اتوار، 18 جنوری، 2026

ایران میں اسلامی انقلاب کے خاتمے کے خواہشمند


ایران میں اسلامی انقلاب کے خاتمے کے خواہشمند
ایرانی اسلامی انقلاب 1979ء صرف ایک حکومت نہیں، بلکہ ایک نظریاتی ریاست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے خلاف سرگرم قوتیں محض سیاسی مخالف نہیں بلکہ ایک متبادل فکری، تہذیبی اور عالمی ایجنڈا رکھتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کون لوگ ناخوش ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کون اقتدار چاہتے ہیں اور کیوں؟
پہلوی خاندان اور شاہی حامی
اسلامی انقلاب کے خاتمے کے سب سے نمایاں خواہشمند پہلوی خاندان سے وابستہ عناصر ہیں، خصوصاً رضا پہلوی (ولی عہد)۔
ان کا بیانیہ:
اسلامی جمہوریہ ناکام ہو چکی ہے
ایران کو ایک سیکولر، مغرب نواز ریاست بننا چاہیے
شاہی دور کو استحکام اور ترقی کا زمانہ قرار دیا جاتا ہے
حقیقت یہ ہے کہ:
ان کا اثر زیادہ تر بیرونِ ملک ایرانیوں تک محدود ہے
ایران کے اندر ان کی کوئی مضبوط عوامی تنظیم موجود نہیں
یہ ایک نوستالجک سیاست ہے، زمینی حقیقت نہیں۔
مغرب نواز سیکولر اپوزیشن
یہ طبقہ دانشوروں، سابق بیوروکریٹس، صحافیوں اور این جی او نیٹ ورکس پر مشتمل ہے، جن میں:
لبرل ڈیموکریٹس
قوم پرست سیکولرز
انسانی حقوق کے علمبردار گروہ
شامل ہیں۔
ان کا ہدف:
ولایتِ فقیہ کا خاتمہ
مذہب کو ریاست سے الگ کرنا
مغربی طرز کا سیاسی نظام
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ:
یہ طبقہ عوامی مذہبی جذبات سے کٹا ہوا ہے
دیہی اور نچلے متوسط طبقے میں ان کی جڑیں کمزور ہیں
نسلی و علاقائی علیحدگی پسند تحریکیں
کرد، بلوچ، عرب اور بعض ترکمان گروہ بھی مرکزی ریاست سے ناراض ہیں۔
ان کے مطالبات:
خودمختاری یا وفاقی نظام
بعض صورتوں میں علیحدگی
یہ گروہ:
اسلامی انقلاب کو نہیں بلکہ مرکزی ریاست کو چیلنج کرتے ہیں
مگر بیرونی طاقتیں انہیں انقلاب مخالف بیانیے میں استعمال کرتی ہیں
یہ خطرہ ریاستی سلامتی کے لیے سنجیدہ ہے، مگر اقتدار کی متبادل قوت نہیں۔
بائیں بازو اور سابق انقلابی گروہ
ایرانی انقلاب میں شامل بعض مارکسی اور بائیں بازو کے گروہ بعد میں نظام سے باہر کر دیے گئے، جیسے:
مجاہدینِ خلق
کمیونسٹ و سوشلسٹ دھڑے
یہ گروہ:
مسلح جدوجہد
بیرونی سرپرستی
کے ذریعے نظام کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔
تاہم:
عوام میں ان کی مقبولیت نہ ہونے کے برابر ہے
ایران کے اندر انہیں غدار سمجھا جاتا ہے
بیرونی طاقتیں — اصل محرک
اسلامی انقلاب کے خاتمے کا سب سے طاقتور اور مسلسل خواہشمند بیرونی بلاک ہے، جس میں:
امریکہ
اسرائیل
بعض یورپی اتحادی
اور چند علاقائی ریاستیں
ان کے مقاصد:
ایران کا علاقائی اثر ختم کرنا
اسرائیل کے خلاف مزاحمتی بلاک توڑنا
تیل اور سلامتی کے مفادات محفوظ بنانا
یہ طاقتیں:
پابندیاں
میڈیا وار
سائبر حملے
اپوزیشن کی سرپرستی
کے ذریعے نظام کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔
اندرونی ناراض طبقات
ایران میں:
مہنگائی
بے روزگاری
سماجی پابندیاں
پر عوامی ناراضی موجود ہے، مگر یہ ناراضی لازماً:
انقلاب کے خاتمے
یا مغربی نظام کی بحالی
کا مطالبہ نہیں کرتی۔
اکثر احتجاج:
اصلاح
شفافیت
معاشی بہتری
کے گرد گھومتے ہیں، نہ کہ نظام کی جڑ کاٹنے کے گرد۔
ایران میں اسلامی انقلاب کے خاتمے کے خواہشمند تو کئی ہیں، مگر:
ان میں عوامی اکثریت نہیں
کوئی متفقہ قیادت نہیں
کوئی قابلِ قبول متبادل نظام نہیں
یہی وجہ ہے کہ چار دہائیوں کی شدید پابندیوں، دباؤ اور داخلی چیلنجز کے باوجود:
اسلامی جمہوریہ ایران اب تک قائم ہے۔

کوئی تبصرے نہیں: