منگل، 27 جنوری، 2026

دربار کے اصول





دربار کے اصول


اگر یہ کہاوت درست ہے کہ قومیں اپنے حکمرانوں کے نقشِ قدم پر چلتی ہیں، تو پھر یہ حقیقت بھی ماننا پڑے گی کہ کمزور ریاستوں کے حکمران ہمیشہ طاقتور ریاستوں کے اشاروں کے محتاج ہوتے ہیں۔ اقتدار کی اصل قوت اکثر توپ و تفنگ میں نہیں، بلکہ علامتوں کے دبیز پردوں میں چھپی ہوتی ہے۔ کبھی ایک خط، کبھی ایک مہر، کبھی ایک فون کال اور کبھی محض ایک نام—یہ سب بعض اوقات میزائلوں اور بموں سے زیادہ کاری ثابت ہوتے ہیں۔
تاریخ اس نفسیاتی طاقت کی گواہ ہے۔ 1709ء میں جنگِ پولتاوا میں روس کے ہاتھوں شکست کے بعد سویڈن کے بادشاہ چارلس بارہویں کی غیر موجودگی میں اندرونی قوتوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ تخت سے محروم بادشاہ فریاد لے کر عثمانی سلطان احمد ثالث کے دربار میں پہنچا۔ سلطان نے صرف ایک مختصر تحریر دی جو "سلطانی مہر "  زدہ تھی۔ اس مہرکے وقار اور رعب نے اقتدار پر قابض قوتوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
صدیاں گزر گئیں، سلطنتیں بدل گئیں، مگر اقتدار کی نفسیات وہی رہیں۔ آج ترک سلطان کی جگہ امریکہ کا صدر اس مقام پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں ایک جملہ، ایک اشارہ، یا حتیٰ کہ خاموشی بھی دور رس نتائج پیدا کر دیتی ہے۔
 ٹرمپ کے سابقہ دور میں ، اقوام متحدہ کی قرارداوں کے برعکس  اقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت  کہا گئا تو دنیا کی  خاموشی بے خبری نہیں  بلکہ طاقتور کی ناراضگی کا اندیشہ تھا جو  داخلی انتشار، معاشی دباؤ اور عالمی تنہائی کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔
اسی خوف کی جھلک ہمیں بعض ریاستوں کی خارجہ پالیسی میں اچانک موڑ، بڑے اسلحہ معاہدوں قیمتی تحائف اور نئی علاقائی صف بندیوں میں دکھائی دیتی ہے۔ یورپ میں نیٹو کے معاملے پر ٹرمپ کے سخت مؤقف کے بعد کئی ممالک کا دفاعی اخراجات بڑھانے کا فیصلہ بھی کسی اخلاقی بیداری کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ طاقتور  کی ناراضگی سے بچنے کی عملی تدبیر تھی۔
لاطینی امریکہ میں اقتصادی پابندیاں اور سیاسی دباؤ کئی حکومتوں کی داخلی سمت متعین کرتے رہے۔ یہی طاقت کا وہ کرشمہ ہے جس کے باعث جدید عالمی سیاست قرونِ وسطیٰ کی تمثیل سے جا ملتی ہے—فرق صرف اتنا ہے کہ آج فرمان مہر سے نہیں، ٹوئٹ سے صادر ہوتا ہے، اور دربار کی جگہ عالمی میڈیا نے لے لی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں: