رضا شاہ پہلوی
ایران کی جدید تاریخ میں اگر کسی ایک شخصیت نے ریاستی ڈھانچے، سماجی مزاج اور سیاسی سمت کو یکسر بدل دیا، تو وہ رضا شاہ پہلوی تھے۔ وہ ایک ایسے عہد میں اقتدار میں آئے جب ایران داخلی انتشار، قبائلی خودمختاری، بیرونی مداخلت اور کمزور قاجاری حکومت کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ رضا شاہ نے اسی شکستہ ریاست کو ایک مضبوط، مرکزی اور جدید قومی ریاست میں ڈھالنے کا بیڑا اٹھایا—مگر اس عمل میں طاقت، جبر اور آمریت کو بھی ریاستی پالیسی بنا دیا۔
رضا شاہ کا اصل نام رضا خان تھا۔ وہ ایک غریب فوجی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے اور روسی تربیت یافتہ قزاق بریگیڈ میں خدمات انجام دیتے رہے۔ 1921ء میں تہران میں فوجی بغاوت کے ذریعے وہ اقتدار کے مرکز میں داخل ہوئے۔ چند ہی برسوں میں انہوں نے قاجار شاہی کو ختم کر کے 1925ء میں خود کو ایران کا شاہ قرار دے دیا، یوں پہلوی خاندان کی بنیاد پڑی۔
رضا شاہ کا سب سے نمایاں پہلو ان کی ریاستی جدیدیت تھی۔ انہوں نے
ایک مضبوط قومی فوج قائم کی
ریلوے، سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ تعمیر کروایا
جدید عدالتی اور تعلیمی نظام متعارف کروایا
قبائلی سرداروں اور مقامی خودمختاری کو کچلا
ایران کو ایک مرکزی قومی ریاست میں بدل دیا
انہوں نے ایران کو مذہبی شناخت سے ہٹا کر قوم پرستانہ اور ایرانی تہذیبی شناخت کی طرف موڑنے کی کوشش کی، جس میں قدیم فارسی تاریخ اور قبل از اسلام ایران کو نمایاں کیا گیا۔
رضا شاہ کی پالیسیوں کا سب سے متنازع پہلو مذہب کے ساتھ ان کا رویہ تھا۔ انہوں نے
علما کے سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کیا
مذہبی عدالتوں کو ختم کیا
حجاب پر پابندی عائد کی
مذہبی اداروں کو ریاست کے تابع کر دیا
یہ اقدامات جدیدیت کے نام پر کیے گئے، مگر اس نے ایرانی معاشرے کے مذہبی طبقے میں شدید ردِعمل کو جنم دیا—وہی ردِعمل جو بعد میں 1979ء کے انقلاب کی فکری بنیاد بنا۔
رضا شاہ کی حکومت میں نظم تو تھا، مگر آزادی نہیں۔ سیاسی جماعتیں، آزاد صحافت، اختلافی آوازیں—سب کچھ ریاستی طاقت کے نیچے دبا دیا گیا۔ ان کا تصورِ حکمرانی یہ تھا کہ قوم کو پہلے مضبوط کیا جائے، آزادی بعد میں آئے گی۔ مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ طاقت کے ذریعے نافذ کی گئی جدیدیت پائیدار نہیں ہوتی۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران رضا شاہ نے جرمنی کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کیا، جس پر برطانیہ اور سوویت یونین نے 1941ء میں ایران پر قبضہ کر لیا۔ انہیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور ان کے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی کو تخت پر بٹھا دیا گیا۔ رضا شاہ جلاوطنی میں چلے گئے اور 1944ء میں جنوبی افریقہ میں انتقال کر گئے۔
رضا شاہ پہلوی کو ایران کی تاریخ میں ایک ہی لفظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ وہ بیک وقت
جدید ایران کے معمار بھی تھے
اور آمرانہ ریاست کے بانی بھی
انہوں نے ایران کو پسماندگی سے نکالا، مگر عوامی شرکت اور فکری آزادی کو کچل کر۔ یہی تضاد ان کی سیاست کا مرکزی نکتہ ہے—اور یہی تضاد آج بھی ایران کی تاریخ کو سمجھنے کی کنجی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں