زادی کا فریب یا نگرانی کا جال؟
عالمی سیاست میں ٹیکنالوجی اب محض سہولت نہیں رہی، بلکہ طاقت کے توازن کا بنیادی ہتھیار بن چکی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ایران نے ایک غیر معمولی حکمتِ عملی کے تحت سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک کو آزادی کی علامت کے بجائے نگرانی کے آلے میں تبدیل کر دیا—اور یہ تبدیلی محض تکنیکی نہیں، اسٹریٹجک تھی۔ ایران نے ایک کنٹرولڈ تجرباتی مرحلے میں روایتی انٹرنیٹ سروسز عارضی طور پر بند کیں، مگر اسٹارلنک کو جان بوجھ کر فعال رکھا۔ بظاہر یہ ایک خلا چھوڑنے کا اقدام تھا، مگر درحقیقت یہی خلا ڈیجیٹل سراغ رسانی کے لیے استعمال ہوا۔ جن صارفین نے اسٹارلنک کے ذریعے رابطہ قائم رکھا، وہ خود بخود ایک محدود مگر واضح ڈیجیٹل دائرے میں آ گئے—ایک ایسا دائرہ جسے مانیٹر کرنا نسبتاً آسان تھا۔اس دوران مبینہ طور پر ایران نے الیکٹرانک انٹیلی جنس، سگنل اینالیسس اور مقامی نیٹ ورک ڈیٹا کے امتزاج سے صارفین کی شناخت، لوکیشن اور رابطہ جاتی پیٹرن اخذ کیے۔ یوں اسٹارلنک، جو عام تاثر میں ریاستی نگرانی سے بچنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، خود شناخت اور گرفتاری کا ذریعہ بن گیا۔ جب یہ مرحلہ مکمل ہوا تو اگلا قدم اٹھایا گیا: اسٹارلنک کی فعالیت کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔
یہ واقعہ ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے:
کیا سیٹلائٹ انٹرنیٹ واقعی ریاستی کنٹرول سے آزاد ہوتا ہے؟یا پھر یہ آزادی صرف اس وقت تک ہوتی ہے جب تک ریاست اسے برداشت کرے؟
ایران کے اس اقدام سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود غیر جانبدار نہیں ہوتی؛ اسے استعمال کرنے والی حکمتِ عملی اسے ہتھیار بھی بنا سکتی ہے اور جال بھی۔ جہاں مغربی بیانیہ اسٹارلنک کو سنسرشپ کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے، وہیں ایرانی تجربہ یہ دکھاتا ہے کہ غیر ملکی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بعض حالات میں صارف کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اس پیش رفت کے اثرات ایران تک محدود نہیں۔ یہ ایک سبق ہے اُن تمام معاشروں کے لیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ متبادل انٹرنیٹ خود بخود تحفظ فراہم کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ریاست الیکٹرانک جنگ، سگنل انٹیلی جنس اور مقامی کنٹرول کے اوزار یکجا کر لے، تو سب سے جدید سیٹلائٹ نیٹ ورک بھی نگرانی کے دائرے سے باہر نہیں رہتا۔
یوں ایران نے نہ صرف اسٹارلنک کے گرد بنے ہوئے اساطیری تصور کو توڑا، بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ آئندہ کی جنگیں صرف میزائلوں اور ڈرونز سے نہیں، بلکہ ڈیٹا، سگنلز اور صارف کی ایک کلک سے لڑی جائیں گی۔
آزادی کے نام پر فراہم کی گئی ٹیکنالوجی، اگر مقامی زمینی حقیقتوں سے ٹکرا جائے، تو آزادی نہیں—شناخت بن جاتی ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں