بدھ، 21 جنوری، 2026

کرد۔ایران کشیدگی (2)



کرد۔ایران کشیدگی (2)

ایران اور کردوں کے درمیان کشیدگی کو محض کسی حالیہ سیاسی یا سیکورٹی مسئلے تک محدود کرنا زمینی حقائق سے صرفِ نظر کے مترادف ہوگا۔ درحقیقت یہ کشیدگی ایک صدی پر محیط تاریخی، نسلی، ریاستی اور نظریاتی تضادات کا نتیجہ ہے، جو وقت کے ساتھ مختلف شکلوں میں سامنے آتی رہی ہے۔ ایرانی ریاست کا مرکزی، وحدانی اور فارسی محور قومی تصور اور کردوں کی الگ ثقافتی و لسانی شناخت—یہی وہ بنیادی تصادم ہے جس نے اس تعلق کو مسلسل تناؤ میں رکھا ہے۔

ایران کی کل آبادی کا تقریباً آٹھ سے دس فیصد کردوں پر مشتمل ہے، جو زیادہ تر کردستان، کرمانشاہ، ایلام اور مغربی آذربائیجان کے صوبوں میں آباد ہیں۔ ان علاقوں میں رہنے والے کرد خود کو تاریخی طور پر ایک الگ قوم سمجھتے ہیں، مگر ایرانی ریاست نے ہمیشہ قومی وحدت کو مرکزیت اور یکسانیت کے ساتھ جوڑ کر دیکھا ہے۔ اس تضاد میں ایک اور اہم عنصر یہ ہے کہ ایرانی کردوں کی اکثریت سنی مسلمان ہے، جبکہ ایران ایک شیعہ اکثریتی ریاست ہے۔ یہ فرق کشیدگی کو محض نسلی نہیں بلکہ مسلکی اور نظریاتی سطح پر بھی حساس بنا دیتا ہے۔

تاریخی طور پر اس کشیدگی کی جڑیں رضا شاہ کے دور تک جاتی ہیں، جب ایران کو ایک مضبوط مرکزی قوم پرستانہ ریاست بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس عمل میں علاقائی شناختوں کو دبایا گیا، کردی زبان اور ثقافت پر پابندیاں لگیں، اور قبائلی خودمختاری کو ختم کر دیا گیا۔ یہی وہ دور تھا جب کردوں میں یہ احساس گہرا ہونا شروع ہوا کہ ریاست ان کی شناخت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

کرد۔ایران تعلقات کا ایک فیصلہ کن اور علامتی لمحہ جمہوریہ مہاباد تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد شمال مغربی ایران میں کردوں نے ایک مختصر مدت کے لیے خودمختار ریاست قائم کی، جس کے صدر قاضی محمد تھے اور جسے سوویت یونین کی وقتی حمایت حاصل تھی۔ جیسے ہی سوویت افواج نے ایران سے انخلا کیا، ایرانی فوج نے مہاباد پر قبضہ کر لیا اور قاضی محمد کو پھانسی دے دی گئی۔ یہ واقعہ آج بھی ایرانی کردوں کے اجتماعی شعور میں مظلومیت اور وعدہ خلافی کی ایک گہری علامت کے طور پر زندہ ہے۔

1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد کردوں میں یہ امید پیدا ہوئی کہ نئی اسلامی حکومت نسلی اور مذہبی تنوع کو تسلیم کرے گی اور علاقائی خودمختاری پر بات چیت کا آغاز ہوگا۔ مگر یہ امید جلد ہی مایوسی میں بدل گئی۔ آیت اللہ خمینی نے کرد خودمختاری کے مطالبات کو اسلامی وحدت کے خلاف بغاوت قرار دیا، کرد علاقوں میں فوجی آپریشن کیے گئے، اور ہزاروں افراد ہلاک یا گرفتار ہوئے۔ یوں انقلاب، جو نجات کی علامت سمجھا جا رہا تھا، کردوں کے لیے مزید ریاستی جبر کی صورت اختیار کر گیا۔

وقت کے ساتھ ایران میں مختلف کرد سیاسی و مسلح تنظیمیں سامنے آئیں۔ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی آف ایران نے بائیں بازو کے قوم پرستانہ نظریات کے تحت مسلح جدوجہد بھی کی اور مذاکرات کی کوششیں بھی، جو اکثر ناکام رہیں۔ کوملہ جیسی تنظیموں نے سماجی انصاف اور خودمختاری کا مطالبہ کیا، مگر انہیں بھی شدید ریاستی کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد کے برسوں میں
 PJAK 
جیسی تنظیمیں سامنے آئیں، جنہیں ایران( پی کے کے ) سے منسلک قرار دے کر دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے، اور سرحدی علاقوں میں جھڑپیں جاری رہتی ہیں۔

مذہبی پہلو اس کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اگرچہ ایرانی آئین سنی اقلیتوں کو تسلیم کرتا ہے، مگر عملی طور پر اعلیٰ ریاستی مناصب تک ان کی رسائی محدود ہے، مذہبی اداروں پر کڑی نگرانی رہتی ہے اور سیاسی شکوک و شبہات برقرار رہتے ہیں۔ اس صورتحال میں نسلی محرومی اور مسلکی احساسِ بیگانگی ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔

ایرانی ریاست اپنے سیکورٹی بیانیے میں کرد تحریکوں کو اکثر بیرونی سازش، اسرائیل اور امریکہ کے اثر و رسوخ، اور علاقائی عدم استحکام کا ذریعہ قرار دیتی ہے۔ اسی بیانیے کے تحت سرحدی علاقوں میں سخت فوجی کنٹرول، کرد کارکنوں کی گرفتاریاں اور بعض اوقات عراقی سرزمین پر کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں۔

دلچسپ اور متنازع پہلو یہ ہے کہ ایران نے ماضی میں صدام حسین کے خلاف عراقی کردوں کی حمایت کی، مگر اپنے ہاں کرد خودمختاری کے کسی تصور کو قبول نہیں کیا۔ یہ دوہرا معیار ایرانی کردوں کے نزدیک ریاستی پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔

آج کی صورتِ حال یہ ہے کہ کرد۔ایران کشیدگی مکمل جنگ کی شکل اختیار نہیں کر سکی، مگر یہ ایک دبی ہوئی آگ کی مانند ہے۔ مسلح جدوجہد کم ضرور ہوئی ہے، مگر ختم نہیں ہوئی۔ سیاسی حقوق، ثقافتی آزادی اور شناخت کے مطالبات بدستور موجود ہیں، جبکہ ریاستی سطح پر سخت سیکورٹی کنٹرول برقرار ہے۔ یہ کشیدگی وقتاً فوقتاً سر اٹھاتی ہے اور خطے کے مجموعی عدم استحکام میں اپنا حصہ ڈالتی رہتی ہے۔


کوئی تبصرے نہیں: