نیا سال مبارک
بچپن، جب نئے سال پر نئی جنتری آتی تھی۔ اس کے اندر درج نجومیوں کی خوشگوار پیش گوئیاں۔ بارشیں وقت پر ہوں گی، فصلیں اچھی ہوں گی، قوم ترقی کرے گی۔ ہم شوق سے پڑھتے تھے اور دل ہی دل میں خوش ہوتے تھے۔ مگر 2025 کے اختتام تک آتے آتے علمِ نجوم ہی اس صدی کی پہلی ربع میں مردود ٹھہر گیا۔ اب نہ بانس باقی رہا، نہ اس سے خوشگوار سر والی بنسری بن سکی۔ انسان اب تقدیر نہیں، دلیل مانگتا ہے۔
یہ ربع صدی دراصل رسیدوں اور ثبوتوں کا شور شور میں گذری۔ اب کسی بات پر یقین کرنا کافی نہیں رہا، ہر دعوے کے ساتھ حوالہ، ڈیٹا اور ثبوت چاہیے۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ انسان اپنے خالق کو بھی دیکھنے پر اصرار نہیں کرتا، بلکہ خوردبین میں اس کے ڈی این اے کا ثبوت مانگتا ہے۔ ایمان، تجربہ بن گیا ہے اور یقین، ثبوت کا محتاج۔
ماضی کو بھلا کر مستقبل کی طرف نہیں بڑھا جا سکتا، مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم جیسے ماضی ہی میں زندہ ہیں۔ اس ربع صدی میں بنگلہ دیش اور برازیل جیسے ممالک غربت کی دلدل سے نکلتے دکھائی دیے۔ ہم جان بوجھ کر چین اور انڈونیشیا کا ذکر نہیں کر رہے، کہ وہ تو کام کے دھنی ہیں، مثالیں دینا آسان ہے، اپنانا مشکل۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا بابا بھی “کام، کام اور کام” کی دہائی دیتے دیتے فردوس میں جا بسا۔ نہ ہم نے اس کی زندگی میں اس کی بات سنی، نہ اس کے جانے کے بعد۔
اعداد و شمار بھی کبھی کبھی طنز بن جاتے ہیں۔ سال 2000 میں پاکستان کی آبادی تقریباً 14 کروڑ تھی۔ 31 دسمبر 2025 کو یہ تعداد 24 کروڑ کے عدد کو عبور کر چکی۔ ہمیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ ہم کسی نہ کسی “فرمان” پر تو پوری دیانت سے عمل پیرا رہے ہیں۔
عالمی منظرنامہ دیکھیں تو اس ربع صدی میں ڈیڑھ ارب انسان غربت کی لکیر سے نکل کر ہموار زمین پر آ کھڑے ہوئے۔ پاکستان میں کیا ہوا، بتانے کی بات نہیں، محسوس کرنے کی ضرور ہے۔
اسی دوران جنریشن گیپ ایک خاموش زلزلے کی طرح بڑھتا چلا گیا۔ سوچ، زبان، ترجیحات اور اقدار — سب میں فاصلہ۔ اس کے ہمارے سماج پر کیا اثرات ہیں؟ شاید ہمارے پاس اس پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں۔ ہم فوری ردعمل کے عادی ہو چکے ہیں، گہرے سوالوں کے نہیں۔
اس ربع صدی کا سب سے بڑا واقعہ پاک بھارت عسکری ٹکراؤ تھا، جس نے چند گھنٹوں میں زمینی حقائق بدل کر رکھ دیے۔زمینی حقائق بدلنے کے مواقع ہمیں پہلے بھی ملتے رہے ہیں۔ ہم نے کتنا فائدہ اٹھایا، یہ سب کے سامنے ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بار کیا اس نوخیز بیج سے واقعی پودا اگے گا؟ کیا یہ سرسبز ہو کر اگلی ربع صدی تک امن، ترقی اور “جیو اور جینے دو” کا پھل دے سکے گا؟
انتظار بہت ہے، مگر ناامیدی نہیں۔ اس لیے نہیں کہ حالات روشن ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہمیں ناامیدی سے منع کیا گیا ہے۔ شاید یہی واحد سرمایہ ہے جو اب بھی ہمارے پاس سلامت ہے۔
نیا سال مبارک — اس امید کے ساتھ کہ ہم اس بار محض کیلنڈر نہیں بدلیں گے، رویے بھی بدلیں گے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں