جمعہ، 9 جنوری، 2026
معجزات، ماورائے طبیعیات اور انسانی شعور
روح، موت اور بعد از حیات
روح، موت اور بعد از حیات
انسانی فکر کی تاریخ میں اگر کوئی سوال مسلسل زندہ رہا ہے تو وہ روح، موت اور بعد از حیات کا سوال ہے۔ یہ محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ انسانی شعور، اخلاق اور وجودی اضطراب سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ ہر تہذیب نے اپنے فکری، روحانی اور فلسفیانہ سانچوں میں ان سوالات کے جواب تلاش کیے۔ عرب دنیا اور برصغیر کے مفکرین نے اس موضوع کو الٰہی ہدایت، اخلاقی ذمہ داری اور روحانی تربیت کے تناظر میں سمجھا، جبکہ مغربی فلسفہ نے اسے زیادہ تر تجربی، منطقی اور وجودی زاویے سے پرکھنے کی کوشش کی۔
اسلامی کلام اور فلسفہ میں روح کو انسان کی اصل اور غیر مادی حقیقت تصور کیا جاتا ہے۔ جسم فانی ہے، مگر روح وہ جوہر ہے جو انسانی شعور، اخلاق اور ذمہ داری کی بنیاد بنتا ہے۔ امام غزالی کے نزدیک روح جسم کی قید سے آزاد ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کو نیکی، بدی، ارادہ اور اخلاقی فیصلوں کے قابل بناتی ہے۔ یہی روح ہے جو انسان کو محض حیاتیاتی وجود سے بلند کر کے اخلاقی مخلوق بناتی ہے۔ ابن عربی اس تصور کو مزید گہرائی دیتے ہیں اور روح کو الٰہی معرفت کا مرکز قرار دیتے ہیں، جہاں انسان اپنے باطن میں حقیقتِ مطلق کی جھلک پاتا ہے۔ ان کے نزدیک روح کی بیداری دراصل انسان کے اخلاقی اور روحانی ارتقا کا نقطۂ آغاز ہے۔
عرب فلسفیوں نے بھی روح کے مسئلے کو محض مذہبی عقیدے کے طور پر نہیں بلکہ عقلی اور علمی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی۔ فخر الدین رازی نے روح کی وجودیت، اس کی بقا اور معاد سے اس کے تعلق کو منطقی استدلال کے ساتھ واضح کیا۔ ان کے ہاں روح کا تصور انسانی عقل کو ایک ایسے دائرے میں داخل کرتا ہے جہاں مادی قوانین اپنی حدیں ظاہر کر دیتے ہیں۔
یہی تصور ہمیں مغربی فلسفہ میں بھی مختلف صورتوں میں ملتا ہے۔ ڈیکارٹ نے ذہن اور جسم کی دوئی کے ذریعے روح یا شعور کو مادے سے ممتاز کیا، جبکہ جدید فلسفۂ شعور میں یہ سوال اب بھی زندہ ہے کہ انسانی تجربہ اور شعور کو محض مادی عمل سے کیسے مکمل طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اس مقام پر اسلامی اور مغربی مکالمہ ایک دوسرے کے قریب آتا دکھائی دیتا ہے، اگرچہ دونوں کی زبان اور استدلال مختلف ہے۔
موت، جو انسانی زندگی کا سب سے یقینی مگر سب سے زیادہ پراسرار مرحلہ ہے، اسلامی فکر میں محض اختتام نہیں بلکہ ایک انتقال ہے۔ جسمانی زندگی ختم ہو جاتی ہے، مگر روح باقی رہتی ہے اور اپنے اعمال کے نتائج کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔ اس تصور میں موت ایک خوفناک خلا نہیں بلکہ اخلاقی جواب دہی کا دروازہ ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک موت انسانی خودی کی نفی نہیں بلکہ اس کی اگلی منزل ہے۔ وہ اسے ایک روحانی تجربہ سمجھتے ہیں جو انسان کو اس کے حقیقی مقام اور ذمہ داری کا شعور عطا کرتا ہے۔ برصغیر کے صوفیاء بھی موت کو محض جسمانی فنا نہیں مانتے بلکہ اسے روحانی کمال اور اخلاقی آزمائش کی تکمیل قرار دیتے ہیں۔
مغربی فلسفہ میں موت کا تصور زیادہ پیچیدہ اور متنوع ہے۔ بعض مفکرین اسے شعور کے مکمل خاتمے کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ بعض کے نزدیک انسانی شعور اور ذاتی تجربات کو صرف مادی اصولوں کے ذریعے مکمل طور پر واضح نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بعد از مرگ تجربات، شعور کی بقا اور وجودی سوالات فلسفے کو ایک بار پھر ماورائے طبیعیات کی طرف لے جاتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں بعد از حیات کا تصور نہایت واضح اور اخلاقی بنیادوں پر قائم ہے۔ یہ تصور انسان کو یہ یقین دیتا ہے کہ زندگی بے مقصد نہیں، اور نہ ہی اخلاقی عمل بے نتیجہ۔ اعمال، نیت اور کردار کا حساب ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کو اس دنیا میں ذمہ دار بناتی ہے۔ اشعری فکر میں معاد خدا کی عدل اور حکمت کا اظہار ہے، جبکہ معتزلہ کے نزدیک بعد از حیات کا تصور انسانی آزادی اور اخلاقی ذمہ داری کو معنی عطا کرتا ہے۔ برصغیر کے مفکرین، خصوصاً شاہ ولی اللہ اور اقبال، نے معاد کو روحانی تربیت اور خودی کی تکمیل کے تناظر میں بیان کیا۔ ان کے ہاں بعد از حیات محض جزا و سزا نہیں بلکہ اخلاقی شعور کی تکمیل ہے۔
عرب فلسفہ میں ابن سینا اور ابن رشد جیسے مفکرین نے روح اور معاد پر گہری بحث کی۔ ابن سینا روح کو جسم سے مستقل وجود قرار دیتے ہیں، جبکہ ابن رشد عقل اور فلسفے کے ذریعے معاد کے تصور کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ اگرچہ فلسفیانہ تعبیر مختلف ہو سکتی ہے، مگر روح کی بقا اور اخلاقی جواب دہی سے انکار ممکن نہیں۔
اسلامی اور صوفیانہ روایت میں روح، موت اور بعد از حیات کا سب سے اہم پہلو اخلاقی اور روحانی تربیت ہے۔ روح انسان کی اصل پہچان ہے، موت اسے غفلت سے جھنجھوڑتی ہے، اور بعد از حیات اسے اس کے اعمال کی سچائی سے روبرو کرتی ہے۔ یہی تصورات انسان کو محض مفاد پرست وجود بننے سے روکتے ہیں اور اسے اخلاقی، ذمہ دار اور بامقصد زندگی کی طرف لے جاتے ہیں۔ صوفیاء کے نزدیک اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان موت کے بعد کیا پائے گا، بلکہ یہ ہے کہ وہ موت سے پہلے کیسا انسان بن سکا۔
خلاصہ یہ ہے کہ روح، موت اور بعد از حیات کا مسئلہ محض مذہبی عقیدہ یا فلسفیانہ سوال نہیں، بلکہ انسانی اخلاق اور وجود کا مرکز ہے۔ عرب اور برصغیر کی فکری روایت نے ان تصورات کو انسانی تربیت اور روحانی ارتقا کے ساتھ جوڑا، جبکہ مغربی فلسفہ نے انہیں عقل، تجربے اور وجودی تجزیے کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی۔ دونوں مکالمات اس نکتے پر آ کر ملتے ہیں کہ انسان محض جسم نہیں، اور زندگی محض لمحاتی تجربہ نہیں۔ روح کی حقیقت، موت کی معنویت اور بعد از حیات کا تصور انسان کو اس کی اصل ذمہ داری اور اخلاقی مقام کا شعور عطا کرتا ہے—اور یہی شعور انسانی فکر کا سب سے بڑا حاصل ہے۔
الحاد کا بنیادی فلسفہ (21)
انکار اور اقرار کے دو فکری بیانیے
اکیسویں صدی میں مذہب اور سائنس کے باہمی تعلق پر ہونے والی بحث محض عقیدے کی سطح تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ انسان کے وجود، اخلاق اور کائنات کے مفہوم سے جڑی ایک گہری فکری کشمکش بن چکی ہے۔ اس بحث کے دو نمایاں اور متقابل مگر سنجیدہ زاویے ریچرڈ ڈاکنز کی کتاب The God Delusion اور فرانسس کولنز کی The Language of God میں سامنے آتے ہیں۔ دونوں مصنفین جدید سائنس کے نمائندہ چہرے ہیں، مگر ان کے نتائج ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ یہی فرق اس مباحثے کو محض سائنسی نہیں بلکہ فکری اور وجودی بنا دیتا ہے۔
ریچرڈ ڈاکنز، جو آکسفورڈ یونیورسٹی کے ممتاز ارتقائی حیاتیات دان ہیں، The God Delusion میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ خدا کا تصور کسی خارجی حقیقت کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ انسانی ذہن کی پیداوار ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی انسان فطرت کی طاقتوں سے خوف زدہ تھا اور ان کی سائنسی تفہیم سے محروم تھا، اس لیے اس نے بارش، آندھی، بجلی اور بیماری جیسے مظاہر کو کسی ماورائی ہستی سے منسوب کر دیا۔ جدید سائنس نے جب ان تمام مظاہر کی مادی اور تجرباتی وضاحت پیش کر دی، تو ڈاکنز کے نزدیک خدا کو بطور وضاحتی مفروضہ باقی رکھنے کی کوئی عقلی ضرورت نہیں رہتی۔
ڈاکنز مذہب کے بنیادی دعوے پر ایک اصولی سوال اٹھاتے ہیں: اگر ہر چیز کا کوئی خالق ہے تو خدا کو کس نے پیدا کیا؟ ان کے نزدیک اگر سبب و علت کا قانون کائنات پر لاگو ہوتا ہے تو خدا کو اس سے مستثنیٰ قرار دینا ایک منطقی تضاد ہے۔ چنانچہ وہ خدا کو “حتمی وضاحت” کے بجائے ایک ایسا مفروضہ سمجھتے ہیں جو سوالات حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔
اسی استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکنز قدرتی انتخاب کو تخلیق کا حقیقی متبادل قرار دیتے ہیں۔ ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کے مطابق جاندار لاکھوں برسوں میں چھوٹی چھوٹی جینیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں وجود میں آئے۔ یہ ایک غیر شعوری مگر مؤثر عمل ہے، جو پیچیدگی کو بغیر کسی منصوبہ ساز کے جنم دیتا ہے۔ ڈاکنز کے نزدیک یہی حقیقت اس تصور کو غیر ضروری بنا دیتی ہے کہ کائنات یا زندگی کے پیچھے کوئی شعوری ارادہ کارفرما ہے۔
اخلاقیات کے باب میں بھی ڈاکنز مذہب کو مرکزی حیثیت دینے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اخلاقی اقدار ارتقائی بقا کا نتیجہ ہیں؛ ہمدردی، تعاون اور انصاف جیسے رویے اس لیے فروغ پاتے ہیں کہ وہ اجتماعی زندگی کو مستحکم بناتے ہیں۔ چنانچہ اخلاق کو خدا سے جوڑنا ایک تاریخی اور نفسیاتی مغالطہ ہے، نہ کہ کوئی سائنسی یا عقلی ضرورت۔
ایمان کے بارے میں ڈاکنز کا موقف سب سے زیادہ سخت ہے۔ وہ ایمان کو ایک نفسیاتی فریب قرار دیتے ہیں، ایسی ذہنی تسکین جو ثبوت کے بجائے خواہش پر قائم ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک مذہب انسان کو سوال سے روکتا ہے، جبکہ سائنس شک اور تحقیق کو علم کی بنیاد بناتی ہے۔ اسی لیے وہ مذہبی ایمان کو فکری جمود کی علامت سمجھتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں فرانسس کولنز کی The Language of God ایک بالکل مختلف مگر اتنا ہی سنجیدہ فکری زاویہ پیش کرتی ہے۔ کولنز جدید جینیات کے ممتاز سائنس دان ہیں اور ہیومن جینوم پراجیکٹ کی قیادت کر چکے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سائنس اور ایمان کو باہم متصادم سمجھنا ایک غیر ضروری اور سطحی تقسیم ہے۔ ان کے نزدیک سائنس مادی حقیقت کے “کیسے” کو بیان کرتی ہے، جبکہ ایمان وجود کے “کیوں” سے تعلق رکھتا ہے۔
کولنز کے مطابق سائنس یہ بتا سکتی ہے کہ کائنات کیسے پھیلی، زندگی کیسے ارتقاء پذیر ہوئی، اور دماغ کیسے کام کرتا ہے، مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ کائنات موجود ہی کیوں ہے، قوانینِ فطرت اس قدر منظم اور ریاضیاتی کیوں ہیں، اور انسان اخلاقی ذمہ داری کو محض فائدے سے بڑھ کر کیوں سمجھتا ہے۔ ان سوالات کا تعلق مابعد الطبیعی معنی سے ہے، جسے محض سائنسی تجربے کے دائرے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔
ارتقاء کے معاملے میں کولنز ڈاکنز سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے، مگر اس سے خدا کے انکار کا نتیجہ اخذ نہیں کرتے۔ وہ Theistic Evolution کا تصور پیش کرتے ہیں، جس کے مطابق خدا نے زندگی کو معجزاتی وقفوں کے بجائے فطری قوانین کے ذریعے ترقی دی۔ ان کے نزدیک قدرتی انتخاب خدا کا متبادل نہیں بلکہ اس کا طریقۂ کار ہے، جس کے ذریعے تخلیق تدریجاً آگے بڑھتی ہے۔
اخلاقیات کے بارے میں کولنز ایک بنیادی نکتہ اٹھاتے ہیں۔ اگر اخلاق صرف ارتقائی بقا کا نتیجہ ہوں تو انسان بعض اعمال کو محض “غیر مفید” کے بجائے “غلط” کیوں کہتا ہے؟ وہ اخلاقی احساسِ فرض کو ایک ایسی حقیقت سمجھتے ہیں جو حیاتیاتی مفاد سے ماورا ہے اور کسی بلند تر اخلاقی منبع کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ان کے نزدیک یہی اخلاقی قانون خدا کے وجود کی طرف ایک عقلی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
کولنز اپنے ذاتی فکری سفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سائنس نے انہیں خدا سے دور نہیں بلکہ قریب کیا۔ انسانی جینوم کی غیر معمولی پیچیدگی، فطری قوانین کا نازک توازن، اور کائنات کی ریاضیاتی ترتیب ان کے نزدیک محض اتفاق نہیں ہو سکتی۔ وہ خدا کو “خالی جگہوں کو پُر کرنے والا” تصور نہیں مانتے، بلکہ قوانینِ فطرت کے پیچھے کارفرما نظم اور عقل کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔
یوں The God Delusion اور The Language of God دو متوازی فکری بیانیے پیش کرتی ہیں۔ ایک سائنس کو حتمی عدالت بنا کر خدا کو غیر ضروری قرار دیتی ہے، اور دوسری سائنس کو حقیقت کی ایک سطح سمجھ کر اس کے پیچھے معنی تلاش کرتی ہے۔ فیصلہ شاید سائنس کے ہاتھ میں نہیں بلکہ انسان کے اپنے شعور میں ہے کہ وہ علم کو محض مادی وضاحت تک محدود رکھتا ہے یا اسے مقصد، اخلاق اور معنویت کی تلاش تک وسعت دیتا ہے۔
گمشدہ مگر کون؟
منگل، 6 جنوری، 2026
وقت اور حرکت
وقت اور حرکت: فلسفہ، سائنس اور روحانیت کا مکالمہ
یہ سوال قدیم ہے کہ آخر وقت ہے کیا؟ کیا یہ صرف حرکت کی پیمائش ہے یا اس سے کہیں بڑھ کر کوئی حقیقت رکھتا ہے؟ فلسفہ، سائنس اور روحانیت تینوں اس سوال کا جواب اپنی اپنی زبان میں دیتے ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر ان کے نتائج ایک دوسرے سے ٹکراتے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو مکمل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
فلسفہ کی دنیا میں وقت ہمیشہ محض عددی اکائی نہیں رہا۔ ارسطو نے وقت کو حرکت کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ اگر حرکت نہ ہو تو وقت کا ادراک بھی ممکن نہیں۔ افلاطون کے نزدیک وقت ابدیت کا عکس تھا، ایک ایسی جھلک جو انسان کو ازلی حقیقت کا سراغ دیتی ہے۔ ہراکلیطس نے کائنات کو مسلسل بہاؤ میں دیکھا اور اعلان کیا کہ سب کچھ تغیر میں ہے؛ یوں وقت اور تبدیلی ایک ہی سکے کے دو رخ بن گئے۔
سینٹ آگسٹین نے وقت کو انسانی شعور کے آئینے میں دیکھا۔ ان کے مطابق ماضی یادداشت میں زندہ ہے، مستقبل توقع میں سانس لیتا ہے، اور حال ادراک کی گرفت میں ہے۔ بیسویں صدی کے فلسفی ہنری برگساں نے گھڑی کے وقت اور شعوری وقت کے فرق کو نمایاں کیا۔ ان کے نزدیک اصل وقت وہ ہے جو ہم جیتے ہیں، جو ہمارے احساسات کے ساتھ پھیلتا اور سکڑتا ہے۔ مارٹن ہائیڈیگر نے تو وقت کو انسانی وجود کی بنیاد ہی قرار دے دیا؛ ان کے نزدیک انسان وقت کے اندر نہیں بلکہ وقت کے ذریعے وجود پاتا ہے۔
یہ فلسفیانہ مکالمہ ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ وقت کوئی بے جان شے نہیں، بلکہ انسانی تجربے کے ساتھ سانس لینے والی حقیقت ہے۔
سائنس نے اس بحث کو ایک نیا موڑ دیا۔ البرٹ آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت نے وقت کو مطلق تصور سے نکال کر نسبتی بنا دیا۔ اب وقت ہر ایک کے لیے یکساں نہیں رہا، بلکہ رفتار اور کششِ ثقل کے تابع ہو گیا۔ روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرنے والا انسان اور شدید کششِ ثقل کے قریب موجود جسم وقت کو مختلف انداز میں جیتے ہیں۔
جڑواں بھائیوں کا مشہور تجربہ—جسے Twin Paradox کہا جاتا ہے—اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ حرکت وقت کی رفتار بدل دیتی ہے۔ یہی اصول GPS سیٹلائٹس میں روزانہ استعمال ہو رہا ہے، جہاں وقت کے معمولی فرق کو درست نہ کیا جائے تو پورا نظام ناکارہ ہو جائے۔
اسٹیفن ہاکنگ نے وقت کے “تیر” کو اینٹروپی سے جوڑا اور بتایا کہ کائنات میں بے ترتیبی کا بڑھنا وقت کے آگے بڑھنے کی علامت ہے۔ کارلو روویلی کے مطابق وقت کوئی آزاد وجود نہیں بلکہ واقعات اور تعلقات کا نتیجہ ہے۔ یوں جدید طبیعیات بھی اس نتیجے پر پہنچی کہ وقت جامد نہیں، بلکہ حالات کے ساتھ بدلنے والی حقیقت ہے۔
یہاں پہنچ کر انسان حیران ہوتا ہے کہ یہی بات روحانی متون میں صدیوں پہلے بیان ہو چکی تھی۔ واقعۂ معراج اس کی روشن مثال ہے، جہاں نبی اکرم ﷺ ایک ہی رات میں ایسے سفر سے گزرے جو زمینی پیمانوں سے ماورا ہے، مگر زمینی وقت میں وہی رات باقی رہی۔ قرآن میں حضرت عزیرؑ اور اصحابِ کہف کے واقعات بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وقت کا تجربہ حالات اور مشیت کے مطابق بدل سکتا ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ایک دن انسان کے ہزار برس کے برابر ہے، اور کہیں پچاس ہزار برس کا ذکر آتا ہے۔ یہ آیات صاف بتاتی ہیں کہ وقت انسانی پیمائش کا پابند نہیں، بلکہ خالق کے اختیار میں ہے۔
معاصر مسلم مفکرین نے بھی اس موضوع کو نئے زاویوں سے دیکھا ہے۔ پروفیسر احمد رفیق اختر کے نزدیک وقت کائناتی نظم کا حصہ ہے جو خالق کے قوانین کے تحت کام کرتا ہے۔ جاوید احمد غامدی وقت کو انسانی ذمہ داری اور اخلاقی جواب دہی کے تناظر میں سمجھتے ہیں۔ مولانا وحیدالدین خان کے ہاں وقت شعور اور دعوت کا سرمایہ ہے، جبکہ عرب مفکرین طہٰ عبدالرّحمٰن اور عبدالکریم بکّار کے نزدیک وقت انسان کے اعمال اور معاشرتی تعمیر کا بنیادی اثاثہ ہے۔
یہ تمام زاویے ایک ہی بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ وقت صرف ناپنے کی چیز نہیں، بلکہ جینے اور سمجھنے کی حقیقت ہے۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ اس سب کا حاصل کیا ہے؟ شاید یہ کہ انسان وقت کو مکمل طور پر قابو میں نہیں کر سکتا، مگر اس کی قدر ضرور کر سکتا ہے۔ فلسفہ ہمیں اس کا شعوری پہلو دکھاتا ہے، سائنس اس کی نسبتی ساخت واضح کرتی ہے، اور روحانیت اس کے تقدس سے آگاہ کرتی ہے۔
وقت ہمیں ہر لمحہ یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم محدود ہیں، اور ہمارا خالق لامحدود۔ یہی احساس انسان کو عاجزی، ذمہ داری اور بامقصد زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ یوں وقت محض گزرتا نہیں، بلکہ انسان کو بناتا بھی ہے—اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔
دعا , تقدیر، ارادہ اور انسانی شعور
دعا , تقدیر، ارادہ اور انسانی شعور
اسلامی فکر میں دعا محض خواہشات کی فہرست یا مشکل وقت کی نفسیاتی پناہ گاہ نہیں، بلکہ یہ انسان کے شعوری اعترافِ عجز اور الٰہی اختیار کے سامنے خود سپردگی کا اظہار ہے۔ دعا دراصل اس تعلق کا نام ہے جو محدود علم و قدرت رکھنے والا انسان، مطلق علم و قدرت کے مالک خدا سے قائم کرتا ہے۔
کلامی مباحث میں دعا کی حقیقت پر سب سے بنیادی سوال تقدیر اور اختیار کے تناظر میں اٹھایا گیا۔ معتزلہ کے نزدیک اگر کائنات کا ہر واقعہ پہلے سے غیر متبدل طور پر طے شدہ ہو تو دعا ایک غیر مؤثر عمل بن جاتی ہے۔ اسی لیے وہ دعا کو انسانی سعی اور اخلاقی ذمہ داری سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق دعا دراصل انسان کی عملی کوشش اور اخلاقی ارادے کا تسلسل ہے، جس کے بغیر دعا محض زبانی عمل رہ جاتی ہے۔ اس زاویے سے دعا انسان کو جبر کے تصور سے نکال کر ذمہ دار فاعل بناتی ہے۔
اس کے برعکس اشاعرہ نے دعا کو خدا کی مطلق مشیت کے دائرے میں رکھا، مگر اسے غیر بامعنی قرار نہیں دیا۔ ان کے نزدیک دعا بھی اسی الٰہی نظامِ اسباب کا حصہ ہے جس کے ذریعے اللہ اپنے فیصلے نافذ فرماتا ہے۔ دعا کا قبول ہونا یا نہ ہونا انسانی عقل کے لیے قابلِ فہم نہیں، کیونکہ اس کی حکمت خدا کے علمِ کامل میں پوشیدہ ہے۔ یوں دعا بندے کے لیے امتحانِ اطاعت ہے، نہ کہ نتیجے پر قابو پانے کا ذریعہ۔
امام غزالی نے دعا کو ان دونوں انتہاؤں سے نکال کر ایک باطنی و اخلاقی عمل کے طور پر سمجھا۔ ان کے نزدیک دعا کا اصل فائدہ خارجی تبدیلی نہیں بلکہ داخلی تطہیر ہے۔ دعا انسان کے اندر تواضع، امید، صبر اور شکر جیسے اوصاف پیدا کرتی ہے۔ وہ انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اسباب اختیار کرنا ضروری ہے، مگر نتیجے پر غرور یا مایوسی دونوں بے معنی ہیں۔ اس طرح دعا انسان کی روحانی تربیت اور اخلاقی توازن کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
صوفیانہ فکر میں دعا کو محض مانگنے کا عمل نہیں بلکہ ہم کلامی سمجھا گیا۔ یہاں دعا کا مقصد یہ نہیں کہ خدا کو کسی فیصلے پر آمادہ کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ بندہ خود کو خدا کی مرضی کے مطابق ڈھال لے۔ اس زاویے سے دعا قبولیت کی شرط پر نہیں بلکہ اخلاص پر قائم ہے۔
یہ فکری مکالمہ واضح کرتا ہے کہ دعا کو صرف نتائج کی عینک سے دیکھنا اس کے مفہوم کو محدود کر دیتا ہے۔ دعا نہ تو تقدیر سے بغاوت ہے اور نہ ہی انسانی سعی کی نفی، بلکہ یہ دونوں کے درمیان ایک بامعنی رشتہ ہے۔ دعا انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ وہ کوشش بھی کرے، امید بھی رکھے، اور نتیجے کو خدا کی حکمت کے سپرد بھی کرے۔
یوں دعا کی حقیقت کسی ایک فلسفیانہ موقف میں مقید نہیں، بلکہ یہ انسانی کمزوری، اخلاقی ذمہ داری اور الٰہی قربت—تینوں کا جامع اظہار ہے۔
اتوار، 4 جنوری، 2026
مشترکہ خاندان
مشترکہ خاندان
ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندان کو اکثر معاشی یا انتظامی تناظر میں زیرِ بحث لایا جاتا ہے، مگر اس نظام کا سب سے قیمتی اور کم زیرِ گفتگو پہلو وہ اثرات ہیں جو یہ بچوں کی شخصیت پر مرتب کرتا ہے۔ خاص طور پر گھر میں دادا اور دادی کی موجودگی ایسی نعمت ہے جس کی قدر اکثر وقت گزرنے کے بعد ہی سمجھ آتی ہے۔
بچپن انسان کی زندگی کا وہ نازک مرحلہ ہے جہاں محبت، تحفظ اور توجہ محض جذبات نہیں بلکہ شخصیت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ والدین اپنی ذمہ داریوں، مصروفیات اور عملی دباؤ کے باعث بعض اوقات بچوں کو وہ وقت نہیں دے پاتے جس کے وہ حق دار ہوتے ہیں۔ ایسے میں دادا اور دادی بچوں کے لیے جذباتی سہارے کا وہ مضبوط ستون بن جاتے ہیں جو خاموشی سے مگر گہرائی کے ساتھ ان کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
دادا دادی کی محبت میں ایک خاص ٹھہراؤ اور بے لوث پن ہوتا ہے۔ وہ بچوں سے کسی کارکردگی یا کامیابی کی شرط نہیں باندھتے، بلکہ انہیں ویسا ہی قبول کرتے ہیں جیسے وہ ہیں۔ یہی غیر مشروط قبولیت بچوں کے اندر اعتماد، خود اعتمادی اور ذہنی سکون پیدا کرتی ہے۔ ایسے بچے کم خوف زدہ، کم اضطراب کے شکار اور زیادہ پُرسکون نظر آتے ہیں۔
مشترکہ خاندان میں پلنے والے بچوں کو اخلاقیات کا سبق نصیحتوں سے نہیں بلکہ روزمرہ کے مشاہدے سے ملتا ہے۔ دادا دادی کا اندازِ گفتگو، بڑوں کا احترام، صبر، شکر اور قناعت—یہ سب چیزیں بچے لاشعوری طور پر سیکھ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے بچوں میں خاندانی اقدار اور تہذیبی تسلسل نسبتاً مضبوط ہوتا ہے۔
دادا دادی کی کہانیاں محض قصے نہیں ہوتیں بلکہ ماضی کے تجربات، وقت کی آزمائشوں اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ ان کہانیوں کے ذریعے بچے تاریخ، روایت اور جدوجہد سے جڑتے ہیں۔ انہیں یہ شعور ملتا ہے کہ زندگی صرف سہولتوں کا نام نہیں بلکہ صبر اور ثابت قدمی کا امتحان بھی ہے۔
ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مشترکہ خاندان بچوں کو مختلف عمروں کے افراد کے ساتھ رہنا سکھاتا ہے۔ اس ماحول میں بچہ سیکھتا ہے کہ ہر فرد کی سوچ، رفتار اور ضرورت مختلف ہوتی ہے۔ یہی فہم اسے برداشت، رواداری اور سماجی ہم آہنگی کی طرف لے جاتی ہے، جو آج کے انفرادی اور تیز رفتار معاشرے میں ایک نایاب خوبی بنتی جا رہی ہے۔
یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اگر والدین اور دادا دادی کے درمیان تربیت کے اصولوں پر اتفاق نہ ہو تو بعض پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، مگر یہ مشترکہ خاندان کا نقص نہیں بلکہ باہمی رابطے کی کمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب حدود واضح ہوں اور احترام برقرار رہے تو یہی نظام بچوں کے لیے سب سے محفوظ اور متوازن ماحول بن جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دادا اور دادی کی موجودگی بچوں کے لیے صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ایک نعمت ہے۔ یہ وہ سایہ ہے جو سخت دھوپ میں بھی ٹھنڈک دیتا ہے، وہ تجربہ ہے جو کتابوں میں نہیں ملتا، اور وہ دعا ہے جو لفظوں کے بغیر بھی اثر رکھتی ہے۔
شاید اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ جس گھر میں دادا اور دادی زندہ ہوں، وہاں بچوں کی پرورش صرف جسمانی نہیں بلکہ اخلاقی، جذباتی اور تہذیبی سطح پر بھی ہوتی ہے۔ اور یہی وہ سرمایہ ہے جو آنے والی نسلوں کو مضبوط بناتا ہے۔
بدھ، 31 دسمبر، 2025
نیا سال مبارک
نیا سال مبارک
بچپن، جب نئے سال پر نئی جنتری آتی تھی۔ اس کے اندر درج نجومیوں کی خوشگوار پیش گوئیاں۔ بارشیں وقت پر ہوں گی، فصلیں اچھی ہوں گی، قوم ترقی کرے گی۔ ہم شوق سے پڑھتے تھے اور دل ہی دل میں خوش ہوتے تھے۔ مگر 2025 کے اختتام تک آتے آتے علمِ نجوم ہی اس صدی کی پہلی ربع میں مردود ٹھہر گیا۔ اب نہ بانس باقی رہا، نہ اس سے خوشگوار سر والی بنسری بن سکی۔ انسان اب تقدیر نہیں، دلیل مانگتا ہے۔
یہ ربع صدی دراصل رسیدوں اور ثبوتوں کا شور شور میں گذری۔ اب کسی بات پر یقین کرنا کافی نہیں رہا، ہر دعوے کے ساتھ حوالہ، ڈیٹا اور ثبوت چاہیے۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ انسان اپنے خالق کو بھی دیکھنے پر اصرار نہیں کرتا، بلکہ خوردبین میں اس کے ڈی این اے کا ثبوت مانگتا ہے۔ ایمان، تجربہ بن گیا ہے اور یقین، ثبوت کا محتاج۔
ماضی کو بھلا کر مستقبل کی طرف نہیں بڑھا جا سکتا، مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم جیسے ماضی ہی میں زندہ ہیں۔ اس ربع صدی میں بنگلہ دیش اور برازیل جیسے ممالک غربت کی دلدل سے نکلتے دکھائی دیے۔ ہم جان بوجھ کر چین اور انڈونیشیا کا ذکر نہیں کر رہے، کہ وہ تو کام کے دھنی ہیں، مثالیں دینا آسان ہے، اپنانا مشکل۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا بابا بھی “کام، کام اور کام” کی دہائی دیتے دیتے فردوس میں جا بسا۔ نہ ہم نے اس کی زندگی میں اس کی بات سنی، نہ اس کے جانے کے بعد۔
اعداد و شمار بھی کبھی کبھی طنز بن جاتے ہیں۔ سال 2000 میں پاکستان کی آبادی تقریباً 14 کروڑ تھی۔ 31 دسمبر 2025 کو یہ تعداد 24 کروڑ کے عدد کو عبور کر چکی۔ ہمیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ ہم کسی نہ کسی “فرمان” پر تو پوری دیانت سے عمل پیرا رہے ہیں۔
عالمی منظرنامہ دیکھیں تو اس ربع صدی میں ڈیڑھ ارب انسان غربت کی لکیر سے نکل کر ہموار زمین پر آ کھڑے ہوئے۔ پاکستان میں کیا ہوا، بتانے کی بات نہیں، محسوس کرنے کی ضرور ہے۔
اسی دوران جنریشن گیپ ایک خاموش زلزلے کی طرح بڑھتا چلا گیا۔ سوچ، زبان، ترجیحات اور اقدار — سب میں فاصلہ۔ اس کے ہمارے سماج پر کیا اثرات ہیں؟ شاید ہمارے پاس اس پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں۔ ہم فوری ردعمل کے عادی ہو چکے ہیں، گہرے سوالوں کے نہیں۔
اس ربع صدی کا سب سے بڑا واقعہ پاک بھارت عسکری ٹکراؤ تھا، جس نے چند گھنٹوں میں زمینی حقائق بدل کر رکھ دیے۔زمینی حقائق بدلنے کے مواقع ہمیں پہلے بھی ملتے رہے ہیں۔ ہم نے کتنا فائدہ اٹھایا، یہ سب کے سامنے ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بار کیا اس نوخیز بیج سے واقعی پودا اگے گا؟ کیا یہ سرسبز ہو کر اگلی ربع صدی تک امن، ترقی اور “جیو اور جینے دو” کا پھل دے سکے گا؟
انتظار بہت ہے، مگر ناامیدی نہیں۔ اس لیے نہیں کہ حالات روشن ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہمیں ناامیدی سے منع کیا گیا ہے۔ شاید یہی واحد سرمایہ ہے جو اب بھی ہمارے پاس سلامت ہے۔
نیا سال مبارک — اس امید کے ساتھ کہ ہم اس بار محض کیلنڈر نہیں بدلیں گے، رویے بھی بدلیں گے۔
پیر، 29 دسمبر، 2025
کائنات کی حقیقت — خدا
"
انسانی رویّے
سوال کی اہمیت
ہفتہ، 27 دسمبر، 2025
انسان اور جانور کے مابین مکالمہ
علم کا مستقبل
علم انسانی تہذیب کا بنیادی ستون ہے۔ انسانی ترقی، ایجاد، معاشرتی تنظیم اور فکری ارتقا کا ہر مرحلہ علم کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ علم محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ شعوری اور عقلی قوت ہے جو انسان کو سوال کرنے، دریافت کرنے اور حقیقت تک رسائی پانے کی صلاحیت دیتی ہے۔
علم کی تعریف
علم سے مراد حقیقت یا مظہر کا درست اور قابل اعتماد ادراک ہے، جو حواس، تجربہ، عقل و منطق، اور سماجی تعامل سے حاصل ہوتا ہے۔ فلسفیانہ نقطہ نظر سے، علم یقین ہے جو حقیقت کے مطابق ہو اور جس کی عقلی یا تجربی توجیہ موجود ہو۔
علم کی اقسام
حاصل کردہ علم: مشاہدہ، تجربہ اور استدلال سے پیدا ہوتا ہے۔ سائنسی قوانین اور نظریات اس کی مثال ہیں۔ یہ علم ارتقائی، قابلِ تصحیح اور تجربے سے ثابت شدہ ہے۔
عطا شدہ علم: ذہن کی بصیرت، وجدان اور تخلیقی جست سے جنم لیتا ہے۔ مثالیں: نیوٹن کا کششِ ثقل کا تصور، آئن اسٹائن کے تصوراتی تجربات۔ یہ علم تخلیق اور تخیل کی بنیاد ہے۔
علم اور انسانی آزادی
علم انسان کو فکری، سائنسی، سماجی اور معاشی آزادی دیتا ہے۔ یہ اخلاقی شعور، انصاف، مساوات اور قانون سازی کے لیے لازمی ہے۔ تخلیقی قوتیں اور سماجی ترقی علم کے بغیر ممکن نہیں۔
علم کی حدود اور مستقبل
انسانی حواس، ذہن اور زبان کے محدود دائرے علم کی حدود طے کرتے ہیں، مگر مستقبل میں مصنوعی ذہانت، دماغ کی سائنسی تفہیم اور معلومات کے بڑھتے ہوئے وسائل انسانی علم کی نئی جہتیں قائم کریں گے۔
حاصل کلام
علم انسان کی بنیادی طاقت ہے۔ حاصل کردہ علم تجربے اور مشاہدے کی بنیاد ہے، جبکہ عطائی علم ذہنی بصیرت کا آئینہ ہے۔ ان دونوں کا امتزاج ہی انسانی تہذیب، سائنسی ترقی اور مستقبل کی بنیاد ہے۔ علم کے بغیر آزادی، تحقیق اور ترقی ممکن نہیں، اور جدید دور میں یہ انسانی شعور اور سماجی استحکام کے نئے معیار قائم کرے گا۔
بدھ، 24 دسمبر، 2025
ہفتہ، 20 دسمبر، 2025
"را" کی حقیقت
سڈنی کا بونڈی بیچ، جہاں سمندر کی لہریں ہمیشہ آزادی اور خوشی کا پیغام دیتی ہیں، اچانک گولیوں کی آواز سے لرز اٹھا۔ حملہ ہوا، لاشیں گریں، اور آسٹریلیا جیسے محفوظ ملک میں یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں آیا: کیا یہ محض ایک جنونی فرد کی کارروائی تھی، یا اس کے پیچھے کوئی منظم، سرحد پار نیٹ ورک سرگرم تھا؟
آسٹریلین فیڈرل پولیس کی کمشنر کریسی بیریٹ نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کھلے عام کہا کہ بونڈی واقعہ ایک وسیع نیٹ ورک کا حصہ ہے، جس میں چار بھارتی شہری ملوث پائے گئے ہیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب سوال اٹھا کہ یہ واقعہ صرف سڈنی تک محدود ہے یا یہ اسی خاموش جنگ کی کڑی ہے جو دنیا کے مختلف حصوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کے نیٹ ورک سے جوڑی جا رہی ہے۔
قبل ازیں کینیڈا میں سکھ رہنما ہارڈیپ سنگھ نِجّار کے قتل کے بعد کینیڈین وزیر اعظم نے واضح کیا کہ اس قتل کے تانے بانے بھارت کی سرکاری ایجنسی تک جا سکتے ہیں۔ امریکہ میں بھی ایک بھارتی شہری پر الزام لگا کہ وہ ایک سکھ رہنما کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، مبینہ طور پر "را" کے سابق اہلکار کی ہدایات پر۔
پاکستان کے اندر بھی صورتحال کم خطرناک نہیں۔ جعفر ایکسپریس کا سانحہ، بلوچستان میں بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں، اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے ساتھ مل کر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ—ہر جگہ ایک ہی سایہ دکھائی دیتا ہے: بھارت کی ریاستی سرپرستی میں چلنے والے نیٹ ورک کی سرحد پار کارروائیاں۔
بلوچستان میں مسافر ٹرینوں کو نشانہ بنانا، تعلیمی اداروں اور ترقیاتی منصوبوں پر حملے، اور عام شہریوں کا قتل—یہ سب وہ حربے ہیں جو کسی مقامی تحریک کے بس میں نہیں بلکہ سرکاری فنڈنگ، تربیت اور سرحد پار سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔ افغانستان میں بھارتی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کا کردار برسوں سے سوالیہ نشان رہا ہے۔ یہی ماڈل بھارت نے بار بار استعمال کیا: پراکسیز بناؤ، پیسہ فراہم کرو، اور بعد میں انکار کر دو۔
بھارت کا وطیرہ یہ رہا ہے کہ ریاستی سرپرستی میں جرم کروایا جائے اور الزام کسی ہمسائے کے سر ڈال دیا جائے۔ کبھی پاکستان، کبھی چین، کبھی کسی داخلی گروہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسی حکمت عملی کو مغربی دنیا میں بھی آزمایا گیا، مگر وہاں پہلی بار یہ کھیل الٹ پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایک اور خطرناک پہلو ہے: بھارتی سوشل میڈیا وار مشینری۔ یہ صرف جذباتی اکاؤنٹس کا ہجوم نہیں بلکہ ایک منظم، سرکاری نگرانی میں چلنے والا نیٹ ورک ہے۔ جعلی بیانیہ، من گھڑت ویڈیوز اور جھوٹے الزامات—یہ سب عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں جیسے ہی کوئی دہشت گردی ہوتی ہے، چند منٹوں کے اندر بھارتی سوشل میڈیا پر مکمل بیانیہ تیار ہو جاتا ہے۔
اب صورتِ حال یہاں تک آ پہنچی ہے کہ بھارتی سرکاری سرپرستی میں چلنے والا دہشت گرد نیٹ ورک صرف ہمسائیوں یا خطے کے لیے خطرہ نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ سڈنی، اوٹاوا، واشنگٹن، ڈھاکا، کوئٹہ—ہر جگہ ایک ہی نام ابھرتا ہے: "را"۔
یہ وقت ہے کہ ریاستی دہشت گردی کو ایک عالمی جرم تسلیم کیا جائے، اور "را" جیسے نیٹ ورک کے غلاف کو چاک کیا جائے۔ اگر دنیا آج بھی آنکھیں بند رکھے تو کل یہ آگ صرف پاکستان یا جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہے گی۔
تاریخ گواہ ہے:
ریاستی دہشت گردی ہمیشہ آخرکار عالمی مسئلہ بن جاتی ہے۔
اسلام بمقابلہ جدید فکری بحران
جدید دنیا ایک عجیب فکری بحران سے گزر رہی ہے۔ معلومات کی فراوانی ہے مگر حکمت نایاب، آزادی کے نعرے ہیں مگر انسان اندر سے بے سمت، اور عقل کی بالادستی کا دعویٰ ہے مگر خود عقل اضطراب کا شکار ہے۔ انسان نے کائنات کو مسخر تو کر لیا ہے، مگر اپنے وجود کے سوال کا جواب کھو بیٹھا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جہاں اسلام محض ایک مذہب نہیں بلکہ ایک فکری متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے۔
جدید فکری بحران کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ علم کو اخلاق سے، عقل کو وحی سے، اور آزادی کو ذمہ داری سے الگ کر دیا گیا ہے۔ جدید انسان سب کچھ جاننا چاہتا ہے مگر یہ طے نہیں کر پایا کہ جاننے کے بعد جینا کیسے ہے۔ فلسفہ شک سکھاتا ہے، سائنس طاقت دیتی ہے، مگر یہ نہیں بتاتیں کہ اس طاقت کو کہاں اور کیوں استعمال کیا جائے۔ نتیجتاً انسان ذہنی طور پر ترقی یافتہ مگر اخلاقی طور پر منتشر نظر آتا ہے۔
اسلام اس بحران کا آغاز ہی سے مختلف زاویے سے جواب دیتا ہے۔ وہ عقل کو رد نہیں کرتا بلکہ اسے وحی کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔ اسلام میں عقل سوال کرتی ہے، مگر وحی سمت دیتی ہے۔ یہی توازن جدید دنیا میں مفقود ہے۔ یہاں یا تو عقل کو مطلق بنا دیا گیا ہے، یا مذہب کو عقل دشمن سمجھ کر دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ اسلام اس تقسیم کو تسلیم نہیں کرتا۔
اس فکری مکالمے کے مرکز میں رسولِ اکرم ﷺ کی ذات کھڑی ہے۔ جدید دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں علم پڑھانے والے بہت ہیں مگر نمونہ بننے والے کم۔ نظریات گھڑے جاتے ہیں مگر ان پر جینے کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا۔ اس کے برعکس رسول اللہ ﷺ کی شخصیت ایسی واحد مثال ہے جہاں تعلیم اور عمل کے درمیان کوئی خلا نہیں۔ انہوں نے جو کہا، پہلے خود کیا؛ جو سکھایا، خود جیا؛ اور جو دعوت دی، اس کی عملی تصویر بن کر دکھایا۔
افراد کی تعلیم کچھ اور کہتی ہے، اورعمل بعض اوقات کچھ اور۔ یہی وہ نفاق ہے جو جدید انسان کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ ہم اقدار پر لیکچر دیتے ہیں مگر خود ان کے بوجھ سے بھاگتے ہیں۔ اس کے مقابل رسول اللہ ﷺ وہ واحد استاد ہیں جن کی تعلیم لفظاً، حرفاً، عملاً اور نیتاً ایک ہی حقیقت کا اظہار تھی۔ یہی چیز انہیں محض مذہبی رہنما نہیں بلکہ انسانیت کا سب سے بڑا معلم بناتی ہے۔
جدید فکری بحران کا ایک اور پہلو آزادی کا غلط تصور ہے۔ آج آزادی کو ہر حد سے بے نیاز ہو جانا سمجھا جاتا ہے، جبکہ اسلام آزادی کو شعور، اخلاق اور جواب دہی کے ساتھ جوڑتا ہے۔ قرآن انسان کو اختیار دیتا ہے—ایمان لانے یا انکار کرنے کا اختیار—مگر اس اختیار کے ساتھ ذمہ داری کا شعور بھی عطا کرتا ہے۔ یہ توازن جدید فلسفہ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔
اسلام اور جدید دنیا کے درمیان اصل تصادم سائنس یا عقل پر نہیں، بلکہ انسان کے تصور پر ہے۔ جدید فکر انسان کو محض ایک حیاتیاتی وجود یا معاشی اکائی بنا دیتی ہے، جبکہ اسلام اسے اخلاقی، روحانی اور باشعور ہستی قرار دیتا ہے۔ یہی فرق جدید انسان کی بے چینی کو جنم دیتا ہے۔ وہ سب کچھ ہونے کے باوجود مطمئن نہیں، کیونکہ اس نے اپنے مقصدِ وجود کو نظرانداز کر دیا ہے۔
اسلام اس فکری بحران کا جواب کسی جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ ایک زندہ نمونے کے ذریعے دیتا ہے—اور وہ نمونہ محمد ﷺ ہیں۔ ان کی سیرت یہ بتاتی ہے کہ علم کیسے جیا جاتا ہے، طاقت کیسے قابو میں رکھی جاتی ہے، اختلاف کیسے اخلاق کے دائرے میں رہتا ہے، اور آزادی کیسے بندگی کے ساتھ ہم آہنگ
کی جاتی ہے۔
پروفیسر احمد رفیق اختر کی کتاب سے ماخوذ








