سینیکا
نے کہا تھا
" وقت تیزی سے نہیں گزرتا، ہم اسے ضائع کر دیتے ہیں۔"
سینیکا
نے کہا تھا
" وقت تیزی سے نہیں گزرتا، ہم اسے ضائع کر دیتے ہیں۔"
ابراہیم لنکن کی واپسی کا سوال
امریکی بحری بیڑا، جسے دنیا کا سب سے قدیم اور طاقتور بحری بیڑا سمجھا جاتا ہے، بمشرقِ وسطیٰ کے دروازے پر پہرہ دے رہا ہے۔ اس موجودگی کو کبھی عالمی امن، کبھی بحری تجارت کے تحفظ اور کبھی خطے کے استحکام کا نام دیا گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس پہرے کے پیچھے تیل، اثر و رسوخ اور عالمی بالادستی کی وہی پرانی جنگ چھپی ہوئی ہے۔ اسی طاقت کی سب سے نمایاں علامت امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہیم لنکن ہے، جو محض ایک جنگی جہاز نہیں بلکہ امریکی عسکری غرور اور ناقابلِ شکست ہونے کے دعوے کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔
جب ابراہیم لنکن جیسے جہاز مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں داخل ہوتے ہیں تو یہ صرف اسلحہ نہیں لاتے، بلکہ ایک واضح پیغام بھی دیتے ہیں کہ فیصلہ سازی اب بھی واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔ آبنائے ہرمز، خلیج اور بحیرۂ عرب میں امریکی بحری موجودگی دراصل اس یقین کی علامت رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی شہ رگ—تیل—پر کنٹرول برقرار رکھنا امریکی مفادات کے لیے ناگزیر ہے۔
لیکن آج کا مشرقِ وسطیٰ وہ نہیں رہا جو ماضی میں تھا۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے، اور وہ قوتیں جو کبھی دفاعی پوزیشن میں تھیں، اب کھلے عام مزاحمت کا اعلان کر رہی ہیں۔ اسی پس منظر میں ایران کا وہ بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے جس میں کہا گیا: “ہم تیار ہیں، اور ہماری انگلی ٹرگر پر ہے۔” یہ محض ایک عسکری دھمکی نہیں بلکہ ایک ایسا جملہ ہے جس نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
دنیا حیرت اور خوف کے امتزاج میں یہ سوال کر رہی ہے کہ وہ انگلی کس بندوق کے ٹرگر پر ہے؟ کیا یہ عام اسلحہ ہے، یا پھر وہ بندوق ہے جس میں پہلے ہی “نیوکلیائی گولی” بھری جا چکی ہے؟ اگرچہ اس سوال کا براہِ راست جواب کسی کے پاس نہیں، مگر حالات، بیانات اور زمینی حقائق یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اس بار معاملہ معمول کا نہیں۔ آثار بتاتے ہیں کہ اس دفعہ بندوق عام نہیں ہے، اور یہی غیر یقینی کیفیت عالمی طاقتوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امریکی رویے میں بھی ایک نمایاں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ وہ امریکہ جو کبھی طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرتا تھا، آج سفارت کاری، ثالثی اور “ڈی ایسکلیشن” کی زبان بولنے پر مجبور نظر آتا ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق واشنگٹن اب کسی کھلے تصادم کے بجائے واپسی کا ایک باعزت راستہ تلاش کر رہا ہے—ایسا راستہ جس میں نہ شکست کا اعتراف ہو اور نہ ہی طاقت کے تصور کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے۔
اگر ابراہیم لنکن جیسے طیارہ بردار جہاز کو کسی حقیقی خطرے کا سامنا ہوا تو یہ صرف ایک فوجی نقصان نہیں ہوگا، بلکہ امریکی بالادستی کے بیانیے پر کاری ضرب ہوگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگے، تو زوال کا سفر وہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔
یوں ابراہیم لنکن کی کہانی اب صرف امریکی فخر کی داستان نہیں رہی، بلکہ یہ اس عالمی سوال کی علامت بن چکی ہے کہ کیا طاقت کے سائے میں دنیا کو ہمیشہ قابو میں رکھا جا سکتا ہے؟ یا پھر مشرقِ وسطیٰ کی یہ کشیدگی اس حقیقت کو آشکار کرنے جا رہی ہے کہ بعض اوقات سب سے بڑی کامیابی، بروقت اور باعزت واپسی ہوتی ہے۔
اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو یہ محض دو ریاستوں کے درمیان عسکری تصادم نہیں ہوگا، بلکہ ایک سیاسی زلزلہ ہوگا جس
کے جھٹکے پورے خطے اور عالمی نظامِ معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔ اس جنگ میں پہلا نشانہ محاذ نہیں، بلکہ وہ توانائی کا نظام ہوگا جس پر جدید دنیا کی سیاست اور معیشت کھڑی ہے۔ تیل یہاں جنس نہیں رہے گا، بلکہ فیصلہ کن ہتھیار بن جائے گا۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں منظر ایران کی سرحدوں سے کہیں آگے پھیلا ہوا ہوگا۔ خلیجِ فارس میں آبنائے ہرمز پر صرف کشیدگی کی خبر ہی عالمی منڈیوں کو لرزا دے گی۔ جہازوں کی انشورنس مہنگی ہو جائے گی، سپلائی سست پڑ جائے گی اور قیمتیں کسی میزائل کے بغیر آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔ باب المندب میں یمنی دباؤ سمندری تجارت کو ایک اور محاذ پر الجھا دے گا، جہاں گولی چلائے بغیر راستے بند ہونے لگیں گے۔
اردن میں منظر مختلف مگر اتنا ہی سنگین ہوگا۔ عقبہ بندرگاہ پر ہر کنٹینر ایک سوال بن جائے گا اور ہر ریفائنری ایک سیاسی پیغام۔ ایک کمزور معیشت پر دباؤ دراصل واشنگٹن کے لیے یہ اعلان ہوگا کہ جنگ کو “کنٹرولڈ” رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔
متحدہ عرب امارات میں جنگ کی آواز دھماکوں سے نہیں بلکہ اسکرینوں پر نظر آئے گی۔ فجیرہ اور جبلِ علی میں ٹینکرز رکے کھڑے ہوں گے، سرمایہ دارانہ اعتماد متزلزل ہوگا اور عالمی منڈیاں خوف میں مبتلا ہوں گی۔ یہاں ایک دھمکی بھی حملے کے برابر اثر رکھتی ہے۔
قفقاز میں آذربائیجان کا منظر خاموش مگر خطرناک ہوگا۔ باکو–تبلیسی–جےحان پائپ لائن پر ہر سینسر، ہر والو سیاسی دباؤ کا مرکز بن جائے گا۔ یورپ کو پیغام ملے گا کہ یہ جنگ صرف مشرقِ وسطیٰ کی نہیں، بلکہ اس کی توانائی سلامتی کی بھی جنگ ہے۔
بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کی موجودگی ایک علامت سے سوال بن جائے گی۔ اگر یہاں عدم استحکام پیدا ہوا تو خلیج میں امریکی کنٹرول کا تصور کمزور پڑ جائے گا، اور یہی سب سے بڑا سیاسی نقصان ہوگا۔
اور اسرائیل میں منظر سب سے زیادہ نازک ہوگا۔ ڈی سیلینیشن پلانٹس کے گرد حفاظتی اقدامات بڑھیں گے، پانی ذخیرہ کیا جائے گا اور شہری زندگی غیر یقینی کیفیت میں داخل ہو جائے گی۔ یہاں جنگ کا مطلب صرف میزائل نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا بحران ہوگا۔
یہی وہ لمحہ ہوگا جب واضح ہو جائے گا کہ تیل میزائل سے زیادہ خطرناک کیوں ہے۔ میزائل ایک شہر کو نشانہ بناتا ہے، مگر توانائی پوری دنیا کو یرغمال بنا لیتی ہے۔ منڈیاں خوف سے چلتی ہیں اور اس جنگ میں خوف کا نام ہے: توانائی کی عدمِ استحکام۔
اگر ایران کو دیوار سے لگایا گیا تو وہ براہِ راست محاذ سے زیادہ ان جگہوں کو نشانہ بنائے گا جہاں دشمن کی سیاسی اور معاشی سانس چلتی ہے۔ اس کے لیے قبضہ ضروری نہیں، صرف اعتماد توڑنا کافی ہوگا۔
یہ جنگ دارالحکومتوں کی فتح و شکست کا معاملہ نہیں ہوگی، بلکہ تیل کی راہوں، سمندری گذرگاہوں اور توانائی کے مراکز پر سیاسی غلبے کی جنگ ہوگی۔ مشرقِ وسطیٰ میں جو ان راستوں کو کنٹرول کرتا ہے، وہی جنگ ہی نہیں، دنیا کی سیاست کی رفتار بھی طے کرتا ہے۔
انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ بہت سی باتیں جو ماضی میں محض روایات، غیبی خبریں یا ناقابلِ فہم تصورات سمجھی جاتی تھیں، آج سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کی بدولت حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جن امور پر کبھی اندھا یقین سمجھا جاتا تھا، آج وہ انسانی تجربے اور مشاہدے کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس تناظر میں اسلامی تعلیمات اور بالخصوص احادیثِ نبوی ﷺ پر غور کیا جائے تو ان کی صداقت وقت گزرنے کے ساتھ مزید واضح ہوتی چلی جا رہی ہے۔
اسلامی عقیدے کے مطابق ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہیں جو اس کے ہر قول اور ہر عمل کو لکھ رہے ہیں۔ ایک دائیں طرف نیک اعمال لکھنے والا اور دوسرا بائیں طرف برے اعمال درج کرنے والا۔ آج سے پچاس یا سو سال پہلے تک یہ بات محض ایک ایمانی عقیدہ سمجھی جاتی تھی۔ لوگ بغیر کسی مادی دلیل کے اس پر یقین رکھتے تھے، کیونکہ یہ بات حواسِ خمسہ کی گرفت میں نہیں آتی تھی۔ مگر آج کے انسان کو اگر اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالنے کی دعوت دی جائے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ تصور اب اجنبی نہیں رہا۔
آج انسان کے ہر عمل، ہر حرکت اور حتیٰ کہ ہر آواز کو محفوظ کرنے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔ موبائل فون، سی سی ٹی وی کیمرے، ڈیجیٹل ریکارڈرز، سمارٹ واچز اور انٹرنیٹ سے جڑے آلات مسلسل انسان کی نگرانی کر رہے ہیں۔ کسی نے کہا تھا کہ انسان اب کبھی تنہا نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے ساتھ اس کا ڈیجیٹل سایہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان کے بنائے ہوئے آلات یہ سب کچھ محفوظ کر سکتے ہیں، تو پھر اللہ کے مقرر کردہ فرشتوں کا انسان کے اعمال لکھنا کیوں ناقابلِ یقین سمجھا جائے؟
یہی بات انسانی آوازوں اور اعمال کے بارے میں بھی صادق آتی ہے۔ ماضی میں یہ تصور کہ کسی انسان کی آواز کو محفوظ کر کے بعد میں بالکل اسی طرح سنا جا سکے، ایک عجیب و غریب خیال تھا۔ آج صوتی ریکارڈنگ، وائس اسسٹنٹس، اور مصنوعی ذہانت (AI) نہ صرف آواز محفوظ کرتی ہے بلکہ اسے پہچانتی، تجزیہ کرتی اور حتیٰ کہ نقل بھی کر لیتی ہے۔ عدالتوں میں آج بھی آواز کو بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آواز بھی ایک قابلِ ریکارڈ اور قابلِ تجزیہ شے ہے۔
اسی طرح زبانوں کے فرق کا مسئلہ ماضی میں انسان کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تھا۔ مختلف قوموں اور ملکوں کے درمیان رابطے کے لیے ترجمانوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ سفارتی ملاقاتیں، تجارتی معاہدے اور علمی تبادلے مترجمین کے بغیر ناممکن سمجھے جاتے تھے۔ مگر آج گوگل ٹرانسلیٹ اور دیگر خودکار ترجماتی نظام بغیر کسی انسانی ترجمان کے مختلف زبانوں کو لمحوں میں سمجھنے اور منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو کبھی صرف انسان کے بس میں سمجھا جاتا تھا۔
یہ تمام مثالیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسان کا علم اور اس کی ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ ان امور تک پہنچ رہی ہے جن کا ذکر صدیوں پہلے احادیثِ نبوی ﷺ میں موجود تھا۔ انہی احادیث میں سے ایک نہایت اہم حدیث وہ ہے جو مسند احمد، سنن ترمذی اور دیگر کتبِ حدیث میں منقول ہے، جس میں نبی اکرم ﷺ نے قیامت کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک انسان سے جانور (درندے) بات نہ کریں، کوڑا اس سے بات نہ کرے، اور اس کی ران و جوتا اسے اس کے گھر والوں کی خبر نہ دیں۔
اگر اس حدیث کو اس کے تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ بات ناقابلِ تصور محسوس ہوتی ہے۔ جانوروں کا انسان سے بات کرنا، یا جوتے اور ران کا خبریں دینا اُس دور کے انسان کے لیے محض ایک غیبی خبر تھی۔ مگر آج کے دور میں جب ہم جدید ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہیں تو اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
آج جانوروں پر تجربات ہو رہے ہیں جن میں ان کے اشاروں، آوازوں اور دماغی لہروں کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جانوروں کی آوازوں کو ڈی کوڈ کرنے پر تحقیق جاری ہے۔ بعض تجربات میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مخصوص آلات کے ذریعے جانوروں کے جذبات اور ضروریات کو انسانی زبان میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر اس سمت میں پیش رفت حدیث کے مفہوم کو مزید واضح کرتی ہے۔
اسی طرح انسان کا جوتا یا ران کا خبریں دینا آج کے دور میں موبائل فون، جی پی ایس اور سینسرز کے ذریعے ممکن ہو چکا ہے۔ انسان کا موبائل فون، جو اکثر اس کی جیب یا ران کے قریب ہوتا ہے، اسے اس کے گھر والوں کے بارے میں پیغامات دیتا ہے، ان کی آوازیں سناتا ہے اور ان کی تصویریں دکھاتا ہے۔ یوں بظاہر بے جان اشیاء انسان سے “بات” کر رہی ہیں۔
ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ احادیثِ نبوی ﷺ محض مذہبی بیانات نہیں بلکہ ایسی آفاقی صداقتیں ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ منکشف ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ جو باتیں کبھی ایمان بالغیب کا حصہ تھیں، آج وہ انسانی علم کے دائرے میں داخل ہو رہی ہیں۔ یہ جدید دور کے انسان کے لیے ایک دعوتِ فکر ہے کہ وہ تعصب سے بالاتر ہو کر ان تعلیمات کا مطالعہ کرے۔
آخر میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سائنس اور دین ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف زاویے ہیں۔ جہاں سائنس انسان کو “کیسے” کا جواب دیتی ہے، وہیں دین اسے “کیوں” سے روشناس کراتا ہے۔ اور جب یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں، تو انسان نہ صرف کائنات کو سمجھتا ہے بلکہ اپنے خالق کو بھی پہچاننے لگتا ہے۔
خوف کی سیاست
عبرانی اخبار معاریو میں شائع ہونے والا حالیہ تجزیہ محض ایک رپورٹ نہیں، بلکہ اس ذہنی کیفیت کی عکاسی ہے جس میں آج صہیونی–امریکی قیادت مبتلا دکھائی دیتی ہے۔ فوجی تجزیہ کار الون بن ڈیوڈ کے مطابق، ایران کے مضبوط اور غیر لچکدار موقف نے واشنگٹن اور تل ابیب دونوں کو ایسی الجھن میں ڈال دیا ہے جس سے نکلنے کی کوئی سیدھی راہ دکھائی نہیں دیتی۔
رپورٹ کا سب سے معنی خیز پہلو وہ اعتراف ہے جس میں کہا گیا کہ امام خامنہای نے ٹرمپ کے ساتھ ایک طرح سے “ذاتی حساب” کھولتے ہوئے اس کے تکبر کو براہِ راست للکارا۔ یہ محض ایک سیاسی ردِعمل نہیں تھا، بلکہ وقار کی جنگ تھی۔ امریکی صدر، جو طاقت کی زبان سمجھنے اور اسی پر بات کرنے کے عادی ہیں، اس بار ایک ایسے وقار سے ٹکرا گئے جسے نہ دباؤ توڑ سکا اور نہ دھمکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرمپ، رہبرِ ایران کے وقار کو مجروح کرنے میں ناکامی کے باعث، ذاتی اضطراب اور ذہنی بے چینی کا شکار نظر آئے۔
اسی تسلسل میں رپورٹ یہ انکشاف بھی کرتی ہے کہ ٹرمپ نے خطے کے مختلف رہنماؤں اور خصوصاً نیتن یاہو سے مشاورت کی، مگر وہاں سے جو جواب ملا وہ خود امریکی طاقت کے دعووں پر ایک سوالیہ نشان تھا۔ صاف الفاظ میں کہا گیا کہ “اتنی طاقت اور یہ تمام عسکری قوتیں بھی تہران میں نظام کو گرانے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔” یہ جملہ دراصل اسلامی جمہوریہ ایران کے استحکام اور داخلی طاقت کا وہ اعتراف ہے جو برسوں کی سیاسی بیان بازی میں کبھی اس وضاحت سے سامنے نہیں آیا تھا۔
نیتن یاہو کا کردار اس پوری کہانی میں سب سے زیادہ معنی خیز دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہی شخص تھا جس نے ایرانی ردِعمل کے خوف سے امریکی جارحانہ رویّے کو لگام دینے کی کوشش کی۔ بظاہر “دفاع” کے نعروں کے پیچھے، حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی قیادت خود جانتی ہے کہ وہ ایرانی میزائل طاقت کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔ یہ اعتراف اسرائیلی عسکری برتری کے دیرینہ دعووں پر ایک اور کاری ضرب ہے۔
رپورٹ میں ایران کے دو ہزار سے زائد تیار بیلسٹک میزائلوں کا ذکر محض ایک عددی حقیقت نہیں، بلکہ نفسیاتی برتری کی علامت ہے۔ جب دشمن خود یہ ماننے لگے کہ ان کے طیارے اور افواج محض “پریڈز” بن کر رہ گئی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت کا توازن میدانِ جنگ سے زیادہ ذہنوں میں بدل چکا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں “وقار کا جال” اپنی پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے۔ طاقتور ہونے کے دعوے دار اب اس خوف میں مبتلا ہیں کہ ایک غلط قدم پورے خطے کو ایسی آگ میں جھونک سکتا ہے جس کا انجام ان کے قابو میں نہیں ہوگا۔ معاریو کا یہ تجزیہ دراصل اسی سچ کی گواہی ہے کہ جدید سیاست میں صرف ہتھیار نہیں، وقار، استقامت اور نفسیاتی برتری بھی فیصلہ کن ہتھیار بن چکے ہیں۔
یہ تین مئی 1956 کا دن تھا جب اس وقت کے صدر پاکستان اسکندر مرزا نے ملک کے لیے نمایاں شہری اور فوجی خدمات ادا کرنے والے افراد کو مختلف تمغے دینے کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
اسی اعلان میں کہا گیا کہ ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر ہو گا اور یہ تمغہ مسلح افواج کے ان ارکان کو دیا جائے گا جنھوں نے ملک کی حفاظت اور سلامتی کے لیے زبردست خطرات کا سامنا کرتے ہوئے بے حد بہادری اور زبردست ہمت کا مظاہرہ کیا ہو۔
اس اعزاز کا نام اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علی کے نام پر رکھا گیا۔ حضرت علی میدان جنگ میں اپنی بہادری وکراری کی وجہ سے مشہور ہیں اور خود پیغمبر اسلام نے انہیں 'شیر خدا' کا لقب دیا تھا۔
میاں محمد مسعود الزماں نے اپنی کتاب 'نشان حیدر' میں لکھا ہے کہ 'نشان حیدر' پانچ کونوں کا ایک ستارہ ہے جو توپ کی دھات سے بنایا جاتا ہے۔ ان کونوں کے کنارے تانبے اور نکل کے مرکب سے بنتے ہیں۔ اس میں چاند اور ستارہ ہیرے کا ہوتا ہے، فیتہ ریشمی اور سبز رنگ کا ہوتا ہے، اس کی چوڑائی ڈیڑھ انچ ہوتی ہے، جب یہ فیتہ تمغے کے بغیر پہنا جاتا ہے تو اس کے اوپر پنچ کونی ستارے کی نقل لگالی جاتی ہے۔'
وزارت دفاع کے حکم پر 'پاکستان مِنٹ' (وہ جگہ جہاں سِکّے بنائے جاتے ہیں) نشان حیدر تیار کرتی ہے۔ اسے دشمن سے چھینے گئے اسلحہ کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 88 فیصد تانبا، 10 فیصد سونا اور 2 فیصد زنک (جست) شامل کیا جاتا ہے۔
عوامی سطح پر اس قسم کی کوئی معلومات دستیاب نہیں کہ نشان حیدر پانے والوں کو مالی طور پر کیا فوائد دیے گئے تاہم ریٹائرڈ بریگیڈیئر فاروق حمید کے مطابق نشان حیدر کا اعزاز پانے والوں کے اہل خانہ کو پیشکش کی جاتی ہے کہ وہ چاہیں تو نقدی لے لیں یا زرعی اراضی۔
نشان حیدر کا اعزاز بلالحاظِ عہدہ پاکستان کی مسلح افواج کے کسی بھی فرد کو دیا جا سکتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ یہ اعزاز صرف جنگ میں شہید ہونے والوں کو دیا جائے،
نشانِ حیدر حاصل کرنے والے سب سے پہلے فوجی، کیپٹن راجہ سرور تھے جنھوں نے 27 جولائی 1948 کو کشمیر کے محاذ پر جان دی تھی اور ان کا اعزاز 27 اکتوبر 1959 کو ان کی اہلیہ نے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ہاتھ سے وصول پایا تھا۔
میجر محمد اکرم نشان حیدر حاصل کرنے والی وہ واحد شخصیت ہیں جو بنگلہ دیش میں دفن ہیں جبکہ باقی قبریں ملک کے مختلف علاقوں اور کشمیر میں واقع ہیں۔
پائلٹ آفیسر راشد منہاس کو 1971 کی جنگ سے قبل نشانِ حیدر حاصل کرنے والے اہلکار تھے۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے سب سے کم عمر اور پاکستانی فضائیہ کے وہ واحد افسر ہیں جنھیں بے مثال شجاعت پر نشان حیدر دیا گیا۔
1971 سے 1999 کے درمیان نشانِ حیدر حاصل کرنے والوں میں ایک اور نام کا اضافہ ضرور ہوا جو کہ نائیک سیف علی خان جنجوعہ کا تھا جنھیں 14 مارچ 1949 کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے اپنا سب سے بڑا فوجی اعزاز 'ہلال کشمیر' دینے کا اعلان کیا تھا۔
30 نومبر 1995 کو حکومت پاکستان نے ہلال کشمیر کو نشان حیدر کے مساوی قرار دینے کا اعلان کیا تو اس فہرست میں نائیک سیف علی کا نام بھی شامل ہو گیا۔
سیف علی جنجوعہ کے بارے میں دفاعی ماہر ریٹائرڈ بریگیڈیئر فاروق حمید نے کہا کہ 'وہ پاکستان آرمی کا حصہ تھے اور 1948 میں کشمیر کی پہلی جنگ میں بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ وہ بجا طور پر نشان حیدر کے اعزاز کے مستحق تھے۔'
کیپٹن کرنل شیر خان کو کارگل میں اپنے دستوں کے ساتھ قیادت اور معرکہ آرائی کرتے دیکھنے والے بھارتی بریگیڈئیر نے بعد ازاں بھارتی میڈیا سے اپنے انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کیپٹن کرنل شیر خان کی میت کی جیب میں ایک تعریفی رقعہ اس وقت لکھ کر رکھ دیا تھا جب کرنل شیر خان کا جسد خاکی پاکستان کی فوج کے حوالے کیا جا رہا تھا۔ اس رقعے میں تحریر تھا کہ کرنل خان بڑی بہادری سے لڑے اور ان کی اس بہادری کا اعتراف ہونا چاہیے۔
عالمی عسکری سیاست میں بعض ہتھیار اپنی عملی صلاحیت سے کہیں زیادہ اپنی علامتی اور نفسیاتی تاثیر کے باعث موضوعِ بحث بنتے ہیں۔ ایران کا قہر 313 بھی ایسا ہی ایک منصوبہ ہے جو 2013 میں منظرِ عام پر آتے ہی دفاعی ماہرین، میڈیا اور عسکری تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ طیارہ صرف ایک ممکنہ اسٹیلتھ فائٹر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے سوال کے طور پر سامنے آیا کہ جدید جنگ میں اصل طاقت خالص تکنیکی برتری ہے یا اس برتری کا تاثر اور بیانیہ؟
قہر 313 کو ایران نے اپنی ایوی ایشن انڈسٹریز آرگنائزیشن کے تحت ایک مقامی سطح پر تیار کردہ اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کے طور پر متعارف کرایا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ ہلکا، کم رفتار، کم ریڈار سگنیچر رکھنے والا طیارہ ہے جو دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دے کر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں خصوصیت مختصر رن ویز سے پرواز اور کم بلندی پر مؤثر آپریشن بتائی گئی، جو ایران کے جغرافیائی اور دفاعی حالات کے مطابق اہم سمجھی جاتی ہے۔
تاہم جب بین الاقوامی دفاعی ماہرین نے اس طیارے کے ڈیزائن اور تکنیکی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو کئی سنگین سوالات سامنے آئے۔ پروں کا غیر متوازن سائز، کاک پٹ کی ساخت، انجن کی گنجائش اور ایرودائنامکس ایسی تھیں جو ایک مکمل اور عملی فائٹر جیٹ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دفاعی حلقوں میںقہر 313 کو ایک نمائشی ماڈل یا ابتدائی پروٹو ٹائپ قرار دیا گیا، نہ کہ ایک مکمل طور پر فعال جنگی طیارہ۔
لیکن قاہر 313 کو محض ایک ناکام یا غیر سنجیدہ منصوبہ کہہ کر رد کر دینا بھی حقیقت کا ادھورا تجزیہ ہوگا۔ ایران کوئی ایسا ملک نہیں جو پچھلے چند برسوں سے دباؤ میں ہو؛ بلکہ وہ گزشتہ پچاس برسوں سے عملی طور پر ایک مسلسل حالتِ جنگ میں زندہ رہا ہے۔ براہِ راست فوجی تصادم، خفیہ جنگ، اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی، اور ٹیکنالوجی تک محدود رسائی—یہ سب ایران کے مستقل دفاعی ماحول کا حصہ رہے ہیں۔
ان سخت حالات کے باوجود ایران نے کبھی اپنے دفاعی اور بالخصوص دفعی
دفاعی
صلاحیتوں کے حصول سے غفلت نہیں برتی۔ بیلسٹک میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاعی نظام، اور مقامی سطح پر عسکری پیداوار—یہ سب اسی سوچ کا تسلسل ہیں۔ قاہر 313 بھی اسی ذہنیت کی ایک کڑی ہے، چاہے وہ عملی میدان میں مکمل کامیاب ہو یا نہ ہو۔
حالیہ برسوں میں ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ
قہر 313 کے تصور کو بغیر پائلٹ فضائی پلیٹ فارم، یعنی ڈرون ٹیکنالوجی، میں ڈھالنے پر کام کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران اب علامتی منصوبوں کو عملی دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسی جنگوں کے تناظر میں جہاں بغیر پائلٹ نظام فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ ایران کی اس دفاعی سوچ میں حالیہ برسوں میں ایک نمایاں تبدیلی بھی دیکھی جا رہی ہے۔ تہران اب یہ حقیقت تسلیم کر چکا ہے کہ محض عسکری خود کفالت کافی نہیں، بلکہ علاقائی طاقتوں کے ساتھ بہتر تعلقات ہی اس کے دفاع کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ مفاہمت، ترکی کے ساتھ محتاط تعاون، پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک ہم آہنگی، اور چین کے ساتھ بڑھتا ہوا اعتماد—یہ سب ایران کی اسی بدلی ہوئی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔
اسی سوچ کے نتیجے میں خطے کے کئی ممالک میں ایران کے حوالے سے رویّے میں نرمی اور ہمدردی کا عنصر پیدا ہوا ہے۔ ایران اب صرف ایک مزاحمتی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی علاقائی طاقت کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے جو تصادم کے بجائے توازن، اور تنہائی کے بجائے شراکت داری کے ذریعے اپنی سلامتی یقینی بنانا چاہتی ہے۔
نتیجتاً، قاہر 313 کو ایک مکمل جنگی طیارے کے بجائے ایک اسٹریٹجک علامت کے طور پر دیکھنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ علامت اس امر کی نمائندگی کرتی ہے کہ جدید جنگ میں صرف ہتھیار فیصلہ کن نہیں ہوتے، بلکہ بیانیہ، نفسیاتی دباؤ، مسلسل مزاحمت اور ٹیکنالوجی کا تاثر بھی طاقت کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔
قہر 313 شاید آسمانوں میں فیصلہ کن کردار ادا نہ کر سکے، مگر اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران نہ سویا ہے، نہ ہتھیار ڈالے ہیں، اور نہ ہی مستقبل کی جنگ کے تقاضوں سے غافل ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم کسی روایتی جنگ کی صورت میں سامنے نہیں آیا، بلکہ یہ ایک طویل المدت اور بالواسطہ کشمکش ہے جو مختلف محاذوں، پراکسی نیٹ ورکس اور اسٹریٹیجک اتحادیوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔ انہی خاموش مگر فیصلہ کن محاذوں میں ایک نہایت حساس اور پیچیدہ عنصر کرد فیکٹر ہے۔ کرد نہ تو اسرائیل کے فطری اتحادی ہیں اور نہ ایران کے، مگر دونوں ریاستیں انہیں اپنی اسٹریٹیجک ضرورت کے تناظر میں دیکھتی ہیں۔
ایران کے نزدیک کرد مسئلہ محض ایک نسلی یا ثقافتی سوال نہیں، بلکہ یہ قومی وحدت، سرحدی سلامتی اور ریاستی استحکام سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ چونکہ کرد آبادی ایران، عراق، ترکی اور شام کے سرحدی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے اور مختلف کرد تحریکیں سرحد پار روابط رکھتی ہیں، اس لیے تہران کو یہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ اسرائیل، امریکہ یا مغربی انٹیلی جنس ادارے کردوں کو ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت ایران کرد جماعتوں پر سخت کنٹرول، سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی مستقل موجودگی اور بعض اوقات عراق کے اندر سرحد پار کارروائیوں کو ناگزیر سمجھتا ہے۔
اس کے برعکس اسرائیل کا نقطۂ نظر بالکل مختلف ہے۔ اسرائیلی پالیسی تاریخی طور پر اس حکمتِ عملی پر مبنی رہی ہے جسے
“Peripheral Doctrine”
کہا جاتا ہے، یعنی عرب اکثریتی اور دشمن ریاستوں کو کمزور کرنے کے لیے غیر عرب اقوام اور اقلیتوں سے تعلقات استوار کرنا۔ اس تناظر میں کرد اسرائیل کے لیے ایک ممکنہ اسٹرٹیجک اثاثہ سمجھے جاتے ہیں: وہ عرب نہیں، تاریخی طور پر ریاست سے محروم رہے ہیں، اور علاقائی تنازعات میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسرائیل کے مفادات واضح ہیں۔ وہ ایران اور بعض عرب ریاستوں کے اندر دباؤ پیدا کرنا چاہتا ہے، انٹیلی جنس نیٹ ورکس تک رسائی کا خواہاں ہے، اور اپنے گرد ایسے غیر ریاستی دباؤ کے حلقے بنانا چاہتا ہے جو اس کے حریفوں کے لیے مستقل چیلنج بنے رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں اسرائیل نے عراقی کردوں سے خفیہ روابط رکھے اور 2017 میں کردستان کے ریفرنڈم کی کھل کر حمایت کی۔ تاہم یہ حمایت زیادہ اخلاقی کم اور اسٹرٹیجک نوعیت کی تھی۔
یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ کرد کوئی واحد، منظم یا یکساں بلاک نہیں۔ کرد سیاست اندرونی تقسیم کا شکار رہی ہے—بارزانی اور طالبانی جیسے مختلف دھڑے، قوم پرست، بائیں بازو اور قبائلی رجحانات، سب اپنی اپنی ترجیحات رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر کردوں کا بنیادی ہدف اپنی شناخت کا تحفظ، سیاسی خودمختاری اور ریاستی جبر سے نجات ہے۔ اسی پس منظر میں بعض کرد قیادتیں اسرائیل سے روابط کو ایک وقتی حکمتِ عملی سمجھتی ہیں، جبکہ دیگر حلقے اسے اخلاقی تضاد اور فلسطینی کاز سے غداری تصور کرتے ہیں۔
اسی لیے یہ کہنا درست نہیں کہ “کرد اسرائیل کے ایجنٹ ہیں”۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ کچھ کرد دھڑے مخصوص حالات میں اسرائیلی مفادات سے وقتی ہم آہنگی اختیار کر لیتے ہیں، جسے پوری قوم کی اجتماعی پالیسی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایران اور اسرائیل کے باہمی تصادم میں کرد کہاں کھڑے ہیں؟ ایرانی بیانیے میں کرد ایک ممکنہ بیرونی سازش کا مہرہ سمجھے جاتے ہیں، اسرائیل کو اصل دشمن قرار دیا جاتا ہے، اور کرد علاقوں کو انٹیلی جنس کی ممکنہ راہداری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اسرائیلی بیانیے میں کرد ایک مظلوم قوم ہیں، ایران ایک توسیع پسند ریاست، اور کردوں کی حمایت ایران پر اخلاقی اور اسٹرٹیجک دباؤ ڈالنے کا ذریعہ ہے۔
حقیقت مگر ان دونوں بیانیوں سے زیادہ تلخ ہے۔ کرد اکثر ان دو بڑی طاقتوں کے بیچ پس جاتے ہیں۔ انہیں کہیں سے مکمل ریاستی تحفظ حاصل نہیں ہوتا، اور زیادہ تر صورتوں میں ان کا استعمال زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے۔ طاقت کی اس بساط میں وہ مہرے بن جاتے ہیں، فیصلہ ساز نہیں۔
سب سے بڑا تضاد تاریخ کا وہ تلخ موڑ ہے جہاں ایک کرد رہنما، سلطان صلاح الدین ایوبی، نے بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرایا، جبکہ آج بعض کرد دھڑے اسرائیل سے تعلقات کے باعث مسلم دنیا میں شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ یہی تضاد کرد سیاست کی سب سے بڑی اخلاقی آزمائش ہے—اور شاید مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا بھی ایک کڑا امتحان۔