قرآنِ مجید میں انبیاءِ کرام کی دعائیں محض ذاتی حاجات یا وقتی ضرورتوں کا اظہار نہیں بلکہ انسانی شعور، اخلاقی بلندی اور بندگی کے فہم کی اعلیٰ ترین صورت ہیں۔ یہ دعائیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ خدا سے مانگنے کا درست اسلوب کیا ہے، دکھ، خوف، امید، صبر اور یقین کو الفاظ میں کیسے ڈھالا جاتا ہے، اور یہ کہ عبادت صرف حکم مان لینے کا نام نہیں بلکہ شعوری وابستگی اور فکری سپردگی کا عمل ہے۔
انبیاء کی دعاؤں کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان میں شکوہ نہیں، الزام نہیں اور مطالبے کا آمرانہ لہجہ نہیں ملتا۔ وہاں اللہ کی عظمت، اس کی صفاتِ رحمت اور اپنی کمزوری کا اعتراف ہوتا ہے۔ گویا دعا ایک مکالمہ ہے جس میں انسان اپنی حد پہچانتا ہے اور خدا کی بڑائی کو تسلیم کرتا ہے۔
حضرت آدمؑ — خطا کے بعد دعا
(سورۃ الاعراف: 23)
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
یہ انسان کی تاریخ کی پہلی دعا ہے۔ یہاں نہ کسی سازش کا ذکر ہے، نہ کسی اور پر الزام، نہ اپنی خطا کے لیے کوئی جواز۔ صرف ایک سادہ مگر گہرا اعتراف: ہم نے خود پر ظلم کیا۔ یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ توبہ دلیلوں سے نہیں، اقرار سے قبول ہوتی ہے، اور اللہ کے حضور جھکنے کا پہلا قدم اپنی ذمہ داری مان لینا ہے۔
حضرت نوحؑ — علم کی حد کا اعتراف
(سورۃ ہود: 47)
رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ…
یہ دعا اس نبی کی ہے جس نے صدیوں تبلیغ کی، طوفان دیکھا، ایک نئی انسانی ابتدا کا گواہ بنا، مگر اس کے باوجود خود کو علمِ محدود کا حامل سمجھا۔ اصل حفاظت دعا میں ہے، کیونکہ دعا انسان کو اس کی حد یاد دلاتی ہے۔
حضرت ابراہیمؑ — دعا بطور ذمہ داری
(سورۃ البقرہ: 126)
رَبِّ اجْعَلْ هَـٰذَا بَلَدًا آمِنًا…
حضرت ابراہیمؑ کی دعاؤں میں ذاتی نجات سے زیادہ اجتماعی فلاح کا تصور ملتا ہے۔ انہوں نے اپنی نسل کے لیے دعا کی، معاشرے کے امن کے لیے دعا کی، اور ایمان کے تسلسل کے لیے دعا کی۔ یہ دعائیں ہمیں سکھاتی ہیں کہ انبیاء صرف اپنے وقت کے نہیں ہوتے، وہ آنے والی نسلوں کا بوجھ بھی اپنے دل میں رکھتے ہیں۔
حضرت یعقوبؑ — صبر کے ساتھ دعا
(سورۃ یوسف: 86)
إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ
یہ دعا شدید غم کے عالم میں کی گئی، مگر اس میں شکوہ انسانوں سے نہیں بلکہ فریاد صرف اللہ سے ہے۔ حضرت یعقوبؑ صبر کی ایک نئی تعریف پیش کرتے ہیں: صبر کا مطلب خاموش ہو جانا نہیں، بلکہ اللہ کے سامنے سچ بول دینا ہے، بغیر شکایت کے، بغیر ناامیدی کے۔
حضرت ایوبؑ — دکھ کے بغیر شکوہ
(سورۃ الانبیاء: 83)
أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
اس دعا میں بیماری کا ذکر ہے، مگر مدت، شدت اور تکلیف کی شکایت نہیں۔ صرف اتنا کہ مجھے دکھ پہنچا ہے، اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ یہ دعا سکھاتی ہے کہ ہر بات کہنا شکوہ نہیں ہوتا؛ جب بات اللہ کو یاد رکھ کر کہی جائے تو وہ دعا بن جاتی ہے۔
حضرت یونسؑ — تاریکی میں دعا
(سورۃ الانبیاء: 87)
لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
یہ دعا اندھیروں میں، تنہائی میں اور مکمل بے بسی کے عالم میں کی گئی۔ یہ الفاظ توحید، توبہ اور خود احتسابی کا جامع اظہار ہیں۔ یہاں نجات کی کوئی براہِ راست درخواست نہیں، بلکہ پہلے اپنی خطا کا اعتراف ہے۔
حضرت زکریاؑ — خاموش دعا
(سورۃ مریم: 3–4)
إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا
یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دعا آواز کی بلندی سے نہیں، دل کی گہرائی سے سنی جاتی ہے۔ بعض دعائیں وہ ہوتی ہیں جو زبان سے کم اور دل سے زیادہ نکلتی ہیں۔
حضرت محمد ﷺ — جامع دعا
رسولِ اکرم ﷺ کی دعاؤں کا امتیاز یہ ہے کہ وہ دنیا اور آخرت کو جوڑتی ہیں، اعتدال سکھاتی ہیں اور انسان کو اس کی حیثیت یاد دلاتی ہیں۔ قرآن کی جامع دعا:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً
(سورۃ البقرہ: 201)
یہ دعا انسان کو یک رخی نہیں بننے دیتی، نہ دنیا میں کھو جانے دیتی ہے، نہ آخرت کو نظر انداز کرنے دیتی ہے۔
انبیاء کی دعائیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ دعا مطالبہ نہیں بلکہ اعتراف ہے، دعا زبان کی نہیں بلکہ حالتِ دل کی بات ہے، اور دعا تقدیر کے خلاف کوئی بغاوت نہیں بلکہ تقدیر کا حصہ ہے۔ دعا انسان کو خدا کے قریب لانے سے پہلے، خود انسان کو انسان بناتی ہے۔
انبیاء نے ہمیں صرف دعا کے الفاظ نہیں دیے،انہوں نے ہمیں دعا کا شعور عطا کیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں