بھارت میں حال ہی میں ہونے والے ایک مناظرے میں، جسے لاکھوں لوگوں نے دیکھا، جاوید اختر صاحب نے حضرت عیسیٰؑ کی تاریخِ پیدائش کے دن پر سوال اٹھایا۔ ۔ یہی وہ پس منظر ہے جس کے تحت یہ کالم لکھا جا رہا ہے، تاکہ جذبات کے بجائے تاریخ کی روشنی میں معاملے کو سمجھا جا سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ رومی سلطنت کے کسی سرکاری ریکارڈ میں حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کا براہِ راست اندراج موجود نہیں، مگر پہلی صدی میں عام افراد کی ولادت کا باقاعدہ اندراج رائج ہی نہیں تھا۔ تاریخ اس طرح کے واقعات کو سیاسی حالات اور بعد کے معتبر متون کے ذریعے سمجھتی ہے، نہ کہ پیدائشی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر۔
انجیل متی اور لوقا دونوں حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کو بیت لحم سے جوڑتی ہیں۔ جس کو سب تسلیم کرتے ہیں
تاریخی لحاظ سے سب سے مضبوط حوالہ ہیرودیسِ اعظم ہے، جس کی وفات 4 قبل مسیح میں ثابت ہے۔ چونکہ حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کو اسی کے دور سے جوڑا جاتا ہے، اس لیے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی پیدائش سن عیسوی کے آغاز سے پہلے ہوئی۔ اس سے اگر تاریخ پیدائش 25 دسمبر ثابت نہیں ہوتی تو کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے جو اس متفق مذہبی روائت کی تردید کرے۔
لوقا میں مذکور مردم شماری پر اختلاف ضرور ہے، مگر اسے بنیاد بنا کرتریخ پیدائش کو متنازعہ بنانا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
لہٰذا معاصر مناظرے میں اٹھایا جانے والا سوال علمی تحقیق کے سامنے ٹھہرتا نہیں۔ تاریخ کسی واقعے کو اس بنیاد پر رد نہیں کرتی کہ اس کی تاریخ کا دن معلوم نہیں، بلکہ شواہد کے مجموعی وزن سے فیصلہ کرتی ہے—اور مسیحی روایات میں 25 دسمبر تسلیم شدہ روائت ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں