Russina jammers لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Russina jammers لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 17 جنوری، 2026

جدید الیکٹرانک وارفیئر کا نیا مرحلہ



جدید الیکٹرانک وارفیئر کا نیا مرحلہ
جدید جنگیں اب صرف ٹینکوں، میزائلوں اور فوجی دستوں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ خلا، سیٹلائٹس اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس بھی میدانِ جنگ کا حصہ بن چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں روسی نیٹ ورک
RFN
سے وابستہ سینئر تجزیہ کار محمد صافی الدین کا انکشاف اسی بدلتی ہوئی جنگی حقیقت کی ایک اہم کڑی ہے۔ ان کے مطابق ایران نے روس کے تیار کردہ جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹم “ٹوبول” کو استعمال کرتے ہوئے اسٹارلنک نیٹ ورک کو غیر مؤثر بنا دیا، جو اسرائیل اور امریکہ کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے زیرِ استعمال تھا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہی ٹیکنالوجی اس سے قبل یوکرین کی جنگ میں عملی طور پر آزمائی جا چکی ہے۔
ٹوبول ایک اسٹیشنری الیکٹرانک وارفیئر کمپلیکس ہے، جو اسٹارلنک سیٹلائٹس کی مسلسل نگرانی، تجزیہ اور ٹریکنگ کرتا ہے۔ اس کے بعد یہ سیٹلائٹس کی جانب ایک زیادہ طاقتور اور آلودہ
(contaminated)
سگنل بھیجتا ہے، جس کے نتیجے میں شدید ریڈیو شور
(destructive radio noise)
پیدا ہوتا ہے۔ اس شور کی وجہ سے اسٹارلنک کا رابطہ منقطع یا ناقابلِ استعمال ہو جاتا ہے۔ یہ نظام بنیادی طور پر
Area Denial
کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی کسی مخصوص علاقے میں دشمن کے کمیونیکیشن نیٹ ورک کو مکمل طور پر مفلوج کر دینا۔
ملٹی لیئر خطرہ:
جب ٹوبول کو روس کے ایک اور درست نشانہ بنانے والے جیمر “ٹیرادا-2”
جیسے نظام کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، تو یہ ایک کثیر سطحی
(multi-layered)
الیکٹرانک خطرہ بن جاتا ہے۔
یہ صرف سگنل جام نہیں کرتا بلکہ دیگر انٹیلیجنس سسٹمز کے ساتھ مل کر اسٹارلنک کے گراؤنڈ اسٹیشنز کی لوکیشن بھی معلوم کر سکتا ہے۔
یوں ایک ایسی ٹیکنالوجی، جو کبھی محفوظ اور ناقابلِ رسائی سمجھی جاتی تھی، خود ایک ٹریک ایبل کمزوری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ایران کی جانب سے اس سسٹم کے کامیاب استعمال کے بعد حاصل ہونے والا عملی ڈیٹا روس کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ خاص طور پر اس تناظر میں کہ یوکرینی فوج کا مواصلاتی ڈھانچہ تقریباً مکمل طور پر اسٹارلنک پر انحصار کرتا ہے۔
روس کسی بھی فیصلہ کن مرحلے پر دشمن کے مواصلاتی نظام کو وقتی ہی نہیں بلکہ مستقل طور پر مفلوج کر سکتا ہے۔ یہ صلاحیت کسی بڑے حملے سے قبل یا دوران دشمن کو اندھا اور گونگا کرنے کے مترادف ہوگی۔
یہ پیش رفت ایک واضح پیغام ہے کہ آنے والی جنگوں میں صرف زمین اور فضا ہی نہیں، بلکہ خلا بھی محفوظ نہیں رہا۔ سیٹلائٹ انٹرنیٹ جسے کبھی اسٹریٹجک برتری سمجھا جاتا تھا، اب ایک ایسی کمزوری بن چکا ہے جسے جدید الیکٹرانک وارفیئر کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران اور روس کی یہ تکنیکی ہم آہنگی اس بات کی علامت ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان تصادم اب ہتھیاروں سے زیادہ سگنلز، فریکوئنسیز اور ڈیٹا پر لڑا جائے گا۔ اور شاید یہی وہ جنگ ہے جس کے نتائج خاموش ہوں گے، مگر اثرات نہایت گہرے۔