ہفتہ، 27 دسمبر، 2025

انسان اور جانور کے مابین مکالمہ




 بہت سی باتیں جو ماضی میں محض روایات، غیبی خبریں یا ناقابلِ فہم تصورات سمجھی جاتی تھیں، آج سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کی بدولت حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ اس تناظر میں اسلامی تعلیمات اور بالخصوص احادیثِ نبوی ﷺ پر غور کیا جائے تو ان کی صداقت وقت گزرنے کے ساتھ مزید واضح ہوتی چلی جا رہی ہے۔
اسلامی عقیدے کے مطابق ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہیں جو اس کے ہر قول اور ہر عمل کو لکھ رہے ہیں۔ ا آج سے  سو سال پہلے تک یہ بات محض ایک ایمانی عقیدہ سمجھی جاتی تھی۔کیونکہ یہ بات حواسِ خمسہ کی گرفت میں نہیں آتی تھی۔ مگر  یہ تصور اب اجنبی نہیں رہا۔
آج انسان کے ہر عمل، ہر حرکت اور حتیٰ کہ ہر آواز کو محفوظ کرنے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔ موبائل فون، سی سی ٹی وی کیمرے، ڈیجیٹل ریکارڈرز، سمارٹ واچز اور انٹرنیٹ سے جڑے آلات مسلسل انسان کی نگرانی کر رہے ہیں۔
یہی بات انسانی آوازوں اور اعمال کے بارے میں بھی صادق آتی ہے۔ ماضی میں یہ تصور کہ کسی انسان کی آواز کو محفوظ کر کے بعد میں بالکل اسی طرح سنا جا سکے، ایک عجیب و غریب خیال تھا۔ آج صوتی ریکارڈنگ، وائس اسسٹنٹس، اور مصنوعی ذہانت  نہ صرف آواز محفوظ کرتی ہے بلکہ اسے پہچانتی، تجزیہ کرتی اور حتیٰ کہ نقل بھی کر لیتی ہے۔
اسی طرح زبانوں کے فرق کا مسئلہ ماضی میں انسان کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تھا۔  سفارتی ملاقاتیں، تجارتی معاہدے اور علمی تبادلے مترجمین کے بغیر ناممکن سمجھے جاتے تھے۔ مگر آج گوگل ٹرانسلیٹ اور دیگر خودکار ترجماتی نظام بغیر کسی انسانی ترجمان کے مختلف زبانوں کو لمحوں میں سمجھنے اور منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو کبھی صرف انسان کے بس میں سمجھا جاتا تھا۔
یہ تمام مثالیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسان کا علم اور اس کی ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ ان امور تک پہنچ رہی ہے جن کا ذکر صدیوں پہلے احادیثِ نبوی ﷺ میں موجود تھا۔ انہی احادیث میں سے ایک نہایت اہم حدیث وہ ہے جو مسند احمد، سنن ترمذی اور دیگر کتبِ حدیث میں منقول ہے، جس میں نبی اکرم ﷺ نے قیامت کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک انسان سے جانور (درندے) بات نہ کریں، کوڑا اس سے بات نہ کرے، اور اس کی ران و جوتا اسے اس کے گھر والوں کی خبر نہ دیں۔
کبھی یہ محض ایک غیبی خبر تھی۔ مگر آج کے دور میں جب ہم جدید ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہیں تو اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
آج جانوروں کے اشاروں، آوازوں اور دماغی لہروں کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جانوروں کی آوازوں کو ڈی کوڈ کرنے پر تحقیق جاری ہے۔ بعض تجربات میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مخصوص آلات کے ذریعے جانوروں کے جذبات اور ضروریات کو انسانی زبان میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر اس سمت میں پیش رفت حدیث کے مفہوم کو مزید واضح کرتی ہے۔
اسی طرح انسان کا جوتا یا ران کا خبریں دینا آج کے دور میں موبائل فون، جی پی ایس اور سینسرز کے ذریعے ممکن ہو چکا ہے۔ 
ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ احادیثِ نبوی ﷺ محض مذہبی بیانات نہیں بلکہ ایسی آفاقی صداقتیں ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ منکشف ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ جو باتیں کبھی ایمان بالغیب کا حصہ تھیں، آج وہ انسانی علم کے دائرے میں داخل ہو رہی ہیں۔ 
 یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سائنس اور دین ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف زاویے ہیں۔ جہاں سائنس انسان کو “کیسے” کا جواب دیتی ہے، وہیں دین اسے “کیوں” سے روشناس کراتا ہے۔ اور جب یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں، تو انسان نہ صرف کائنات کو سمجھتا ہے بلکہ اپنے آپ کو بھی پہچاننے لگتا ہے۔

علم کا مستقبل



علم انسانی تہذیب کا بنیادی ستون ہے۔ انسانی ترقی، ایجاد، معاشرتی تنظیم اور فکری ارتقا کا ہر مرحلہ علم کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ علم محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ شعوری اور عقلی قوت ہے جو انسان کو سوال کرنے، دریافت کرنے اور حقیقت تک رسائی پانے کی صلاحیت دیتی ہے۔

علم کی تعریف

علم سے مراد حقیقت یا مظہر کا درست اور قابل اعتماد ادراک ہے، جو حواس، تجربہ، عقل و منطق، اور سماجی تعامل سے حاصل ہوتا ہے۔ فلسفیانہ نقطہ نظر سے، علم یقین ہے جو حقیقت کے مطابق ہو اور جس کی عقلی یا تجربی توجیہ موجود ہو۔

علم کی اقسام

  1. حاصل کردہ علم: مشاہدہ، تجربہ اور استدلال سے پیدا ہوتا ہے۔ سائنسی قوانین اور نظریات اس کی مثال ہیں۔ یہ علم ارتقائی، قابلِ تصحیح اور تجربے سے ثابت شدہ ہے۔

  2. عطا شدہ علم: ذہن کی بصیرت، وجدان اور تخلیقی جست سے جنم لیتا ہے۔ مثالیں: نیوٹن کا کششِ ثقل کا تصور، آئن اسٹائن کے تصوراتی تجربات۔ یہ علم تخلیق اور تخیل کی بنیاد ہے۔

علم اور انسانی آزادی

علم انسان کو فکری، سائنسی، سماجی اور معاشی آزادی دیتا ہے۔ یہ اخلاقی شعور، انصاف، مساوات اور قانون سازی کے لیے لازمی ہے۔ تخلیقی قوتیں اور سماجی ترقی علم کے بغیر ممکن نہیں۔

علم کی حدود اور مستقبل

انسانی حواس، ذہن اور زبان کے محدود دائرے علم کی حدود طے کرتے ہیں، مگر مستقبل میں مصنوعی ذہانت، دماغ کی سائنسی تفہیم اور معلومات کے بڑھتے ہوئے وسائل انسانی علم کی نئی جہتیں قائم کریں گے۔

حاصل کلام

علم انسان کی بنیادی طاقت ہے۔ حاصل کردہ علم تجربے اور مشاہدے کی بنیاد ہے، جبکہ عطائی علم ذہنی بصیرت  کا آئینہ ہے۔ ان دونوں کا امتزاج ہی انسانی تہذیب، سائنسی ترقی اور مستقبل کی بنیاد ہے۔ علم کے بغیر آزادی، تحقیق  اور ترقی ممکن نہیں، اور جدید دور میں یہ انسانی شعور اور سماجی استحکام کے نئے معیار قائم کرے گا۔


بدھ، 24 دسمبر، 2025



بھارت میں حال ہی میں ہونے والے ایک مناظرے میں، جسے لاکھوں لوگوں نے دیکھا، جاوید اختر صاحب نے حضرت عیسیٰؑ کی تاریخِ پیدائش کے دن پر سوال اٹھایا۔ ۔ یہی وہ پس منظر ہے جس کے تحت یہ کالم لکھا جا رہا ہے، تاکہ جذبات کے بجائے تاریخ کی روشنی میں معاملے کو سمجھا جا سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ رومی سلطنت کے کسی سرکاری ریکارڈ میں حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کا براہِ راست اندراج موجود نہیں، مگر پہلی صدی میں عام افراد کی ولادت کا باقاعدہ اندراج رائج ہی نہیں تھا۔ تاریخ اس طرح کے واقعات کو سیاسی حالات اور بعد کے معتبر متون کے ذریعے سمجھتی ہے، نہ کہ پیدائشی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر۔
انجیل متی اور لوقا دونوں حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کو بیت لحم سے جوڑتی ہیں۔ جس کو سب تسلیم کرتے ہیں
تاریخی لحاظ سے سب سے مضبوط حوالہ ہیرودیسِ اعظم ہے، جس کی وفات 4 قبل مسیح میں ثابت ہے۔ چونکہ حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کو اسی کے دور سے جوڑا جاتا ہے، اس لیے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی پیدائش سن عیسوی کے آغاز سے پہلے ہوئی۔ اس سے اگر تاریخ پیدائش 25 دسمبر ثابت نہیں ہوتی تو کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے جو اس متفق مذہبی روائت  کی تردید کرے۔
لوقا میں مذکور مردم شماری پر اختلاف ضرور ہے، مگر اسے بنیاد بنا کرتریخ پیدائش کو متنازعہ بنانا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
لہٰذا معاصر مناظرے میں اٹھایا جانے والا سوال علمی تحقیق کے سامنے ٹھہرتا نہیں۔ تاریخ کسی واقعے کو اس بنیاد پر رد نہیں کرتی کہ اس کی تاریخ کا دن معلوم نہیں، بلکہ شواہد کے مجموعی وزن سے فیصلہ کرتی ہے—اور مسیحی روایات میں 25 دسمبر تسلیم شدہ روائت ہے

ہفتہ، 20 دسمبر، 2025

"را" کی حقیقت





را" کی حقیقت"

سڈنی کا بونڈی بیچ، جہاں سمندر کی لہریں ہمیشہ آزادی اور خوشی کا پیغام دیتی ہیں، اچانک گولیوں کی آواز سے لرز اٹھا۔ حملہ ہوا، لاشیں گریں، اور آسٹریلیا جیسے محفوظ ملک میں یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں آیا: کیا یہ محض ایک جنونی فرد کی کارروائی تھی، یا اس کے پیچھے کوئی منظم، سرحد پار نیٹ ورک سرگرم تھا؟

آسٹریلین فیڈرل پولیس کی کمشنر کریسی بیریٹ نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کھلے عام کہا کہ بونڈی واقعہ ایک وسیع نیٹ ورک کا حصہ ہے، جس میں چار بھارتی شہری ملوث پائے گئے ہیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب سوال اٹھا کہ یہ واقعہ صرف سڈنی تک محدود ہے یا یہ اسی خاموش جنگ کی کڑی ہے جو دنیا کے مختلف حصوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کے نیٹ ورک سے جوڑی جا رہی ہے۔

قبل ازیں کینیڈا میں سکھ رہنما ہارڈیپ سنگھ نِجّار کے قتل کے بعد کینیڈین وزیر اعظم نے واضح کیا کہ اس قتل کے تانے بانے بھارت کی سرکاری ایجنسی تک جا سکتے ہیں۔ امریکہ میں بھی ایک بھارتی شہری پر الزام لگا کہ وہ ایک سکھ رہنما کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، مبینہ طور پر "را" کے سابق اہلکار کی ہدایات پر۔

پاکستان کے اندر بھی صورتحال کم خطرناک نہیں۔ جعفر ایکسپریس کا سانحہ، بلوچستان میں بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں، اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے ساتھ مل کر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ—ہر جگہ ایک ہی سایہ دکھائی دیتا ہے: بھارت کی ریاستی سرپرستی میں چلنے والے نیٹ ورک کی سرحد پار کارروائیاں۔

بلوچستان میں مسافر ٹرینوں کو نشانہ بنانا، تعلیمی اداروں اور ترقیاتی منصوبوں پر حملے، اور عام شہریوں کا قتل—یہ سب وہ حربے ہیں جو کسی مقامی تحریک کے بس میں نہیں بلکہ سرکاری فنڈنگ، تربیت اور سرحد پار سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔ افغانستان میں بھارتی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کا کردار برسوں سے سوالیہ نشان رہا ہے۔ یہی ماڈل بھارت نے بار بار استعمال کیا: پراکسیز بناؤ، پیسہ فراہم کرو، اور بعد میں انکار کر دو۔

بھارت کا وطیرہ یہ رہا ہے کہ ریاستی سرپرستی میں جرم کروایا جائے اور الزام کسی ہمسائے کے سر ڈال دیا جائے۔ کبھی پاکستان، کبھی چین، کبھی کسی داخلی گروہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسی حکمت عملی کو مغربی دنیا میں بھی آزمایا گیا، مگر وہاں پہلی بار یہ کھیل الٹ پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

ایک اور خطرناک پہلو ہے: بھارتی سوشل میڈیا وار مشینری۔ یہ صرف جذباتی اکاؤنٹس کا ہجوم نہیں بلکہ ایک منظم، سرکاری نگرانی میں چلنے والا نیٹ ورک ہے۔ جعلی بیانیہ، من گھڑت ویڈیوز اور جھوٹے الزامات—یہ سب عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں جیسے ہی کوئی دہشت گردی ہوتی ہے، چند منٹوں کے اندر بھارتی سوشل میڈیا پر مکمل بیانیہ تیار ہو جاتا ہے۔

اب صورتِ حال یہاں تک آ پہنچی ہے کہ بھارتی سرکاری سرپرستی میں چلنے والا دہشت گرد نیٹ ورک صرف ہمسائیوں یا خطے کے لیے خطرہ نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ سڈنی، اوٹاوا، واشنگٹن، ڈھاکا، کوئٹہ—ہر جگہ ایک ہی نام ابھرتا ہے: "را"۔

یہ وقت ہے کہ ریاستی دہشت گردی کو ایک عالمی جرم تسلیم کیا جائے، اور "را" جیسے نیٹ ورک کے غلاف کو چاک کیا جائے۔ اگر دنیا آج بھی آنکھیں بند رکھے تو کل یہ آگ صرف پاکستان یا جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہے گی۔

تاریخ گواہ ہے:
ریاستی دہشت گردی ہمیشہ آخرکار عالمی مسئلہ بن جاتی ہے۔




اسلام بمقابلہ جدید فکری بحران

جدید دنیا ایک عجیب فکری بحران سے گزر رہی ہے۔ معلومات کی فراوانی ہے مگر حکمت نایاب، آزادی کے نعرے ہیں مگر انسان اندر سے بے سمت، اور عقل کی بالادستی کا دعویٰ ہے مگر خود عقل اضطراب کا شکار ہے۔ انسان نے کائنات کو مسخر تو کر لیا ہے، مگر اپنے وجود کے سوال کا جواب کھو بیٹھا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جہاں اسلام محض ایک مذہب نہیں بلکہ ایک فکری متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے۔

جدید فکری بحران کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ علم کو اخلاق سے، عقل کو وحی سے، اور آزادی کو ذمہ داری سے الگ کر دیا گیا ہے۔ جدید انسان سب کچھ جاننا چاہتا ہے مگر یہ طے نہیں کر پایا کہ جاننے کے بعد جینا کیسے ہے۔ فلسفہ شک سکھاتا ہے، سائنس طاقت دیتی ہے، مگر یہ نہیں بتاتیں کہ اس طاقت کو کہاں اور کیوں استعمال کیا جائے۔ نتیجتاً انسان ذہنی طور پر ترقی یافتہ مگر اخلاقی طور پر منتشر نظر آتا ہے۔

اسلام اس بحران کا آغاز ہی سے مختلف زاویے سے جواب دیتا ہے۔ وہ عقل کو رد نہیں کرتا بلکہ اسے وحی کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔ اسلام میں عقل سوال کرتی ہے، مگر وحی سمت دیتی ہے۔ یہی توازن جدید دنیا میں مفقود ہے۔ یہاں یا تو عقل کو مطلق بنا دیا گیا ہے، یا مذہب کو عقل دشمن سمجھ کر دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ اسلام اس تقسیم کو تسلیم نہیں کرتا۔

اس فکری مکالمے کے مرکز میں رسولِ اکرم ﷺ کی ذات کھڑی ہے۔ جدید دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں علم پڑھانے والے بہت ہیں مگر نمونہ بننے والے کم۔ نظریات گھڑے جاتے ہیں مگر ان پر جینے کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا۔ اس کے برعکس رسول اللہ ﷺ کی شخصیت ایسی واحد مثال ہے جہاں تعلیم اور عمل کے درمیان کوئی خلا نہیں۔ انہوں نے جو کہا، پہلے خود کیا؛ جو سکھایا، خود جیا؛ اور جو دعوت دی، اس کی عملی تصویر بن کر دکھایا۔

افراد کی  تعلیم کچھ اور کہتی ہے، اورعمل بعض اوقات کچھ اور۔ یہی وہ نفاق ہے جو جدید انسان کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ ہم اقدار پر لیکچر دیتے ہیں مگر خود ان کے بوجھ سے بھاگتے ہیں۔ اس کے مقابل رسول اللہ ﷺ وہ واحد استاد ہیں جن کی تعلیم لفظاً، حرفاً، عملاً اور نیتاً ایک ہی حقیقت کا اظہار تھی۔ یہی چیز انہیں محض مذہبی رہنما نہیں بلکہ انسانیت کا سب سے بڑا معلم بناتی ہے۔

جدید فکری بحران کا ایک اور پہلو آزادی کا غلط تصور ہے۔ آج آزادی کو ہر حد سے بے نیاز ہو جانا سمجھا جاتا ہے، جبکہ اسلام آزادی کو شعور، اخلاق اور جواب دہی کے ساتھ جوڑتا ہے۔ قرآن انسان کو اختیار دیتا ہے—ایمان لانے یا انکار کرنے کا اختیار—مگر اس اختیار کے ساتھ ذمہ داری کا شعور بھی عطا کرتا ہے۔ یہ توازن جدید فلسفہ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اسلام اور جدید دنیا کے درمیان اصل تصادم سائنس یا عقل پر نہیں، بلکہ انسان کے تصور پر ہے۔ جدید فکر انسان کو محض ایک حیاتیاتی وجود یا معاشی اکائی بنا دیتی ہے، جبکہ اسلام اسے اخلاقی، روحانی اور باشعور ہستی قرار دیتا ہے۔ یہی فرق جدید انسان کی بے چینی کو جنم دیتا ہے۔ وہ سب کچھ ہونے کے باوجود مطمئن نہیں، کیونکہ اس نے اپنے مقصدِ وجود کو نظرانداز کر دیا ہے۔

اسلام اس فکری بحران کا جواب کسی جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ ایک زندہ نمونے کے ذریعے دیتا ہے—اور وہ نمونہ محمد ﷺ ہیں۔ ان کی سیرت یہ بتاتی ہے کہ علم کیسے جیا جاتا ہے، طاقت کیسے قابو میں رکھی جاتی ہے، اختلاف کیسے اخلاق کے دائرے  میں رہتا ہے، اور آزادی کیسے بندگی کے ساتھ ہم آہنگ 

کی جاتی  ہے۔ 

پروفیسر  احمد رفیق اختر کی کتاب سے ماخوذ