nuclear iran لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
nuclear iran لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 15 جنوری، 2026

ایران کا جوہری پروگرام اور حالیہ منظرنامہ



ایران کا جوہری پروگرام اور حالیہ منظرنامہ
ایران کا جوہری پروگرام محض سائنسی یا تکنیکی منصوبہ نہیں، بلکہ یہ بیسویں صدی کے وسط سے جاری عالمی طاقتوں کی سیاست، مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، اور ایرانی قومی خودمختاری کے تصور سے گہرا جڑا ہوا ہے۔ اس کی جڑیں 1953 کی اس بغاوت تک جاتی ہیں جس نے ایران کے سیاسی مستقبل کا رخ متعین کیا۔
1953
میں جمہوری طور پر منتخب وزیرِ اعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ کر، امریکا اور برطانیہ کی مدد سے شاہ محمد رضا پہلوی کو دوبارہ اقتدار میں لایا گیا۔ مصدق کا “جرم” یہ تھا کہ انہوں نے اینگلو-ایرانی آئل کمپنی کو قومی تحویل میں لینے کی کوشش کی، جس سے مغربی معاشی مفادات کو شدید خطرہ لاحق ہوا۔ اسی مرحلے پر ایران میں مغربی اثر و رسوخ مضبوط ہوا اور مستقبل کے سائنسی و جوہری تعاون کی بنیاد پڑی۔
شاہ کے دور میں ایران کو ایک “جدید، مغرب نواز ریاست” کے طور پر پیش کیا گیا۔ 1957 میں امریکا کے
Atoms for Peace
پروگرام کے تحت ایران کو جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال کی اجازت دی گئی۔ 1967 میں تہران ریسرچ ری ایکٹر کی فراہمی اور انتہائی افزودہ یورینیم کی منتقلی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہی مغرب، جو آج ایران پر عدم اعتماد کا اظہار کرتا ہے، کبھی اس کے جوہری پروگرام کا سرپرست تھا۔
ایران نے 1968 میں جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے (NPT) پر دستخط اور
1970 میں اس کی توثیق کی۔ اس کے باوجود 1970 کی دہائی میں شاہ نے 20 جوہری بجلی گھروں کا منصوبہ پیش کیا اور فرانس و جرمنی سمیت مغربی ممالک کے ساتھ وسیع جوہری معاہدے کیے۔ بوشہر جوہری بجلی گھر اسی دور کی علامت تھا۔
1979 کے اسلامی انقلاب نے سب کچھ بدل دیا۔ شاہ کے خاتمے اور آیت اللہ خمینی کی قیادت میں نئی اسلامی ریاست کے قیام کے بعد مغربی کمپنیاں ایران چھوڑ گئیں، اور جوہری پروگرام وقتی طور پر تعطل کا شکار ہو گیا۔ ایران۔عراق جنگ (1980–1988) نے نہ صرف ملکی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا بلکہ یہ احساس بھی اجاگر کیا کہ قومی سلامتی کے لیے جدید ٹیکنالوجی ناگزیر ہے۔
اسی تناظر میں 1980 کی دہائی کے آخر اور 1990 کی دہائی میں ایران نے خاموشی سے اپنے جوہری پروگرام کو بحال کیا، روس اور چین کے ساتھ تعاون بڑھایا، اور بالآخر بوشہر کا منصوبہ روسی مدد سے مکمل ہوا۔ 2002 میں نطنز اور اراک کی تنصیبات کے انکشاف کے بعد ایران عالمی دباؤ کی زد میں آ گیا، اور IAEA کی سخت نگرانی شروع ہوئی۔
2006 میں افزودگی کی بحالی اور اس کے بعد اقوامِ متحدہ کی پابندیاں لگ گئیں۔ 2010 میں اسٹکس نیٹ سائبر حملہ، اور 2015 میں JCPOA معاہدہ — یہ سب اس طویل کشمکش کے مختلف مراحل تھے۔
2018 میں امریکا کی یکطرفہ علیحدگی نے اس معاہدے کو عملی طور پر کمزور کر دیا، اور ایران نے بھی مرحلہ وار اپنی پابندیاں ترک کرنا شروع کر دیں۔
آج ایران ایک پیچیدہ داخلی و خارجی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں سخت معاشی پابندیاں، مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور عوامی بے چینی ایرانی سیاست کے اہم عوامل رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں ہونے والے حالیہ صدارتی انتخابات کے بعد نسبتاً اصلاح پسند اور اعتدال پسند بیانیے کو تقویت ملی ہے، جس کا بنیادی زور معاشی بحالی، سفارتی توازن اور عالمی تنہائی میں کمی پر ہے۔
علاقائی سطح پر ایران خود کو مزاحمتی محور کا مرکزی ستون سمجھتا ہے۔ غزہ، لبنان، شام اور یمن کی حالیہ کشیدگی نے ایران کو ایک بار پھر امریکا اور اسرائیل کے مقابل کھڑا کر دیا ہے، اگرچہ تہران براہِ راست جنگ سے گریز کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایران کی سفارتی حکمتِ عملی اب ایک طرف چین اور روس کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت، اور دوسری طرف خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں تدریجی بہتری پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
جوہری محاذ پر ایران اب بھی یہی مؤقف دہراتا ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن ہے اور
NPT
کے دائرے میں اس کے قانونی حقوق تسلیم کیے جائیں۔ تاہم مغرب کے لیے اصل مسئلہ “ٹیکنالوجی کی صلاحیت” ہے، نہ کہ محض نیت۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور مستقبل غیر یقینی ہے۔
ایران کا جوہری پروگرام دراصل ایک آئینہ ہے جس میں مغربی طاقتوں کے دوہرے معیار، مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی سیاست، اور ایرانی قوم کی خودمختاری کی جدوجہد صاف نظر آتی ہے۔ جو پروگرام کبھی امریکا کی سرپرستی میں شروع ہوا، آج وہی عالمی نظام اسے خطرہ قرار دے رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایران جوہری ٹیکنالوجی رکھتا ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ عالمی نظام ، کن ریاستوں کو طاقت کا حق دیتا ہے — اور کن سے یہ حق چھین لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔