انکار اور اقرار کے دو فکری بیانیے
اکیسویں صدی میں مذہب اور سائنس کے باہمی تعلق پر ہونے والی بحث محض عقیدے کی سطح تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ انسان کے وجود، اخلاق اور کائنات کے مفہوم سے جڑی ایک گہری فکری کشمکش بن چکی ہے۔ اس بحث کے دو نمایاں اور متقابل مگر سنجیدہ زاویے ریچرڈ ڈاکنز کی کتاب The God Delusion اور فرانسس کولنز کی The Language of God میں سامنے آتے ہیں۔ دونوں مصنفین جدید سائنس کے نمائندہ چہرے ہیں، مگر ان کے نتائج ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ یہی فرق اس مباحثے کو محض سائنسی نہیں بلکہ فکری اور وجودی بنا دیتا ہے۔
ریچرڈ ڈاکنز، جو آکسفورڈ یونیورسٹی کے ممتاز ارتقائی حیاتیات دان ہیں، The God Delusion میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ خدا کا تصور کسی خارجی حقیقت کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ انسانی ذہن کی پیداوار ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی انسان فطرت کی طاقتوں سے خوف زدہ تھا اور ان کی سائنسی تفہیم سے محروم تھا، اس لیے اس نے بارش، آندھی، بجلی اور بیماری جیسے مظاہر کو کسی ماورائی ہستی سے منسوب کر دیا۔ جدید سائنس نے جب ان تمام مظاہر کی مادی اور تجرباتی وضاحت پیش کر دی، تو ڈاکنز کے نزدیک خدا کو بطور وضاحتی مفروضہ باقی رکھنے کی کوئی عقلی ضرورت نہیں رہتی۔
ڈاکنز مذہب کے بنیادی دعوے پر ایک اصولی سوال اٹھاتے ہیں: اگر ہر چیز کا کوئی خالق ہے تو خدا کو کس نے پیدا کیا؟ ان کے نزدیک اگر سبب و علت کا قانون کائنات پر لاگو ہوتا ہے تو خدا کو اس سے مستثنیٰ قرار دینا ایک منطقی تضاد ہے۔ چنانچہ وہ خدا کو “حتمی وضاحت” کے بجائے ایک ایسا مفروضہ سمجھتے ہیں جو سوالات حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔
اسی استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکنز قدرتی انتخاب کو تخلیق کا حقیقی متبادل قرار دیتے ہیں۔ ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کے مطابق جاندار لاکھوں برسوں میں چھوٹی چھوٹی جینیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں وجود میں آئے۔ یہ ایک غیر شعوری مگر مؤثر عمل ہے، جو پیچیدگی کو بغیر کسی منصوبہ ساز کے جنم دیتا ہے۔ ڈاکنز کے نزدیک یہی حقیقت اس تصور کو غیر ضروری بنا دیتی ہے کہ کائنات یا زندگی کے پیچھے کوئی شعوری ارادہ کارفرما ہے۔
اخلاقیات کے باب میں بھی ڈاکنز مذہب کو مرکزی حیثیت دینے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اخلاقی اقدار ارتقائی بقا کا نتیجہ ہیں؛ ہمدردی، تعاون اور انصاف جیسے رویے اس لیے فروغ پاتے ہیں کہ وہ اجتماعی زندگی کو مستحکم بناتے ہیں۔ چنانچہ اخلاق کو خدا سے جوڑنا ایک تاریخی اور نفسیاتی مغالطہ ہے، نہ کہ کوئی سائنسی یا عقلی ضرورت۔
ایمان کے بارے میں ڈاکنز کا موقف سب سے زیادہ سخت ہے۔ وہ ایمان کو ایک نفسیاتی فریب قرار دیتے ہیں، ایسی ذہنی تسکین جو ثبوت کے بجائے خواہش پر قائم ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک مذہب انسان کو سوال سے روکتا ہے، جبکہ سائنس شک اور تحقیق کو علم کی بنیاد بناتی ہے۔ اسی لیے وہ مذہبی ایمان کو فکری جمود کی علامت سمجھتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں فرانسس کولنز کی The Language of God ایک بالکل مختلف مگر اتنا ہی سنجیدہ فکری زاویہ پیش کرتی ہے۔ کولنز جدید جینیات کے ممتاز سائنس دان ہیں اور ہیومن جینوم پراجیکٹ کی قیادت کر چکے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سائنس اور ایمان کو باہم متصادم سمجھنا ایک غیر ضروری اور سطحی تقسیم ہے۔ ان کے نزدیک سائنس مادی حقیقت کے “کیسے” کو بیان کرتی ہے، جبکہ ایمان وجود کے “کیوں” سے تعلق رکھتا ہے۔
کولنز کے مطابق سائنس یہ بتا سکتی ہے کہ کائنات کیسے پھیلی، زندگی کیسے ارتقاء پذیر ہوئی، اور دماغ کیسے کام کرتا ہے، مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ کائنات موجود ہی کیوں ہے، قوانینِ فطرت اس قدر منظم اور ریاضیاتی کیوں ہیں، اور انسان اخلاقی ذمہ داری کو محض فائدے سے بڑھ کر کیوں سمجھتا ہے۔ ان سوالات کا تعلق مابعد الطبیعی معنی سے ہے، جسے محض سائنسی تجربے کے دائرے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔
ارتقاء کے معاملے میں کولنز ڈاکنز سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے، مگر اس سے خدا کے انکار کا نتیجہ اخذ نہیں کرتے۔ وہ Theistic Evolution کا تصور پیش کرتے ہیں، جس کے مطابق خدا نے زندگی کو معجزاتی وقفوں کے بجائے فطری قوانین کے ذریعے ترقی دی۔ ان کے نزدیک قدرتی انتخاب خدا کا متبادل نہیں بلکہ اس کا طریقۂ کار ہے، جس کے ذریعے تخلیق تدریجاً آگے بڑھتی ہے۔
اخلاقیات کے بارے میں کولنز ایک بنیادی نکتہ اٹھاتے ہیں۔ اگر اخلاق صرف ارتقائی بقا کا نتیجہ ہوں تو انسان بعض اعمال کو محض “غیر مفید” کے بجائے “غلط” کیوں کہتا ہے؟ وہ اخلاقی احساسِ فرض کو ایک ایسی حقیقت سمجھتے ہیں جو حیاتیاتی مفاد سے ماورا ہے اور کسی بلند تر اخلاقی منبع کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ان کے نزدیک یہی اخلاقی قانون خدا کے وجود کی طرف ایک عقلی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
کولنز اپنے ذاتی فکری سفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سائنس نے انہیں خدا سے دور نہیں بلکہ قریب کیا۔ انسانی جینوم کی غیر معمولی پیچیدگی، فطری قوانین کا نازک توازن، اور کائنات کی ریاضیاتی ترتیب ان کے نزدیک محض اتفاق نہیں ہو سکتی۔ وہ خدا کو “خالی جگہوں کو پُر کرنے والا” تصور نہیں مانتے، بلکہ قوانینِ فطرت کے پیچھے کارفرما نظم اور عقل کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔
یوں The God Delusion اور The Language of God دو متوازی فکری بیانیے پیش کرتی ہیں۔ ایک سائنس کو حتمی عدالت بنا کر خدا کو غیر ضروری قرار دیتی ہے، اور دوسری سائنس کو حقیقت کی ایک سطح سمجھ کر اس کے پیچھے معنی تلاش کرتی ہے۔ فیصلہ شاید سائنس کے ہاتھ میں نہیں بلکہ انسان کے اپنے شعور میں ہے کہ وہ علم کو محض مادی وضاحت تک محدود رکھتا ہے یا اسے مقصد، اخلاق اور معنویت کی تلاش تک وسعت دیتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں