اتوار، 18 جنوری، 2026

اسلامی انقلاب کے بعد ایران پر پابندیاں



ایران میں 1979ء کا اسلامی انقلاب صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ اس نے عالمی طاقتوں کے مفادات، مشرقِ وسطیٰ کی تزویراتی ترتیب اور مغربی بالادستی کے تصور کو کھلے چیلنج میں بدل دیا۔ اسی چیلنج کے جواب میں ایران کو جن پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، وہ محض سفارتی اقدامات نہیں تھے، بلکہ ایک طویل المدت سیاسی، معاشی اور نفسیاتی جنگ کی شکل اختیار کر گئے۔
انقلاب کے فوراً بعد ایران نے:
شاہی نظام ختم کیا
امریکی اثر و رسوخ کو مسترد کیا
اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا
اور خارجہ پالیسی کو “نہ مشرق، نہ مغرب” کے اصول پر استوار کیا
یہ سب اقدامات امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ناقابلِ قبول تھے۔ یوں پابندیوں کا پہلا باب کھلا۔
نومبر 1979ء میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور یرغمالی بحران نے امریکہ کو ایران کے خلاف سخت اقدامات کا جواز فراہم کیا۔
نتیجتاً:
ایرانی اثاثے منجمد کر دیے گئے
تجارتی تعلقات معطل ہوئے
سفارتی روابط ختم کر دیے گئے
یہ پابندیاں وقتی نہیں تھیں، بلکہ ایک طویل دشمنی کی بنیاد بن گئیں۔
1980ء میں ایران–عراق جنگ نے ایران کو بین الاقوامی سطح پر مزید تنہا کر دیا۔
مغربی دنیا نے عراق کو بالواسطہ یا بلاواسطہ حمایت دی، جبکہ ایران:
اسلحے کی پابندیوں
مالی ناکہ بندی
اور سفارتی تنہائی
کا شکار رہا۔
اس مرحلے پر پابندیاں صرف سزا نہیں، بلکہ جنگی دباؤ کا ہتھیار بن گئیں۔
وقت کے ساتھ پابندیاں ایران کی معیشت کے بنیادی ستونوں پر مرکوز ہو گئیں:
تیل کی برآمدات پر پابندیاں
ایرانی بینکوں کو عالمی مالیاتی نظام (SWIFT) سے الگ کرنا
ڈالر میں لین دین پر قدغن
غیر ملکی سرمایہ کاری پر سخت رکاوٹیں
ان پابندیوں کے باعث
مہنگائی میں شدید اضافہ
کرنسی کی قدر میں کمی
بے روزگاری اور صنعتی جمود
لیکن اس کے ساتھ ہی ایران نے داخلی خودکفالت اور متبادل تجارتی راستے بھی تلاش کیے۔
2000ء کی دہائی میں ایران کے جوہری پروگرام نے پابندیوں کو عالمی رنگ دے دیا۔
اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکہ نے مشترکہ طور پر:
ٹیکنالوجی کی منتقلی پر پابندی
عسکری اور دوہری استعمال کی اشیاء پر قدغن
ایرانی شخصیات اور اداروں پر بلیک لسٹنگ
یہ پابندیاں ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنے کے نام پر تھیں، مگر ایران کے نزدیک یہ سائنسی خودمختاری پر حملہ تھا۔
پابندیوں نے صرف ریاست کو نہیں، عوام کو بھی متاثر کیا:
ادویات اور طبی آلات کی قلت
تعلیمی و تحقیقی تبادلے محدود
عام شہریوں کی روزمرہ زندگی مشکل
یہی وجہ ہے کہ ایران میں پابندیوں کو اجتماعی سزا کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
ایرانی قیادت نے پابندیوں کے جواب میں:
“مزاحمتی معیشت” کا تصور پیش کیا
مقامی صنعتوں کو فروغ دیا
ایشیا، روس اور خطے کی طاقتوں سے روابط بڑھائے
پابندیاں، جو ایران کو جھکانے کے لیے تھیں، اس نے انہیں نظریاتی مزاحمت میں بدل دیا۔
ایران پر لگنے والی پابندیاں محض معاشی اقدامات نہیں، بلکہ:
انقلاب کو ناکام بنانے کی کوشش
علاقائی اثرورسوخ کو محدود کرنے کی حکمت عملی
اور نظریاتی ریاست کو دبانے کا ہتھیار ہیں
لیکن چار دہائیوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ:
ایران پابندیوں کے تحت کمزور نہیں ہوا، بلکہ ایک نئی شکل میں ڈھل گیا۔
یہی وجہ ہے کہ ایرانی مسئلہ آج بھی عالمی سیاست کا ایک کھلا سوال ہے—جس کا حل پابندیوں سے نہیں، مکالمے سے نکلے گا۔

کوئی تبصرے نہیں: