بدھ، 21 جنوری، 2026

کرد اور ترکیہ 3


کرد اور ترکیہ 3
کرد اور ترکیہ کے درمیان کشیدگی جدید مشرقِ وسطیٰ کے ان پیچیدہ تنازعات میں شمار ہوتی ہے جنہیں محض سیکیورٹی مسئلہ قرار دے کر سمجھنا ممکن نہیں۔ یہ تنازع دراصل قوم، شناخت، ریاستی نظریے اور طاقت کے استعمال کے درمیان ایک گہرے تصادم کی علامت ہے، جس کی جڑیں خود ترک جمہوریہ کی قومی تشکیل میں پیوست ہیں۔
ترکی کی کل آبادی کا اندازاً پندرہ سے بیس فیصد حصہ کردوں پر مشتمل ہے، جو زیادہ تر جنوب مشرقی اناطولیہ، دیاربکر، وان، حکاری اور ماردین جیسے علاقوں میں آباد ہیں۔ کردی زبان، خصوصاً کرمانجی لہجہ، ترکی میں سب سے زیادہ بولی جانے والی اقلیتی زبان ہے۔ اس کے باوجود طویل عرصے تک ریاستی سطح پر اس زبان اور اس سے جڑی شناخت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
1923 میں قائم ہونے والی ترک جمہوریہ کی بنیاد ایک سخت قوم پرستانہ اور وحدانی نظریے پر رکھی گئی، جس کا نعرہ تھا: ایک قوم، ایک زبان، ایک پرچم۔ ترک ہونا شہری شناخت کی بنیادی شرط قرار پایا، جبکہ کردوں کو سرکاری بیانیے میں اکثر “پہاڑی ترک” کہا گیا۔ کردی زبان، ثقافت اور حتیٰ کہ ناموں تک پر پابندیاں لگیں، اور کرد شناخت کا عملاً انکار کیا گیا۔ یہی وہ ریاستی رویہ تھا جس نے آنے والی دہائیوں میں مزاحمت اور بغاوت کی بنیاد رکھی۔
1920 اور 1930 کی دہائی میں کئی کرد بغاوتیں ہوئیں، جن میں 1925 کی شیخ سعید بغاوت نمایاں تھی، جس میں مذہبی اور قومی دونوں عناصر شامل تھے، مگر اسے سخت فوجی کارروائی کے ذریعے کچل دیا گیا۔ اسی طرح 1937–38 میں درسیم آپریشن نے کرد۔ترک تعلقات پر گہرے اور دیرپا زخم چھوڑے، جہاں ہزاروں کرد، خصوصاً علوی آبادی، ہلاک ہوئی۔ یہ واقعات آج بھی ترکی کی اجتماعی یادداشت میں ایک متنازع اور حساس باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس تاریخی پس منظر میں 1978 میں کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کا قیام عمل میں آیا۔ عبداللہ اوجالان کی قیادت میں بننے والی اس تنظیم نے ابتدا میں مارکسزم۔لینن ازم سے متاثر نظریات اپنائے، بعد ازاں “ڈیموکریٹک کنفیڈرلزم” کا تصور پیش کیا۔ 1984 کے بعد PKK نے ترکی کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں اب تک چالیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں فوجی اہلکار، عام شہری اور جنگجو شامل ہیں۔ ترک ریاست PKK کو ایک دہشت گرد تنظیم اور قومی سلامتی کے لیے وجودی خطرہ قرار دیتی ہے۔
ریاستی ردِعمل کے طور پر کرد علاقوں میں طویل عرصے تک ایمرجنسی قوانین نافذ رہے، وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کیے گئے، جبری نقل مکانی ہوئی اور اظہار و زبان پر سخت پابندیاں لگائی گئیں۔ ان اقدامات پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا تنقید کی، مگر سیکیورٹی بیانیہ غالب رہا۔
2000 کے بعد، خصوصاً اردوان کے ابتدائی دور میں، یورپی یونین میں شمولیت کے تناظر میں محدود اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ کردی زبان پر بعض پابندیاں نرم ہوئیں، کرد میڈیا اور تعلیم کے لیے محدود گنجائش پیدا کی گئی۔ 2013 سے 2015 کے درمیان حکومت اور PKK کے درمیان ایک امن عمل بھی شروع ہوا، جس سے مسئلے کے سیاسی حل کی امید بندھی، مگر یہ عمل جلد ہی ناکام ہو گیا۔
2015 کے بعد صورتحال دوبارہ شدید عسکری تصادم کی طرف لوٹ گئی۔ کرد شہروں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، اور کرد نواز سیاسی جماعت HDP کو سخت کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں سیاسی راستہ مزید محدود ہو گیا۔
اس کشیدگی کو شام کی خانہ جنگی نے ایک نئی علاقائی جہت دے دی۔ شام میں کرد ملیشیا
YPG کے ابھرنے کو ترکی PKK کی توسیع سمجھتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے YPG کی حمایت نے ترکی۔امریکہ تعلقات کو بھی متاثر کیا، جبکہ ترکی نے شام میں متعدد فوجی آپریشن کر کے کسی بھی کرد خودمختار پٹی کے قیام کو روکنے کی کوشش کی۔
اصل مسئلہ درحقیقت نظریاتی ہے۔ ترک ریاست وحدانی قومی ریاست، سیکیورٹی کو اولین ترجیح اور علاقائی سالمیت کے تصور پر قائم ہے، جبکہ کرد مؤقف کثیرالقومی شناخت، سیاسی شرکت اور خودمختاری کے مطالبے کے گرد گھومتا ہے۔ اسی بنیادی اختلاف نے اس تنازع کو طویل اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔
آج کی صورتِ حال یہ ہے کہ ترکی میں کرد مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ ایک طرح سے منجمد ہو چکا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں: