ابراہیم لنکن کی واپسی کا سوال
امریکی بحری بیڑا، جسے دنیا کا سب سے قدیم اور طاقتور بحری بیڑا سمجھا جاتا ہے، بمشرقِ وسطیٰ کے دروازے پر پہرہ دے رہا ہے۔ اس موجودگی کو کبھی عالمی امن، کبھی بحری تجارت کے تحفظ اور کبھی خطے کے استحکام کا نام دیا گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس پہرے کے پیچھے تیل، اثر و رسوخ اور عالمی بالادستی کی وہی پرانی جنگ چھپی ہوئی ہے۔ اسی طاقت کی سب سے نمایاں علامت امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہیم لنکن ہے، جو محض ایک جنگی جہاز نہیں بلکہ امریکی عسکری غرور اور ناقابلِ شکست ہونے کے دعوے کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔
جب ابراہیم لنکن جیسے جہاز مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں داخل ہوتے ہیں تو یہ صرف اسلحہ نہیں لاتے، بلکہ ایک واضح پیغام بھی دیتے ہیں کہ فیصلہ سازی اب بھی واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔ آبنائے ہرمز، خلیج اور بحیرۂ عرب میں امریکی بحری موجودگی دراصل اس یقین کی علامت رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی شہ رگ—تیل—پر کنٹرول برقرار رکھنا امریکی مفادات کے لیے ناگزیر ہے۔
لیکن آج کا مشرقِ وسطیٰ وہ نہیں رہا جو ماضی میں تھا۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے، اور وہ قوتیں جو کبھی دفاعی پوزیشن میں تھیں، اب کھلے عام مزاحمت کا اعلان کر رہی ہیں۔ اسی پس منظر میں ایران کا وہ بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے جس میں کہا گیا: “ہم تیار ہیں، اور ہماری انگلی ٹرگر پر ہے۔” یہ محض ایک عسکری دھمکی نہیں بلکہ ایک ایسا جملہ ہے جس نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
دنیا حیرت اور خوف کے امتزاج میں یہ سوال کر رہی ہے کہ وہ انگلی کس بندوق کے ٹرگر پر ہے؟ کیا یہ عام اسلحہ ہے، یا پھر وہ بندوق ہے جس میں پہلے ہی “نیوکلیائی گولی” بھری جا چکی ہے؟ اگرچہ اس سوال کا براہِ راست جواب کسی کے پاس نہیں، مگر حالات، بیانات اور زمینی حقائق یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اس بار معاملہ معمول کا نہیں۔ آثار بتاتے ہیں کہ اس دفعہ بندوق عام نہیں ہے، اور یہی غیر یقینی کیفیت عالمی طاقتوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امریکی رویے میں بھی ایک نمایاں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ وہ امریکہ جو کبھی طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرتا تھا، آج سفارت کاری، ثالثی اور “ڈی ایسکلیشن” کی زبان بولنے پر مجبور نظر آتا ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق واشنگٹن اب کسی کھلے تصادم کے بجائے واپسی کا ایک باعزت راستہ تلاش کر رہا ہے—ایسا راستہ جس میں نہ شکست کا اعتراف ہو اور نہ ہی طاقت کے تصور کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے۔
اگر ابراہیم لنکن جیسے طیارہ بردار جہاز کو کسی حقیقی خطرے کا سامنا ہوا تو یہ صرف ایک فوجی نقصان نہیں ہوگا، بلکہ امریکی بالادستی کے بیانیے پر کاری ضرب ہوگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگے، تو زوال کا سفر وہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔
یوں ابراہیم لنکن کی کہانی اب صرف امریکی فخر کی داستان نہیں رہی، بلکہ یہ اس عالمی سوال کی علامت بن چکی ہے کہ کیا طاقت کے سائے میں دنیا کو ہمیشہ قابو میں رکھا جا سکتا ہے؟ یا پھر مشرقِ وسطیٰ کی یہ کشیدگی اس حقیقت کو آشکار کرنے جا رہی ہے کہ بعض اوقات سب سے بڑی کامیابی، بروقت اور باعزت واپسی ہوتی ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں