پیر، 29 دسمبر، 2025

سوال کی اہمیت




سوال کی اہمیت
علم کا آغاز حیرت  سے ہوتا ہے ۔ حیرت سوال  پیدا کرتی ہے اور سوال جواب تلاش کرتا ہے۔ 
سوال اس کنجی کی مانند ہے جس کے بغیر علم کا قفل نہیں کھلتا۔ جیسے سمندر سے موتی نکالنے کے لیے غوطہ ضروری ہے، ویسے ہی علم تک پہنچنے کے لیے سوال کی جرات لازم ہے۔ جہاں سوال نہیں ہوتا، وہاں ذہن ٹھہر جاتا ہے اور شعور ساکت ہو جاتا ہے۔
یہ تصور کہ سوال ایمان کے خلاف ہے، خود دین کی روح کے منافی ہے۔ قرآن بار بار غور و فکر، تدبر اور مشاہدے کی دعوت دیتا ہے—یہ سب سوال ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ انبیاءؑ کے سوال کمزوری نہیں تھے بلکہ علم اور یقین کی جستجو تھے۔ صحابہؓ نے بھی سوال کیے، اور رسولِ اکرم ﷺ نے سوال  کی کبھی حوصلہ شکنی نہیں کی ۔ 
بلکہ ایک شخص نے آ کر سوال کیا کہ کائنات کی تخلیق سے پہلے خدا کہاں تھا یا پوچھا خدا کیا کر رہا تھا ۔ آپ ﷺ نے اس سوال کا اطمینان بخش جواب دیا تھا۔ 
فلسفہ ہو یا سائنس، ہر بڑی پیش رفت کسی سوال سے شروع ہوئی۔ سقراط نے سوال اٹھا کر سوچ کو بیدار کیا، ارسطو نے سوال کر کے علم کو منظم کیا، اور مسلم مفکرین نے سوال کے ذریعے اندھیروں میں چراغ جلائے۔ ابن الہیثم کا سوال بصریات بنا، الخوارزمی کا سوال الجبرا، اور ابنِ سینا کا سوال فلسفہ و طب کی بنیاد۔
جدید سائنس بھی اسی روایت کی توسیع ہے۔ نیوٹن، گیلیلیو اور آئن اسٹائن—سب کے ہاں ایک سوال تھا جس نے کائنات کی نئی تعبیر پیش کی۔ انسان کی ہر علمی جستجو دراصل ایک سوال کی توسیع ہے۔
جس معاشرے میں سوال دبایا جائے، وہاں علم مر جاتا ہے۔ اچھا استاد وہ نہیں جو صرف جواب دے، بلکہ وہ ہے جو سوال پیدا کرے۔ سوال شعور کو حرکت دیتا ہے، اور شعور ہی علم کو زندہ رکھتا ہے
مختصر یہ کہ سوال زندہ ہے تو علم زندہ ہے؛ اور علم زندہ ہے۔
اللہ تعالی نے نبی اخرالزمان  ﷺ  پر وحی کا آغاز لفظ "اقراء" سے فرمایا تھا ۔ 

کوئی تبصرے نہیں: