کارل مارکس — اہلِ فکر کی نظر میں
1. علامہ محمد اقبال
"مارکس کا دردِ انسانیت سچا ہے، مگر اس کی دنیا میں روحانی ارتقاء کا چراغ بجھا ہوا ہے۔ وہ معاشی عدل تو چاہتا ہے، مگر انسان کی باطنی پرواز کو سمجھ نہیں سکا۔ اس کا اشتراکیت مادہ پرستی کی اسیر ایک نامکمل دنیا پیش کرتی ہے۔"
2. ڈاکٹر مبشر حسن
"مارکس نے سرمایہ دارانہ استحصال کا جو نقشہ کھینچا، پاکستان جیسے معاشروں میں وہ آج بھی جوں کا توں نظر آتا ہے۔ ہمارے ہاں طاقت کے تمام مراکز اسی معاشی جبر سے جنم لیتے ہیں۔"
3. ڈاکٹر پرویز ہود بھائی
"مارکس کے معاشی تجزیے کی سائنسی گہرائی حیران کن ہے۔ تاہم انسانی آزادی، جمہوریت اور علمی تنوع کے بغیر مارکسی معاشرہ بھی جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں اس کے نظریات اکثر جذباتی نعروں تک محدود رہے۔"
4. ڈاکٹر محمد حنیف رامے
"مارکس کی فکر نے محکوم طبقات کو زبان دی۔ مگر پاکستان جیسے ملک میں اس کی تعبیر کو صرف سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، فلسفیانہ بنیادوں پر نہیں۔"
5. احمد بشیر
"مارکس نے انسان کے دکھ کو معاشی زاویے سے دیکھا، جو اپنی جگہ درست تھا، مگر ہمارے معاشرے میں دکھ کی تہیں کہیں زیادہ پیچیدہ اور تہذیبی ہیں۔ یہاں صرف معاشی انقلاب کافی نہیں ہوتا۔"
6. فیض احمد فیض
"مارکس نے ظلم کی وہ شکلیں دکھائیں جو عام آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ اس نے مزدور اور کسان کو تاریخ کا اصل ہیرو بنایا۔ ہمارے ادب میں جو انقلابی روشنی ہے، اس کی جڑیں مارکس کی فکر تک جاتی ہیں۔"
7. حبیب جالب
"مارکس نے ہمیں بتایا کہ ظلم کے سامنے خاموشی بھی جرم ہے۔ اس کے نظریات نے ہمیں طاقت کے ایوانوں سے سوال کرنے کا حوصلہ دیا۔"
8. ڈاکٹر خالد جاوید
"مارکس نے سماجی ڈھانچے کی جو تشریح کی، وہ برِصغیر کے جاگیردارانہ نظام پر بھی پوری اترتی ہے۔ ہمارے یہاں طبقاتی تقسیم اور طاقت کا کھیل اسی کے بیان کردہ اصولوں پر چلتا ہے۔"
9. ڈاکٹر اعجاز احمد
"مارکس کو صرف معاشیات تک محدود کرنا غلط ہے؛ وہ تاریخ، ادب، ثقافت اور سیاست سب کے اندر چھپے رشتوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں اس کی تعبیرات کئی شکلیں اختیار کرتی ہیں۔"
10. عابد حسن منٹو
"مارکس نے قانون اور انصاف کے پیچھے کارفرما طبقاتی قوتوں کو آشکار کیا۔ پاکستان کے عدالتی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے اس کی فکر آج بھی ناگزیر ہے۔"
11. ڈاکٹر لئیق احمد
"مارکس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے فکر کو عمل سے جوڑا۔ نظریہ اگر انسان کے دکھ میں کارآمد نہ ہو تو بے معنی ہے۔"
12. امجد اسلام امجد
"مارکس کا تصورِ عدل خوبصورت ہے، مگر انسان صرف روٹی سے نہیں بنتا—وہ محبت، خوف، خواب اور روحانیت سے بھی جڑا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جسے ادب نے ہمیشہ مارکسزم سے زیادہ بہتر سمجھا۔"
13. ڈاکٹر مقصود علی
"پاکستانی سماج میں سرمایہ داری اور جاگیرداری ایک ساتھ چلتی ہیں؛ مارکس کے اصولوں کا ان کے باہمی ملاپ پر اطلاق بہت اہم ہے۔ اس نے جو تضادات دکھائے وہ آج بھی موجود ہیں۔"
14. ڈاکٹر راشد شاز
"مارکس کے سوال درست تھے، مگر اس کے جواب ادھورے۔ انسان کو بدلنے کے لیے صرف ڈھانچے نہیں، اخلاقی بنیادیں بھی درکار ہوتی ہیں۔"
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں