زندگی کے اصل اوزار
غسل خانے کا بیسن
ٹپک رہا تھا۔ میں نے پلمبر کو بلایا۔ کچھ ہی دیر بعد ایک درمیانی عمر کا شخص آیا، ہاتھ میں پرانا سا ٹول بکس، چہرے پر عجیب سا اطمینان۔
وہ کام میں لگ گیا۔ رنچ ٹوٹی ہوئی تھی، آری آدھی۔ ایک لمحے کو لگا شاید یہ شخص میرے مسئلے کا حل نہیں۔ مگر دس منٹ بعد نل ٹھیک تھا، پانی بند، کام مکمل۔
میں نے اسے زیادہ 1000 کا نوٹ دیا،
“آدہے ہی کافی ہیں”
یہ جواب چونکانے والا تھا، مگر اس کی مسکراہٹ میں کوئی دکھ یا مجبوری نہیں تھی، صرف اطمینان تھا۔ اس نے بتایا کہ مقررہ حق سے زیادہ لینا وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر دل کا سکون نہیں۔
میں نے اس کے اوزاروں کی طرف اشارہ کیا۔
وہ ہنسا اور بولا،
“اوزار گھس جاتے ہیں، مگر ہنر باقی رہتا ہے۔ جیسے انسان—وقت کے نشان اسے کمزور نہیں، تجربہ کار بناتے ہیں۔”
پھر اس نے ایک سادہ مگر گہری بات کہی:
“قلم مہنگا ہو یا سستا، لکھنے والا جانتا ہو تو بات کاغذ پر اتر ہی جاتی ہے۔”
اس لمحے احساس ہوا کہ اصل طاقت وسائل میں نہیں، مہارت اور اعتماد میں ہوتی ہے۔ جو شخص اپنے ہنر پر یقین رکھتا ہو، وہ محدود وسائل کے باوجود راستہ بنا لیتا ہے۔
ہم اکثر بہتر اوزار، بہتر حالات اور بہتر مواقع کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ مگر زندگی تب آگے بڑھتی ہے جب انسان موجود وسائل کے ساتھ بہترین کام کر دکھاتا ہے۔
ٹوٹے اوزار، پُرسکون چہرہ اور مکمل کام—یہ منظر ایک خاموش پیغام چھوڑ گیا:
اگر اندر یقین اور ہاتھ میں مہارت ہو، تو کمی رکاوٹ نہیں بنتی۔
اور یہی اعتماد انسان کو آگے بڑھاتا ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں