Types of Knowledge لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Types of Knowledge لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 27 دسمبر، 2025

علم کا مستقبل



علم انسانی تہذیب کا بنیادی ستون ہے۔ انسانی ترقی، ایجاد، معاشرتی تنظیم اور فکری ارتقا کا ہر مرحلہ علم کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ علم محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ شعوری اور عقلی قوت ہے جو انسان کو سوال کرنے، دریافت کرنے اور حقیقت تک رسائی پانے کی صلاحیت دیتی ہے۔

علم کی تعریف

علم سے مراد حقیقت یا مظہر کا درست اور قابل اعتماد ادراک ہے، جو حواس، تجربہ، عقل و منطق، اور سماجی تعامل سے حاصل ہوتا ہے۔ فلسفیانہ نقطہ نظر سے، علم یقین ہے جو حقیقت کے مطابق ہو اور جس کی عقلی یا تجربی توجیہ موجود ہو۔

علم کی اقسام

  1. حاصل کردہ علم: مشاہدہ، تجربہ اور استدلال سے پیدا ہوتا ہے۔ سائنسی قوانین اور نظریات اس کی مثال ہیں۔ یہ علم ارتقائی، قابلِ تصحیح اور تجربے سے ثابت شدہ ہے۔

  2. عطا شدہ علم: ذہن کی بصیرت، وجدان اور تخلیقی جست سے جنم لیتا ہے۔ مثالیں: نیوٹن کا کششِ ثقل کا تصور، آئن اسٹائن کے تصوراتی تجربات۔ یہ علم تخلیق اور تخیل کی بنیاد ہے۔

علم اور انسانی آزادی

علم انسان کو فکری، سائنسی، سماجی اور معاشی آزادی دیتا ہے۔ یہ اخلاقی شعور، انصاف، مساوات اور قانون سازی کے لیے لازمی ہے۔ تخلیقی قوتیں اور سماجی ترقی علم کے بغیر ممکن نہیں۔

علم کی حدود اور مستقبل

انسانی حواس، ذہن اور زبان کے محدود دائرے علم کی حدود طے کرتے ہیں، مگر مستقبل میں مصنوعی ذہانت، دماغ کی سائنسی تفہیم اور معلومات کے بڑھتے ہوئے وسائل انسانی علم کی نئی جہتیں قائم کریں گے۔

حاصل کلام

علم انسان کی بنیادی طاقت ہے۔ حاصل کردہ علم تجربے اور مشاہدے کی بنیاد ہے، جبکہ عطائی علم ذہنی بصیرت  کا آئینہ ہے۔ ان دونوں کا امتزاج ہی انسانی تہذیب، سائنسی ترقی اور مستقبل کی بنیاد ہے۔ علم کے بغیر آزادی، تحقیق  اور ترقی ممکن نہیں، اور جدید دور میں یہ انسانی شعور اور سماجی استحکام کے نئے معیار قائم کرے گا۔