عراق میں دہرایا گیا۔ بغداد پر بمباری، فلوجہ میں آگ اور دھماکوں کا طوفان، اور بعد ازاں افغانستان میں فضائی حملے—سب نے یہ ثابت کیا کہ جدید جنگ میں طاقتور ریاستیں اپنے دشمن کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو سزا دیتی ہیں۔ لیبیا، شام اور یمن میں بھی اتحادی فضائی کارروائیاں شہروں کو ملبے کے ڈھیر میں بدلتی رہیں، اور ہر بار یہ دعویٰ کیا گیا کہ نشانہ صرف عسکری اہداف تھے، حالانکہ زمین پر جلتے ہوئے گھر اور لاشیں ایک مختلف کہانی سناتی رہیں۔
اسی سلسلے کی  سب سے دردناک مثال فلسطین، بالخصوص غزہ ہے۔ غزہ ایک محصور خطہ ہے، جہاں نہ پناہ گاہیں ہیں نہ فرار کے راستے۔ یہاں آسمان سے برسنے والی آگ جدید بموں، میزائلوں اور فاسفورس جیسی ہتھیاروں کی صورت میں نازل ہوتی ہے۔ رہائشی عمارتیں، اسپتال، اسکول اور پناہ گزین کیمپ اس آگ سے محفوظ نہیں رہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ٹوکیو میں آگ ایک رات میں برسی، جبکہ غزہ میں یہ آگ وقفوں وقفوں سے برس رہی ہے، مگر اس کا مقصد وہی ہے: اجتماعی خوف، اجتماعی سزا اور اجتماعی تباہی۔
ان تمام مثالوں کو جوڑ کر دیکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ آسمان سے آگ برسانا کسی ایک جنگ یا ایک دور کا مسئلہ نہیں، بلکہ طاقت کے اس تصور کا اظہار ہے جس میں اخلاق، قانون اور انسانیت ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ ٹوکیو سے لے کر ڈریسڈن، ویتنام سے لے کر بغداد، اور بغداد سے لے کر غزہ تک، آگ کا رنگ بدلتا رہا مگر جلنے والے انسان وہی رہے—عام شہری۔
تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ فاتحین کی زبان میں یہ سب “ضروری جنگی اقدامات” کہلاتا ہے، جبکہ متاثرین کے لیے یہ زندگی بھر کا زخم بن جاتا ہے۔ ٹوکیو کی آگ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب جنگ آسمان سے لڑی جائے تو زمین پر بسنے والے انسان صرف اعداد و شمار بن کر رہ جاتے ہیں۔ اور غزہ ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ یہ تاریخ ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ ایک نئے نام اور نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ آج بھی دہرائی جا رہی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں: