غزہ کا پیس بورڈ اور بین الاقوامی استحکامی فورس
غزہ پیس بورڈ دماغ کا کردار ادا کرتا ہے جبکہ بین الاقوامی استحکامی فورس زمین پر موجود بازو کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں ادارے الگ الگ ہیں، مگر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں،
غزہ میں حالیہ تباہ کن جنگ کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد امن، نظم و نسق اور استحکام کو کس طرح یقینی بنایا جائے گا۔ اسی تناظر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت دو اہم ڈھانچے سامنے آئے ہیں: غزہ پیس بورڈ اور بین الاقوامی استحکامی فورس۔ اگرچہ یہ دونوں ادارے ایک ہی مقصد، یعنی غزہ میں پائیدار امن و استحکام، کے لیے قائم کیے گئے ہیں، مگر ان کی نوعیت، دائرۂ کار اور ذمہ داریاں ایک دوسرے سے واضح طور پر مختلف ہیں۔
غزہ پیس بورڈ دراصل ایک بین الاقوامی انتظامی اور سفارتی ادارہ ہے، جس کا بنیادی کام غزہ کے بعد از جنگ سیاسی، انتظامی اور معاشی مستقبل کی نگرانی کرنا ہے۔ اس بورڈ کی ذمہ داریوں میں غزہ کے عبوری حکومتی ڈھانچے کی تشکیل، تعمیرِ نو کے منصوبوں کی منصوبہ بندی، عالمی مالی وسائل اور سرمایہ کاری کی تنظیم، اور مختلف بین الاقوامی فریقوں کے درمیان رابطہ کاری شامل ہے۔ یہ ادارہ براہِ راست کسی عسکری کارروائی میں شامل نہیں بلکہ اس کا کردار پالیسی سازی، حکمرانی اور ترقیاتی سمت کے تعین تک محدود ہے۔ غیر معمولی طور پر اس بورڈ کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کر رہے ہیں، جس کے باعث اسے روایتی اقوامِ متحدہ کے اداروں سے ہٹ کر ایک طاقتور اور متنازعہ پلیٹ فارم سمجھا جا رہا ہے۔
اس کے برعکس، بین الاقوامی استحکامی فورس
ایک خالصتاً سکیورٹی اور عسکری نوعیت کا انتظام ہے۔ یہ فورس اقوامِ متحدہ کی منظوری کے ساتھ مختلف ممالک کے فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل ہوگی، جس کا مقصد غزہ میں زمینی سطح پر امن و امان قائم رکھنا ہے۔ اس کے دائرۂ کار میں جنگ بندی کی نگرانی، غیر قانونی اسلحے کا خاتمہ، سرحدی اور حساس علاقوں کی نگرانی، اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنا شامل ہے۔ سادہ الفاظ میں، جہاں پیس بورڈ غزہ کے سیاسی و انتظامی مستقبل کا خاکہ تیار کرتا ہے، وہیں استحکامی فورس اس خاکے کو عملی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
یوں یہ کہنا درست ہوگا کہ غزہ پیس بورڈ دماغ کا کردار ادا کرتا ہے جبکہ بین الاقوامی استحکامی فورس زمین پر موجود بازو کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں ادارے الگ الگ ہیں، مگر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ایک کی کامیابی دوسرے کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر انتظامی فیصلوں کو زمینی تحفظ حاصل نہ ہو تو وہ محض کاغذی منصوبے رہ جاتے ہیں، اور اگر عسکری استحکام کے پیچھے واضح سیاسی و ترقیاتی وژن نہ ہو تو وہ دیرپا امن میں تبدیل نہیں ہو پاتا۔
غزہ کے مستقبل کا انحصار اسی نازک توازن پر ہے کہ آیا یہ دونوں ادارے واقعی غیر جانبداری، شفافیت اور مقامی آبادی کے مفادات کو سامنے رکھ کر کام کر پاتے ہیں یا نہیں۔ یہی وہ سوال ہے جو آنے والے دنوں میں عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کا رخ متعین کرے گا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں