اتوار، 1 فروری، 2026

جیرڈ کشنر - خاموش مگر مؤثر کردار





جیرڈ کشنر - خاموش مگر مؤثر کردار

عالمی سیاست میں بعض کردار ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر پس منظر میں رہتے ہیں، مگر فیصلوں کی سمت انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ جیرڈ کشنر بھی اسی نوعیت کا کردار ہے۔ ایک رئیل اسٹیٹ سرمایہ کار سے لے کر امریکی خارجہ پالیسی کے اہم معمار تک، کشنر کا سفر محض ذاتی ترقی کی کہانی نہیں بلکہ طاقت، رشتوں اور نظریات کے گہرے امتزاج کی مثال ہے۔

جیرڈ کوری کشنر، 1981 میں پیدا ہوئے، تعلیم کے میدان میں ہارورڈ اور نیویارک یونیورسٹی جیسے اداروں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے خاندانی کاروبار کشنر کمپنیز کو سنبھالا اور بعد ازاں رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری کے جدید پلیٹ فارم 
Cadre
 کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کی اصل شناخت اس وقت ابھری جب وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد ہونے کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس کے سینئر ایڈوائزر بن گئے۔

ٹرمپ دور میں کشنر کو غیر معمولی اختیارات حاصل تھے۔ مشرقِ وسطیٰ پالیسی، امریکہ–اسرائیل تعلقات، ایران کے خلاف سخت مؤقف، اور نام نہاد امن منصوبے—سب میں کشنر مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ان کا نام بار بار اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ جڑتا ہے۔

یہ محض سفارتی تعلق نہیں تھا۔ نیتن یاہو اور کشنر خاندان کے درمیان تعلقات برسوں پر محیط ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنے ابتدائی امریکی دوروں کے دوران کشنر خاندان کے گھر قیام بھی کیا، جس سے جیرڈ کشنر کے ساتھ ذاتی قربت کم عمری ہی میں قائم ہو گئی۔ یہی ذاتی رشتہ بعد ازاں سیاسی ہم آہنگی میں بدل گیا۔

جیرڈ کشنر آرتھوڈوکس یہودی ہیں، اور اسرائیل سے ان کا تعلق محض سیاسی نہیں بلکہ مذہبی اور جذباتی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ دور میں امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا، سفارت خانہ منتقل کیا، اور ابراہیم معاہدوں کے ذریعے عرب دنیا میں اسرائیل کے لیے نئی راہیں ہموار کیں۔ ان تمام فیصلوں کے پیچھے کشنر کی سوچ اور نیتن یاہو کی حکمتِ عملی میں غیر معمولی مماثلت نظر آتی ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا کشنر ایک ثالث تھے یا فریق؟ ناقدین کے نزدیک وہ امریکی مفادات سے زیادہ اسرائیلی ترجیحات کے نمائندہ دکھائی دیتے ہیں، جبکہ حامی انہیں ایک “عملی مذاکرات کار” قرار دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جیرڈ کشنر نے طاقت کے ان مراکز تک رسائی حاصل کی جو اکثر روایتی سفارت کاروں کے لیے بھی خواب ہوتی ہے۔

آج جیرڈ کشنر بظاہر سیاست سے فاصلے پر ہیں، مگر ان کے اثرات اب بھی عالمی سیاست میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ جدید سیاست میں صرف عہدہ نہیں، رشتہ، شناخت اور نظریہ بھی فیصلہ کن طاقت رکھتے ہیں۔

جمعہ، 30 جنوری، 2026

اسرائیل کا مستقبل



اسرائیل کا مستقبل
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو اگر سادہ زبان میں سمجھا جائے تو یہ امریکہ اور ایران کے درمیان کھلی جنگ نہیں، بلکہ ایک منظم دباؤ کا مرحلہ ہے۔ اس مرحلے میں ہر طاقت یہ کوشش کر رہی ہے کہ وہ خود کو بچا لے، کم سے کم نقصان اٹھائے اور آنے والے نظام میں اپنی جگہ محفوظ کر لے۔ ایران اور خلیجی ریاستیں شاید یہ کھیل کسی نہ کسی طرح سنبھال لیں—مگر سوال یہ ہے کہ اسرائیل اس نئے منظرنامے میں کہاں کھڑا ہوگا؟
ایران اس دباؤ کو جنگ میں بدلنے کے بجائے محدود  ردِعمل کی حکمتِ عملی پر چل رہا ہے۔ وہ ایسا جواب دے رہا ہے جو اس کی طاقت بھی دکھائے اور مکمل تصادم سے بھی بچائے۔
ایران جانتا ہے کہ اس کا اصل ہدف حکومت کا تحفظ اور خطے میں اپنے اثر کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ ایسی جنگ جس سے وہ خود بھی ٹوٹ جائے۔ اسی لیے وہ ہرمز، توانائی، اڈوں اور اتحادی محاذوں کے ذریعے دباؤ بڑھاتا ہے مگر دروازہ بند نہیں کرتا۔
سعودی عرب، قطر اور عمان اس کشیدگی میں فریق بننے کے بجائے خود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کی اولین ترجیح ہے کہ تیل کی برآمدات، معیشت اور داخلی استحکام محفوظ رہے۔ اسی لیے وہ نہ کھل کر ایران کے خلاف کھڑے ہیں اور نہ اسرائیل کی جنگی مہم کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
یہ ریاستیں ثالثی، رابطوں اور توازن کے ذریعے وقت خرید رہی ہیں—اور بڑی حد تک کامیاب بھی دکھائی دیتی ہیں۔
مگر اسرائیل…؟
یہاں آ کر تصویر بدل جاتی ہے۔ اسرائیل کے پاس ایران یا خلیجی ریاستوں جیسی گنجائش نہیں۔
اسرائیل کا مسئلہ یہ ہے کہ 
(وہ سیاسی محاذ پر تہنا کھڑا ہے (یا اس کے ساتھ خطے کا وہ ملک ہے جس کی اپنی سیاسی حیثیت قابل ذکر بھی نہیں ہے ۔
اگر امریکہ پیچھے ہٹتا ہے اور خلیجی ریاستیں غیرجانبداری یا ثالثی کی راہ لیتی ہیں تو ایران کے ممکنہ ردِعمل کا قدرتی ہدف اسرائیل ہی بنتا ہے۔
اسرائیل نہ جغرافیائی طور پر بچ سکتا ہے، نہ سیاسی طور پر غیرجانبدار رہ سکتا ہے۔
ایران دباؤ بڑھانے کے لیے اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے کیونکہ اس سے عالمی توجہ بھی ملتی ہے اور امریکہ بھی کھنچتا ہے۔
اسرائیل کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ وہ نہ پوری جنگ جیت سکتا ہے اور نہ خود کو اس دائرے سے نکال سکتا ہے۔

خلیجی ریاستیں اب اسرائیل کو اپنے تحفظ کی ضمانت نہیں سمجھتیں بلکہ ایک خطرہ بننے والا فریق تصور کرنے لگی ہیں۔
ریاض، انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان ابھرتا ہوا محور اسرائیل کے لیے اس لیے خطرناک ہے کہ یہ نہ اس کے کنٹرول میں ہے اور نہ اس کے بیانیے کا حصہ۔
 ممکنہ نئے نظام میں  ایران اور خلیج کے لیے گنجائش نظر آتی ہے مگر اسرائیل کے لیے تنگ دائرہ
کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا
اگر موجودہ دباؤ کے بعد نیا علاقائی نظام بنتا ہے تو

ایران ایک “برداشت کرنے والی طاقت” کے طور پر اپنی جگہ بنا لے گا
خلیجی ریاستیں ثالث اور معاشی ستون بن سکتی ہیں،
مگر اسرائیل ایک ایسا سوالیہ نشان بن جائے گا جو نہ  جنگ جیتا، نہ امن کا معمار بن سکا۔
اسرائیل کے سامنے انتخاب محدود ہوتے جا رہے ہیں یا تو وہ مسلسل تصادم میں رہے، یا اپنے علاقائی کردار پر نظرِ ثانی کرے—جو اس کی موجودہ قیادت کے لیے سب سے مشکل راستہ ہے۔
ایران اور خلیجی ریاستیں شاید اس طوفان میں خود کو بچا لیں، مگر اسرائیل کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں۔
یہ بحران اس کی عسکری طاقت کا نہیں، بلکہ اس کی علاقائی حیثیت اور سیاسی بقا کا امتحان ہے۔
جب موجودہ بے یقینی کے بادل چھٹنے کے بعد سیاسی آسمان صاف ہو گا تو
 ایران اور خلیج سنبھل چکے ہوں گے—تو اسرائیل کہاں کھڑا ہوگا
اس کا جواب آنے والا وقت دے گا اور 
وقت
کے بارے میں 

 سینیکا  

نے کہا تھا

" وقت تیزی سے نہیں گزرتا، ہم اسے ضائع کر دیتے ہیں۔"

 

ابراہیم لنکن کی واپسی کا سوال



 ابراہیم لنکن کی  واپسی کا سوال

امریکی بحری بیڑا، جسے دنیا کا سب سے قدیم اور طاقتور بحری بیڑا سمجھا جاتا ہے، بمشرقِ وسطیٰ کے دروازے پر پہرہ دے رہا ہے۔ اس موجودگی کو کبھی عالمی امن، کبھی بحری تجارت کے تحفظ اور کبھی خطے کے استحکام کا نام دیا گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس پہرے کے پیچھے تیل، اثر و رسوخ اور عالمی بالادستی کی وہی پرانی جنگ چھپی ہوئی ہے۔ اسی طاقت کی سب سے نمایاں علامت امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہیم لنکن ہے، جو محض ایک جنگی جہاز نہیں بلکہ امریکی عسکری غرور اور ناقابلِ شکست ہونے کے دعوے کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔

جب ابراہیم لنکن جیسے جہاز مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں داخل ہوتے ہیں تو یہ صرف اسلحہ نہیں لاتے، بلکہ ایک واضح پیغام بھی دیتے ہیں کہ فیصلہ سازی اب بھی واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔ آبنائے ہرمز، خلیج اور بحیرۂ عرب میں امریکی بحری موجودگی دراصل اس یقین کی علامت رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی شہ رگ—تیل—پر کنٹرول برقرار رکھنا امریکی مفادات کے لیے ناگزیر ہے۔

لیکن آج کا مشرقِ وسطیٰ وہ نہیں رہا جو ماضی میں تھا۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے، اور وہ قوتیں جو کبھی دفاعی پوزیشن میں تھیں، اب کھلے عام مزاحمت کا اعلان کر رہی ہیں۔ اسی پس منظر میں ایران کا وہ بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے جس میں کہا گیا: “ہم تیار ہیں، اور ہماری انگلی ٹرگر پر ہے۔” یہ محض ایک عسکری دھمکی نہیں بلکہ ایک ایسا جملہ ہے جس نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

دنیا حیرت اور خوف کے امتزاج میں یہ سوال کر رہی ہے کہ وہ انگلی کس بندوق کے ٹرگر پر ہے؟ کیا یہ عام اسلحہ ہے، یا پھر وہ بندوق ہے جس میں پہلے ہی “نیوکلیائی گولی” بھری جا چکی ہے؟ اگرچہ اس سوال کا براہِ راست جواب کسی کے پاس نہیں، مگر حالات، بیانات اور زمینی حقائق یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اس بار معاملہ معمول کا نہیں۔ آثار بتاتے ہیں کہ اس دفعہ بندوق عام نہیں ہے، اور یہی غیر یقینی کیفیت عالمی طاقتوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امریکی رویے میں بھی ایک نمایاں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ وہ امریکہ جو کبھی طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرتا تھا، آج سفارت کاری، ثالثی اور “ڈی ایسکلیشن” کی زبان بولنے پر مجبور نظر آتا ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق واشنگٹن اب کسی کھلے تصادم کے بجائے واپسی کا ایک باعزت راستہ تلاش کر رہا ہے—ایسا راستہ جس میں نہ شکست کا اعتراف ہو اور نہ ہی طاقت کے تصور کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے۔

اگر ابراہیم لنکن جیسے طیارہ بردار جہاز کو کسی حقیقی خطرے کا سامنا ہوا تو یہ صرف ایک فوجی نقصان نہیں ہوگا، بلکہ امریکی بالادستی کے بیانیے پر کاری ضرب ہوگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگے، تو زوال کا سفر وہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔

یوں ابراہیم لنکن کی کہانی اب صرف امریکی فخر کی داستان نہیں رہی، بلکہ یہ اس عالمی سوال کی علامت بن چکی ہے کہ کیا طاقت کے سائے میں دنیا کو ہمیشہ قابو میں رکھا جا سکتا ہے؟ یا پھر مشرقِ وسطیٰ کی یہ کشیدگی اس حقیقت کو آشکار کرنے جا رہی ہے کہ بعض اوقات سب سے بڑی کامیابی، بروقت اور باعزت واپسی ہوتی ہے۔

بدھ، 28 جنوری، 2026

جنگ یا سیاسی زلزلہ



 اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو یہ محض دو ریاستوں کے درمیان عسکری تصادم نہیں ہوگا، بلکہ ایک سیاسی زلزلہ ہوگا جس

 کے جھٹکے پورے خطے اور عالمی نظامِ معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔ اس جنگ میں پہلا نشانہ محاذ نہیں، بلکہ وہ توانائی کا نظام ہوگا جس پر جدید دنیا کی سیاست اور معیشت کھڑی ہے۔ تیل یہاں جنس نہیں رہے گا، بلکہ فیصلہ کن ہتھیار بن جائے گا۔

جنگ کے ابتدائی دنوں میں منظر ایران کی سرحدوں سے کہیں آگے پھیلا ہوا ہوگا۔ خلیجِ فارس میں آبنائے ہرمز پر صرف کشیدگی کی خبر ہی عالمی منڈیوں کو لرزا دے گی۔ جہازوں کی انشورنس مہنگی ہو جائے گی، سپلائی سست پڑ جائے گی اور قیمتیں کسی میزائل کے بغیر آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔ باب المندب میں یمنی دباؤ سمندری تجارت کو ایک اور محاذ پر الجھا دے گا، جہاں گولی چلائے بغیر راستے بند ہونے لگیں گے۔

اردن میں منظر مختلف مگر اتنا ہی سنگین ہوگا۔ عقبہ بندرگاہ پر ہر کنٹینر ایک سوال بن جائے گا اور ہر ریفائنری ایک سیاسی پیغام۔ ایک کمزور معیشت پر دباؤ دراصل واشنگٹن کے لیے یہ اعلان ہوگا کہ جنگ کو “کنٹرولڈ” رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔

متحدہ عرب امارات میں جنگ کی آواز دھماکوں سے نہیں بلکہ اسکرینوں پر نظر آئے گی۔ فجیرہ اور جبلِ علی میں ٹینکرز رکے کھڑے ہوں گے، سرمایہ دارانہ اعتماد متزلزل ہوگا اور عالمی منڈیاں خوف میں مبتلا ہوں گی۔ یہاں ایک دھمکی بھی حملے کے برابر اثر رکھتی ہے۔

قفقاز میں آذربائیجان کا منظر خاموش مگر خطرناک ہوگا۔ باکو–تبلیسی–جےحان پائپ لائن پر ہر سینسر، ہر والو سیاسی دباؤ کا مرکز بن جائے گا۔ یورپ کو پیغام ملے گا کہ یہ جنگ صرف مشرقِ وسطیٰ کی نہیں، بلکہ اس کی توانائی سلامتی کی بھی جنگ ہے۔

بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کی موجودگی ایک علامت سے سوال بن جائے گی۔ اگر یہاں عدم استحکام پیدا ہوا تو خلیج میں امریکی کنٹرول کا تصور کمزور پڑ جائے گا، اور یہی سب سے بڑا سیاسی نقصان ہوگا۔

اور اسرائیل میں منظر سب سے زیادہ نازک ہوگا۔ ڈی سیلینیشن پلانٹس کے گرد حفاظتی اقدامات بڑھیں گے، پانی ذخیرہ کیا جائے گا اور شہری زندگی غیر یقینی کیفیت میں داخل ہو جائے گی۔ یہاں جنگ کا مطلب صرف میزائل نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا بحران ہوگا۔

یہی وہ لمحہ ہوگا جب واضح ہو جائے گا کہ تیل میزائل سے زیادہ خطرناک کیوں ہے۔ میزائل ایک شہر کو نشانہ بناتا ہے، مگر توانائی پوری دنیا کو یرغمال بنا لیتی ہے۔ منڈیاں خوف سے چلتی ہیں اور اس جنگ میں خوف کا نام ہے: توانائی کی عدمِ استحکام۔

اگر ایران کو دیوار سے لگایا گیا تو وہ براہِ راست محاذ سے زیادہ ان جگہوں کو نشانہ بنائے گا جہاں دشمن کی سیاسی اور معاشی سانس چلتی ہے۔ اس کے لیے قبضہ ضروری نہیں، صرف اعتماد توڑنا کافی ہوگا۔

یہ جنگ دارالحکومتوں کی فتح و شکست کا معاملہ نہیں ہوگی، بلکہ تیل کی راہوں، سمندری گذرگاہوں اور توانائی کے مراکز پر سیاسی غلبے کی جنگ ہوگی۔ مشرقِ وسطیٰ میں جو ان راستوں کو کنٹرول کرتا ہے، وہی جنگ ہی نہیں، دنیا کی سیاست کی رفتار بھی طے کرتا ہے۔

کھیل ختم



کھیل ختم
جب سیاسی دباؤ معمول بن جائے، معاشی راستے بند کیے جائیں،
اور سماجی سطح پر کسی قوم کو مسلسل غیر متعلق ثابت کیا جائے—
تو مایوسی پیدا ہونا فطری ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ یہی مایوسی جب شعور میں بدلتی ہے تو خاموشی نہیں رہتی، وہ فیصلہ بن جاتی ہے۔
آج عالمی منظرنامہ اسی تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
طاقت، قانون اور انسانی حقوق کے نام پر قائم نظام
اپنی اخلاقی بنیاد کھو چکا ہے۔
یورپی یونین کا امریکہ کے ساتھ بڑے تجارتی معاہدوں کو معطل کرنا
اس بات کا عندیہ ہے کہ عالمی سیاست اب یکطرفہ فیصلوں کو پہلے کی طرح قبول نہیں کر رہی۔
اسی بکھرتے نظام کی سب سے نمایاں مثال اقوامِ متحدہ کی غیر فعالیت ہے۔ فلسطین کے معاملے پر درجنوں قراردادیں موجود ہیں، کشمیر کا مسئلہ بھی دہائیوں سے اسی سرد خانے میں پڑا ہے۔ یہی بے عملی مظلوم اقوام کو
متبادل راستے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
جب ظلم مستقل صورت اختیار کرے تو ردِعمل ناگزیر ہو جاتا ہے۔ فلسطین کے امن پسند اور نہتے عوام اسی ردِعمل کی علامت ہیں۔ وہ عسکری لحاظ سے کمزور ہیں، مگر انکار کی قوت رکھتے ہیں—
اور تاریخ میں اکثر یہی قوت طاقت کے توازن کو بدل دیتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اور اس کے گرد و نواح میں شام، لبنان، لیبیا اور عراق کی مثالیں سامنے ہیں۔ ایک ایک خطہ عدم استحکام کا شکار ہوا، اور باقی اقوام یہ سمجھتی رہیں کہ خاموش رہ کر خود کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
لیکن وقت نے ثابت کیا کہ خاموشی تحفظ کی ضمانت نہیں بنتی۔
برسوں سے پاکستان کو براہِ راست اور بالواسطہ جارحیت کا سامنا ہے۔
سرحدی کشیدگی، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی، سفارتی دباؤ، اور داخلی عدم استحکام کو ہوا دینے کی کوششیں—یہ سب ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیںجس کے ذریعے ایک ریاست کو کمزور رکھنے کی سعی کی جاتی ہے۔
یہ صورتِ حال بھی اسی حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ مظلوم اقوام کو درپیش چیلنج علاقائی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کا ہے۔
یمن اور شام جیسے محاذوں پر غیر متوازن جنگ کے باوجود مزاحمت کا مکمل خاتمہ ممکن نہ ہو سکا۔ یہ محض عسکری کامیابیاں نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ فیصلہ کن عنصر ہتھیار نہیں، بلکہ ارادہ ہوتا ہے۔
اسی اصول کو 1987 کے سعودی واقعے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اس سال سعودی عرب نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے
ایسٹ ونڈ میزائل ریاض کے جنوب میں نصب ہوئے اور اسرائیل نے ان پر حملے پر غور شروع ہوا۔ مگر سعودی قیادت کے غیر مبہم مؤقف اسرائیل کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر گیا۔
جب ریاستیں خوف کے بجائے کر گذرنے کا ارادہ کر لیں تو طاقت کا رخ بدل جاتا ہے۔ پاکستان کا معرکہ حق اس کی عملی مثال ہے
غزہ کے امن پسند اور نہتے لوگوں نے ،چال قائم کی اور آج ایران دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقتوں کے سامنے ڈٹا ہوا ہے ۔ اس لیے نہیں کہ وہ طاقتور ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ مزید خاموش رہنے کو اپنی موت کے برابر سمجھتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ یہ راستہ کتنا مشکل ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے علاوہ کوئی راستہ باقی رہ گیا تھا؟
آخر میں ایک بات واضح رہنی چاہیے: مایوسی سے منع کیا گیا ہے۔مایوسی جمود پیدا کرتی ہے، جبکہ امید حرکت کو جنم دیتی ہے۔آج جو تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں وہ کسی فوری فتح کا اعلان نہیں، مگر یہ ضرور بتاتی ہیں کہ سمت درست ہو چکی ہے۔
پر امید رہیں—اب منزل زیادہ دور نہیں ہے۔

منگل، 27 جنوری، 2026

دشمنی سے محبت تک







دشمنی سے محبت تک 

یومِ حنین اسلامی تاریخ کا وہ دن ہے جب میدانِ جنگ صرف تلواروں سے نہیں بلکہ دلوں کے اندر بھی برپا تھا۔ اسی دن ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو انسان کے باطن میں ایمان کے انقلاب کی سب سے روشن مثال بن گیا۔

شیبہ بن عثمان خود بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسولِ اکرم ﷺ کو اس دن تنہا دیکھا۔ یہ تنہائی محض ظاہری تھی، مگر شیبہ کی نگاہ میں یہی لمحہ انتقام کا سنہری موقع تھا۔ ان کے ذہن میں اپنے باپ اور چچا کی یاد تازہ ہوئی—وہ دونوں جو علیؓ اور حمزہؓ کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ دل میں دفن کی ہوئی دشمنی نے سر اٹھایا اور شیطان نے سرگوشی کی: آج بدلہ لینے کا دن ہے۔

شیبہ نے دائیں جانب سے بڑھنے کا سوچا تو عباسؓ نظر آئے—رسول ﷺ کے چچا۔ دل نے گواہی دی کہ یہ شخص آخری سانس تک ساتھ چھوڑنے والا نہیں۔ بائیں جانب سے حملے کا خیال آیا تو ابوسفیان بن حارثؓ دکھائی دیے—چچا زاد بھائی، وہ بھی وفاداری کی دیوار۔ آخر پشت سے حملہ کرنے کا ارادہ کیا، مگر جیسے ہی قریب پہنچے، اچانک ان کے اور رسول ﷺ کے درمیان آگ کے شعلے حائل ہو گئے۔ یہ شعلے تیز بھی تھے اور روشن بھی—آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے، قدموں کو جکڑ دینے والے۔

اسی لمحے وہ ہوا جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے التفات فرمایا اور نام لے کر پکارا:
“اے شیبہ، میرے قریب آؤ۔”
پھر دعا فرمائی:
“اے اللہ! شیبہ سے شیطان کو دور فرما دے۔”

یہ الفاظ تلوار سے زیادہ کاٹ دار ثابت ہوئے۔ شیبہ کہتے ہیں کہ میں نے آنکھ اٹھا کر حضور ﷺ کو دیکھا تو وہ مجھے اپنی آنکھوں، کانوں اور جان سے بھی زیادہ عزیز ہو گئے۔ دشمنی پگھل چکی تھی، نفرت ایمان میں بدل چکی تھی، اور انتقام محبت کے سامنے ہار چکا تھا۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ صرف جسمانی جنگ نہیں لڑتے تھے، وہ دلوں کی جنگ بھی جیتتے تھے۔ آپ ﷺ کی قوت تلوار میں نہیں، دعا میں تھی۔ آپ ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ یہی تھا کہ دشمنوں کو دوست، قاتلانہ ارادوں کو وفاداری، اور اندھی نفرت کو زندہ ایمان میں بدل دیتے تھے۔

شیبہ بن عثمان کا یہ بیان—جو انہوں نے عبداللہ بن عباسؓ کے غلام عکرمہ کو سنایا—گواہ ہے کہ جب رحمتِ محمدی ﷺ کسی دل کو چھو لے، تو وہاں شیطان کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔

خوش فہمیاں اور بدلتا ہوا خطہ



خوش فہمیاں اور بدلتا ہوا خطہ
ٹرمپ کے ذریعے ایران کو گرانے کے خواب دیکھنے والے صہیونی حلقے دراصل وہی ہیں جنہوں نے اس سے پہلے یمنی فوج کے خاتمے پر امیدیں باندھ رکھی تھیں۔ یہ وہی پرانی شرط ہے، وہی پرانا اندازِ فکر اور وہی غلط اندازے—بس میدان بدل گیا ہے، کردار وہی ہیں اور انجام بھی کم و بیش وہی دکھائی دیتا ہے۔
اس وقت خواہش یہ تھی کہ یمنی فوج کو فیصلہ کن شکست دی جائے، غزہ کے حق میں یمن کی بحری عسکری کارروائیوں کو روکا جائے، باب المندب میں یمنیوں کے قائم کردہ محاصرے کو توڑا جائے، صہیونی ریاست کی گہرائی تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا خاتمہ کیا جائے، اور اس علاقائی اتحاد—جس میں امارات اور اسرائیل شامل تھے—کو گزشتہ دس برسوں کی ناکامیوں اور ذلت آمیز شکستوں کا بدلہ دلایا جائے۔ یہ صرف ایک عسکری منصوبہ نہیں تھا بلکہ ساکھ، غرور اور برتری کی بحالی کا خواب تھا۔
اسی لیے سب کی نظریں ڈونلڈ ٹرمپ پر مرکوز تھیں۔ بائیڈن کے برعکس ٹرمپ کو ایک جری، سخت گیر اور جارح رہنما سمجھا جاتا تھا۔ بائیڈن کو برطانیہ کے ساتھ مل کر یمن کے خلاف ناکام فوجی مہم پر تنقید کا سامنا رہا، جبکہ ٹرمپ سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ آ کر طاقت کے بل پر پورا منظرنامہ بدل دے گا۔
اسی تناظر میں امریکی انتظامیہ نے ایک فوجی وفد اسرائیلی نمائندوں کے ہمراہ ریاض بھیجا تاکہ سعودی اور اماراتی نظاموں کو دوبارہ جنگ میں جھونکنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ ابتدا میں عرب اور اسلامی عوامی رائے عامہ کا حوالہ دے کر انکار کیا گیا، کیونکہ یمنی مزاحمت کو خطے میں غیر معمولی اخلاقی اور عوامی تائید حاصل تھی۔ مگر امریکی دباؤ کے بعد ایک شرط رکھ دی گئی: اگر امریکہ ساٹھ دن کے اندر یمنی فوج کی اعلیٰ قیادت کو ختم کر دے، میزائل خطرے کو مکمل طور پر بے اثر کر دے اور یمنی عسکری صلاحیت کو مٹا دے، تو وہ باضابطہ طور پر امریکی کیمپ میں شامل ہو جائیں گے۔
ٹرمپ کی مکار اور متکبر شخصیت پر ان کا اندازہ بظاہر درست ثابت ہوا۔ چند ہی مہینوں میں اس نے یمن کے خلاف فوجی مہم دوگنی کرنے کا اعلان کیا، یمنی افواج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی دھمکیاں دیں، اضافی طیارہ بردار بحری جہاز، اسٹریٹجک بمبار، ایٹمی آبدوزیں اور جدید اسٹیلتھ طیارے تعینات کر دیے۔
وہ اسلحہ میدان میں اتارا گیا جو امریکہ عموماً باقاعدہ ریاستوں اور منظم افواج کے خلاف استعمال کرتا ہے، نہ کہ ایسے ملک کے خلاف جو دس برس سے محاصرے میں ہو۔ بحرِ عرب، بحرِ احمر اور بحرِ ہند تک امریکی عسکری قوت پھیلا دی گئی، اس خوش فہمی میں کہ یمن کو کچل کر ایک فیصلہ کن فتح حاصل کر لی جائے گی اور بائیڈن کو کمزور اور ناکام ثابت کیا جا سکے گا۔
امریکی اسٹریٹجک بمبار، اسٹیلتھ طیارے اور فضائی ایندھن بردار جہاز یمن کی فضاؤں میں داخل ہوئے۔ ایٹمی آبدوزوں اور بحری بیڑوں نے ٹوماہاک میزائلوں سے شدید بمباری کی۔ زیرِ زمین اہداف کو تباہ کرنے والے دنیا کے طاقتور ترین بم یمن کے پہاڑوں اور شہروں پر برسائے گئے۔ ٹرمپ خود سوشل میڈیا پر ان مناظر کو طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کرتا رہا۔
مگر دن گزرتے گئے اور زمینی حقیقت نہ بدلی۔ سمندر بدستور بند رہا، صہیونی ریاست کی طرف میزائل اور ڈرون حملے جاری رہے۔ اس کے برعکس امریکی افواج اس وقت ششدر رہ گئیں جب یمنی بحری اور بیلسٹک میزائلوں، اور درجنوں ڈرونز نے بحرِ عرب اور بحرِ احمر میں موجود طیارہ بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔ شدید بمباری کے باوجود امریکی ساختہ جدید ڈرون بڑی تعداد میں مار گرائے گئے۔
پھر یمنیوں نے ایک اور حیران کن قدم اٹھایا۔ جدید فضائی دفاعی نظام استعمال کرتے ہوئے انہوں نے امریکی اسٹیلتھ بمباروں اور F-35 طیاروں کو خطرے میں ڈال دیا۔ امریکیوں کو قیمتی بمبار ہٹانا پڑے۔ بعدازاں بحریہ کے F-18 سپر ہارنیٹ طیاروں کی تباہی سامنے آئی، جسے چھپانے کے لیے کمزور اور غیر قائل وضاحتیں پیش کی گئیں۔
تقریباً پچاس دن کی شدید اور بے نتیجہ جنگ کے بعد ٹرمپ نے سلطنتِ عمان سے مداخلت کی درخواست کی۔ یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے کی خواہش ظاہر کی گئی، اس شرط کے ساتھ کہ یمنی امریکی جہازوں کو نشانہ نہ بنائیں اور امریکہ بمباری روک دے۔ اس کے باوجود یمنی فوج نے صہیونی ریاست کے خلاف بحری محاصرہ اور فضائی کارروائیاں جاری رکھیں۔
دنیا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز شکست کے ساتھ واپس لوٹ گئے۔ یوں دہائیوں سے قائم امریکی بحری برتری کا افسانہ ٹوٹ گیا۔ صہیونی ریاست تنہا رہ گئی، جبکہ یمنیوں نے محاصرے اور بھاری نقصانات کے باوجود آخری دم تک مزاحمت جاری رکھی۔
آج حقیقت یہ ہے کہ یمن ایک اسٹریٹجک علاقائی طاقت بن چکا ہے۔ برسوں سے لگائی گئی شرط ہار چکی ہے، اور اب یمن سے برابری اور احترام کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ہتھیار یا دباؤ ہو جو ان کے خلاف آزمایا نہ جا چکا ہو۔
سوال یہ ہے کہ جب دنیا کی سب سے بڑی جنگی مشین یمنیوں کو ختم نہ کر سکی تو اب ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے نعرے کس بنیاد پر لگائے جا رہے ہیں؟ کیا ایران یمن سے بھی کمزور ہے؟ امریکہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے بہت کچھ کر سکتا ہے، مگر نہ وہ ایران کو مٹا سکے گا اور نہ اس کی حکومت گرا سکے گا۔ ایران اور وینزویلا میں وہی فرق ہے جو گرین لینڈ اور مشرقِ وسطیٰ میں ہے—جغرافیہ، تاریخ اور طاقت کے توازن کو نعروں سے نہیں بدلا جا سکتا۔

دربار کے اصول





دربار کے اصول


اگر یہ کہاوت درست ہے کہ قومیں اپنے حکمرانوں کے نقشِ قدم پر چلتی ہیں، تو پھر یہ حقیقت بھی ماننا پڑے گی کہ کمزور ریاستوں کے حکمران ہمیشہ طاقتور ریاستوں کے اشاروں کے محتاج ہوتے ہیں۔ اقتدار کی اصل قوت اکثر توپ و تفنگ میں نہیں، بلکہ علامتوں کے دبیز پردوں میں چھپی ہوتی ہے۔ کبھی ایک خط، کبھی ایک مہر، کبھی ایک فون کال اور کبھی محض ایک نام—یہ سب بعض اوقات میزائلوں اور بموں سے زیادہ کاری ثابت ہوتے ہیں۔
تاریخ اس نفسیاتی طاقت کی گواہ ہے۔ 1709ء میں جنگِ پولتاوا میں روس کے ہاتھوں شکست کے بعد سویڈن کے بادشاہ چارلس بارہویں کی غیر موجودگی میں اندرونی قوتوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ تخت سے محروم بادشاہ فریاد لے کر عثمانی سلطان احمد ثالث کے دربار میں پہنچا۔ سلطان نے صرف ایک مختصر تحریر دی جو "سلطانی مہر "  زدہ تھی۔ اس مہرکے وقار اور رعب نے اقتدار پر قابض قوتوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
صدیاں گزر گئیں، سلطنتیں بدل گئیں، مگر اقتدار کی نفسیات وہی رہیں۔ آج ترک سلطان کی جگہ امریکہ کا صدر اس مقام پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں ایک جملہ، ایک اشارہ، یا حتیٰ کہ خاموشی بھی دور رس نتائج پیدا کر دیتی ہے۔
 ٹرمپ کے سابقہ دور میں ، اقوام متحدہ کی قرارداوں کے برعکس  اقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت  کہا گئا تو دنیا کی  خاموشی بے خبری نہیں  بلکہ طاقتور کی ناراضگی کا اندیشہ تھا جو  داخلی انتشار، معاشی دباؤ اور عالمی تنہائی کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔
اسی خوف کی جھلک ہمیں بعض ریاستوں کی خارجہ پالیسی میں اچانک موڑ، بڑے اسلحہ معاہدوں قیمتی تحائف اور نئی علاقائی صف بندیوں میں دکھائی دیتی ہے۔ یورپ میں نیٹو کے معاملے پر ٹرمپ کے سخت مؤقف کے بعد کئی ممالک کا دفاعی اخراجات بڑھانے کا فیصلہ بھی کسی اخلاقی بیداری کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ طاقتور  کی ناراضگی سے بچنے کی عملی تدبیر تھی۔
لاطینی امریکہ میں اقتصادی پابندیاں اور سیاسی دباؤ کئی حکومتوں کی داخلی سمت متعین کرتے رہے۔ یہی طاقت کا وہ کرشمہ ہے جس کے باعث جدید عالمی سیاست قرونِ وسطیٰ کی تمثیل سے جا ملتی ہے—فرق صرف اتنا ہے کہ آج فرمان مہر سے نہیں، ٹوئٹ سے صادر ہوتا ہے، اور دربار کی جگہ عالمی میڈیا نے لے لی ہے۔

سائنسی ترقی اور احادیثِ نبوی ﷺ کی صداقت

 

جدید دور، سائنسی ترقی اور احادیثِ نبوی ﷺ کی صداقت

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ بہت سی باتیں جو ماضی میں محض روایات، غیبی خبریں یا ناقابلِ فہم تصورات سمجھی جاتی تھیں، آج سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کی بدولت حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جن امور پر کبھی اندھا یقین سمجھا جاتا تھا، آج وہ انسانی تجربے اور مشاہدے کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس تناظر میں اسلامی تعلیمات اور بالخصوص احادیثِ نبوی ﷺ پر غور کیا جائے تو ان کی صداقت وقت گزرنے کے ساتھ مزید واضح ہوتی چلی جا رہی ہے۔

اسلامی عقیدے کے مطابق ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہیں جو اس کے ہر قول اور ہر عمل کو لکھ رہے ہیں۔ ایک دائیں طرف نیک اعمال لکھنے والا اور دوسرا بائیں طرف برے اعمال درج کرنے والا۔ آج سے پچاس یا سو سال پہلے تک یہ بات محض ایک ایمانی عقیدہ سمجھی جاتی تھی۔ لوگ بغیر کسی مادی دلیل کے اس پر یقین رکھتے تھے، کیونکہ یہ بات حواسِ خمسہ کی گرفت میں نہیں آتی تھی۔ مگر آج کے انسان کو اگر اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالنے کی دعوت دی جائے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ تصور اب اجنبی نہیں رہا۔

آج انسان کے ہر عمل، ہر حرکت اور حتیٰ کہ ہر آواز کو محفوظ کرنے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔ موبائل فون، سی سی ٹی وی کیمرے، ڈیجیٹل ریکارڈرز، سمارٹ واچز اور انٹرنیٹ سے جڑے آلات مسلسل انسان کی نگرانی کر رہے ہیں۔ کسی نے کہا تھا کہ انسان اب کبھی تنہا نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے ساتھ اس کا ڈیجیٹل سایہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان کے بنائے ہوئے آلات یہ سب کچھ محفوظ کر سکتے ہیں، تو پھر اللہ کے مقرر کردہ فرشتوں کا انسان کے اعمال لکھنا کیوں ناقابلِ یقین سمجھا جائے؟

یہی بات انسانی آوازوں اور اعمال کے بارے میں بھی صادق آتی ہے۔ ماضی میں یہ تصور کہ کسی انسان کی آواز کو محفوظ کر کے بعد میں بالکل اسی طرح سنا جا سکے، ایک عجیب و غریب خیال تھا۔ آج صوتی ریکارڈنگ، وائس اسسٹنٹس، اور مصنوعی ذہانت (AI) نہ صرف آواز محفوظ کرتی ہے بلکہ اسے پہچانتی، تجزیہ کرتی اور حتیٰ کہ نقل بھی کر لیتی ہے۔ عدالتوں میں آج بھی آواز کو بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آواز بھی ایک قابلِ ریکارڈ اور قابلِ تجزیہ شے ہے۔

اسی طرح زبانوں کے فرق کا مسئلہ ماضی میں انسان کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تھا۔ مختلف قوموں اور ملکوں کے درمیان رابطے کے لیے ترجمانوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ سفارتی ملاقاتیں، تجارتی معاہدے اور علمی تبادلے مترجمین کے بغیر ناممکن سمجھے جاتے تھے۔ مگر آج گوگل ٹرانسلیٹ اور دیگر خودکار ترجماتی نظام بغیر کسی انسانی ترجمان کے مختلف زبانوں کو لمحوں میں سمجھنے اور منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو کبھی صرف انسان کے بس میں سمجھا جاتا تھا۔

یہ تمام مثالیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسان کا علم اور اس کی ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ ان امور تک پہنچ رہی ہے جن کا ذکر صدیوں پہلے احادیثِ نبوی ﷺ میں موجود تھا۔ انہی احادیث میں سے ایک نہایت اہم حدیث وہ ہے جو مسند احمد، سنن ترمذی اور دیگر کتبِ حدیث میں منقول ہے، جس میں نبی اکرم ﷺ نے قیامت کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا:

قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک انسان سے جانور (درندے) بات نہ کریں، کوڑا اس سے بات نہ کرے، اور اس کی ران و جوتا اسے اس کے گھر والوں کی خبر نہ دیں۔

اگر اس حدیث کو اس کے تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ بات ناقابلِ تصور محسوس ہوتی ہے۔ جانوروں کا انسان سے بات کرنا، یا جوتے اور ران کا خبریں دینا اُس دور کے انسان کے لیے محض ایک غیبی خبر تھی۔ مگر آج کے دور میں جب ہم جدید ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہیں تو اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔

آج جانوروں پر تجربات ہو رہے ہیں جن میں ان کے اشاروں، آوازوں اور دماغی لہروں کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جانوروں کی آوازوں کو ڈی کوڈ کرنے پر تحقیق جاری ہے۔ بعض تجربات میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مخصوص آلات کے ذریعے جانوروں کے جذبات اور ضروریات کو انسانی زبان میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر اس سمت میں پیش رفت حدیث کے مفہوم کو مزید واضح کرتی ہے۔

اسی طرح انسان کا جوتا یا ران کا خبریں دینا آج کے دور میں موبائل فون، جی پی ایس اور سینسرز کے ذریعے ممکن ہو چکا ہے۔ انسان کا موبائل فون، جو اکثر اس کی جیب یا ران کے قریب ہوتا ہے، اسے اس کے گھر والوں کے بارے میں پیغامات دیتا ہے، ان کی آوازیں سناتا ہے اور ان کی تصویریں دکھاتا ہے۔ یوں بظاہر بے جان اشیاء انسان سے “بات” کر رہی ہیں۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ احادیثِ نبوی ﷺ محض مذہبی بیانات نہیں بلکہ ایسی آفاقی صداقتیں ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ منکشف ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ جو باتیں کبھی ایمان بالغیب کا حصہ تھیں، آج وہ انسانی علم کے دائرے میں داخل ہو رہی ہیں۔ یہ جدید دور کے انسان کے لیے ایک دعوتِ فکر ہے کہ وہ تعصب سے بالاتر ہو کر ان تعلیمات کا مطالعہ کرے۔

آخر میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سائنس اور دین ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف زاویے ہیں۔ جہاں سائنس انسان کو “کیسے” کا جواب دیتی ہے، وہیں دین اسے “کیوں” سے روشناس کراتا ہے۔ اور جب یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں، تو انسان نہ صرف کائنات کو سمجھتا ہے بلکہ اپنے خالق کو بھی پہچاننے لگتا ہے۔

پیر، 26 جنوری، 2026

خوف کی سیاست



 خوف کی سیاست

عبرانی اخبار معاریو میں شائع ہونے والا حالیہ تجزیہ محض ایک رپورٹ نہیں، بلکہ اس ذہنی کیفیت کی عکاسی ہے جس میں آج صہیونی–امریکی قیادت مبتلا دکھائی دیتی ہے۔ فوجی تجزیہ کار الون بن ڈیوڈ کے مطابق، ایران کے مضبوط اور غیر لچکدار موقف نے واشنگٹن اور تل ابیب دونوں کو ایسی الجھن میں ڈال دیا ہے جس سے نکلنے کی کوئی سیدھی راہ دکھائی نہیں دیتی۔

رپورٹ کا سب سے معنی خیز پہلو وہ اعتراف ہے جس میں کہا گیا کہ امام خامنہ‌ای نے ٹرمپ کے ساتھ ایک طرح سے “ذاتی حساب” کھولتے ہوئے اس کے تکبر کو براہِ راست للکارا۔ یہ محض ایک سیاسی ردِعمل نہیں تھا، بلکہ وقار کی جنگ تھی۔ امریکی صدر، جو طاقت کی زبان سمجھنے اور اسی پر بات کرنے کے عادی ہیں، اس بار ایک ایسے وقار سے ٹکرا گئے جسے نہ دباؤ توڑ سکا اور نہ دھمکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرمپ، رہبرِ ایران کے وقار کو مجروح کرنے میں ناکامی کے باعث، ذاتی اضطراب اور ذہنی بے چینی کا شکار نظر آئے۔

اسی تسلسل میں رپورٹ یہ انکشاف بھی کرتی ہے کہ ٹرمپ نے خطے کے مختلف رہنماؤں اور خصوصاً نیتن یاہو سے مشاورت کی، مگر وہاں سے جو جواب ملا وہ خود امریکی طاقت کے دعووں پر ایک سوالیہ نشان تھا۔ صاف الفاظ میں کہا گیا کہ “اتنی طاقت اور یہ تمام عسکری قوتیں بھی تہران میں نظام کو گرانے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔” یہ جملہ دراصل اسلامی جمہوریہ ایران کے استحکام اور داخلی طاقت کا وہ اعتراف ہے جو برسوں کی سیاسی بیان بازی میں کبھی اس وضاحت سے سامنے نہیں آیا تھا۔

نیتن یاہو کا کردار اس پوری کہانی میں سب سے زیادہ معنی خیز دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہی شخص تھا جس نے ایرانی ردِعمل کے خوف سے امریکی جارحانہ رویّے کو لگام دینے کی کوشش کی۔ بظاہر “دفاع” کے نعروں کے پیچھے، حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی قیادت خود جانتی ہے کہ وہ ایرانی میزائل طاقت کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔ یہ اعتراف اسرائیلی عسکری برتری کے دیرینہ دعووں پر ایک اور کاری ضرب ہے۔

رپورٹ میں ایران کے دو ہزار سے زائد تیار بیلسٹک میزائلوں کا ذکر محض ایک عددی حقیقت نہیں، بلکہ نفسیاتی برتری کی علامت ہے۔ جب دشمن خود یہ ماننے لگے کہ ان کے طیارے اور افواج محض “پریڈز” بن کر رہ گئی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت کا توازن میدانِ جنگ سے زیادہ ذہنوں میں بدل چکا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں “وقار کا جال” اپنی پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے۔ طاقتور ہونے کے دعوے دار اب اس خوف میں مبتلا ہیں کہ ایک غلط قدم پورے خطے کو ایسی آگ میں جھونک سکتا ہے جس کا انجام ان کے قابو میں نہیں ہوگا۔ معاریو کا یہ تجزیہ دراصل اسی سچ کی گواہی ہے کہ جدید سیاست میں صرف ہتھیار نہیں، وقار، استقامت اور نفسیاتی برتری بھی فیصلہ کن ہتھیار بن چکے ہیں۔

اتوار، 25 جنوری، 2026

نشان حیدر



یہ تین مئی 1956 کا دن تھا جب اس وقت کے صدر پاکستان اسکندر مرزا نے ملک کے لیے نمایاں شہری اور فوجی خدمات ادا کرنے والے افراد کو مختلف تمغے دینے کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔

اسی اعلان میں کہا گیا کہ ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر ہو گا اور یہ تمغہ مسلح افواج کے ان ارکان کو دیا جائے گا جنھوں نے ملک کی حفاظت اور سلامتی کے لیے زبردست خطرات کا سامنا کرتے ہوئے بے حد بہادری اور زبردست ہمت کا مظاہرہ کیا ہو۔

اس اعزاز کا نام اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علی کے نام پر رکھا گیا۔ حضرت علی میدان جنگ میں اپنی بہادری وکراری کی وجہ سے مشہور ہیں اور خود پیغمبر اسلام نے انہیں 'شیر خدا' کا لقب دیا تھا۔

میاں محمد مسعود الزماں نے اپنی کتاب 'نشان حیدر' میں لکھا ہے کہ 'نشان حیدر' پانچ کونوں کا ایک ستارہ ہے جو توپ کی دھات سے بنایا جاتا ہے۔ ان کونوں کے کنارے تانبے اور نکل کے مرکب سے بنتے ہیں۔ اس میں چاند اور ستارہ ہیرے کا ہوتا ہے، فیتہ ریشمی اور سبز رنگ کا ہوتا ہے، اس کی چوڑائی ڈیڑھ انچ ہوتی ہے، جب یہ فیتہ تمغے کے بغیر پہنا جاتا ہے تو اس کے اوپر پنچ کونی ستارے کی نقل لگالی جاتی ہے۔'

 وزارت دفاع کے حکم پر 'پاکستان مِنٹ' (وہ جگہ جہاں سِکّے بنائے جاتے ہیں) نشان حیدر تیار کرتی ہے۔ اسے دشمن سے چھینے گئے اسلحہ کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 88 فیصد تانبا، 10 فیصد سونا اور 2 فیصد زنک (جست) شامل کیا جاتا ہے۔

عوامی سطح پر اس قسم کی کوئی معلومات دستیاب نہیں کہ نشان حیدر پانے والوں کو مالی طور پر کیا فوائد دیے گئے تاہم ریٹائرڈ بریگیڈیئر فاروق حمید کے مطابق نشان حیدر کا اعزاز پانے والوں کے اہل خانہ کو پیشکش کی جاتی ہے کہ وہ چاہیں تو نقدی لے لیں یا زرعی اراضی۔

نشان حیدر کا اعزاز بلالحاظِ عہدہ پاکستان کی مسلح افواج کے کسی بھی فرد کو دیا جا سکتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ یہ اعزاز صرف جنگ میں شہید ہونے والوں کو دیا جائے، 

نشانِ حیدر حاصل کرنے والے سب سے پہلے فوجی، کیپٹن راجہ سرور تھے جنھوں نے 27 جولائی 1948 کو کشمیر کے محاذ پر جان دی تھی اور ان کا اعزاز 27 اکتوبر 1959 کو ان کی اہلیہ نے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ہاتھ سے وصول پایا تھا۔

میجر محمد اکرم نشان حیدر حاصل کرنے والی وہ واحد شخصیت ہیں جو بنگلہ دیش میں دفن ہیں جبکہ باقی قبریں ملک کے مختلف علاقوں اور کشمیر میں واقع ہیں۔

پائلٹ آفیسر راشد منہاس کو 1971 کی جنگ سے قبل نشانِ حیدر حاصل کرنے والے اہلکار تھے۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے سب سے کم عمر اور پاکستانی فضائیہ کے وہ واحد افسر ہیں جنھیں بے مثال شجاعت پر نشان حیدر دیا گیا۔

1971 سے 1999 کے درمیان نشانِ حیدر حاصل کرنے والوں میں ایک اور نام کا اضافہ ضرور ہوا جو کہ نائیک سیف علی خان جنجوعہ کا تھا جنھیں 14 مارچ 1949 کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے اپنا سب سے بڑا فوجی اعزاز 'ہلال کشمیر' دینے کا اعلان کیا تھا۔

30 نومبر 1995 کو حکومت پاکستان نے ہلال کشمیر کو نشان حیدر کے مساوی قرار دینے کا اعلان کیا تو اس فہرست میں نائیک سیف علی کا نام بھی شامل ہو گیا۔

سیف علی جنجوعہ کے بارے میں دفاعی ماہر ریٹائرڈ بریگیڈیئر فاروق حمید نے کہا کہ 'وہ پاکستان آرمی کا حصہ تھے اور 1948 میں کشمیر کی پہلی جنگ میں بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ وہ بجا طور پر نشان حیدر کے اعزاز کے مستحق تھے۔'

کیپٹن کرنل شیر خان کو کارگل میں اپنے دستوں کے ساتھ قیادت اور معرکہ آرائی کرتے دیکھنے والے بھارتی بریگیڈئیر نے بعد ازاں بھارتی میڈیا سے اپنے انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کیپٹن کرنل شیر خان کی میت کی جیب میں ایک تعریفی رقعہ اس وقت لکھ کر رکھ دیا تھا جب کرنل شیر خان کا جسد خاکی پاکستان کی فوج کے حوالے کیا جا رہا تھا۔ اس رقعے میں تحریر تھا کہ کرنل خان بڑی بہادری سے لڑے اور ان کی اس بہادری کا اعتراف ہونا چاہیے۔


ہفتہ، 24 جنوری، 2026

آسمانی آگ



آسمانی آگ
مارچ 1945 کی وہ رات انسانی تاریخ کے سب سے ہولناک ابواب میں سے ایک ہے، مگر اسے شاذ ہی وہ توجہ دی جاتی ہے جو اس کی سنگینی کا تقاضا کرتی ہے۔ 334 امریکی بمبار طیاروں نے صرف ایک رات میں ٹوکیو پر 1665 ٹن آتش گیر بم برسائے۔ گنجان آباد شہر، جہاں زیادہ تر مکانات لکڑی سے بنے تھے، لمحوں میں ایک دہکتی ہوئی بھٹی میں بدل گیا۔ آگ اس شدت سے پھیلی کہ ایک لاکھ سے زائد انسان جل کر مر گئے اور دس لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہو گئے۔ یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی، بلکہ آسمان سے برسنے والی ایسی آگ تھی جس نے پورے شہر کو اجتماعی قبر میں تبدیل کر دیا۔  جانی نقصان کے اعتبار سے یہ تباہی  ہیروشیما اور ناگاساکی سے بھی زیادہ بڑی تھی۔
ٹوکیو کا یہ واقعہ کوئی استثنا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے سلسلے کی کڑی تھا جس میں جدید جنگ نے شہری آبادی کو براہِ راست ہدف بنانا معمول بنا لیا۔ اس سے قبل جرمنی کے شہر ڈریسڈن پر اتحادی بمباری نے ہزاروں شہریوں کو زندہ جلا دیا تھا۔ ہیمبرگ میں فائر اسٹورم نے پورے محلّے صفحۂ ہستی سے مٹا دیے، جبکہ برطانیہ کا شہر کوونٹری بھی آسمان سے برسنے والی آگ کی علامت بن گیا۔ ان تمام واقعات میں ایک قدرِ مشترک نمایاں ہے: جنگ کا میدان سپاہیوں سے نکل کر عام انسانوں کے گھروں تک آ چکا تھا۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد بھی یہ روایت ختم نہیں ہوئی، بلکہ ٹیکنالوجی کے ساتھ مزید مہلک ہو گئی۔ کوریا کی جنگ میں امریکی بمباری نے شمالی کوریا کے شہروں کو اس حد تک تباہ کیا کہ بعد میں خود امریکی تجزیہ نگاروں نے اعتراف کیا کہ وہاں کھڑا رہنے کے قابل شاید ہی کوئی بڑا شہر بچا ہو۔ ویتنام میں نیپام بموں نے جنگل ہی نہیں، دیہات اور انسانوں کے جسم تک جلا ڈالے۔ آسمان سے گرنے والی آگ نے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے درمیان کوئی فرق نہ کیا۔
یہی منظر عراق میں دہرایا گیا۔ بغداد پر بمباری، فلوجہ میں آگ اور دھماکوں کا طوفان، اور بعد ازاں افغانستان میں فضائی حملے—سب نے یہ ثابت کیا کہ جدید جنگ میں طاقتور ریاستیں اپنے دشمن کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو سزا دیتی ہیں۔ لیبیا، شام اور یمن میں بھی اتحادی فضائی کارروائیاں شہروں کو ملبے کے ڈھیر میں بدلتی رہیں، اور ہر بار یہ دعویٰ کیا گیا کہ نشانہ صرف عسکری اہداف تھے، حالانکہ زمین پر جلتے ہوئے گھر اور لاشیں ایک مختلف کہانی سناتی رہیں۔
اسی سلسلے کی  سب سے دردناک مثال فلسطین، بالخصوص غزہ ہے۔ غزہ ایک محصور خطہ ہے، جہاں نہ پناہ گاہیں ہیں نہ فرار کے راستے۔ یہاں آسمان سے برسنے والی آگ جدید بموں، میزائلوں اور فاسفورس جیسی ہتھیاروں کی صورت میں نازل ہوتی ہے۔ رہائشی عمارتیں، اسپتال، اسکول اور پناہ گزین کیمپ اس آگ سے محفوظ نہیں رہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ٹوکیو میں آگ ایک رات میں برسی، جبکہ غزہ میں یہ آگ وقفوں وقفوں سے برس رہی ہے، مگر اس کا مقصد وہی ہے: اجتماعی خوف، اجتماعی سزا اور اجتماعی تباہی۔
ان تمام مثالوں کو جوڑ کر دیکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ آسمان سے آگ برسانا کسی ایک جنگ یا ایک دور کا مسئلہ نہیں، بلکہ طاقت کے اس تصور کا اظہار ہے جس میں اخلاق، قانون اور انسانیت ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ ٹوکیو سے لے کر ڈریسڈن، ویتنام سے لے کر بغداد، اور بغداد سے لے کر غزہ تک، آگ کا رنگ بدلتا رہا مگر جلنے والے انسان وہی رہے—عام شہری۔
تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ فاتحین کی زبان میں یہ سب “ضروری جنگی اقدامات” کہلاتا ہے، جبکہ متاثرین کے لیے یہ زندگی بھر کا زخم بن جاتا ہے۔ ٹوکیو کی آگ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب جنگ آسمان سے لڑی جائے تو زمین پر بسنے والے انسان صرف اعداد و شمار بن کر رہ جاتے ہیں۔ اور غزہ ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ یہ تاریخ ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ ایک نئے نام اور نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ آج بھی دہرائی جا رہی ہے۔

جمعہ، 23 جنوری، 2026

آر سی ڈی کا تعارف



آر سی ڈی کا تعارف

RCD (Regional Cooperation for Development)
ایک علاقائی تعاون کا ادارہ تھا جو 1964ء میں پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان قائم ہوا۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے معاشی، تجارتی، ثقافتی اور سائنسی ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات کو فروغ دینا تھا۔
اس تنطیم کا صدر تہران، ایران میں تھا ، آر سی ڈی کا قیام سرد جنگ کے دوران ہوا، جب عالمی طاقتوں کے دباؤ اور علاقائی سیاسی چیلنجز کے پیش نظر مسلم ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت محسوس کی گئی۔
یہ اتحاد درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر قائم ہوا
تجارتی رابطے بڑھانا اور مشترکہ مارکیٹس قائم کرنا ، معاشی ترقی کے منصوبے (انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، توانائی) میں اشتراک ،ثقافتی، تعلیمی اور سائنسی شعبوں میں تعلقات مضبوط کرنا
آر سی ڈی نے سیاسی میدان میں بھی اہم کردار ادا کیا
پاکستان، ایران اور ترکی نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ پالیسیز اپنائیں ۔تینوں ممالک نے عالمی فورمز میں ایک دوسرے کا موقف سہارا دیا ۔ اس اتحاد نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو مستحکم کیا ، یہ اثرات آج بھی خطے میں تعلقات کے حوالے سے اہم مثال کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔
آر سی ڈی کا بنیادی مقصد معاشی ترقی اور تعاون تھا، جس کے اہم پہلو یہ تھے
تینوں ممالک کے درمیان اشیاء کی باہمی تجارت میں اضافہ
صنعتی، زرعی اور توانائی کے منصوبوں میں شراکت داری
سڑکیں، بندرگاہیں اور توانائی کے منصوبے
انسانی وسائل کی ترقی اور مشترکہ علمی منصوبے
یہ اقتصادی تعاون خطے میں روزگار، پیداوار اور معیشت کی مضبوطی کے لیے اہم تھا۔
آر سی ڈی نے نہ صرف اقتصادی بلکہ سماجی اور ثقافتی تعلقات کو بھی فروغ دیا۔ یونیورسٹیاں اور مشترکہ تحقیقی پروگرام شروع کیے گئے ۔وسیقی، ادب، زبان اور فنون لطیفہ کے شعبوں میں طائفو ں کا تبادلہ شروع ہوا، وام کے درمیان سمجھ بوجھ اور اعتماد میں اضافہ ہوا ۔ اس سے تینوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستانہ تعلقات مضبوط ہوئے۔
اگرچہ آر سی ڈی نے متعدد مثبت اقدامات کیے، لیکن یہ کچھ چیلنجز بھی سامنا کرنا پڑا۔ خطے میں جاری تنازعات کی وجہ سے مشترکہ اقدامات میں تاخیر پیدا ہونا شروع ہوئی جس کے باعث ایران مین اسلامی انقلاب کے بعد کے بعد دوبارہ فعال کرنے میں مشکلات آئیں۔
اگر آر سی ڈی یا اس کے جدید فارم
ECO
کی روح کو فعال رکھا جائے، تو پاکستان، ایران اور ترکی کے تعلقات کے وسیع امکانات ہیں

چین کو تنہا کرنے کی امریکی کوششیں




چین کو تنہا کرنے کی امریکی کوششیں 
عالمی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کے روایتی توازن تیزی سے بدل رہے ہیں۔ سرد جنگ کے بعد امریکہ نے جس یک قطبی عالمی نظام کو قائم رکھا، اس کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ عالمی فیصلہ سازی کا مرکز واشنگٹن ہی رہے۔ مگر چین کے معاشی، سفارتی اور عسکری عروج نے اس تصور کو عملاً چیلنج کر دیا ہے۔ آج دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے چین کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں دراصل اسی کثیر قطبی نظام کی تشکیل کو تیز کر رہی ہیں، جسے روکنا امریکی پالیسی کا اصل ہدف تھا۔
امریکہ نے چین کے خلاف تجارتی جنگ، ٹیکنالوجی پر پابندیاں، سیمی کنڈکٹرز کی فراہمی محدود کرنے اور انڈو پیسیفک میں عسکری اتحادوں کے قیام جیسے اقدامات کیے۔ کواڈ اور آکس جیسے اتحاد چین کے گرد اسٹریٹجک دباؤ بڑھانے کی علامت ہیں۔ بظاہر یہ حکمتِ عملی چین کو محدود کرنے کے لیے تھی، مگر اس کے نتائج عالمی سطح پر ایک مختلف سمت میں سامنے آ رہے ہیں۔
حالیہ عرصے میں وہ ممالک بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے دکھائی دے رہے ہیں جو کبھی امریکی موقف کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ آسٹریلیا، جو چند سال قبل چین کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے تھا، اب اپنے تعلقات کو دوبارہ متوازن اور فعال بنانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آسٹریلیا کی جانب سے چین کے ساتھ تجارتی اور سفارتی روابط کی بحالی اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ محض امریکی دباؤ کی بنیاد پر کسی بڑی عالمی طاقت سے مستقل لاتعلقی ممکن نہیں۔
اسی طرح برطانیہ کے وزیرِ اعظم کا دورۂ چین غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس دورے کا مقصد چین کے ساتھ تعلقات کو اس کے ’’سنہری دور‘‘ (Golden Era) کی طرف دوبارہ لے جانا قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یورپی طاقتیں بھی اب چین کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کے امریکی تصور سے فاصلہ اختیار کر رہی ہیں اور اپنے معاشی و اسٹریٹجک مفادات کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھ رہی ہیں۔
چین نے امریکی دباؤ کے جواب میں اپنی عالمی حکمتِ عملی کو مزید وسعت دی ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے چین نے ایشیا، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکہ میں متبادل اتحاد اور شراکتیں قائم کیں۔ روس، ایران اور گلوبل ساؤتھ کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا اب کسی ایک طاقت کے اشاروں پر چلنے کو تیار نہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکہ کی چین مخالف پالیسیوں نے صرف چین کو نہیں بلکہ دیگر ممالک کو بھی یہ احساس دلایا ہے کہ یک قطبی نظام میں ان کی خودمختاری کس قدر محدود ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی طاقتیں اب متوازن خارجہ پالیسی، کثیر جہتی تعلقات اور متبادل مالی و تجارتی نظاموں کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ مقامی کرنسیوں میں تجارت، ڈالر کی بالادستی پر سوالات، اور نئی معاشی شراکتیں اسی بدلتی سوچ کا اظہار ہیں۔
یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ چین کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی امریکی کوششیں اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے بجائے ایک نئے عالمی توازن کو جنم دے رہی ہیں۔ ایک ایسا نظام جہاں طاقت، اثر و رسوخ اور فیصلے کسی ایک دارالحکومت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مختلف مراکز میں تقسیم ہوں گے۔ بظاہر امریکہ جس کثیر قطبی عالمی نظام کو روکنا چاہتا تھا، آج وہی نظام تیزی سے حقیقت کا روپ دھار رہا ہے—اور اس کی رفتار کو خود امریکی پالیسیاں ہی مزید تیز کر رہی ہیں۔

سوال اب یہ نہیں کہ اسرائیل کس کے خلاف ہے




 اسرائیل کے لیے اسٹریٹجک راستے کہاں بچتے ہیں؟
عالمی سیاست میں بعض امکانات محض مفروضے نہیں ہوتے بلکہ آنے والے بحرانوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ اگر سعودی عرب، ترکی اور پاکستان پر مشتمل ابھرتا ہوا اتحاد—جسے پہلے ہی عسکری، معاشی اور ایٹمی وزن حاصل ہے—اس میں ایران بھی شامل ہو جائے، اور چین اس پورے بلاک کو سفارتی، معاشی اور تکنیکی سرپرستی فراہم کرے، تو یہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی طاقت کے توازن میں ایک تاریخی زلزلہ ہوگا۔ ایسے منظرنامے میں سب سے زیادہ دباؤ جس ریاست پر پڑے گا، وہ اسرائیل ہے۔
یہ اتحاد محض چار مسلم ممالک کا مجموعہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ جغرافیائی تسلسل، توانائی کے وسائل، آبنائے ہرمز سے بحیرۂ روم تک اثرورسوخ، اور ایٹمی صلاحیت کے امتزاج کے ساتھ ایک ایسا بلاک بن جائے گا جو امریکی بعد از انخلا دور میں خطے کی نئی حقیقت کو متعین کرے گا۔ چین کی حمایت اس بلاک کو محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر تحفظ فراہم کرے گی، خاص طور پر سلامتی کونسل، عالمی تجارت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں۔
ایسے میں سوال یہ نہیں کہ اسرائیل کو مسئلہ ہوگا یا نہیں—سوال یہ ہے کہ اسرائیل کے پاس بچے گا کیا؟

اسرائیل کا سب سے واضح راستہ یہ ہوگا کہ وہ چین کے ساتھ ہر قسم کی معاشی، تکنیکی اور سفارتی قربت ترک کر کے خود کو مکمل طور پر امریکی بلاک میں ضم کر دے۔ اس کا مطلب ہوگا:
چینی سرمایہ کاری کا خاتمہ
ایشیائی منڈیوں سے محدود رسائی
یورپی خودمختار پالیسیوں سے بڑھتا ہوا فاصلہ
یہ راستہ اسرائیل کو عسکری تحفظ تو فراہم کرے گا، مگر معاشی اور سفارتی تنہائی کی قیمت پر۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں امریکا واحد فیصلہ ساز نہیں رہا، یہ آپشن طویل مدت میں کمزور ثابت ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب اس پر گھیراؤ تنگ ہوتا ہے تو وہ پیشگی عسکری کارروائی کو ایک آپشن کے طور پر دیکھتا ہے—چاہے وہ ایران ہو، لبنان ہو یا غزہ۔
لیکن اس نئے بلاک کی موجودگی میں یہ راستہ انتہائی خطرناک ہو جاتا ہے، کیونکہ:
ایران کی شمولیت کا مطلب براہِ راست جوابی صلاحیت
ترکی اور پاکستان کی عسکری گہرائی
ایسی کسی مہم جوئی کا نتیجہ محدود جنگ نہیں بلکہ وسیع علاقائی تصادم ہو سکتا ہے، جس کے نتائج اسرائیل کے لیے ناقابلِ پیش گوئی ہوں گے۔
ایک کمزور مگر حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ اسرائیل:
فلسطین کے معاملے میں حقیقی سیاسی رعایت دے
عرب اور مسلم دنیا سے تصادم کی پالیسی ترک کرے
خود کو ایک توسیع پسند ریاست کے بجائے ایک نارمل علاقائی ریاست کے طور پر پیش کرے
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل کی داخلی سیاست، نظریاتی ساخت اور طاقتور دائیں بازو کی قیادت اس راستے کو عملی طور پر تقریباً ناممکن بنا دیتی ہے۔
چوتھا آپشن: یورپ اور ایشیا میں متبادل اتحاد
اسرائیل کوشش کر سکتا ہے کہ:
یورپی یونین کے ساتھ تعلقات گہرے کرے
بھارت، جاپان اور بعض افریقی ریاستوں کے ساتھ اسٹریٹجک روابط بڑھائے
مگر چین کی غیر موجودگی اور مسلم بلاک کی جغرافیائی برتری کے سامنے یہ اتحاد توازن قائم کرنے کے لیے ناکافی ہوں گے۔
اگر ایران اس اتحاد میں شامل ہو جاتا ہے اور چین اس کا محافظ بن جاتا ہے، تو اسرائیل پہلی بار صرف عسکری خطرے میں نہیں بلکہ اسٹریٹجک گھٹن (Strategic Suffocation) کا شکار ہوگا۔ نہ وہ آزادانہ جنگ چھیڑ سکے گا، نہ بیک وقت امریکا اور چین کے ساتھ کھیل جاری رکھ سکے گا، اور نہ ہی معاشی وسعت کے پرانے راستے کھلے رہیں گے۔
صدر شی جن پنگ کا پیغام اس منظرنامے میں اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے:
نئی دنیا میں دو کشتیوں پر سوار رہنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔
اسرائیل کے لیے اصل سوال اب یہ نہیں کہ وہ کس کے خلاف ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس کے ساتھ رہ سکتا ہے—اور کس قیمت پر۔


قہر 313

قہر 313

عالمی عسکری سیاست میں بعض ہتھیار اپنی عملی صلاحیت سے کہیں زیادہ اپنی علامتی اور نفسیاتی تاثیر کے باعث موضوعِ بحث بنتے ہیں۔ ایران کا قہر 313 بھی ایسا ہی ایک منصوبہ ہے جو 2013 میں منظرِ عام پر آتے ہی دفاعی ماہرین، میڈیا اور عسکری تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ طیارہ صرف ایک ممکنہ اسٹیلتھ فائٹر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے سوال کے طور پر سامنے آیا کہ جدید جنگ میں اصل طاقت خالص تکنیکی برتری ہے یا اس برتری کا تاثر اور بیانیہ؟

قہر 313 کو ایران نے اپنی ایوی ایشن انڈسٹریز آرگنائزیشن کے تحت ایک مقامی سطح پر تیار کردہ اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کے طور پر متعارف کرایا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ ہلکا، کم رفتار، کم ریڈار سگنیچر رکھنے والا طیارہ ہے جو دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دے کر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں خصوصیت مختصر رن ویز سے پرواز اور کم بلندی پر مؤثر آپریشن بتائی گئی، جو ایران کے جغرافیائی اور دفاعی حالات کے مطابق اہم سمجھی جاتی ہے۔

تاہم جب بین الاقوامی دفاعی ماہرین نے اس طیارے کے ڈیزائن اور تکنیکی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو کئی سنگین سوالات سامنے آئے۔ پروں کا غیر متوازن سائز، کاک پٹ کی ساخت، انجن کی گنجائش اور ایرودائنامکس ایسی تھیں جو ایک مکمل اور عملی فائٹر جیٹ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دفاعی حلقوں میںقہر 313 کو ایک نمائشی ماڈل یا ابتدائی پروٹو ٹائپ قرار دیا گیا، نہ کہ ایک مکمل طور پر فعال جنگی طیارہ۔

لیکن قاہر 313 کو محض ایک ناکام یا غیر سنجیدہ منصوبہ کہہ کر رد کر دینا بھی حقیقت کا ادھورا تجزیہ ہوگا۔ ایران کوئی ایسا ملک نہیں جو پچھلے چند برسوں سے دباؤ میں ہو؛ بلکہ وہ گزشتہ پچاس برسوں سے عملی طور پر ایک مسلسل حالتِ جنگ میں زندہ رہا ہے۔ براہِ راست فوجی تصادم، خفیہ جنگ، اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی، اور ٹیکنالوجی تک محدود رسائی—یہ سب ایران کے مستقل دفاعی ماحول کا حصہ رہے ہیں۔

ان سخت حالات کے باوجود ایران نے کبھی اپنے دفاعی اور بالخصوص دفعی 

دفاعی

صلاحیتوں کے حصول سے غفلت نہیں برتی۔ بیلسٹک میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاعی نظام، اور مقامی سطح پر عسکری پیداوار—یہ سب اسی سوچ کا تسلسل ہیں۔ قاہر 313 بھی اسی ذہنیت کی ایک کڑی ہے، چاہے وہ عملی میدان میں مکمل کامیاب ہو یا نہ ہو۔

حالیہ برسوں میں ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ

قہر 313 کے تصور کو بغیر پائلٹ فضائی پلیٹ فارم، یعنی ڈرون ٹیکنالوجی، میں ڈھالنے پر کام کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران اب علامتی منصوبوں کو عملی دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسی جنگوں کے تناظر میں جہاں بغیر پائلٹ نظام فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ ایران کی اس دفاعی سوچ میں حالیہ برسوں میں ایک نمایاں تبدیلی بھی دیکھی جا رہی ہے۔ تہران اب یہ حقیقت تسلیم کر چکا ہے کہ محض عسکری خود کفالت کافی نہیں، بلکہ علاقائی طاقتوں کے ساتھ بہتر تعلقات ہی اس کے دفاع کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ مفاہمت، ترکی کے ساتھ محتاط تعاون، پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک ہم آہنگی، اور چین کے ساتھ بڑھتا ہوا اعتماد—یہ سب ایران کی اسی بدلی ہوئی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

اسی سوچ کے نتیجے میں خطے کے کئی ممالک میں ایران کے حوالے سے رویّے میں نرمی اور ہمدردی کا عنصر پیدا ہوا ہے۔ ایران اب صرف ایک مزاحمتی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی علاقائی طاقت کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے جو تصادم کے بجائے توازن، اور تنہائی کے بجائے شراکت داری کے ذریعے اپنی سلامتی یقینی بنانا چاہتی ہے۔

نتیجتاً، قاہر 313 کو ایک مکمل جنگی طیارے کے بجائے ایک اسٹریٹجک علامت کے طور پر دیکھنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ علامت اس امر کی نمائندگی کرتی ہے کہ جدید جنگ میں صرف ہتھیار فیصلہ کن نہیں ہوتے، بلکہ بیانیہ، نفسیاتی دباؤ، مسلسل مزاحمت اور ٹیکنالوجی کا تاثر بھی طاقت کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔
قہر 313 شاید آسمانوں میں فیصلہ کن کردار ادا نہ کر سکے، مگر اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران نہ سویا ہے، نہ ہتھیار ڈالے ہیں، اور نہ ہی مستقبل کی جنگ کے تقاضوں سے غافل ہے۔


غزہ کا پیس بورڈ اور بین الاقوامی استحکامی فورس





غزہ کا  پیس بورڈ اور بین الاقوامی استحکامی فورس 
 غزہ  پیس بورڈ دماغ کا کردار ادا کرتا ہے جبکہ بین الاقوامی استحکامی فورس زمین پر موجود بازو کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں ادارے الگ الگ ہیں، مگر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، 
غزہ میں حالیہ تباہ کن جنگ کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد امن، نظم و نسق اور استحکام کو کس طرح یقینی بنایا جائے گا۔ اسی تناظر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت دو اہم ڈھانچے سامنے آئے ہیں: غزہ پیس بورڈ اور بین الاقوامی استحکامی فورس۔ اگرچہ یہ دونوں ادارے ایک ہی مقصد، یعنی غزہ میں پائیدار امن و استحکام، کے لیے قائم کیے گئے ہیں، مگر ان کی نوعیت، دائرۂ کار اور ذمہ داریاں ایک دوسرے سے واضح طور پر مختلف ہیں۔
غزہ پیس بورڈ دراصل ایک بین الاقوامی انتظامی اور سفارتی ادارہ ہے، جس کا بنیادی کام غزہ کے بعد از جنگ سیاسی، انتظامی اور معاشی مستقبل کی نگرانی کرنا ہے۔ اس بورڈ کی ذمہ داریوں میں غزہ کے عبوری حکومتی ڈھانچے کی تشکیل، تعمیرِ نو کے منصوبوں کی منصوبہ بندی، عالمی مالی وسائل اور سرمایہ کاری کی تنظیم، اور مختلف بین الاقوامی فریقوں کے درمیان رابطہ کاری شامل ہے۔ یہ ادارہ براہِ راست کسی عسکری کارروائی میں شامل نہیں بلکہ اس کا کردار پالیسی سازی، حکمرانی اور ترقیاتی سمت کے تعین تک محدود ہے۔ غیر معمولی طور پر اس بورڈ کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کر رہے ہیں، جس کے باعث اسے روایتی اقوامِ متحدہ کے اداروں سے ہٹ کر ایک طاقتور اور متنازعہ پلیٹ فارم سمجھا جا رہا ہے۔
اس کے برعکس، بین الاقوامی استحکامی فورس 
ایک خالصتاً سکیورٹی اور عسکری نوعیت کا انتظام ہے۔ یہ فورس اقوامِ متحدہ کی منظوری کے ساتھ مختلف ممالک کے فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل ہوگی، جس کا مقصد غزہ میں زمینی سطح پر امن و امان قائم رکھنا ہے۔ اس کے دائرۂ کار میں جنگ بندی کی نگرانی، غیر قانونی اسلحے کا خاتمہ، سرحدی اور حساس علاقوں کی نگرانی، اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنا شامل ہے۔ سادہ الفاظ میں، جہاں پیس بورڈ غزہ کے سیاسی و انتظامی مستقبل کا خاکہ تیار کرتا ہے، وہیں استحکامی فورس اس خاکے کو عملی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
یوں یہ کہنا درست ہوگا کہ غزہ پیس بورڈ دماغ کا کردار ادا کرتا ہے جبکہ بین الاقوامی استحکامی فورس زمین پر موجود بازو کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں ادارے الگ الگ ہیں، مگر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ایک کی کامیابی دوسرے کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر انتظامی فیصلوں کو زمینی تحفظ حاصل نہ ہو تو وہ محض کاغذی منصوبے رہ جاتے ہیں، اور اگر عسکری استحکام کے پیچھے واضح سیاسی و ترقیاتی وژن نہ ہو تو وہ دیرپا امن میں تبدیل نہیں ہو پاتا۔
غزہ کے مستقبل کا انحصار اسی نازک توازن پر ہے کہ آیا یہ دونوں ادارے واقعی غیر جانبداری، شفافیت اور مقامی آبادی کے مفادات کو سامنے رکھ کر کام کر پاتے ہیں یا نہیں۔ یہی وہ سوال ہے جو آنے والے دنوں میں عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کا رخ متعین کرے گا۔