اتوار، 9 اگست، 2026
اپنی منزل خود دریافت کیجیے
اختیار کی شاہراہ کہاں جاتی ہے؟
اختیار کی شاہراہ کہاں جاتی ہے؟
پاکستان کی کہانی ایک خواب سے شروع ہوئی تھی۔ وہ خواب کسی فوجی طاقت، کسی سلطنت یا کسی خاندان کا نہیں تھا، بلکہ عوام کے سیاسی شعور کا تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ووٹ کی طاقت سے دنیا کو بتایا تھا کہ قومیں بندوق سے نہیں، اجتماعی فیصلے سے بھی وجود میں آ سکتی ہیں۔ شاید اسی لیے پاکستان کا پہلا سرمایہ زمین نہیں بلکہ عوام کا اعتماد تھا۔
مگر تاریخ کا سفر ہمیشہ سیدھا نہیں ہوتا۔قیامِ پاکستان کے بعد ایک ایسا سیاسی ڈھانچہ تشکیل پانے لگا جس میں ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان طاقت کا توازن مسلسل بدلتا رہا۔ ہر بحران نے کسی ادارے کو زیادہ اختیار دیا اور ہر گزرتے برس کے ساتھ یہ تاثر گہرا ہوتا گیا کہ عوام کے منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں اختیار کم اور ذمہ داری زیادہ رہ گئی ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں، پارلیمان قائم رہی، انتخابات بھی ہوتے رہے، مگر یہ سوال کبھی دفن نہ ہو سکا کہ ریاست کے اہم فیصلوں کا آخری اختیار آخر کس کے پاس ہے۔
یہ تبدیلی صرف اقتدار کے ایوانوں تک محدود نہ رہی۔ ریاستی وسائل، قومی ترجیحات اور عوامی اثاثوں پر بھی عوام کی نفسیاتی ملکیت کمزور پڑنے لگی۔ جب ایک عام آدمی اپنی زندگی میں مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی اور بے بسی کا سامنا کرتا ہے اور دوسری طرف طاقت کے مراکز کی قوت اور اثرورسوخ کو دیکھتا ہے تو اس کے دل میں ایک عجیب سا سوال جنم لیتا ہے۔ کیا آزادی صرف پرچم بدلنے کا نام تھی ، پرچم کے ذہن میں آتے ہی وہ دور یاد آتا ہے جب اس سرزمین پر غیر ملکی حکمران حکومت کرتے تھے۔ اس زمانے میں بھی فیصلے کہیں اور ہوتے تھے اور عوام صرف ان فیصلوں کے نتائج بھگتتے تھے۔ آج حالات یقیناً مختلف ہیں، مگر اگر عوام کو اپنے ووٹ کی تاثیر محسوس نہ ہو تو تاریخ کا احساس بھی بدلنے لگتا ہے۔
بلوچستان اسی احساس کا سب سے پرانا اور سب سے گہرا استعارہ ہے۔ وہاں بے چینی کو اکثر طاقت سے خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، مگر خاموشی ہمیشہ اطمینان نہیں ہوتی۔ بندوق خوف پیدا کر سکتی ہے، اعتماد نہیں۔ چند جمہوری ادوار میں سیاسی مصالحت کا راستہ اختیار کیا گیا، لیکن وہ قومی پالیسی نہ بن سکا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بے چینی نے صرف ایک صوبے تک محدود رہنے سے انکار کر دیا۔ اس کی لہریں خیبر پختونخوا تک پہنچیں اور اب کشمیر میں دستک دیتی دکھائی دیتی ہے۔
پاکستانی سیاست کی البتہ ایک خوبی بھی ہے۔ اس نے ہر دور میں ایسے رہنما پیدا کیے جنہوں نے بند راستوں میں بھی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور بینظیر بھٹو ایک دوسرے سے مختلف سیاسی مکتبِ فکر رکھتے تھے، مگر ایک بات میں سب شریک تھے: وہ عوامی سیاست کو ریاستی اختیار کا اصل سرچشمہ بنانا چاہتے تھے۔ ان کی کامیابیوں پر اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے حصے کی قیمت بھی ادا کی۔
عمران خان کی سیاسی داستان اس روایت میں ایک منفرد باب کا اضافہ کرتی ہے۔ ان کے بارے میں ایک مضبوط سیاسی تاثر یہ رہا کہ ان کے اقتدار تک پہنچنے میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار تھا، مگر اقتدار سے نکالنے کے بعد یہی تعلق اختلاف اور پھر تصادم میں تبدیل ہوگیا۔ یوں وہ بھی اسی سیاسی دائرے میں داخل ہوگئے جہاں ماضی کے بہت سے منتخب رہنما پہلے آ چکے تھے۔ اس منظرنامے نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا کہ پاکستان میں اصل مسئلہ افراد کا ہے یا اختیار کے نظام کا؟
یہی سوال موجودہ حکمران اتحاد کے سامنے بھی کھڑا ہے۔ کیا اس کا انجام بھی اپنے پیش روؤں جیسا ہوگا یا اس بار تاریخ مختلف فیصلہ سنائے گی؟ اس کا جواب آنے والا وقت دے گا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان میں سیاست دان ایک طرف ریاستی استحکام کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں اور دوسری طرف عوامی بالادستی کے دعوے سے بھی دستبردار نہیں ہو سکتے۔ یہی تضاد ان کی سیاست کا سب سے بڑا امتحان ہے۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ آئینی ترامیم نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سیاسی وزن کو کمزور کیا ہے۔ اگر یہ تاثر عوام میں مزید مضبوط ہوتا ہے تو ممکن ہے اس کے نتائج صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہ رہیں۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت جب اپنے فطری توازن سے آگے بڑھتی ہے تو ردِعمل بھی غیر معمولی ہوتا ہے۔ جو بساط آج سیاست دانوں کو محدود کرنے کے لیے بچھائی جا رہی ہے، بعید نہیں کہ کل وہی بساط اپنے بچھانے والوں کے لیے بھی آزمائش بن جائے۔
اسی تناظر میں عوامی ریفرنڈم کی بات بھی سنائی دیتی ہے۔ اگر کبھی ایسا مرحلہ آیا اور منتخب سیاسی قوتوں نے خود اس کی قیادت کی تو طاقت کے موجودہ توازن میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ بعض لوگ اس ضمن میں ترکی کی مثال دیتے ہیں، اگرچہ پاکستان کے حالات، تاریخ اور ادارہ جاتی ساخت اس سے مختلف ہیں۔ پھر بھی تاریخ کا ایک اصول ہر جگہ یکساں رہتا ہے: طاقت ہمیشہ مستقل نہیں ہوتی، مگر عوام کا فیصلے کی بازگشت نسلوں تک سنائی دیتی ہے۔
آخر میں صرف ایک تاریخی واقعہ ۔ رومی سلطنت نے بے شمار جنگیں جیتیں، اس کی فوجیں نصف دنیا پر چھا گئیں، مگر ان کے زوال کی وجوہات میں مورخین لکھتے ہیں کہ سلطنت اپنی رعایا کے دل ہار چکی تھی۔
تاریخ کا قلم یہ نہیں پوچھنا کہ کون سا حکمران زیادہ طاقتور تھا، کس جماعت نے کتنی نشستیں جیتیں یا کس ادارے کے پاس کتنا اختیار تھا۔ وہ صرف یہ لکھے گا کہ کیا اس ریاست نے اپنے عوام کو یہ یقین دلا دیا تھا کہ ملک واقعی انہی کا ہے؟
اسلام سوال سے نہیں، جہالت سے لڑتا ہے
جارج سینٹیان تیری آواز مکے مدینے
ہرمز: ایران کے دروازے سے دنیا کی معیشت تک
جمعہ، 31 جولائی، 2026
خواب سے اہم نسبت رسول کی حفاظت
نسبتِ رسول ﷺ کی حفاظت
خواب انسانی وجود کی وہ پراسرار سرحد ہے جہاں بیداری کے قوانین کچھ دیر کے لیے معطل دکھائی دیتے ہیں۔ جسم بستر پر ہوتا ہے اور شعور کبھی ماضی میں اتر جاتا ہے، کبھی ایسے لوگوں سے ملا دیتا ہے جو دنیا میں نہیں رہے، کبھی فاصلے مٹا دیتا ہے اور کبھی ایسی چیز دکھا دیتا ہے جس کا بیداری میں کوئی ظاہری امکان نظر نہیں آتا۔ اسی لیے خواب کو محض ذہنی انتشار کہہ کر نظر انداز کردینا انسانی تجربے کی ایک بڑی حقیقت سے آنکھیں چرانا ہے۔
اسلام نے بھی خواب کو معمولی نہیں سمجھا۔ قرآنِ مجید میں حضرت یوسفؑ، حضرت ابراہیمؑ اور عزیزِ مصر کے خواب محفوظ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی رؤیائے صالحہ کی اہمیت بیان فرمائی۔ مگر خواب کی اصل حساسیت وہاں شروع ہوتی ہے جہاں خواب دیکھنے والا یہ کہتا ہے
’’میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔‘‘
یہ بظاہر ایک شخص کا ذاتی تجربہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی نسبت جڑ جاتی ہے جس کی حفاظت اسلامی تہذیب میں ہمیشہ غیر معمولی اہمیت رکھتی رہی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے حقیقتاً مجھے دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔‘‘
صحیح بخاری کی یہ روایت رؤیتِ نبوی ﷺ کی خصوصی حیثیت کو واضح کرتی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کا دعویٰ کرنے والا شخص خواب میں سنی ہوئی ہر بات کو بیداری میں حدیثِ نبوی قرار دے سکتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی فرق ہے
رؤیت ایک شخصی تجربہ ہے؛ نسبتِ رسول ﷺ ایک دینی دعویٰ ہے۔
اور اسی فرق نے اسلامی علمی روایت میں احتیاط کو جنم دیا۔
نسبتِ رسول ﷺ معمولی نسبت نہیں
مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ سے منسوب اقوال کو اس قدر سنجیدگی سے لیا کہ حدیث کی حفاظت ایک مستقل علمی فن بن گئی۔ محدثین نے صرف یہ نہیں دیکھا کہ روایت اچھی اور بامعنی ہے یا نہیں؛ انہوں نے پوچھا: راوی کون ہے؟ کس سے روایت کرتا ہے؟ دونوں کی ملاقات ہوئی؟ راوی کا حافظہ کیسا تھا؟ اس کی دیانت کیا تھی؟ روایت کی دوسری اسناد کیا کہتی ہیں؟ متن دوسری روایات سے متصادم تو نہیں؟
یہاں تک کہ راویوں کی پیدائش و وفات، سفر، اساتذہ، شاگرد اور ملاقاتوں تک کا حساب رکھا گیا۔
یہ شک نہیں تھا؛ یہ نسبت کی حفاظت تھی۔
اور یہی اصول خواب پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
ایک شخص کہتا ہے، ’’میں نے خواب دیکھا۔‘‘ یہ اس کا تجربہ ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔‘‘ اب نسبت پیدا ہوگئی۔ پھر اگر وہ کہے، ’’رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا‘‘ تو بات مزید حساس ہوگئی، کیونکہ اب خواب ایک قولِ رسول ﷺ کی نسبت بن چکا ہے۔
یہیں سے سوال شروع ہوتا ہے: خواب کا ماخذ کیا ہے؟ روایت کب کی ہے؟ راوی کون ہے؟ کیا کوئی خارجی نشانی ہے؟ کوئی گواہ ہے؟ کیا اس کا کوئی مادی اثر بیداری میں ظاہر ہوا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا بیان کردہ بات قرآن و سنت کے خلاف تو نہیں؟
خوابوں کی تمام حکایات ایک درجے کی نہیں
صوفیانہ تذکروں اور کتبِ مناقب میں رسول اللہ ﷺ سے متعلق خوابوں کے کئی واقعات ملتے ہیں، مگر انہیں ایک ہی درجے میں رکھنا علمی احتیاط کے خلاف ہوگا۔
ایک قسم وہ ہے جس میں خواب میں ملنے والی مادی چیز بیداری میں بھی موجود پائی گئی۔
ابو الخیر الأقطع کے بارے میں روایت ہے کہ شدید فاقے کے زمانے میں خواب میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں روٹی عطا فرمائی۔ انہوں نے نصف کھائی اور بیدار ہوئے تو باقی نصف روٹی ہاتھ میں موجود تھی۔ اسی نوعیت کی حکایات ابن الجلاد اور محمد بن العلاء سے بھی منسوب ہیں۔
یہ واقعات اس لیے غیر معمولی ہیں کہ یہاں خواب اور بیداری کے درمیان محض معنوی تعلق نہیں، بلکہ مادی شے کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
دوسری قسم میں خواب میں ملنے والی چیز بیداری میں اسی جنس یا تعداد کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ سُدیر الصیرفی سے منسوب روایت میں خواب میں آٹھ رطب ملنے اور اگلے دن امام جعفر صادقؓ کے ہاں آٹھ رطب ملنے کا ذکر ہے۔ یہاں خواب کے وہی رطب بیداری میں آنے کا دعویٰ نہیں، بلکہ عدد اور جنس کی مطابقت ہے۔
ابو حبیب النباجی سے منسوب اٹھارہ کھجوروں کا واقعہ بھی اسی نوعیت کا ہے،
تیسری قسم میں خواب کی مادی چیز بیداری میں نہیں ملتی، لیکن خواب کے بعد جسمانی اثر ظاہر ہوتا ہے۔
قصیدۂ بردہ کے شاعر محمد بن سعید البوصیری کے بارے میں مشہور مناقبی روایت ہے کہ بیماری کے زمانے میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی مدح میں قصیدہ لکھا۔ خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوئی، آپ ﷺ نے ان کے چہرے پر دستِ مبارک پھیرا اور اپنی بردہ ان پر ڈال دی۔ بیدار ہوئے تو شفا پاچکے تھے۔
سعد الدین الفارقی سے منسوب روایت میں بھی خواب، بردہ اور آنکھوں کی شفا کا ذکر ملتا ہے۔
ان دونوں حضرات کاخعاب کے بعد صحت مند ہو جانا ۔ ان کے خواب کے نظر انے والے نتائج ہیں
ایک اور قسم میں خواب کا حسی اثر بیان ہوتا ہے، مثلاً کھجور کھانے کے خواب کے بعد بیداری میں اس کا ذائقہ محسوس ہونا۔ ایسی روایات میں مادی ثبوت اور مضبوط خارجی شہادت نہ ہونے کے باعث زیادہ احتیاط ضروری ہے۔
یوں خوابوں کے یہ واقعات چار سطحوں پر آتے ہیں:
مادی چیز کا بیداری میں موجود ہونا،
جنس یا تعداد کی مماثلت،
خواب کے بعد جسمانی اثر،
اور محض حسی مماثلت۔
ان سب کو ایک ہی درجہ دینا درست نہیں۔
نشانی خواب کو کہاں لے جاتی ہے؟
یہاں ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔
’’میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا‘‘ ایک شخص کا بیان ہے۔
لیکن اگر خواب کے بعد کوئی ایسی چیز سامنے آئے جسے دوسرے لوگ بھی دیکھ سکیں تو معاملے میں ایک خارجی قرینہ پیدا ہوجاتا ہے۔
ابو الخیر الأقطع کے ہاتھ میں روٹی، بعض روایات میں درہم کا بیداری میں موجود ہونا، سُدیر کے واقعے میں آٹھ رطب کی مطابقت اور بوصیری کے واقعے میں بیماری کے بعد شفا اسی لیے اہم ہیں کہ روایت نگار خواب کو کسی خارجی اثر کے ساتھ جوڑتا ہے۔
لیکن یہاں بھی ایک بنیادی اصول فراموش نہیں ہونا چاہیے:
نشانی روایت کو حیرت انگیز بناتی ہے؛ سند اسے تاریخی بناتی ہے۔
اور اگر کوئی خارجی واقعہ متعدد افراد نے دیکھا بھی ہو تو وہ صرف دعوے کے لیے ایک اضافی قرینہ پیدا کرتا ہے۔
اسلامی تہذیب نے رسول اللہ ﷺ کی نسبت کی حفاظت صرف حدیث میں نہیں کی۔ سیرت، شمائل، مناقب، کرامات اور خوابوں کے تذکروں میں بھی اہلِ علم نے ماخذ، زمانہ، راوی، سند، متن اور قرائن کو اہمیت دی۔
یقیناً حدیث، منقبت اور خواب ایک ہی درجے کے مصادر نہیں۔ حدیث کی حجیت اور خواب کی شخصی یا مناقبی حیثیت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لیکن ان سب کے درمیان ایک اخلاقی اصول مشترک ہے:
رسول اللہ ﷺ کی طرف کوئی بات منسوب ہو تو اسے بے احتیاطی سے آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔
یہاں شاید سب سے اہم بات یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھنا خود ایک دعویٰ ہوسکتا ہے، مگر آپ ﷺ کی طرف کسی بات کو منسوب کرنا ایک امانت ہے۔
اسی لیے اہلِ علم کسی خواب کو سن کر صرف یہ نہیں پوچھتے کہ ’’خواب کتنا خوبصورت تھا؟‘‘ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا ماخذ ہے، کیا قرینہ ہے، کوئی خارجی اثر ہے یا نہیں، کوئی گواہ ہے یا نہیں، اور بیان کردہ بات قرآن و سنت کے معیار پر پوری اترتی ہے یا نہیں۔
یہ حیل و حجت نہیں۔
یہ ادبِ نسبت ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ آپ ﷺ کی طرف منسوب ہر بات فوراً قبول کرلی جائے؛ محبت کا بلند تر تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کے نام سے کوئی ایسی بات آگے نہ بڑھے جو ثابت نہ ہو۔
خواب اپنی جگہ ایک راز ہے، روحانی تجربہ ہے، کبھی بشارت ہے اور کبھی انسان کے باطن کی ایک پراسرار کیفیت۔ لیکن نسبتِ رسول ﷺ ایک مقدس امانت ہے۔
اور امانت کا سب سے پہلا حق یہی ہے کہ اسے محبت سے قبول کرنے سے پہلے تحقیق سے محفوظ کیا جائے۔
جمعہ، 17 جولائی، 2026
تین چہرے ایک کہانی
تین چہرے، ایک کہانی
سیاست بھی کبھی کبھی فلم کی طرح ہوتی ہے۔ اس میں کردار بدلتے رہتے ہیں، مناظر تبدیل ہوتے ہیں، لیکن کہانی کے کچھ بنیادی عناصر ہمیشہ موجود رہتے ہیں: عوام کی امیدیں، تبدیلی کے خواب، طاقت کی کشمکش اور ایک ایسا مرکزی کردار جو پورے منظرنامے پر چھا جائے۔ اکیسویں صدی کی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ، عمران خان اور نریندر مودی ایسی ہی تین شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے ممالک میں سیاست کے روایتی انداز کو بدلنے کی کوشش کی۔
یہ تینوں رہنما مختلف ملکوں، مختلف ثقافتوں اور مختلف سیاسی روایات سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان کی سیاسی کہانی میں کچھ مشترک پہلو ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ ان سب نے اپنی سیاست کو ایک مضبوط شخصی شناخت کے ساتھ آگے بڑھایا اور اپنے حامیوں کے لیے محض ایک سیاست دان نہیں بلکہ ایک امید، ایک علامت اور ایک تحریک کی شکل اختیار کی۔
ٹرمپ کی سیاست کا مرکزی کردار خود ٹرمپ کی شخصیت رہی۔ انہوں نے امریکی سیاست میں ایک ایسا انداز متعارف کرایا جس میں روایتی سیاسی زبان کے بجائے براہِ راست گفتگو، سخت مؤقف اور جذباتی اپیل نمایاں تھی۔ انہوں نے واشنگٹن کے پرانے سیاسی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کا بیانیہ اختیار کیا اور خود کو عام امریکی شہری کی آواز کے طور پر پیش کیا۔
عمران خان کی سیاسی کہانی بھی ایک طویل جدوجہد کے بعد اقتدار تک پہنچنے کی داستان ہے۔ کرکٹ کے میدان سے سیاست کے ایوانوں تک ان کا سفر غیر معمولی رہا۔ انہوں نے اپنی سیاست کو تبدیلی، احتساب اور خود مختاری کے نعروں سے جوڑا۔ ان کے حامیوں کے نزدیک وہ پرانے سیاسی نظام کے مقابل ایک نئی امید تھے، جبکہ ناقدین ان کے سیاسی انداز کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔
نریندر مودی نے بھی بھارتی سیاست میں ایک مضبوط شخصی قیادت کا تصور پیش کیا۔ ایک عام پس منظر سے سیاسی سفر شروع کر کے وہ ملک کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچے۔ ان کی سیاست میں ترقی، قومی شناخت اور مضبوط قیادت کے تصورات نمایاں رہے۔ انہوں نے جدید ذرائع ابلاغ اور عوامی رابطے کے نئے طریقوں کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔
ان تینوں رہنماؤں کی ایک بڑی مشترک خصوصیت عوام سے براہِ راست تعلق قائم کرنے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے روایتی سیاسی ذرائع کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا، بڑے جلسوں اور عوامی خطابات کو اپنی سیاسی طاقت بنایا۔ آج کی دنیا میں جہاں ایک پیغام چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے، ان رہنماؤں نے اس تبدیلی کو سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا۔
ان کی سیاست میں ایک اور مماثلت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو روایتی سیاسی طبقے سے مختلف ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ٹرمپ نے امریکی سیاسی اشرافیہ پر تنقید کی، عمران خان نے پاکستان کے روایتی سیاسی خاندانوں کو چیلنج کیا، جبکہ مودی نے بھارت میں ایک نئے سیاسی تصور اور مضبوط قیادت کا بیانیہ پیش کیا۔
لیکن ہر بڑی کہانی کی طرح اس کہانی میں بھی اختلافات اور تنقید کے پہلو موجود ہیں۔ مخالفین کے مطابق شخصی سیاست کبھی کبھی اداروں اور اجتماعی نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ حامیوں کے نزدیک مضبوط شخصیت ہی بڑے فیصلے کرنے اور تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ٹرمپ، عمران خان اور مودی کی سیاست کا موازنہ دراصل تین افراد کا نہیں بلکہ جدید سیاسی دور کا مطالعہ ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں نظریات کے ساتھ شخصیت بھی سیاست کا طاقتور ذریعہ بن چکی ہے، جہاں جلسوں کے ساتھ سوشل میڈیا بھی میدانِ سیاست ہے، اور جہاں ایک رہنما کی آواز لاکھوں لوگوں کے جذبات کی ترجمانی بن سکتی ہے۔
تاریخ ان تینوں رہنماؤں کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر نہیں کرے گی کہ وہ کتنے مقبول تھے، بلکہ اس بنیاد پر بھی کرے گی کہ انہوں نے اپنے ممالک، اداروں اور معاشروں پر کیا اثرات چھوڑے۔ کیونکہ سیاست کے اس بڑے پردے پر کردار آتے جاتے رہتے ہیں، مگر کہانی کے اثرات طویل عرصے تک باقی رہتے ہیں۔
اتوار، 12 جولائی، 2026
جنگ سے بڑا زخم: تقسیم شدہ معاشرہ
ایران پر امریکی جارحیت
جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں، ان کے اثرات معاشروں کے اندر بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ میزائل عمارتوں کو گرا سکتے ہیں، بم انفراسٹرکچر کو تباہ کر سکتے ہیں، لیکن نفرت، عدم اعتماد اور معاشرتی تقسیم وہ زخم ہیں جو نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں ہمیشہ بیرونی حملوں سے نہیں ٹوٹتیں، بلکہ اکثر ان کا زوال اندرونی انتشار سے شروع ہوتا ہے۔
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ نے اس حقیقت کو ایک بار پھر نمایاں کیا ہے۔ دنیا کی توجہ عسکری کارروائیوں، فضائی حملوں اور دفاعی نظاموں پر مرکوز رہی، لیکن اس جنگ کا ایک اہم پہلو ایرانی معاشرے کا ردعمل تھا۔ ایران گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی اختلافات، معاشی دباؤ اور سماجی مباحث کا مرکز رہا ہے۔ مختلف طبقات حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے، احتجاجی تحریکیں بھی سامنے آئیں، لیکن جب بیرونی جارحیت کا سامنا ہوا تو معاشرے کے ایک بڑے حصے نے اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی سلامتی اور ریاستی بقا کو ترجیح دی۔
سیاسیات میں اس رجحان کو Rally Around the Flag Effect کہا جاتا ہے۔ یعنی جب کسی قوم کو بیرونی خطرہ درپیش ہو تو لوگ نظریاتی اور سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر قومی مفاد کے گرد متحد ہو جاتے ہیں۔ تاریخ میں برطانیہ، ویت نام اور سوویت یونین سمیت کئی ممالک میں یہ کیفیت دیکھی جا چکی ہے۔ ایران کی حالیہ صورتحال بھی اسی اصول کی عکاس ہے۔
اس موقع پر ابنِ خلدون کی فکر غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف مقدمہ میں "عصبیت" یا اجتماعی یکجہتی کو ریاستوں کی اصل طاقت قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق جب کسی معاشرے میں مشترکہ شناخت، باہمی اعتماد اور اجتماعی مقصد کا شعور موجود ہو تو وہ بڑے سے بڑے بحران کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ لیکن جب گروہی مفادات قومی مفاد پر غالب آ جائیں تو ریاست اندر سے کمزور ہونے لگتی ہے۔ ایران کا حالیہ تجربہ اسی نظریے کی ایک عملی مثال دکھائی دیتا ہے۔
اسی حقیقت کو علامہ محمد اقبال نے نہایت سادگی اور گہرائی کے ساتھ بیان کیا تھا:
"فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں"
اقبال کے نزدیک فرد کی اصل قوت اس کے اجتماعی وجود سے وابستہ ہے۔ جب افراد اپنی ذاتی وابستگیوں سے بلند ہو کر ایک بڑے قومی مقصد کا حصہ بن جاتے ہیں تو معاشرے میں استحکام پیدا ہوتا ہے اور قومی مزاحمت کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔
تاہم جنگ کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ جس طرح بعض اوقات بیرونی خطرات قوموں کو متحد کرتے ہیں، اسی طرح وہ معاشروں میں نفرت اور جذباتیت کو بھی ہوا دے سکتے ہیں۔ جب عالمی تنازعات مقامی سطح پر جذباتی نعروں میں تبدیل ہو جائیں تو عقل، برداشت اور مکالمے کی جگہ اشتعال اور انتقام لینے لگتے ہیں۔
جرمن سیاسی مفکرہ ہنّا آرنٹ نے اسی خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا:
"نفرت کا سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہے جب لوگ سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔"
ان کے نزدیک معاشروں کا اصل بحران اس وقت شروع ہوتا ہے جب لوگ حقائق کے بجائے جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگیں۔ جب تنقیدی سوچ ختم ہو جائے تو اختلافِ رائے دشمنی میں بدل جاتا ہے اور انسان مخالف نقطۂ نظر رکھنے والے کو محض ایک دشمن کے طور پر دیکھنے لگتا ہے۔
ہنّا آرنٹ کے اس خیال کی عملی توسیع والٹیر کے اس مشہور قول میں ملتی ہے:
"میں تمہاری رائے سے اتفاق نہیں کرتا، لیکن تمہیں وہ رائے رکھنے کے حق کا دفاع آخری دم تک کروں گا۔"
یہی وہ اصول ہے جس پر مہذب معاشرے استوار ہوتے ہیں۔ اختلاف کو برداشت کرنا طاقت کی علامت ہے، جبکہ اختلاف کو نفرت میں بدل دینا معاشرتی کمزوری کی نشانی ہے۔
بدقسمتی سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان میں پیش آنے والے بعض واقعات نے اسی کمزوری کی جھلک دکھائی۔ کراچی میں امریکی سفارتی تنصیبات کے گرد ہونے والے پرتشدد واقعات اور ان میں انسانی جانوں کا ضیاع اس بات کی یاد دہانی تھا کہ جب بین الاقوامی سیاست مذہبی جذبات کے ساتھ خلط ملط ہو جائے تو احتجاج اور تشدد کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ جاتا ہے۔ اسی طرح شمالی علاقوں اور سکردو میں رونما ہونے والے افسوسناک واقعات نے یہ سوال اٹھایا کہ ہزاروں میل دور ہونے والی جنگ کا ردعمل اپنے ہی معاشرے کے افراد کے خلاف کیوں ظاہر ہوتا ہے؟
یہ کوئی نئی صورتحال نہیں۔ 1947ء کی تقسیمِ ہند بھی اسی نفسیات کی ایک المناک مثال تھی۔ صدیوں سے ساتھ رہنے والے لوگ اچانک ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ مذہبی اور سیاسی جذبات نے عقل اور انسانیت کو پسِ پشت دھکیل دیا، اور نفرت نے ایسے زخم چھوڑے جن کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
پاکستان کے لیے اس پوری صورتحال میں ایک واضح سبق پوشیدہ ہے۔ ہماری اصل طاقت صرف عسکری صلاحیت نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی بھی ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں، مسالک اور سیاسی نظریات کا مجموعہ ہے۔ اگر یہ تنوع باہمی احترام اور قومی شعور کے ساتھ جڑا رہے تو یہی ہماری قوت بن جاتا ہے، لیکن اگر یہی اختلافات نفرت اور تقسیم میں بدل جائیں تو وہ کمزوری کا سبب بن سکتے ہیں۔
قومی سلامتی صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں، بلکہ دلوں اور ذہنوں کے درمیان موجود اعتماد کو برقرار رکھنے کا نام بھی ہے۔ دنیا کی طاقتیں ہمیشہ ان معاشروں کو آسان ہدف سمجھتی ہیں جو اندرونی طور پر منقسم ہوں۔ اس لیے ہر قوم کی پہلی ذمہ داری اپنی داخلی یکجہتی کو محفوظ رکھنا ہے۔
ایران کی حالیہ جنگ کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ ہتھیار ضروری ہیں، لیکن ان سے بھی زیادہ اہم قومی یکجہتی ہے۔ میزائل دشمن کے حملوں کو روک سکتے ہیں، مگر نفرت، تعصب اور داخلی انتشار کا مقابلہ صرف شعور، برداشت اور اجتماعی ذمہ داری سے کیا جا سکتا ہے۔
تاریخ کا فیصلہ واضح ہے: سرحدوں پر ہونے والی جنگیں ایک دن ختم ہو جاتی ہیں، لیکن معاشرتی تقسیم کے زخم نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی قوم کے لیے سب سے بڑی فتح صرف میدانِ جنگ میں کامیابی نہیں، بلکہ اپنے معاشرے کو نفرت سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ کیونکہ جنگ سے بڑا زخم دشمن کا حملہ نہیں، اپنے ہی معاشرے کا بکھر جانا ہے۔
منگل، 5 مئی، 2026
موبائل فون کا شعوری استعمال
اتوار، 26 اپریل، 2026
غصہ، موبائل اور 43 سیکنڈ
غصہ، موبائل اور 43 سیکنڈ
بدھ، 22 اپریل، 2026
اسلام آباد مذاکرات
مر جائے مگر میدان نہ چھوڑے
جمعہ، 17 اپریل، 2026
ناموں کا بدلتا معیار اور معاشرتی منافقت
ناموں کا بدلتا معیار اور معاشرتی منافقت
معاشرہ صرف قوانین، اداروں اور عمارتوں کا نام نہیں ہوتا بلکہ یہ رویّوں، ترجیحات اور اقدار کا مجموعہ ہوتا ہے۔ یہی اقدار کسی قوم کے اصل چہرے کی عکاسی کرتی ہیں۔ مگر جب یہی اقدار دولت اور غربت کے ترازو میں تولی جانے لگیں تو انصاف، عزت اور انسانیت سب کچھ مشکوک ہو جاتا ہے۔
یہ محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویّوں کا آئینہ ہے۔ یہی وہ سچ ہے جسے ہم ماننے سے کتراتے ہیں مگر روزمرہ زندگی میں اس پر عمل پیرا بھی رہتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں دولت صرف سہولت نہیں، شناخت بن چکی ہے۔ جس کے پاس دولت ہے، اس کے نام کے ساتھ احترام خود بخود جڑ جاتا ہے۔ وہی شخص اگر کل تک عام تھا تو آج "صاحب"، "جناب" اور "محترم" بن جاتا ہے۔ اس کی بات میں وزن آ جاتا ہے، اس کی خاموشی بھی معنی خیز سمجھی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کی غلطیاں بھی حکمت کے پردے میں چھپ جاتی ہیں۔
اس کے برعکس غربت صرف محرومی نہیں بلکہ ایک الزام بن جاتی ہے۔ غریب کا نام اس کی پہچان نہیں رہتا بلکہ اس کے لیے طعنہ بن جاتا ہے۔ اس کی عزت اس کی جیب کے ساتھ سکڑ جاتی ہے۔ اس کی محنت کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور اس کی خودداری کو تکبر سمجھ لیا جاتا ہے۔
یہ تضاد صرف زبان تک محدود نہیں بلکہ ہمارے رویّوں، فیصلوں اور ترجیحات میں بھی نمایاں ہے۔ ہم انصاف کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر انصاف دیتے وقت حیثیت کو دیکھتے ہیں۔ ہم مساوات کی بات تو کرتے ہیں مگر تعلقات بناتے وقت معیار بدل جاتے ہیں۔
اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے انسان کی قدر کو اس کے کردار، علم یا اخلاق کے بجائے اس کی مالی حیثیت سے جوڑ دیا ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ رہا ہے جہاں عزت خریدی جا سکتی ہے اور تذلیل مفت میں بانٹی جاتی ہے۔
یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ جب معاشرہ دولت کو معیارِ عزت بنا لیتا ہے تو پھر دیانت، محنت اور سچائی اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ لوگ اصولوں کی بجائے مفاد کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اخلاقی زوال کا آغاز ہوتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں اور یہ سوال کریں کہ ہم لوگوں کو کس بنیاد پر پرکھتے ہیں۔ کیا واقعی عزت کا تعلق دولت سے ہے؟ یا پھر ہم نے سہولت کے لیے ایک غلط معیار اختیار کر لیا ہے؟
ایک صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں انسان کو اس کے کردار سے پہچانا جائے، نہ کہ اس کی جیب سے۔ جہاں عزت کمائی جائے، خریدی نہ جائے۔ اور جہاں غربت جرم نہ ہو بلکہ ایک حالت سمجھی جائے جس کا حل تلاش کرنا اجتماعی ذمہ داری ہو۔
جب تک ہم اپنے رویّوں میں یہ تبدیلی نہیں لاتے، تب تک یہ کہاوت صرف الفاظ نہیں رہے گی بلکہ ہمارے معاشرے کی زندہ حقیقت بنی رہے گی—ایک ایسی حقیقت جو ہمیں آئینہ دکھاتی رہے گی، چاہے ہم آنکھیں بند ہی کیوں نہ کر لیں۔
جمعرات، 16 اپریل، 2026
امن کی آشا
امن کی آشا
آج کے نازک عالمی حالات میں اگر اسلام آباد میں ایران، امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو یہ محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ انسانیت کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے۔ یہ لمحہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ نہ امریکہ جیتا ہے، نہ اسرائیل—اگر کوئی جیتا ہے تو وہ امن ہے، اور اگر کوئی کامیاب ہوئی ہے تو وہ انسانیت ہے۔ شکست اگر کسی کو ہوئی ہے تو وہ جنونیت، جنگی بخار اور تباہی کو ہوئی ہے۔
جنگ کبھی بھی مسائل کا پائیدار حل نہیں رہی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر طویل جنگ اپنے پیچھے لاشیں، بربادی، معاشی زوال اور نفسیاتی صدمات چھوڑ جاتی ہے، اور آخرکار فریقین کو مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر (ویتنام جنگ) ایک طویل اور تباہ کن جنگ تھی، جس میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، مگر بالآخر(پیرس امن معاہدہ) کے ذریعے ہی جنگ بندی ممکن ہوئی۔ اسی طرح (سوویت-افغان جنگ) میں ایک دہائی تک جاری رہنے والی خونریزی کا خاتمہ بھی (جنیوا معاہدہ برائے افغانستان) جیسے مذاکراتی عمل سے ہوا۔
یہی حقیقت (شمالی آئرلینڈ کا تنازع) میں بھی نظر آتی ہے، جہاں دہائیوں کی بدامنی کے بعد (جمعہ عظیم امن معاہدہ) نے امن کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح (کولمبیا کا مسلح تنازع) کا خاتمہ بھی بندوق سے نہیں بلکہ (کولمبیا-فارق امن معاہدہ) کے ذریعے ممکن ہوا۔ یہ تمام مثالیں اس اصول کو ثابت کرتی ہیں کہ جنگ جتنی بھی طویل اور شدید کیوں نہ ہو، اس کا اختتام بالآخر مکالمے، مفاہمت اور سیاسی بصیرت پر ہی ہوتا ہے۔
اس تناظر میں اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات ایک ایسے موڑ کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں عقل، تدبر اور مکالمہ طاقت، غرور اور تصادم پر غالب آ سکتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اقوام اپنے اختلافات کو بندوق کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا عزم ظاہر کرتی ہیں۔
امن کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ کرتا ہے بلکہ معاشروں کو استحکام، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ جنگ جہاں نفرت کو جنم دیتی ہے، وہیں امن برداشت، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی جنگ مذہب کی جنگ نہیں ہوتی؛ دنیا کا ہر مذہب بنیادی طور پر انسان کے احترام، جان کے تحفظ اور عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔
ایران کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو چاہے نظامِ حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) ہوئی ہو یا نہیں، لیکن ایک حقیقت واضح ہے کہ سخت گیر طرزِ حکمرانی کی جگہ ایک نسبتاً سیاسی طور پر بالغ اور حقیقت پسندانہ رویہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی قیادت، خصوصاً اخلاقی اور عسکری سطح پر شدید تنقید اور سوالات کی زد میں آ چکی ہے، جبکہ یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ اسرائیل امریکی مدد اور سہارے کے بغیر اپنی جارحانہ پالیسی کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہے۔
جہاں تک جیت اور ہار کا تعلق ہے تو جنگوں میں اصل شکست عام انسان کی ہوتی ہے—وہی انسان جو اپنے گھر، اپنے پیاروں اور اپنے مستقبل سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیت اگر کسی کی ہوتی ہے تو وہ وقتی طاقت، سفاکیت اور بربریت کی ہوتی ہے، جو بالآخر خود اپنے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔
منگل، 14 اپریل، 2026
امن کی جیت
امن کی جیت
آج کے نازک عالمی حالات میں اسلام آباد میں ایران، امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی مذاکرات محض سفارتی پیش رفت نہیں، بلکہ انسانیت کے لیے امید کی روشن کرن ہیں۔ نہ امریکہ جیتا، نہ ایران—اصل فتح امن کی ہے، اور سرخرو انسانیت ہوئی ہے۔ شکست جنون، جنگی بخار اور تباہی کی ہے۔
آٹھ اپریل 2026 ایک یادگار دن کے طور پر ابھرا، جب انسانیت کے دل میں امن کے غالب آنے کی امید نے جنم لیا۔ عقل، تحمل اور مکالمے نے طاقت کے غرور کو پیچھے چھوڑ دیا، اور دنیا نے دیکھا کہ تباہی کے دہانے پر کھڑا انسان بھی دانش مندی سے تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگ مسائل کا مستقل حل نہیں۔ ویتنام جنگ، سوویت-افغان جنگ، شمالی آئرلینڈ کا تنازع اور کولمبیا کا مسلح تصادم سب مذاکرات اور امن معاہدوں کے ذریعے ختم ہوئے۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ دیرپا امن کا راستہ طاقت نہیں بلکہ مکالمہ، مفاہمت اور سیاسی بصیرت ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے پھر واضح کیا کہ جدید جنگیں صرف دو ریاستوں تک محدود نہیں، بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز پر بڑھتا ہوا تناؤ اور امریکی سخت مؤقف نے عالمی خوف اور غیر یقینی میں اضافہ کیا، مگر آخری لمحات میں جنگ بندی نے دنیا کو ممکنہ تباہی سے بچایا۔
اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات اسی دانش کا مظہر ہیں، جہاں اختلافات کو ہتھیاروں کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا عزم ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امن نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، بلکہ معاشرتی استحکام اور ترقی کی بنیاد بھی ہے۔
ایران میں سخت گیر طرزِ حکمرانی میں کمی اور اسرائیلی قیادت کے اخلاقی و عسکری تنقید کا سامنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جارحانہ پالیسی کے لیے امریکی حمایت لازمی ہے۔ آج کی جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ نفسیاتی، معاشی اور سفارتی محاذوں پر بھی لڑی جاتی ہیں، اور سب سے بڑا بوجھ عام انسان اٹھاتا ہے۔
جنگ کے نتائج تباہ کن ہوتے ہیں—جانوں کا ضیاع، معیشت کی تباہی اور سماجی بگاڑ۔ امن کے برعکس ترقی، استحکام اور انسانی وقار کی ضمانت دیتا ہے۔ بڑی طاقتیں اکثر حد سے تجاوز کر جاتی ہیں، مگر آخرکار سمجھ آتا ہے کہ امن کے ذریعے سب کچھ محفوظ رہتا ہے۔
یہ سارا منظرنامہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسانیت کی بقا طاقت کے بے لگام استعمال میں نہیں بلکہ اس کے ذمہ دارانہ کنٹرول میں ہے۔ ہتھیاروں کی چمک وقتی ہو سکتی ہے، مگر ایک اٹل سچ یہی ہے کہ دنیا میں سب سے خوبصورت شے امن ہے۔
Peace is far more beautiful than even the most beautiful armada.




