انسانی معاشرے میں اختلاف ایک فطری حقیقت ہے، مگر اس اختلاف کا اظہار کس انداز میں کیا جاتا ہے، یہی کسی فرد اور قوم کے فکری و اخلاقی معیار کا تعین کرتا ہے۔ تاریخ اور روزمرہ زندگی دونوں ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اختلاف کے جواب میں عموماً تین رویّے سامنے آتے ہیں: علمی دلائل، بدزبانی، اور جسمانی تشدد۔ یہ تینوں دراصل شعور کے مختلف درجوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
علمی دلائل اختلاف کا اعلیٰ اور مہذب طریقہ ہیں۔ اس میں انسان عقل، علم اور دلیل کے ذریعے اپنی بات پیش کرتا ہے اور دوسرے کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ علمی مکالمہ سننے، سوال کرنے اور جواب دینے کا نام ہے، نہ کہ جیتنے یا نیچا دکھانے کا۔ اس رویّے میں دلیل کا وزن شخصیت پر نہیں بلکہ خیال پر ہوتا ہے۔ اسی لیے علم اور دلیل معاشروں کو جوڑتے ہیں، ادارے مضبوط کرتے ہیں اور فکری ارتقاء کا راستہ کھولتے ہیں۔ جہاں اختلاف دلیل سے کیا جائے وہاں اختلاف دشمنی میں نہیں بدلتا بلکہ سیکھنے کا موقع بن جاتا ہے۔
اس کے مقابل بدزبانی اس وقت جنم لیتی ہے جب دلیل کمزور پڑ جائے یا انسان میں صبر اور اخلاق کی کمی ہو۔ گالی، طعنہ، تضحیک اور تحقیر دراصل فکری شکست کا اعلان ہوتے ہیں۔ بدزبانی کا مقصد قائل کرنا نہیں بلکہ خاموش کرانا ہوتا ہے۔ یہ زبان کو ہتھیار بنا کر دوسرے کی عزتِ نفس کو نشانہ بناتی ہے۔ بدزبانی وقتی طور پر غصے کی تسکین تو دے سکتی ہے، مگر نہ حقیقت بدلتی ہے اور نہ دلائل۔ اس کے نتیجے میں مکالمہ ختم اور نفرت کا آغاز ہو جاتا ہے۔
تیسرا اور سب سے خطرناک رویّہ جسمانی تشدد ہے۔ جب زبان بھی ناکام ہو جائے اور دلیل کا دروازہ بند کر دیا جائے تو ہاتھ اٹھتے ہیں، لاٹھیاں چلتی ہیں اور خون بہتا ہے۔ جسمانی تشدد دراصل فکر کی موت اور اخلاق کی شکست ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ معاشرہ اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ تشدد کے ذریعے وقتی طور پر خوف تو پیدا کیا جا سکتا ہے، مگر نہ سوچ بدلی جا سکتی ہے اور نہ سچ دبایا جا سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ تشدد نے ہمیشہ ردِعمل، نفرت اور مزید بگاڑ کو جنم دیا ہے۔
ان تینوں رویّوں کا تقابلی جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ علمی دلائل شعور کی بلندی، بدزبانی ذہنی کمزوری اور جسمانی تشدد اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہیں۔ جہاں علم بولتا ہے وہاں ہاتھ خاموش رہتے ہیں، اور جہاں ہاتھ بولنے لگیں وہاں عقل دفن ہو جاتی ہے۔
ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں اختلاف نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہے کہ وہاں اختلاف کو کس سطح پر نمٹایا جاتا ہے۔ اگر معاشرہ علمی دلائل کو فروغ دے تو اختلاف اصلاح بن جاتا ہے۔ اگر بدزبانی عام ہو جائے تو سماج زبانی تشدد کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور اگر جسمانی تشدد کو جواز مل جائے تو انسان اور انسانیت دونوں خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔
آخرکار، اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کس سے اختلاف کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ **ہم اختلاف کیسے کرتے ہیں**۔ دلیل انسان کو انسان رکھتی ہے، زبان کی بدتہذیبی اسے چھوٹا کر دیتی ہے، اور تشدد اسے حیوانیت کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ انتخاب ہر دور میں انسان کے ہاتھ میں رہا ہے—قلم، زبان یا لاٹھی؛ یہی انتخاب اس کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں