معجزات، ماورائے طبیعیات اور انسانی شعور
معجزات اور ماورائے طبیعیات کا سوال محض یہ نہیں کہ کوئی غیر معمولی واقعہ ممکن ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات انسان کے شعور، اخلاق اور روحانی تشکیل میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ مذہبی فکر میں معجزہ کسی تماشے یا حیرت انگیز مظہر کا نام نہیں، بلکہ ایک گہرا معنوی واقعہ ہے جو انسان کو حقیقتِ اعلیٰ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس مغربی فلسفہ نے معجزات کو زیادہ تر قدرتی قوانین، تجرباتی مشاہدے اور عقلی معیار کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی۔
اسلامی کلام کے مطابق معجزہ خدا کی قدرت کا اظہار اور نبوت کی صداقت کی علامت ہوتا ہے۔ اس کا مقصد محض عقل کو حیران کرنا نہیں بلکہ دل اور شعور کو بیدار کرنا ہے۔ معجزہ انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ کائنات محض خودکار نظام نہیں بلکہ ایک بامقصد اخلاقی و روحانی ترتیب رکھتی ہے۔ اسی لیے اسلامی روایت میں معجزات کو ہدایت، اخلاقی ذمہ داری اور فکری بیداری سے جوڑا گیا ہے۔
اسلامی مفکرین کے نزدیک معجزات انسانی تاریخ میں اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب عقل اپنی حدوں کو پہنچ چکی ہوتی ہے اور انسان کو کسی بلند تر حقیقت کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس تناظر میں معجزہ عقل کی نفی نہیں بلکہ اس کی توسیع ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ حقیقت صرف وہ نہیں جو آنکھ دیکھ لے یا تجربہ ثابت کر دے، بلکہ وہ بھی ہے جو اخلاقی اور روحانی سطح پر انسان کو بدل دے۔
اس تصور کے بالمقابل مغربی فلسفہ، خصوصاً جدید دور میں، معجزات کے بارے میں زیادہ محتاط بلکہ شکوک آمیز رہا ہے۔ یہاں معجزے کو قدرتی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا گیا اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر کائنات قوانین کے تحت چل رہی ہے تو ان قوانین سے انحراف کیسے ممکن ہے۔ اس نقطۂ نظر میں انسانی تجربے اور سائنسی مشاہدے کو حتمی معیار مانا گیا، جس کے نتیجے میں معجزات کو یا تو انسانی غلط فہمی، روایت یا نفسیاتی رجحان قرار دیا گیا۔
تاہم مغربی فکر بھی مکمل طور پر یک رُخی نہیں۔ بعض مفکرین نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اگر خدا کا تصور اخلاقی اور بامقصد ہے تو پھر معجزات کو محض قوانین کی خلاف ورزی نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور معنوی مداخلت کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس زاویے سے معجزہ انسان کو اخلاقی بیداری، ذمہ داری اور روحانی سمت عطا کرتا ہے، نہ کہ صرف حیرت۔
عرب دنیا کے مفکرین نے معجزات اور ماورائے طبیعیات کو زیادہ گہرے روحانی تناظر میں دیکھا۔ ان کے نزدیک معجزہ انسان کی داخلی کیفیت میں تبدیلی پیدا کرتا ہے اور اسے حقیقت کے باطنی پہلوؤں سے روشناس کراتا ہے۔ یہاں معجزہ ایک ایسا تجربہ ہے جو انسان کو اس کی محدودیت کا احساس دلاتا ہے اور اسے غرورِ عقل سے نکال کر معرفت کی طرف لے جاتا ہے۔ انسانی عقل اگرچہ اہم ہے، مگر وہ تمام حقائق کا احاطہ نہیں کر سکتی، اسی لیے ماورائے طبیعیات انسانی شعور کے لیے ایک ناگزیر میدان بن جاتی ہے۔
برصغیر کی فکری روایت میں معجزات کو اخلاقی اور روحانی تربیت کے ساتھ جوڑ کر دیکھا گیا۔ یہاں معجزہ نہ صرف نبوت کی دلیل ہے بلکہ انسان کے اخلاقی رویے کو سنوارنے کا ذریعہ بھی ہے۔ برصغیر کے علماء اور صوفیاء نے اس بات پر زور دیا کہ معجزات انسان کو عمل، کردار اور نیت کی اصلاح کی طرف لے جاتے ہیں۔ اگر کوئی معجزہ انسان کو اخلاقی طور پر بہتر نہ بنائے تو وہ محض ایک واقعہ رہ جاتا ہے، ہدایت نہیں بنتا۔
علامہ اقبال کے ہاں معجزات کا تصور خاص طور پر علامتی اور فکری ہے۔ ان کے نزدیک معجزہ انسانی شعور کو جھنجھوڑتا ہے، اسے جمود سے نکالتا ہے اور ایک نئی فکری اور اخلاقی حرکت پیدا کرتا ہے۔ معجزہ یہاں خارجی مظہر سے زیادہ داخلی انقلاب کی علامت بن جاتا ہے، جو انسان کو اپنی خودی، ذمہ داری اور مقصد سے روشناس کراتا ہے۔
ماورائے طبیعیات اس پورے مکالمے کی بنیاد ہے۔ اسلامی فکر میں ماورائے طبیعیات خدا، روح، آخرت اور اخلاقی جواب دہی جیسے تصورات کو مربوط کرتی ہے۔ اس کا مقصد محض نظری بحث نہیں بلکہ انسان کو ایک بامقصد زندگی کی طرف رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ عرب اور برصغیر کے مفکرین نے ماورائے طبیعیات کو روحانی بصیرت اور تزکیۂ نفس کے ساتھ جوڑا، جبکہ مغربی فلسفہ میں اسے وجود، شعور اور عقل کے مسئلے کے طور پر دیکھا گیا۔ دونوں زاویے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ موضوع محض مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ گہرا فکری سوال ہے۔
اسلامی اور صوفیانہ روایت میں معجزات کا سب سے اہم پہلو ان کا اخلاقی اثر ہے۔ معجزات انسان کے دل میں خوفِ خدا، محبت، شکرگزاری اور عاجزی پیدا کرتے ہیں۔ وہ انسان کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ اصل کامیابی طاقت یا علم میں نہیں بلکہ اخلاقی کمال اور روحانی بصیرت میں ہے۔ صوفیاء کے نزدیک سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ انسان کا دل بدل جائے، اس کی نیت صاف ہو جائے اور اس کا کردار بہتر ہو جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ معجزات اور ماورائے طبیعیات کو اگر صرف قدرتی قوانین کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جائے تو یہ بحث ادھوری رہتی ہے۔ اسلامی، عرب اور برصغیر کی فکری روایت انہیں انسانی اخلاقی اور روحانی سفر کے سنگِ میل کے طور پر دیکھتی ہے، جبکہ مغربی فلسفہ انہیں عقلی اور تجربی معیار پر پرکھتا ہے۔ دونوں مکالمات بالآخر اس نکتے پر آ کر ملتے ہیں کہ انسان کی اخلاقی اور روحانی ترقی اس پوری بحث کا اصل محور ہے۔ یوں معجزات محض حیرت نہیں بلکہ انسان کی معرفت، ذمہ داری اور روحانی بلوغت کا دروازہ بن جاتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں