اتوار، 4 جنوری، 2026

مشترکہ خاندان


 

مشترکہ خاندان

ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندان کو اکثر معاشی یا انتظامی تناظر میں زیرِ بحث لایا جاتا ہے، مگر اس نظام کا سب سے قیمتی اور کم زیرِ گفتگو پہلو وہ اثرات ہیں جو یہ بچوں کی شخصیت پر مرتب کرتا ہے۔ خاص طور پر گھر میں دادا اور دادی کی موجودگی ایسی نعمت ہے جس کی قدر اکثر وقت گزرنے کے بعد ہی سمجھ آتی ہے۔

بچپن انسان کی زندگی کا وہ نازک مرحلہ ہے جہاں محبت، تحفظ اور توجہ محض جذبات نہیں بلکہ شخصیت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ والدین اپنی ذمہ داریوں، مصروفیات اور عملی دباؤ کے باعث بعض اوقات بچوں کو وہ وقت نہیں دے پاتے جس کے وہ حق دار ہوتے ہیں۔ ایسے میں دادا اور دادی بچوں کے لیے جذباتی سہارے کا وہ مضبوط ستون بن جاتے ہیں جو خاموشی سے مگر گہرائی کے ساتھ ان کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

دادا دادی کی محبت میں ایک خاص ٹھہراؤ اور بے لوث پن ہوتا ہے۔ وہ بچوں سے کسی کارکردگی یا کامیابی کی شرط نہیں باندھتے، بلکہ انہیں ویسا ہی قبول کرتے ہیں جیسے وہ ہیں۔ یہی غیر مشروط قبولیت بچوں کے اندر اعتماد، خود اعتمادی اور ذہنی سکون پیدا کرتی ہے۔ ایسے بچے کم خوف زدہ، کم اضطراب کے شکار اور زیادہ پُرسکون نظر آتے ہیں۔

مشترکہ خاندان میں پلنے والے بچوں کو اخلاقیات کا سبق نصیحتوں سے نہیں بلکہ روزمرہ کے مشاہدے سے ملتا ہے۔ دادا دادی کا اندازِ گفتگو، بڑوں کا احترام، صبر، شکر اور قناعت—یہ سب چیزیں بچے لاشعوری طور پر سیکھ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے بچوں میں خاندانی اقدار اور تہذیبی تسلسل نسبتاً مضبوط ہوتا ہے۔

دادا دادی کی کہانیاں محض قصے نہیں ہوتیں بلکہ ماضی کے تجربات، وقت کی آزمائشوں اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ ان کہانیوں کے ذریعے بچے تاریخ، روایت اور جدوجہد سے جڑتے ہیں۔ انہیں یہ شعور ملتا ہے کہ زندگی صرف سہولتوں کا نام نہیں بلکہ صبر اور ثابت قدمی کا امتحان بھی ہے۔

ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مشترکہ خاندان بچوں کو مختلف عمروں کے افراد کے ساتھ رہنا سکھاتا ہے۔ اس ماحول میں بچہ سیکھتا ہے کہ ہر فرد کی سوچ، رفتار اور ضرورت مختلف ہوتی ہے۔ یہی فہم اسے برداشت، رواداری اور سماجی ہم آہنگی کی طرف لے جاتی ہے، جو آج کے انفرادی اور تیز رفتار معاشرے میں ایک نایاب خوبی بنتی جا رہی ہے۔

یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اگر والدین اور دادا دادی کے درمیان تربیت کے اصولوں پر اتفاق نہ ہو تو بعض پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، مگر یہ مشترکہ خاندان کا نقص نہیں بلکہ باہمی رابطے کی کمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب حدود واضح ہوں اور احترام برقرار رہے تو یہی نظام بچوں کے لیے سب سے محفوظ اور متوازن ماحول بن جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دادا اور دادی کی موجودگی بچوں کے لیے صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ایک نعمت ہے۔ یہ وہ سایہ ہے جو سخت دھوپ میں بھی ٹھنڈک دیتا ہے، وہ تجربہ ہے جو کتابوں میں نہیں ملتا، اور وہ دعا ہے جو لفظوں کے بغیر بھی اثر رکھتی ہے۔

شاید اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ جس گھر میں دادا اور دادی زندہ ہوں، وہاں بچوں کی پرورش صرف جسمانی نہیں بلکہ اخلاقی، جذباتی اور تہذیبی سطح پر بھی ہوتی ہے۔ اور یہی وہ سرمایہ ہے جو آنے والی نسلوں کو مضبوط بناتا ہے۔

بدھ، 31 دسمبر، 2025

نیا سال مبارک



 نیا سال مبارک 

 بچپن، جب نئے سال پر نئی جنتری آتی تھی۔ اس کے اندر درج نجومیوں کی خوشگوار پیش گوئیاں۔ بارشیں وقت پر ہوں گی، فصلیں اچھی ہوں گی، قوم ترقی کرے گی۔ ہم شوق سے پڑھتے تھے اور دل ہی دل میں خوش ہوتے تھے۔ مگر 2025 کے اختتام تک آتے آتے علمِ نجوم ہی اس صدی کی پہلی ربع میں مردود ٹھہر گیا۔ اب نہ بانس باقی رہا، نہ اس سے خوشگوار سر والی بنسری بن سکی۔ انسان اب تقدیر نہیں، دلیل مانگتا ہے۔

یہ ربع صدی دراصل رسیدوں اور ثبوتوں کا شور شور میں گذری۔ اب کسی بات پر یقین کرنا کافی نہیں رہا، ہر دعوے کے ساتھ حوالہ، ڈیٹا اور ثبوت چاہیے۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ انسان اپنے خالق کو بھی دیکھنے پر اصرار نہیں کرتا، بلکہ خوردبین میں اس کے ڈی این اے کا ثبوت مانگتا ہے۔ ایمان، تجربہ بن گیا ہے اور یقین، ثبوت کا محتاج۔

 ماضی کو بھلا کر مستقبل کی طرف نہیں بڑھا جا سکتا، مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم جیسے ماضی ہی میں زندہ ہیں۔ اس ربع صدی میں بنگلہ دیش اور برازیل جیسے ممالک غربت کی دلدل سے نکلتے دکھائی دیے۔ ہم جان بوجھ کر چین اور انڈونیشیا کا ذکر نہیں کر رہے، کہ وہ تو کام کے دھنی ہیں، مثالیں دینا آسان ہے، اپنانا مشکل۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا بابا بھی “کام، کام اور کام” کی دہائی دیتے دیتے فردوس میں جا بسا۔ نہ ہم نے اس کی زندگی میں اس کی بات سنی، نہ اس کے جانے کے بعد۔

اعداد و شمار بھی کبھی کبھی طنز بن جاتے ہیں۔ سال 2000 میں پاکستان کی آبادی تقریباً 14 کروڑ تھی۔ 31 دسمبر 2025 کو یہ تعداد 24 کروڑ کے عدد کو عبور کر چکی۔ ہمیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ ہم کسی نہ کسی “فرمان” پر تو پوری دیانت سے عمل پیرا رہے ہیں۔

عالمی منظرنامہ دیکھیں تو اس ربع صدی میں ڈیڑھ ارب انسان غربت کی لکیر سے نکل کر ہموار زمین پر آ کھڑے ہوئے۔ پاکستان میں کیا ہوا، بتانے کی بات نہیں، محسوس کرنے کی ضرور ہے۔ 

اسی دوران جنریشن گیپ ایک خاموش زلزلے کی طرح بڑھتا چلا گیا۔ سوچ، زبان، ترجیحات اور اقدار — سب میں فاصلہ۔ اس کے ہمارے سماج پر کیا اثرات ہیں؟ شاید ہمارے پاس اس پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں۔ ہم فوری ردعمل کے عادی ہو چکے ہیں، گہرے سوالوں کے نہیں۔

اس ربع صدی کا سب سے بڑا واقعہ پاک بھارت عسکری ٹکراؤ تھا، جس نے چند گھنٹوں میں زمینی حقائق بدل کر رکھ دیے۔زمینی حقائق بدلنے کے مواقع ہمیں پہلے بھی ملتے رہے ہیں۔ ہم نے کتنا فائدہ اٹھایا، یہ سب کے سامنے ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بار کیا اس نوخیز بیج سے واقعی پودا اگے گا؟ کیا یہ سرسبز ہو کر اگلی ربع صدی تک امن، ترقی اور “جیو اور جینے دو” کا پھل دے سکے گا؟

انتظار بہت ہے، مگر ناامیدی نہیں۔ اس لیے نہیں کہ حالات روشن ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہمیں ناامیدی سے منع کیا گیا ہے۔ شاید یہی واحد سرمایہ ہے جو اب بھی ہمارے پاس سلامت ہے۔

نیا سال مبارک — اس امید کے ساتھ کہ ہم اس بار محض کیلنڈر نہیں بدلیں گے، رویے بھی بدلیں گے۔

پیر، 29 دسمبر، 2025

کائنات کی حقیقت — خدا


 کائنات کی حقیقت — خدا
کائنات کے اس بے کنار تناظر میں، جہاں ستارے خاموش ہیں مگر روشنی بولتی ہے، جہاں رات پھیلی ہوتی ہے مگر اس کے سینے میں کہکشائیں دھڑکتی ہیں— وہیں ایک سوال صدیوں سے انسان کے دل پر دستک دیتا ہے: یہ سب کس کے اشارے پر چل رہا ہے؟
یہ سوال نہ قدیم ہے، نہ جدید؛ یہ انسان کی پیدائش کے ساتھ پیدا ہوا اور اس کے آخری سانس تک اس کے ساتھ رہتا ہے۔
اللہ— وہ ذات جسے لفظوں میں باندھنا ممکن نہیں۔
جس کا کوئی شریک نہیں، جس کی کوئی مثال نہیں، جس کا آغاز بھی نہیں، جس کا انجام بھی نہیں۔
وہی خالق ہے، وہی ربّ العالمین، وہی وہ نور ہے جس سے کائنات کا ہر ذرّہ روشن ہے۔
سورۃ الاخلاص کی چار آیات اس معرفت کو یوں بیان کرتی ہیں جیسے آسمان اپنی وسعت کو ایک بند مٹھی میں سمیٹ لے:
"اللّٰهُ أَحَدٌ… لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ
"
یہ آیات نہیں، ایک دریچہ ہیں جس سے انسان کو اپنی مخلوقی حقیقت کا احساس ہوتا ہے۔
کائنات کو دیکھیں تو اُس کی تحریر کا ہر صفحہ کسی عظیم مصنف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
صبح کے آسمان میں پھٹتی ہوئی روشنی، شام کے افق پر بکھرتا ہوا گلابی سکوت، سمندر کی موجوں میں چھپا ہوا غیر مرئی ضبط، پہاڑوں کے چہروں پر کندہ ابدیت… یہ سارے منظر اپنے اندر ایک ہی آواز رکھتے ہیں:
کوئی ہے۔
سائنس کہتی ہے کہ ہر نظم کے پیچھے کوئی ذہانت ہوتی ہے۔
اور کائنات تو نظموں کا ایک ایسا ہاتھ سے لکھا ہوا دیوان ہے جس کا ہر ورق حیرت سے لبریز ہے۔
زمین کی گردش اگر لمحہ بھر سست ہو جائے تو زندگی بجھ جائے، سورج کی حرارت اگر ذرّے بھر بڑھ جائے تو زمین پگھل جائے۔
یہ سب کچھ حادثات کی بھول بھلیاں نہیں، بلکہ ایک ایسی نگہبانی میں چل رہا ہے جو مسلسل اور ابدی ہے۔
انسان کو دیکھیں—
جسم کے اندر چلنے والا خاموش کارخانہ، دل کی دھڑکن کا راز، دماغ کی برقی روشنیوں کا جال، خون کے اندر سفر کرتی زندگی…
یہ سب ایک ایسی صناعی ہے جس کے سامنے دنیا کی سب سے بڑی انجینئرنگ بھی بچے کا ہنر معلوم ہوتی ہے۔
DNA 
کا کوڈ ایسے ہے جیسے ربّ نے انسان کے وجود پر اپنا دستخط کر دیا ہو۔
قرآن کہتا ہے:
"لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ"
اور انسان جب دنیا کی ہر شے کو کسی نہ کسی شے سے تشبیہ دیتا رہا، تو اسے پہلی بار احساس ہوا کہ خدا کو کسی مثال کی ضرورت نہیں۔
وہ مثالوں سے پاک ہے، مگر ہر مثال اسی سے پیدا ہوتی ہے۔
جب سائنس نے فلکیات کو کھنگالا تو اسے لگا کہ وہ خدا کو چیلنج کرے گی۔
لیکن جب اس نے کائنات کا پھیلنا دریافت کیا تو یہ آیت سامنے آئی:
"وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ"
جب اس نے بگ بینگ کی گونج سنی تو قرآن نے کہا:
"رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا"
گویا علم نے جوں جوں کائنات کی پرتیں کھولیں، وہ خود گواہی دیتا چلا گیا کہ تخلیق کے پیچھے ایک ارادہ، ایک نظم، ایک مقصد موجود ہے۔
انسان کا دل بھی عجیب ہے۔
عقل لاکھ انکار کرے، مگر دل ایک لمحے کو بھی خدا سے خالی نہیں رہ سکتا۔
تنہائی میں، رات کے سناٹے میں، جب لفظ ختم ہو جاتے ہیں اور سانسیں بھی ہولے ہولے چلتی ہیں، انسان بے ساختہ کہتا ہے:
"یا اللہ…"
اور عجب سکون اترتا ہے— ایسا سکون جس کی کوئی سائنسی توجیہ نہیں۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں ایمان دلیل سے آگے بڑھ کر تجربہ بن جاتا ہے۔
اللہ کو پہچاننے کے چار راستے ہیں:
کائنات، عقل، وحی اور دل۔
چاروں راستے الگ الگ دکھائی دیتے ہیں مگر سچائی تک پہنچ کر ایک ہی نقطے میں گم ہو جاتے ہیں—
خدا ہے۔
اور وہی سب کچھ چلا رہا ہے۔
جو بارش برساتا ہے وہی آنسو پونچھتا ہے۔
جو کہکشاؤں کو تھامے ہوئے ہے وہی بچے کے دل میں پہلی دھڑکن رکھتا ہے۔
جو پہاڑوں کو جمائے رکھتا ہے وہی انسان کی ہمت میں استقامت پیدا کرتا ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی علم ہے، وہی طاقت ہے، وہی رحمت ہے۔
دنیا کی سائنسی ترقی انسان کو آسمانوں تک لے گئی، مگر خدا کے دروازے تک جانے کا راستہ پھر بھی دل کے اندر سے گزرتا ہے۔
خدا کی تلاش باہر کم اور اندر زیادہ ہوتی ہے۔
آخر کار ہر نظریہ، ہر فلسفہ، ہر تجربہ ایک ہی صداقت پر ٹھہر جاتا ہے:
"اللّٰهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ"
وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اور یہی کائنات کی سب سے بڑی، سب سے گہری اور سب سے روشن حقیقت ہے۔

انسانی رویّے

  انسانی  رویّے

انسانی معاشرے میں اختلاف ایک فطری حقیقت ہے، مگر اس اختلاف کا اظہار کس انداز میں کیا جاتا ہے، یہی کسی فرد اور قوم کے فکری و اخلاقی معیار کا تعین کرتا ہے۔ تاریخ اور روزمرہ زندگی دونوں ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اختلاف کے جواب میں عموماً تین رویّے سامنے آتے ہیں: علمی دلائل، بدزبانی، اور جسمانی تشدد۔ یہ تینوں دراصل شعور کے مختلف درجوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
علمی دلائل اختلاف کا اعلیٰ اور مہذب طریقہ ہیں۔ اس میں انسان عقل، علم اور دلیل کے ذریعے اپنی بات پیش کرتا ہے اور دوسرے کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ علمی مکالمہ سننے، سوال کرنے اور جواب دینے کا نام ہے، نہ کہ جیتنے یا نیچا دکھانے کا۔ اس رویّے میں دلیل کا وزن شخصیت پر نہیں بلکہ خیال پر ہوتا ہے۔ اسی لیے علم اور دلیل معاشروں کو جوڑتے ہیں، ادارے مضبوط کرتے ہیں اور فکری ارتقاء کا راستہ کھولتے ہیں۔ جہاں اختلاف دلیل سے کیا جائے وہاں اختلاف دشمنی میں نہیں بدلتا بلکہ سیکھنے کا موقع بن جاتا ہے۔
اس کے مقابل بدزبانی اس وقت جنم لیتی ہے جب دلیل کمزور پڑ جائے یا انسان میں صبر اور اخلاق کی کمی ہو۔ گالی، طعنہ، تضحیک اور تحقیر دراصل فکری شکست کا اعلان ہوتے ہیں۔ بدزبانی کا مقصد قائل کرنا نہیں بلکہ خاموش کرانا ہوتا ہے۔ یہ زبان کو ہتھیار بنا کر دوسرے کی عزتِ نفس کو نشانہ بناتی ہے۔ بدزبانی وقتی طور پر غصے کی تسکین تو دے سکتی ہے، مگر نہ حقیقت بدلتی ہے اور نہ دلائل۔ اس کے نتیجے میں مکالمہ ختم اور نفرت کا آغاز ہو جاتا ہے۔
تیسرا اور سب سے خطرناک رویّہ جسمانی تشدد ہے۔ جب زبان بھی ناکام ہو جائے اور دلیل کا دروازہ بند کر دیا جائے تو ہاتھ اٹھتے ہیں، لاٹھیاں چلتی ہیں اور خون بہتا ہے۔ جسمانی تشدد دراصل فکر کی موت اور اخلاق کی شکست ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ معاشرہ اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ تشدد کے ذریعے وقتی طور پر خوف تو پیدا کیا جا سکتا ہے، مگر نہ سوچ بدلی جا سکتی ہے اور نہ سچ دبایا جا سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ تشدد نے ہمیشہ ردِعمل، نفرت اور مزید بگاڑ کو جنم دیا ہے۔
ان تینوں رویّوں کا تقابلی جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ علمی دلائل شعور کی بلندی، بدزبانی ذہنی کمزوری اور جسمانی تشدد اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہیں۔ جہاں علم بولتا ہے وہاں ہاتھ خاموش رہتے ہیں، اور جہاں ہاتھ بولنے لگیں وہاں عقل دفن ہو جاتی ہے۔
ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں اختلاف نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہے کہ وہاں اختلاف کو کس سطح پر نمٹایا جاتا ہے۔ اگر معاشرہ علمی دلائل کو فروغ دے تو اختلاف اصلاح بن جاتا ہے۔ اگر بدزبانی عام ہو جائے تو سماج زبانی تشدد کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور اگر جسمانی تشدد کو جواز مل جائے تو انسان اور انسانیت دونوں خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔
آخرکار، اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کس سے اختلاف کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ **ہم اختلاف کیسے کرتے ہیں**۔ دلیل انسان کو انسان رکھتی ہے، زبان کی بدتہذیبی اسے چھوٹا کر دیتی ہے، اور تشدد اسے حیوانیت کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ انتخاب ہر دور میں انسان کے ہاتھ میں رہا ہے—قلم، زبان یا لاٹھی؛ یہی انتخاب اس کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔

سوال کی اہمیت




سوال کی اہمیت
علم کا آغاز حیرت  سے ہوتا ہے ۔ حیرت سوال  پیدا کرتی ہے اور سوال جواب تلاش کرتا ہے۔ 
سوال اس کنجی کی مانند ہے جس کے بغیر علم کا قفل نہیں کھلتا۔ جیسے سمندر سے موتی نکالنے کے لیے غوطہ ضروری ہے، ویسے ہی علم تک پہنچنے کے لیے سوال کی جرات لازم ہے۔ جہاں سوال نہیں ہوتا، وہاں ذہن ٹھہر جاتا ہے اور شعور ساکت ہو جاتا ہے۔
یہ تصور کہ سوال ایمان کے خلاف ہے، خود دین کی روح کے منافی ہے۔ قرآن بار بار غور و فکر، تدبر اور مشاہدے کی دعوت دیتا ہے—یہ سب سوال ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ انبیاءؑ کے سوال کمزوری نہیں تھے بلکہ علم اور یقین کی جستجو تھے۔ صحابہؓ نے بھی سوال کیے، اور رسولِ اکرم ﷺ نے سوال  کی کبھی حوصلہ شکنی نہیں کی ۔ 
بلکہ ایک شخص نے آ کر سوال کیا کہ کائنات کی تخلیق سے پہلے خدا کہاں تھا یا پوچھا خدا کیا کر رہا تھا ۔ آپ ﷺ نے اس سوال کا اطمینان بخش جواب دیا تھا۔ 
فلسفہ ہو یا سائنس، ہر بڑی پیش رفت کسی سوال سے شروع ہوئی۔ سقراط نے سوال اٹھا کر سوچ کو بیدار کیا، ارسطو نے سوال کر کے علم کو منظم کیا، اور مسلم مفکرین نے سوال کے ذریعے اندھیروں میں چراغ جلائے۔ ابن الہیثم کا سوال بصریات بنا، الخوارزمی کا سوال الجبرا، اور ابنِ سینا کا سوال فلسفہ و طب کی بنیاد۔
جدید سائنس بھی اسی روایت کی توسیع ہے۔ نیوٹن، گیلیلیو اور آئن اسٹائن—سب کے ہاں ایک سوال تھا جس نے کائنات کی نئی تعبیر پیش کی۔ انسان کی ہر علمی جستجو دراصل ایک سوال کی توسیع ہے۔
جس معاشرے میں سوال دبایا جائے، وہاں علم مر جاتا ہے۔ اچھا استاد وہ نہیں جو صرف جواب دے، بلکہ وہ ہے جو سوال پیدا کرے۔ سوال شعور کو حرکت دیتا ہے، اور شعور ہی علم کو زندہ رکھتا ہے
مختصر یہ کہ سوال زندہ ہے تو علم زندہ ہے؛ اور علم زندہ ہے۔
اللہ تعالی نے نبی اخرالزمان  ﷺ  پر وحی کا آغاز لفظ "اقراء" سے فرمایا تھا ۔