پیر، 29 دسمبر، 2025

کائنات کی حقیقت — خدا


 کائنات کی حقیقت — خدا
کائنات کے اس بے کنار تناظر میں، جہاں ستارے خاموش ہیں مگر روشنی بولتی ہے، جہاں رات پھیلی ہوتی ہے مگر اس کے سینے میں کہکشائیں دھڑکتی ہیں— وہیں ایک سوال صدیوں سے انسان کے دل پر دستک دیتا ہے: یہ سب کس کے اشارے پر چل رہا ہے؟
یہ سوال نہ قدیم ہے، نہ جدید؛ یہ انسان کی پیدائش کے ساتھ پیدا ہوا اور اس کے آخری سانس تک اس کے ساتھ رہتا ہے۔
اللہ— وہ ذات جسے لفظوں میں باندھنا ممکن نہیں۔
جس کا کوئی شریک نہیں، جس کی کوئی مثال نہیں، جس کا آغاز بھی نہیں، جس کا انجام بھی نہیں۔
وہی خالق ہے، وہی ربّ العالمین، وہی وہ نور ہے جس سے کائنات کا ہر ذرّہ روشن ہے۔
سورۃ الاخلاص کی چار آیات اس معرفت کو یوں بیان کرتی ہیں جیسے آسمان اپنی وسعت کو ایک بند مٹھی میں سمیٹ لے:
"اللّٰهُ أَحَدٌ… لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ
"
یہ آیات نہیں، ایک دریچہ ہیں جس سے انسان کو اپنی مخلوقی حقیقت کا احساس ہوتا ہے۔
کائنات کو دیکھیں تو اُس کی تحریر کا ہر صفحہ کسی عظیم مصنف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
صبح کے آسمان میں پھٹتی ہوئی روشنی، شام کے افق پر بکھرتا ہوا گلابی سکوت، سمندر کی موجوں میں چھپا ہوا غیر مرئی ضبط، پہاڑوں کے چہروں پر کندہ ابدیت… یہ سارے منظر اپنے اندر ایک ہی آواز رکھتے ہیں:
کوئی ہے۔
سائنس کہتی ہے کہ ہر نظم کے پیچھے کوئی ذہانت ہوتی ہے۔
اور کائنات تو نظموں کا ایک ایسا ہاتھ سے لکھا ہوا دیوان ہے جس کا ہر ورق حیرت سے لبریز ہے۔
زمین کی گردش اگر لمحہ بھر سست ہو جائے تو زندگی بجھ جائے، سورج کی حرارت اگر ذرّے بھر بڑھ جائے تو زمین پگھل جائے۔
یہ سب کچھ حادثات کی بھول بھلیاں نہیں، بلکہ ایک ایسی نگہبانی میں چل رہا ہے جو مسلسل اور ابدی ہے۔
انسان کو دیکھیں—
جسم کے اندر چلنے والا خاموش کارخانہ، دل کی دھڑکن کا راز، دماغ کی برقی روشنیوں کا جال، خون کے اندر سفر کرتی زندگی…
یہ سب ایک ایسی صناعی ہے جس کے سامنے دنیا کی سب سے بڑی انجینئرنگ بھی بچے کا ہنر معلوم ہوتی ہے۔
DNA 
کا کوڈ ایسے ہے جیسے ربّ نے انسان کے وجود پر اپنا دستخط کر دیا ہو۔
قرآن کہتا ہے:
"لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ"
اور انسان جب دنیا کی ہر شے کو کسی نہ کسی شے سے تشبیہ دیتا رہا، تو اسے پہلی بار احساس ہوا کہ خدا کو کسی مثال کی ضرورت نہیں۔
وہ مثالوں سے پاک ہے، مگر ہر مثال اسی سے پیدا ہوتی ہے۔
جب سائنس نے فلکیات کو کھنگالا تو اسے لگا کہ وہ خدا کو چیلنج کرے گی۔
لیکن جب اس نے کائنات کا پھیلنا دریافت کیا تو یہ آیت سامنے آئی:
"وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ"
جب اس نے بگ بینگ کی گونج سنی تو قرآن نے کہا:
"رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا"
گویا علم نے جوں جوں کائنات کی پرتیں کھولیں، وہ خود گواہی دیتا چلا گیا کہ تخلیق کے پیچھے ایک ارادہ، ایک نظم، ایک مقصد موجود ہے۔
انسان کا دل بھی عجیب ہے۔
عقل لاکھ انکار کرے، مگر دل ایک لمحے کو بھی خدا سے خالی نہیں رہ سکتا۔
تنہائی میں، رات کے سناٹے میں، جب لفظ ختم ہو جاتے ہیں اور سانسیں بھی ہولے ہولے چلتی ہیں، انسان بے ساختہ کہتا ہے:
"یا اللہ…"
اور عجب سکون اترتا ہے— ایسا سکون جس کی کوئی سائنسی توجیہ نہیں۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں ایمان دلیل سے آگے بڑھ کر تجربہ بن جاتا ہے۔
اللہ کو پہچاننے کے چار راستے ہیں:
کائنات، عقل، وحی اور دل۔
چاروں راستے الگ الگ دکھائی دیتے ہیں مگر سچائی تک پہنچ کر ایک ہی نقطے میں گم ہو جاتے ہیں—
خدا ہے۔
اور وہی سب کچھ چلا رہا ہے۔
جو بارش برساتا ہے وہی آنسو پونچھتا ہے۔
جو کہکشاؤں کو تھامے ہوئے ہے وہی بچے کے دل میں پہلی دھڑکن رکھتا ہے۔
جو پہاڑوں کو جمائے رکھتا ہے وہی انسان کی ہمت میں استقامت پیدا کرتا ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی علم ہے، وہی طاقت ہے، وہی رحمت ہے۔
دنیا کی سائنسی ترقی انسان کو آسمانوں تک لے گئی، مگر خدا کے دروازے تک جانے کا راستہ پھر بھی دل کے اندر سے گزرتا ہے۔
خدا کی تلاش باہر کم اور اندر زیادہ ہوتی ہے۔
آخر کار ہر نظریہ، ہر فلسفہ، ہر تجربہ ایک ہی صداقت پر ٹھہر جاتا ہے:
"اللّٰهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ"
وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اور یہی کائنات کی سب سے بڑی، سب سے گہری اور سب سے روشن حقیقت ہے۔

کوئی تبصرے نہیں: