اتوار، 18 جنوری، 2026

ایرانی انقلاب 1979ء




ایرانی انقلاب 1979ء
محض اقتدار کی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ یہ نصف صدی پر محیط فکری، سماجی اور تہذیبی کشمکش کا منطقی نتیجہ تھا۔ یہ انقلاب کسی ایک دن، ایک تقریر یا ایک تحریک سے جنم نہیں لیتا، بلکہ اس کی جڑیں رضا شاہ پہلوی کے دور میں پیوست، محمد رضا شاہ کے عہد میں گہری، اور بالآخر ایرانی معاشرے کے اجتماعی شعور میں پختہ ہو چکی تھیں۔
رضا شاہ پہلوی نے جس جدیدیت کی بنیاد رکھی، وہ سماج کی رضا کے بغیر نافذ کی گئی جدیدیت تھی۔ لباس، تعلیم، عدلیہ، حتیٰ کہ مذہبی شعائر تک کو ریاستی طاقت کے ذریعے تبدیل کیا گیا۔
یہ جدیدیت ظاہری تھی، فکری نہیں؛ شہری تھی، عوامی نہیں؛ اور سب سے بڑھ کر، مذہب سے متصادم تھی۔
نتیجہ یہ نکلا کہ مذہبی طبقہ جدیدیت کا دشمن نہیں، بلکہ ریاست کا دشمن بن گیا۔
پہلوی دور میں علما کو سیاست سے بے دخل کیا گیا، مگر انہیں معاشرے سے ختم نہیں کیا جا سکا۔ مساجد، مدارس اور عزاداری کے اجتماعات سیاسی شعور کے خفیہ مراکز بن گئے۔
شیعہ فکر میں موجود شہادت، ظلم کے خلاف قیام، اور امام حسینؑ کی کربلا—یہ سب تصورات آہستہ آہستہ انقلابی زبان میں ڈھل گئے۔
یوں مذہب، جسے کمزور سمجھا گیا تھا، انقلاب کا سب سے طاقتور ہتھیار بن گیا۔
محمد رضا شاہ کے دور میں ایران میں مغربی طرزِ زندگی، ثقافت اور اقدار کو ریاستی سرپرستی حاصل ہوئی۔ شاہی دربار، اشرافیہ اور شہری متوسط طبقہ مغربی دنیا سے جڑ گیا، جبکہ دیہی اور مذہبی ایران خود کو غیر متعلق اور بے دخل محسوس کرنے لگا۔
یہی وہ فکری خلیج تھی جسے علی شریعتی جیسے مفکرین نے لفظ دیا:
"غرب زدگی "
یعنی اپنی تہذیبی جڑوں سے کٹ کر دوسروں کی نقالی۔
اگر خمینی انقلاب کا چہرہ تھے، تو علی شریعتی اس کا ذہن تھے۔
انہوں نے شیعہ مذہب کو جامد رسومات سے نکال کر انقلابی نظریہ بنایا۔
ان کے نزدیک:
حسینؑ ایک تاریخی کردار نہیں، ایک زندہ انقلابی علامت تھے
شیعیت، مظلوم کی آواز اور جابر کے خلاف احتجاج تھی
مذہب، سماجی انصاف کا مطالبہ تھا
شریعتی نے نوجوانوں، طلبہ اور پڑھے لکھے طبقے کو انقلاب کے فکری دائرے میں داخل کیا۔
محمد رضا شاہ کا ایران ترقی کر رہا تھا، مگر سیاسی طور پر سانس نہیں لے سکتا تھا۔
ساواک کی نگرانی، تشدد، قید و بند اور سنسرشپ نے اختلاف کو زیرِ زمین دھکیل دیا۔
جب اختلاف کو اظہار کی اجازت نہ ملے، تو وہ انقلاب کی شکل اختیار کرتا ہے۔
آیت اللہ خمینی نے انقلاب کو محض احتجاج نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے ریاستی نظریہ دیا۔
"ولایتِ فقیہ" کا تصور یہ تھا کہ:
غیبتِ امام کے دور میں
ریاست کی قیادت فقیہ کے پاس ہونی چاہیے
یہ نظریہ روایتی شیعہ سیاست سے مختلف اور انقلابی تھا، مگر اسی نے انقلاب کو واضح سیاسی سمت دی۔
1970ء کی دہائی میں تیل کی دولت نے ایران کو امیر بنایا، مگر مساوات نہیں دی۔ دولت اوپر جمع ہوئی، نیچے بے چینی بڑھی۔ جب معاشی ناانصافی فکری بے چینی سے ملتی ہے، تو انقلاب ناگزیر ہو جاتا ہے۔






کوئی تبصرے نہیں: