منگل، 7 اپریل، 2026

کوکین، جرنیل اور ہاتھی



کوکین، جرنیل اور ہاتھی

برطانوی اخبار میں شائع ہونے والی ایک حالیہ خبر کے مطابق فرانسیسی جنرل میشل یاکوف لیف سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اگر امریکا ایران میں موجود یورینیئم پر قبضہ کرنے اور اسے نکالنے کے لیے وہاں ہوائی پٹی تعمیر کرنے جیسے منصوبے پر غور کر رہا ہے تو وہ اس پر کیا کہیں گے،
فرانسیسی جنرل نے کہا کہ اگر جنگی منصوبہ بندی کرنے والے اعلیٰ فوجی افسر اُن کے سامنے یہ تجویز ان الفاظ میں رکھیں کہ یہ بڑا عظیم منصوبہ ہے، تو وہ جواب میں کہیں گے کہ کوکین سونگھنا بند کردو۔
یہ جملہ محض مزاح نہیں بلکہ عسکری حکمتِ عملی کے ایک بنیادی اصول کی نشاندہی کرتا ہے کہ حقیقت سے کٹا ہوا منصوبہ خواہ کتنا ہی دلکش کیوں نہ ہو، عملی دنیا میں اس کی کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
امریکی عسکری منصوبہ بندی ہمیشہ طاقت، تخیل اور خوف کے تصورات کے گرد گھومتی رہی ہے، لیکن متعدد مواقع پر یہی منصوبے اپنی غیر حقیقت پسندی، تکنیکی کمزوری اور اخلاقی حدود کے باعث محض  خواب  ثابت ہوئے۔ سرد جنگ کے دور سے لے کر آج کے مشرقِ وسطیٰ تک، خصوصاً ایران کے تناظر میں، ہمیں ایسے کئی منصوبے نظر آتے ہیں جو بظاہر شاندار دکھائی دیتے ہیں مگر زمینی حقائق کے سامنے دم توڑ دیتے ہیں۔
امریکی عسکری تاریخ میں منصوبہ" آپریشن نارتھ وُڈز" ایک نمایاں مثال ہے۔ 1962 میں تیار کیے گئے اس منصوبے میں یہ تجویز دی گئی کہ امریکا خود اپنے مفادات پر حملے کروائے اور ان کا الزام کیوبا کے رہنما فیڈل کاسترو پر ڈال کر جنگ کا جواز پیدا کرے۔ یہ منصوبہ نہ صرف خطرناک بلکہ اخلاقی طور پر بھی انتہائی متنازع تھا، جسے امریکی صدر جان ایف کینیڈی (1961 تا 1963) نے مسترد کر دیا، اور یوں ایک ممکنہ تباہ کن راستہ بند ہو گیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جان ایف کینیڈی کی پارٹی کا انتخابی نشان ہاتھی نہیں تھا، اور بعض اوقات غیر رسمی انداز میں لوگ ڈونالڈ ٹرمپ کو پارٹی کے نشان کی وجہ سے ہاتھی کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔
جو اندہی طاقت کا استعارہ ہے
ڈونالڈ ٹرمپ جب گرین لینڈ کا ذکر کرتے ہیں تو یہ اکیلے ان کے ذہن کی اختراع نہیں بلکہ امریکہ نے ماضی میں بھی  گرین لینڈ کے بارے میں
عجیب و غریب خواب دیکھے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر پروجیکٹ آئس ورم ایک خفیہ امریکی منصوبہ تھا، جس کے تحت گرین لینڈ کی برف کے نیچے جوہری میزائلوں کا جال بچھانے کا تصور پیش کیا گیا۔ ریاستہائے متحدہ کی بری فوج کی نگرانی میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ جلد ہی قدرتی رکاوٹوں کا شکار ہو گیا، کیونکہ برف کی مسلسل حرکت نے سرنگوں اور تنصیبات کو غیر مستحکم بنا دیا، اور بالآخر اسے ترک کرنا پڑا۔
اسی سلسلے کی ایک اور اہم مثال اسٹریٹجک دفاعی منصوبہ "اسٹار وار" ہے، جسے امریکی صدر رونالڈ ریگن (جو بنیادی طور پر ایک فلمی اداکار تھے) نے 1983 میں پیش کیا۔ اس منصوبے میں خلا میں دفاعی نظام قائم کر کے دشمن کے میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ بظاہر یہ ایک انقلابی خیال تھا، مگر سائنسی حدود، بھاری اخراجات اور پیچیدہ اسٹریٹجک مسائل کے باعث یہ اپنی مکمل شکل میں کبھی عملی نہ ہو سکا۔
 یہ حقیقت ہے کہ عسکری طاقت کا اصل امتحان صرف ہتھیاروں یا وسائل میں نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی میں ہوتا ہے۔ آج جب ایران جیسے حساس اور پیچیدہ خطے میں کسی بڑے عسکری اقدام کی بات کی جاتی ہے تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ آیا یہ منصوبے زمینی حقائق، جغرافیہ اور سیاسی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہیں یا نہیں۔
 جدید جنگ محض فوجی طاقت کا کھیل نہیں رہی بلکہ یہ معیشت، سفارت کاری، معلومات اور عوامی رائے کا ایک پیچیدہ امتزاج بن چکی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی منصوبہ ان تمام عوامل کو نظرانداز کرے تو وہ کامیابی کے بجائے ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
فرانسیسی جنرل میشل یاکوف لیف کا طنزیہ جملہ دراصل اسی تاریخی حقیقت کا خلاصہ ہے۔ تاریخ بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ جب منصوبے حقیقت سے کٹ جائیں تو وہ حکمتِ عملی نہیں رہتے بلکہ ایک محض تصور بن جاتے ہیں—اور تصورات پر مبنی فیصلے اکثر قوموں کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔


جمعہ، 3 اپریل، 2026



In 2026, U.S. civil-military relations entered an unusual phase when Secretary of Defense Pete Hegseth abruptly removed several top military officials. Most notably, General Randy George, the Army Chief of Staff, was asked to retire immediately, even though he had not completed his term—a rare move during wartime. Alongside him, General David Huddon, who led the Army’s Training and Doctrine Command, and Major General William Green Jr., the Chief of Army Chaplains, were also relieved of their duties. These changes occurred amid heightened tensions between the U.S. and Iran, where rapidly evolving strategic and operational demands prompted the appointment of new leadership. The 2026 removals sparked debate over whether military leaders must fully align with civilian political directives or maintain professional independence as a cornerstone of a non-political military.

Looking slightly back, during President Trump’s administration, civil-military tensions were pronounced. In 2018, James Mattis resigned over disagreements about the withdrawal of U.S. forces from Syria. H.R. McMaster was removed due to foreign policy differences, while John Kelly stepped down over conflicts regarding administrative and immigration policies. Mark Esper was relieved in November 2020 over disagreements regarding the domestic deployment of military forces. After the 2020 election, Craig Faller was reassigned for taking a position contrary to presidential orders, Charles Brown was removed over military advice disagreements on election results, and Christopher Miller was relieved in January 2021 for disputes over defense planning. Mark Milley remained in his position, but political pressures and public protests made his guidance critical for maintaining military stability.

Going further back, the 2010s and earlier decades also saw high-profile removals. General Stanley McChrystal was relieved in 2010 by President Barack Obama for publicly criticizing civilian leadership during the Afghanistan war. In Iraq and Afghanistan, General Ricardo Sanchez was removed following the Abu Ghraib scandal, which raised questions about leadership and accountability.

During the Vietnam War, General William Westmoreland was removed after the Tet Offensive due to strategic criticism and declining public confidence. In the Korean War, General Douglas MacArthur was relieved by President Harry Truman in 1951 for publicly opposing presidential policy and advocating an expanded war against China.

Earlier still, in World War II, General Lloyd Fredendall was removed in 1943 due to poor performance and disciplinary failures in North Africa. During the U.S. Civil War, General George B. McClellan was relieved in 1862 by President Abraham Lincoln for failing to act decisively and for delaying offensive operations, contrary to Lincoln’s strategy for the Union armies.

Throughout U.S. history, these removals have occurred for three main reasons: political or policy disagreements, military failure or strategic missteps, and ethical or administrative concerns. While the reasons vary, a consistent thread is the reinforcement of civilian supremacy, ensuring that military leadership aligns with elected civilian authority and national objectives. The events of 2026, however, demonstrate how rapidly changing geopolitical and wartime conditions can create unprecedented scenarios in which the balance between professional military judgment and political alignment comes under intense scrutiny.

اتوار، 29 مارچ، 2026

2۔۔۔ فرناس سے بے دخلی




فرانس سے 1306 کی یہودی بے دخلی

ء میں فرانس کے بادشاہ فلپ چہارم نے ملک میں یہودیوں کو بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے پیچھے سیاسی، اقتصادی اور مذہبی عوامل کارفرما تھے، جن کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ اس تاریخی اقدام کو سمجھا جا سکے۔

معاشی دباؤ اور قرضہ داری

اس وقت فرانس میں یہودیوں نے متعدد بینک اور قرضہ جاتی ادارے قائم کیے تھے، جن میں بڑے شہروں میں مالیاتی مارکیٹیں اور قرض دہندگان کی سرکلز شامل تھیں۔ دربار ان اداروں کو بادشاہی خزانے کے لیے آمدن کا اہم ذریعہ سمجھتا تھا، لیکن یہی ادارے بادشاہ کی مالی آزادی کے لیے خطرہ بھی بن گئے۔

یہودی سرمایہ دارانہ ادارے بادشاہ سے بلا سود قرضہ لے کر عوام اور خواص کو بھاری سود پر قرض فراہم کرتے تھے۔ ساتھ ہی، وہ حکومت پر بھی یہ مطالبہ کرتے کہ عوام کو دیے گئے قرضوں پر سود وصول کیا جائے۔ بار بار یہودی قرض طلبی اور سود کی واپسی کے مطالبات کے ساتھ بادشاہ کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے رہے، جس سے دربار کو شبہ ہوا کہ یہودی حکومتی طاقت کو اپنے اقتصادی فائدے کے لیے محدود کر سکتے ہیں۔

سیاسی سازش اور اثر و رسوخ

کچھ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہودیوں نے تجارتی اور مالیاتی نیٹ ورک کے ذریعے بادشاہ کی پوزیشن کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ یہودی مالیاتی ادارے بادشاہی خزانے سے قرض لے کر واپس نہ کرتے اور عوام میں بادشاہ کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے، جس سے عوام میں ناراضگی پیدا ہوتی۔

شہروں میں یہودی تاجر بادشاہ کے مخالفین کو مالی مدد فراہم کرتے، جس سے سیاسی بے چینی بڑھتی اور بادشاہی اختیار کمزور محسوس ہوتا۔ اس کے نتیجے میں مقامی مسیحی آبادی اور عوام میں غصہ اور خوف کا ماحول پیدا ہوا، اور معاشرتی بے چینی کو ہوا ملی۔

مذہبی دباؤ اور عوامی ردعمل

اس دوران چرچ نے بھی یہودیوں پر مسیح دشمنی اور سازش کے الزامات لگائے، جس سے عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا اور بادشاہ کے لیے یہودیوں کی ملک میں موجودگی کو خطرہ تصور کرنا آسان ہو گیا۔

نتیجہ: بے دخلی کا فیصلہ

1306ء میں یہودیوں کی بے دخلی نہ صرف بادشاہی مفادات کے تحفظ کے لیے تھی، بلکہ معاشرتی دباؤ، سازشی شبہات، اور مذہبی الزامات نے بھی اسے ناگزیر بنا دیا۔ یہودیوں کے بنائے گئے مالیاتی اور تجارتی ادارے، جو ایک طرف معاشی ترقی کا ذریعہ تھے، دوسری طرف بادشاہ کی پوزیشن کو کمزور کرنے اور معاشرتی بے چینی پیدا کرنے کا سبب بن چکے تھے۔

یہ کہنا درست ہوگا کہ جس سازشی سرشت نے یہودیوں کو برطانیہ میں مسائل کا سبب بنایا تھا، وہ فرانس میں بھی صدیوں بعد پیدا ہو چکی تھی، اور اسی بناء پر فرانس کے بادشاہ نے یہودیوں کی ملک سے بے دخلی کا حکم جاری کیا۔


ہفتہ، 28 مارچ، 2026

1290۔۔۔۔برطانیہ سے بے دخلی



برطانیہ سے 1290 کی بے دخلی

انگلینڈ کے بادشاہ ایڈورڈ اول کی جانب سے یہودی برادری کی بے دخلی کے  فیصلے کو اس دور کے حقیقی حالات، دستاویزی شواہد اور ریاستی تقاضوں کے تناظر میں پرکھا جائے تو برطانوی مؤقف کسی حد تک قابلِ فہم بلکہ بعض پہلوؤں سے قابلِ دفاع بھی نظر آتا ہے۔

قرونِ وسطیٰ کے انگلینڈ میں یہودی برادری کو ایک خاص قانونی حیثیت حاصل تھی۔ وہ براہِ راست تاج کے ماتحت سمجھے جاتے تھے اور ان کی مالی سرگرمیاں شاہی سرپرستی میں چلتی تھیں۔ اس کا ایک واضح ثبوت “Exchequer of the Jews” 

نامی ادارہ تھا، جہاں یہودیوں کے قرضوں اور مالی معاملات کا سرکاری ریکارڈ رکھا جاتا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہودی مالیاتی نظام میں ایک منظم اور نمایاں کردار ادا کر رہے تھے۔

لیکن وقت کے ساتھ یہی نظام مسائل کا سبب بننے لگا۔ 1275ء میں ایڈورڈ اول نے

 “Statute of the Jewry”

 نافذ کیا، جس کے تحت سود پر قرض دینے پر پابندی لگا دی گئی۔ یہ ایک اہم موڑ تھا، کیونکہ اس قانون سے پہلے سودی لین دین عام تھا اور اس کے باعث مقامی آبادی میں شدیدمعاشی دباو کا شکار ہو چکی تھی۔ جب سودی نظام پر پابندی لگی تو یہویوں  کے ریاست کے ساتھ تعلقات  پیچیدہ ہوگئے۔

اسی دوران 1278ء میں ایک بڑا واقعہ پیش آیا جب درجنوں یہودیوں کو سکے کی جعل سازی 

(coin clipping) 

کے الزام میں گرفتار کیا گیا، اور کئی کو سزائیں بھی دی گئیں۔ یہ واقعہ محض ایک الزام نہیں بلکہ سرکاری کارروائیوں میں درج ایک حقیقی واقعہ تھا، جس نے یہودی برادری کے خلاف پہلے سے موجود شکوک کو مزید بڑھا دیا۔ اس کے نتیجے میں عوامی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ مالیاتی نظام میں بے ضابطگیاں موجود ہیں۔

مزید برآں، 13ویں صدی میں انگلینڈ کے کئی علاقوں میں مقروض افراد اور جاگیردار طبقہ یہودی قرض دہندگان کے خلاف کھل کر سامنے آیا۔ بادشاہ کے لیے یہ صورتحال ایک دوہرا چیلنج تھی: ایک طرف اسے مالی وسائل درکار تھے، اور دوسری طرف عوامی دباؤ بڑھ رہا تھا۔

ایسے حالات میں 1290ء کا فیصلہ سامنے آیا۔ یہ محض مذہبی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک سیاسی و معاشی حکمتِ عملی کے طور پر لیا گیا۔ اس اقدام کے نتیجے میں:

  • یہودیوں کی جائیدادیں شاہی تحویل میں آ گئیں

  • قرضوں کا نظام ازسرِ نو ترتیب دیا گیا

  • عوامی بے چینی میں وقتی کمی آئی

  • اور ریاستی اختیار مزید مستحکم ہوا

یہودیوں کی بے دخلی کے بعد وہ فرانس، جرمنی اور مشرقی یورپ کے دیگر علاقوں میں پھیل گئے، جہاں بعد میں وہ نئی معاشی اور سماجی بنیادیں قائم کرنے میں کامیاب بھی ہوئے۔

یہ کہنا درست نہیں کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر انصاف پر مبنی تھا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت کے حکمران اپنے فیصلے موجودہ انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت نہیں بلکہ ریاستی بقا اور استحکام کے تحت کرتے تھے۔ ایڈورڈ اول نے بھی اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسا قدم اٹھایا جو ان کے نزدیک مملکت کے مفاد میں تھا۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ 1290ء کی بے دخلی کو صرف تعصب یا ظلم کے زاویے سے دیکھنا تاریخ کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ اس کے پیچھے حقیقی واقعات، معاشی دباؤ، قانونی تبدیلیاں اور عوامی ردعمل سب شامل تھے—اور یہی عناصر برطانوی مؤقف کو ایک حد تک سمجھنے کے قابل بناتے ہیں۔

منگل، 24 مارچ، 2026

ترقی یافتہ دنیا کی اخلاقی شکست

  ترقی یافتہ دنیا کی اخلاقی شکست

انسان نے صدیوں کی مسلسل جدوجہد، تحقیق اور فکری ارتقاء کے بعد ایک ایسے دور میں قدم رکھا تھا جہاں مشینیں سوچنے لگی تھیں، فاصلے سمٹ چکے تھے، اور وقت کو قابو میں کرنے کا فن سیکھ لیا گیا تھا۔ ہم نے اس عہد کو مصنوعی ذہانت کا نام دیا—ایک ایسا مرحلہ جہاں انسان اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی انسان ترقی کر گیا ہے؟ یا صرف اس کے ہتھیار جدید ہو گئے ہیں؟

ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جاری جنگ جب اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، تو دنیا کے سامنے ایک تلخ حقیقت کھل کر آ رہی ہے: انسان نے ٹیکنالوجی تو حاصل کر لی، مگر انسانیت کھو دی۔

یہ وہی دنیا ہے جہاں چند لمحوں میں ایک پیغام براعظموں کو عبور کر لیتا ہے، مگر اسی دنیا میں میزائل بھی پلک جھپکتے ہی شہروں کو ملبے میں بدل دیتے ہیں۔ یہ وہی زمانہ ہے جہاں مصنوعی ذہانت انسانی مسائل حل کرنے کے لیے استعمال ہونی چاہیے تھی، مگر اب یہی ذہانت جنگی حکمت عملیوں، ڈرون حملوں اور تباہی کے نئے طریقوں میں جھونک دی گئی ہے۔

اس جنگ نے ایک اور پہلو بھی واضح کر دیا ہے: طاقت کا توازن اب انسانیت کے حق میں نہیں رہا۔ جو توانائی کبھی انسانوں کو قریب لانے، سفر آسان بنانے اور دنیا کو ایک گلوبل گاؤں بنانے کے لیے استعمال ہو رہی تھی، وہی توانائی اب تباہی کے لیے صرف ہو رہی ہے۔ ایندھن مہنگا ہو رہا ہے، فضائی حدود غیر محفوظ ہو رہی ہیں، عالمی تجارت متاثر ہو رہی ہے—یعنی وہ تمام عوامل جو دنیا کو جوڑتے تھے، اب ٹوٹنے لگے ہیں۔

سفر جو کبھی آسانی کی علامت تھے، اب خوف کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔ ہوائی جہاز جو فاصلے کم کرتے تھے، اب جنگی طیاروں کے سائے میں دبے ہوئے ہیں۔ سمندر جو تجارت کے راستے تھے، اب عسکری نقل و حرکت کے میدان بن چکے ہیں۔ گویا انسان نے فاصلے تو کم کر لیے، مگر دلوں کے درمیان خلیج مزید گہری ہو گئی۔

یہ جنگ صرف ایران، اسرائیل یا امریکہ کی نہیں ہے؛ یہ دراصل انسانیت اور طاقت کے درمیان ایک کشمکش ہے۔ ایک طرف وہ انسان ہے جو ترقی، امن اور علم کا خواہاں ہے، اور دوسری طرف وہ نظام ہے جو طاقت، غلبے اور کنٹرول کو ترجیح دیتا ہے۔

تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی رہی ہے کہ جنگیں کبھی بھی دیرپا حل نہیں ہوتیں، مگر ہر دور میں انسان اس سبق کو بھلا دیتا ہے۔ آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے ہمیں تباہی کے ایسے ہتھیار دیے ہیں جن کی مثال ماضی میں نہیں ملتی، مگر اخلاقی شعور وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔

اگر یہی صورتحال برقرار رہی، تو بعید نہیں کہ آنے والے وقت میں انسان اپنی ہی بنائی ہوئی ترقی کا شکار بن جائے۔ مصنوعی ذہانت، جو انسان کے لیے ایک نعمت بن سکتی تھی، کہیں اس کی تباہی کا ذریعہ نہ بن جائے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا صرف طاقت کے توازن پر نہیں، بلکہ اخلاقی توازن پر بھی غور کرے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب انسان خود سے یہ سوال کرے گا:
ہم نے ترقی کی تھی، یا صرف تباہی کے نئے طریقے ایجاد کیے تھے؟

اتوار، 22 مارچ، 2026

توانائی ہی طاقت ہے



BTC pipe line

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی صرف میزائل یا فوجی نقل و حرکت تک محدود نہیں رہی۔ اصل محاذ آج توانائی کے بہاؤ اور ان کے راستوں پر کنٹرول کا ہے، اور اس میں سب سے اہم کردار ادا کر رہی ہے باکو-تبلیسی-جےہان (بی ٹی سی) پائپ لائن۔

یہ پائپ لائن آذربائیجان کے تیل کو جارجیا کے راستے ترکی کے ساحلی شہر جےہان تک پہنچاتی ہے۔ بظاہر ایک اقتصادی منصوبہ، مگر حقیقت میں یہ خطے کی طاقت کا توازن بدل دینے والی حکمت عملی کی راہداری ہے۔

یہ راہداری روس اور ایران کو بائی پاس کرتی ہے اور عالمی منڈیوں تک تیل پہنچاتی ہے۔ یہاں توانائی صرف تجارت کا ذریعہ نہیں، بلکہ اسٹریٹیجک ہتھیار بھی بن چکی ہے۔ ترکی اس راہداری کے ذریعے توانائی کا مرکز بن چکا ہے، آذربائیجان اپنی برآمدات سے اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، اور اسرائیل کو جےہان بندرگاہ کے ذریعے بالواسطہ توانائی حاصل ہوتی ہے۔

اس نظام کے پیچھے ایک مثلثِ مفادات کام کر رہی ہے: آذربائیجان توانائی کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، ترکی جغرافیائی اہمیت حاصل کر رہا ہے، اور اسرائیل محفوظ توانائی کی رسائی حاصل کر رہا ہے۔ یہ تعلقات نظریات کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقت پسندی کی سیاست پر استوار ہیں۔

بی ٹی سی پائپ لائن صرف تیل کی ترسیل کا راستہ نہیں، بلکہ ممکنہ اسٹریٹیجک ہدف بھی ہے۔ اگر یہاں خلل آئے تو عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی، یورپ اور ایشیا کی سپلائی متاثر ہوگی اور خطے میں کشیدگی بڑھ جائے گی۔

دنیا کی بڑی جنگیں ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں۔ کچھ جنگیں پائپ لائنوں، بندرگاہوں اور تجارتی راستوں میں خاموش مگر فیصلہ کن طریقے سے جاری رہتی ہیں۔ باکو-تبلیسی-جےہان پائپ لائن بھی اسی خاموش محاذ کا حصہ ہے۔ مستقبل کا سوال یہ نہیں ہوگا کہ جنگ کہاں ہو رہی ہے، بلکہ یہ ہوگا کہ توانائی کہاں سے گزر رہی ہے۔


وسوسہ کیا ہے؟



وسوسہ کیا ہے؟
انسانی دل کوئی سادہ وجود نہیں، بلکہ ایک ایسا میدانِ کارزار ہے جہاں ہر لمحہ خیر و شر، یقین و شک، اور نور و تاریکی کے درمیان ایک خاموش جنگ جاری رہتی ہے۔ اسی جنگ کا ایک نہایت باریک مگر مہلک ہتھیار وسوسہ ہے—ایک ایسا خیال جو بظاہر معمولی ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ انسان کے ایمان، عمل اور سوچ کو کھوکھلا کرنے لگتا ہے۔
وسوسہ دراصل وہ غیر مرئی سرگوشی ہے جو انسان کے دل میں داخل ہو کر اسے بے یقینی، خوف، مایوسی اور گناہ کی طرف مائل کرتی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ شیطانی القا ہوتا ہے، جس کا بنیادی مقصد انسان کو اس کے رب سے دور کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں شیطان کو "وسوسہ انداز" کہا گیا ہے—وہ جو دلوں میں خاموشی سے شک کے بیج بوتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وسوسہ ہمیشہ برائی کے واضح چہرے کے ساتھ نہیں آتا۔ بعض اوقات یہ نیکی کے پردے میں بھی چھپ جاتا ہے۔ عبادت کے دوران بار بار یہ خیال آنا کہ شاید وضو درست نہیں ہوا، یا نماز میں کوئی غلطی ہو گئی—یہ بھی وسوسہ ہی کی ایک شکل ہے۔ اسی طرح یہ احساس کہ "میری دعائیں قبول نہیں ہوتیں" یا "اللہ شاید مجھ سے ناراض ہے"—یہ سب وہ نفسیاتی جال ہیں جو انسان کو مایوسی کی طرف دھکیلتے ہیں۔
وسوسے کی کئی صورتیں ہیں۔ کبھی یہ عقیدے پر حملہ کرتا ہے اور اللہ کی ذات یا فیصلوں پر شک پیدا کرتا ہے۔ کبھی عبادات کو مشکوک بنا دیتا ہے، اور کبھی انسان کو یہ باور کراتا ہے کہ اس کی نیکیاں بے معنی ہیں۔ سب سے خطرناک صورت وہ ہے جب برائی کو خوبصورت بنا کر پیش کیا جائے، اور انسان اسے جائز سمجھنے لگے۔
ایسے میں ایک پراثر روایت رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ایک شخص کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرتا تھا۔ اس کی زبان ہر وقت "اللہ، اللہ" سے تر رہتی تھی۔ ایک دن اس کے دل میں خیال آیا: "میں اتنا ذکر کرتا ہوں، مگر کیا کبھی اللہ نے مجھے جواب دیا؟" یہ وسوسہ اس کے دل میں جڑ پکڑ گیا، یہاں تک کہ اس کے ذکر میں کمی آنے لگی۔
پھر ایک رات اس نے خواب میں ایک بزرگ کو دیکھا، جو اسے یہ حقیقت سمجھا رہے تھے: "اے بندے! تیرا اللہ کو یاد کرنا ہی دراصل اللہ کی طرف سے جواب ہے۔ اگر وہ تجھے یاد نہ کرنا چاہتا، تو تجھے ذکر کی توفیق ہی نہ دیتا۔"
یہ پیغام ایک سادہ مگر گہری حقیقت کو آشکار کرتا ہے—**ذکر کی توفیق خود اللہ کی طرف سے جواب ہے۔ انسان کا اللہ کی طرف متوجہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ نے اسے اپنی طرف بلایا ہے۔
صوفیاء اسی حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں: "تمہارا اللہ کو تلاش کرنا، دراصل اللہ کا تمہیں تلاش کرنا ہے۔"
اسی تناظر میں حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ دل میں نیکی کی خواہش کا پیدا ہونا دراصل اللہ کی طرف سے بلانے کی ایک صورت ہے۔ جبکہ حضرت علی کا قول بھی اس پہلو کو واضح کرتا ہے کہ بعض اوقات انسان اپنے ٹوٹے ہوئے ارادوں کے ذریعے اللہ کو پہچانتا ہے—کیونکہ وہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
وسوسے کا مقابلہ محض جذباتی نہیں بلکہ عملی حکمتِ عملی کا تقاضا کرتا ہے۔ ذکرِ الٰہی دل کو مضبوط کرتا ہے، علم انسان کو فکری استحکام دیتا ہے، نیک صحبت سکون بخشتی ہے، اور اللہ پر یقین وسوسوں کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ دعا بھی ایک طاقتور ہتھیار ہے—خاص طور پر شیطانی وسوسوں سے پناہ مانگنا۔
حقیقت یہ ہے کہ وسوسہ انسانی زندگی کا ایک لازمی امتحان ہے، مگر یہ ناقابلِ شکست نہیں۔ یہ صرف ایک خیال ہے، حقیقت نہیں۔ اصل حقیقت انسان کا یقین، اس کا تعلقِ الٰہی اور اس کا باطن ہے۔
جب کبھی دل میں یہ خیال ابھرے کہ "میری دعا سنی نہیں جا رہی" یا "اللہ مجھ سے دور ہے"، تو اس حکایت کو یاد رکھنا چاہیے:
"تمہارا اللہ کو یاد کرنا ہی اللہ کی طرف سے جواب ہے۔"

ایک ندی کی کہانی





 ایک ندی کی کہانی

راولپنڈی کی پہچان کبھی اس کی گلیاں، بازار اور لوگ نہیں تھے، بلکہ اس کے بیچوں بیچ بہنے والا نالہ لئی تھا۔ یہ وہی نالہ ہے جو آج بدبو، گندگی اور خوف کی علامت بن چکا ہے، مگر ایک وقت تھا جب یہی پانی زندگی، خوبصورتی اور سکون کا استعارہ تھا۔

یہ ندی مارگلہ پہاڑیاں کی گود سے نکلتی تھی۔ بارشوں کا پانی، چشموں کی روانی، اور قدرتی بہاؤ مل کر اسے ایک شفاف دھار میں بدل دیتے تھے۔ یہ بہتی ہوئی لکیر صرف پانی نہیں تھی، بلکہ اس شہر کی سانس تھی۔ لوگ اس کا پانی پیتے تھے، اس میں مچھلیاں پکڑتے تھے، اور اس کے کنارے زندگی آباد تھی۔

پھر وقت بدلا۔ شہر پھیلنے لگا۔ آبادی بڑھی، مگر سوچ سکڑ گئی۔ نالہ لئی، جو کبھی قدرتی نعمت تھا، آہستہ آہستہ انسانی لاپرواہی کا شکار ہونے لگا۔ گھروں کا گندا پانی، فیکٹریوں کا زہر، اور بے ہنگم تعمیرات—سب کچھ اسی کے حوالے کر دیا گیا۔

یوں ایک ندی کو نالہ بنا دیا گیا۔

یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی، بلکہ دہائیوں کی غفلت کا نتیجہ تھی۔ 1947 کے بعد جب راولپنڈی نے تیزی سے ترقی کی، تو کسی نے یہ نہ سوچا کہ اس ترقی کی قیمت کیا ہوگی۔ سیوریج کے نظام ناکافی رہے، تجاوزات بڑھتی گئیں، اور نالہ لئی کا قدرتی راستہ تنگ ہوتا گیا۔

آج صورتحال یہ ہے کہ یہ نالہ صرف گندگی کا راستہ نہیں، بلکہ خطرے کی علامت بھی ہے۔ مون سون آتے ہی اس کا پانی بپھر جاتا ہے۔ مارگلہ پہاڑیاں سے آنے والا تیز بہاؤ جب شہر کی تنگ گزرگاہوں میں داخل ہوتا ہے تو سیلاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ 2001 اور 2010 کے سیلاب اس بات کے گواہ ہیں کہ فطرت کو نظرانداز کرنے کی قیمت کتنی بھاری ہوتی ہے۔

یہ نالہ آگے جا کر دریائے سواں میں شامل ہوتا ہے، اور یوں آلودگی کا یہ سفر مزید پھیلتا ہوا دریائے سندھ تک جا پہنچتا ہے۔ یعنی ایک شہر کی غفلت پورے ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔

یہ کہانی صرف ایک نالے کی نہیں، بلکہ ہمارے رویوں کی ہے۔ ہم نے قدرت کو استعمال کیا، مگر اس کی حفاظت نہ کی۔ ہم نے ترقی تو کی، مگر توازن کھو دیا۔

سوال یہ نہیں کہ نالہ لئی کیوں بگڑا، سوال یہ ہے کہ ہم کب سدھریں گے؟

دنیا کے کئی شہر اپنے مردہ دریاؤں کو دوبارہ زندہ کر چکے ہیں۔ اگر ارادہ ہو، منصوبہ بندی ہو، اور نیت درست ہو، تو نالہ لئی بھی دوبارہ ایک زندہ ندی بن سکتا ہے۔

ورنہ یہ نالہ ہمیں ہر سال، ہر بارش میں، یہی یاد دلاتا رہے گا کہ انسان جب فطرت سے لڑتا ہے تو آخرکار ہارتا وہ خود ہی ہے۔

جمعہ، 20 مارچ، 2026

یہ جنگ سرحدوں کی نہیں، توانائی کے نقشے کی ہے


 یہ جنگ سرحدوں کی نہیں، توانائی کے نقشے کی ہے

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر آگ کے دہانے پر کھڑا ہے، مگر اس بار کہانی صرف میزائلوں اور فضائی حملوں کی نہیں۔ اس جنگ کے پیچھے ایک گہرا، خاموش اور زیادہ خطرناک ایجنڈا کارفرما ہے—طاقت، توازن اور توانائی کا کنٹرول۔

اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ کشیدگی کو محض ایک ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے اسٹریٹیجک منصوبے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔

اسرائیل کا پہلا ہدف واضح ہے: ایران کی عسکری اور جوہری صلاحیت کو اس حد تک محدود کر دیا جائے کہ وہ آئندہ کسی بڑے خطرے کی شکل اختیار نہ کر سکے۔ اس کے لیے نیوکلیئر تنصیبات کو نشانہ بنانا، میزائل اور ڈرون پروگرام کو کمزور کرنا، اور خطے میں موجود اس کے اتحادی نیٹ ورک—جیسے حزب اللہ—کو محدود کرنا ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اسے سادہ الفاظ میں ایک پیشگی روک تھام کہا جا سکتا ہے۔

مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔

دوسرا بڑا ہدف علاقائی طاقت کے توازن کو بدلنا ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کا اثر کم ہو اور اس کی جگہ ایک نیا سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل پائے، جس میں خلیجی ممالک اور دیگر اتحادی اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ یہ دراصل خطے کی ازسرِنو تشکیل

 (regional re-engineering) 

کی ایک کوشش ہے—خاموش مگر دور رس اثرات رکھنے والی۔

تیسرا عنصر ہے ڈیٹرنس—یعنی ایسا خوف پیدا کرنا کہ آئندہ کوئی ریاست یا گروہ اسرائیل کو چیلنج کرنے سے پہلے سو بار سوچے۔ حالیہ برسوں میں ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد اسرائیل ایک واضح پیغام دینا چاہتا ہے: جواب سخت ہوگا، فوری ہوگا، اور فیصلہ کن ہوگا۔

لیکن اس پوری تصویر کا سب سے اہم، اور شاید سب سے کم زیرِ بحث پہلو ہے—توانائی۔

بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ بیانات میں تیل اور توانائی کا ذکر محض معاشی گفتگو نہیں، بلکہ ایک واضح جغرافیائی اشارہ 

(geostrategic signal)

 ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل جنگ صرف زمین پر نہیں، بلکہ ان راستوں پر ہے جہاں سے دنیا کی معیشت کو توانائی ملتی ہے۔

اگر ایران مضبوط رہتا ہے تو وہ آبنائے ہرمز اور دیگر توانائی روٹس پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس سے عالمی طاقتیں بھی پریشان ہوتی ہیں۔ اسرائیل نہیں چاہتا کہ توانائی کا بہاؤ اس کے مخالف کے کنٹرول میں ہو۔

اسی لیے متبادل راستے، جیسے باکو-تبلیسی-جےہان پائپ لائن، غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ جب خلیجی سپلائی خطرے میں ہو، تو یہی راہداری عالمی توانائی کے توازن کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتی ہے۔

یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ تیل کا ذکر دراصل عالمی بیانیے کو متاثر کرنے کی کوشش بھی ہے—دنیا کو یہ باور کروانا کہ یہ جنگ صرف دو ممالک کے درمیان نہیں، بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے خطرہ ہے۔ یوں مغربی دنیا کو اس بیانیے کے ساتھ کھڑا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اب ایک اہم سوال: کیا اسرائیل واقعی مکمل جنگ چاہتا ہے؟

حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

یہ کہنا کہ اسرائیل صرف جنگ کا خواہاں ہے، ایک سادہ اور سطحی تجزیہ ہوگا۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ اسرائیل ایک کنٹرولڈ تصادم چاہتا ہے—ایسا تصادم جس میں ایران کمزور ہو جائے، مگر عالمی نظام مکمل طور پر نہ بکھرے۔ اس حکمت عملی کو عسکری اصطلاح میں 

“escalation dominance” 

کہا جاتا ہے۔

مگر ہر حکمت عملی کے اپنے خطرات ہوتے ہیں۔

اگر یہ جنگ طویل ہو گئی تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے۔ تیل کی قیمتیں بڑھیں گی، سپلائی چین متاثر ہوگی، اور عالمی معیشت دباؤ میں آ جائے گی۔ یہ وہ پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ اصل نقصان وہیں سے شروع ہوتا ہے۔

آخرکار، اس پوری صورتحال کو ایک جملے میں سمیٹا جا سکتا ہے

اسرائیل کا ہدف ایران کو اس حد تک کمزور کرنا ہے کہ وہ نہ عسکری خطرہ رہے، نہ توانائی کے عالمی نقشے پر اثر انداز ہو سکے۔

اور نیتن یاہو کا تیل سے متعلق بیان ہمیں یہ سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ

یہ جنگ صرف سرحدوں کی نہیں، بلکہ توانائی کے عالمی نقشے کی جنگ ہے۔

جنگ، معیشت اور انسانیت کا خسارہ





 جنگ، معیشت اور انسانیت کا خسارہ

دنیا ایک بار پھر اس مقام پر کھڑی ہے جہاں سفارت کاری کی میزیں بھی بچھی ہوئی ہیں اور جنگی طیارے بھی فضا میں گشت کر رہے ہیں۔ جینیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات نے وقتی طور پر یہ امید ضرور پیدا کی تھی کہ شاید ایک نیا معاہدہ جنم لے گا، جیسا کہ ماضی میں 2015 کے جوہری معاہدے کی صورت میں ہوا تھا۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا تھا، اور عالمی طاقتیں ایک ممکنہ تصادم کو روکنے کے قریب نظر آ رہی تھیں۔

مگر جون 2025 میں، انہی مذاکرات کے دوران، ایران پر حملہ ہوا۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب بات چیت کے ساتھ ساتھ طاقت کا استعمال کیا گیا ہو، مگر اس بار اس نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ عالمی سیاست میں اعتماد ایک نایاب شے بن چکا ہے۔

پھر 28 فروردی 2026 کا واقعہ—ایک ایسا موڑ جس نے اس تنازعے کو مکمل جنگی کیفیت میں بدل دیا۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت کو ابتدائی حملے میں نشانہ بنایا گیا، اور اس کے بعد متبادل قیادت کو بھی ختم کرنے کی مسلسل کوششیں جاری رہیں۔ یہ حکمت عملی کسی ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورے نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔

مگر ایران نے خاموشی اختیار نہیں کی۔ اس نے جواب دیا—مسلسل اور شدید۔ امریکی اور اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس ردعمل نے یہ واضح کیا کہ ریاستیں صرف قیادت سے نہیں بلکہ اجتماعی ارادے سے چلتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس مزاحمت کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔ یوٹیوبرز اور تجزیہ کار اسے استقامت اور حوصلے کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ مگر اس بیانیے کے پیچھے ایک حقیقت ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے—اور وہ ہے معیشت، اور اس سے جڑی عوام کی زندگی۔

ایران ایک طویل عرصے سے اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے۔ کرنسی کی قدر میں کمی، مہنگائی میں اضافہ، بے روزگاری، اور بنیادی اشیاء کی قلت—یہ سب عوامل پہلے ہی عوام کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔ اب جنگی اخراجات، سپلائی لائنز کی رکاوٹ، اور عالمی تنہائی اس دباؤ کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔

یہاں ایک اور بڑی حقیقت بھی سامنے آتی ہے جس پر کم بات ہو رہی ہے:

ہر گزرتے دن کے ساتھ دنیا مجموعی طور پر معاشی دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ توانائی کے وسائل—تیل اور گیس—صرف متحارب ممالک کا مسئلہ نہیں رہتے۔ ان کی کمیابی پوری دنیا کو متاثر کرتی ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو صرف ایک ملک نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت ہل جاتی ہے۔ ٹرانسپورٹ، صنعت، خوراک—سب کچھ متاثر ہوتا ہے۔

اس کے باوجود، امن کے لیے سنجیدہ کوشش کرنے والے ممالک کی تعداد نہایت کم دکھائی دیتی ہے۔ زیادہ تر ممالک ایک عجیب کیفیت میں مبتلا ہیں—"دیکھو اور انتظار کرو"۔ نہ کھل کر مداخلت، نہ مؤثر ثالثی، بس حالات کا مشاہدہ۔

یہ خاموشی بھی ایک طرح کا کردار ہے—اور بعض اوقات یہ کردار بھی نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے۔

جنگ کا دائرہ جب وسیع ہوتا ہے تو اس کا نقصان سرحدوں تک محدود نہیں رہتا۔ انسانیت اس کی سب سے بڑی قیمت ادا کرتی ہے۔ بچے، عام شہری، کمزور طبقات—یہ سب اس آگ میں جھلس جاتے ہیں جسے سیاسی اور عسکری فیصلے بھڑکاتے ہیں۔

ایسے میں ایک تلخ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ دنیا میں کچھ طاقتیں ایسی ہیں جو کشیدگی کو ختم کرنے کے بجائے اسے برقرار رکھنے میں اپنا فائدہ دیکھتی ہیں۔ خاص طور پر اسرائیل کے حوالے سے یہ نقطہ نظر سامنے آتا ہے کہ وہ خطے میں مسلسل دباؤ اور تصادم کی کیفیت کو اپنی سکیورٹی حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔ یہ تاثر درست ہو یا مبالغہ، مگر اس کی موجودگی خود عالمی بے اعتمادی کی علامت ہے۔

اصل سوال اب یہ نہیں رہا کہ کون جیت رہا ہے اور کون ہار رہا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ اس سب میں ہار کون رہا ہے؟

اور جواب ہے: انسانیت۔

جنگیں وقتی فتح دے سکتی ہیں، مگر طویل المدت میں وہ معیشتوں کو کھوکھلا، معاشروں کو تقسیم، اور انسان کو بے بس کر دیتی ہیں۔ آج دنیا کو طاقت کے مظاہرے سے زیادہ امن کی ضرورت ہے، مگر افسوس کہ امن کی آوازیں کمزور اور جنگ کا شور زیادہ بلند ہے۔

اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو شاید کل سوال یہ نہ ہو کہ جنگ کس نے جیتی،
بلکہ یہ ہو کہ انسانیت نے کیا کھو دیا۔

ہفتہ، 7 مارچ، 2026

Has Israel Become an American Financial Liability?

 


Has Israel Become an American Financial Liability? 

For decades, the United States has described Israel as its most important partner in the Middle East. From Congress to the White House, support for the Israeli state has been a cornerstone of U.S. foreign policy. But in 2026, amid shifting public sentiment and ongoing conflict in the region, an increasingly vocal segment of Americans now questions whether this alliance still serves U.S. interests—or whether it has become a strategic and financial liability.

At the heart of this debate is money: the vast amounts of U.S. taxpayer funds allocated to support Israel. According to historical aid data compiled by the U.S. Congressional Research Service and other public records, Israel has been the largest cumulative recipient of American foreign assistance since World War II. Adjusted for inflation, Israel has received roughly $310 billion in total economic and military aid from the United States since its founding in 1948 through 2024. 

Much of this support has been concentrated in recent decades. Under a series of bilateral agreements—especially the 2016 Memorandum of Understanding (MOU)—the U.S. agreed to provide $38 billion in military aid from 2019 through 2028, averaging $3.8 billion per year. In fiscal year 2024 alone, approximately $6.8 billion in aid was obligated to Israel by the U.S. government, almost entirely for military assistance. 

These figures are enormous by any standard, and they have fueled a wider debate not merely about dollars spent abroad but about American priorities at home. Critics argue that taxpayers’ money would be better spent on domestic needs—healthcare, education, infrastructure—especially amid persistent economic challenges like inflation, rising debt, and stagnant wages. Some commentators highlight that cumulative aid since 1990 could have contributed to substantial domestic investment if redirected. While exact cumulative figures since 1990 vary by methodology, the sheer scale of U.S. assistance—hundreds of billions in total—creates a perception among critics that the alliance is too costly. 

For many Americans, resentment is not just about dollars but about human costs and strategic entanglement. As tensions with Iran have escalated and conflict with militant groups in Gaza persists, some U.S. veterans and activists argue that Americans are being drawn into wars that primarily serve another country’s agenda. A symbolic moment came during a recent congressional hearing when former U.S. Marine veteran Brian McGinnis stood before lawmakers shouting, “No one wants to fight for Israel,” and was removed by Capitol security. Supporters of the protest depicted the scene as alarming evidence that U.S. foreign policy elites are disconnected from ordinary citizens’ views on war and peace.

These episodes reflect a growing dissatisfaction among portions of the public. According to recent polls, a substantial number of Americans now believe that the United States supports Israel too much, particularly in the context of the Gaza conflict and broader Middle East policy. 

The financial critique is often tied to geopolitical concerns. Critics argue that unwavering U.S. support for Israel has made America a target of extremist groups and complicated relations with Arab and Muslim-majority nations. They contend that Washington’s alliance has constrained U.S. strategic flexibility in the region while inflaming anti‑American sentiment abroad.

Yet supporters of the alliance offer a starkly different assessment. They argue that Israel provides considerable strategic value to the United States, especially in intelligence sharing, military cooperation, and technological innovation. Israel’s military and intelligence capabilities, particularly in surveillance and counterterrorism, are cited by proponents as critical tools in U.S. efforts to counter extremist threats and preserve stability in a volatile region.

Moreover, while critics focus on the aid totals, analysts emphasize that a significant portion of U.S. aid to Israel comes back to the U.S. economy. The majority of military aid is spent on American defense contractors and equipment, supporting jobs and technological development in the U.S. defense sector.

In addition, strategic considerations like maintaining influence in the Middle East, balancing the power of regional adversaries, and securing access to emerging technologies factor into policymakers’ calculations. For decades, these arguments played well across party lines; bipartisan support for Israel remained robust even as broader public opinion shifted.

Indeed, recent polling suggests that American sympathies in the Israel‑Palestine conflict have shifted significantly, with younger generations expressing more balanced or critical views of Israel’s policies than in the past.  These changing attitudes feed into the debate about whether continued, unconditional support serves long-term U.S. interests.

Perhaps most challenging for foreign policy elites is that this debate is no longer confined to academic or activist circles. Congressional hearings, veteran protests, and public opinion polls signal a broader shift in the national conversation. The image of American troops dying in distant conflicts—not for direct national defense but in wars with complex regional dynamics—has become a potent political issue.

This shift raises several questions for American foreign policy: How should the United States balance its strategic commitments with domestic priorities? What level of foreign assistance aligns with national interest without undermining public confidence? And how should policymakers respond when a significant portion of the electorate feels that longstanding alliances no longer reflect their values or priorities?

In the end, whether Israel is viewed as an asset or a liability comes down to perspective. For advocates of strong global engagement, the U.S.-Israel relationship remains a cornerstone of American strategy in a troubled region. For critics, the partnership has become a costly—and potentially dangerous—entanglement that demands reevaluation.

What is clear is that the debate has moved beyond foreign policy circles into the mainstream of American political life. With shifting public opinion, record levels of financial support on the books, and mounting calls for reassessment, the question of Israel’s role in U.S. strategy is now one of the most contested issues in modern American geopolitics.


جمعہ، 20 فروری، 2026

مشرقِ وسطیٰ کی کہانی فوجی توازن سے نہیں،بلکہ ممکنات سے لکھی جا رہی ہے




چند دن پہلے سوشل میڈیا کی گرد میں ایک خبر اڑی اور پھر خود ہی بیٹھ گئی: کہا گیا کہ محمد بن سلمان علیل ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں ان کے بھائی خالد بن سلمان کو ولی عہد بنانے کی سرگوشیاں جاری ہیں۔ خبر کی تردید تو جلد ہو گئی، مگر اس واقعے نے ایک اہم حقیقت آشکار کر دی — مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اصل خبریں وہ نہیں ہوتیں جو سچ ہوں، بلکہ وہ ہوتی ہیں جو ممکن نظر آئیں۔
خلیجی سیاست بظاہر استحکام کا تاثر دیتی ہے، لیکن اندرونی سطح پر اعتماد کی دراڑیں نمایاں ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات سفارتی مسکراہٹوں کے باوجود مفادات کی سرد جنگ میں ڈھلے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ اختلافات وقتی نہیں بلکہ اس بدلتی دنیا کا عکس ہیں جہاں علاقائی طاقتیں خود کو عالمی طاقتوں کے زیرِ سایہ رکھنے کے بجائے اپنی الگ حیثیت بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہی تبدیلی عالمی اتحادوں میں بھی نظر آتی ہے۔ نیٹو کے اندر بھی پالیسی اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ اور ترکی جیسے ممالک کئی معاملات میں امریکہ کی ترجیحات سے مختلف راستہ اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ منظر اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی سیاست اب یک قطبی نظم سے نکل کر طاقت کے متعدد مراکز کی طرف بڑھ رہی ہے۔
اس وسیع شطرنج میں ایران ایک منفرد مہرہ ہے۔ اس کی مذہبی حکومت دہائیوں سے قائم ہے اور اس کے حامی اسے نظریاتی استقامت کی علامت سمجھتے ہیں۔ تاریخی طور پر اس پر حملہ عراق نے کیا تھا، جس کے نتائج نے پورے خطے کو بدل دیا اور بالآخر صدام حسین کو انجام تک پہنچایا۔ اس مثال کو اکثر اس دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ جنگ شروع کرنے والا ہمیشہ فاتح نہیں ہوتا۔
مذہب اور نظریہ جب سیاست میں شامل ہو جائیں تو طاقت کا مفہوم بدل جاتا ہے۔ ایران کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ وہاں لاکھوں افراد اپنے عقیدے کو ذاتی مفاد سے مقدم رکھتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی قوت کو صرف عسکری برتری سے شکست دینا مشکل ہوتا ہے۔
ادھر خلیجی سفارت کاری بھی خاموشی سے نئی سمتیں تراش رہی ہے۔ سلمان بن عبدالعزیز کا دورۂ روس اور اس دوران ہونے والے معاہدے اس بات کی علامت تھے کہ عالمی صف بندیاں جامد نہیں رہیں۔ اسی دوران چین اپنی بحری اور معاشی موجودگی کے ساتھ خلیج فارس میں اثر بڑھا رہا ہے، جبکہ ماسکو کا خیال ہے کہ اسے یوکرین کے محاذ پر الجھا کر کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس پیچیدہ منظرنامے میں ایک سوال بار بار ابھرتا ہے: اگر واشنگٹن تہران کے خلاف براہِ راست کارروائی نہیں کرتا تو کیا اس کی عالمی برتری پر سوال اٹھیں گے؟ اور اگر کرتا ہے تو کیا وہ ایک ایسی جنگ میں داخل ہو جائے گا جس کا انجام اس کے اپنے اثر و رسوخ کو کمزور کر دے؟ طاقت کے کھیل میں بعض فیصلے جیت کر بھی ہار جاتے ہیں۔
اسی لیے مشرقِ وسطیٰ آج ایک حساس توازن پر کھڑا ہے۔ اگر ایران میں کسی بیرونی مداخلت سے نظام بدلتا ہے تو اس کے جھٹکے صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کے اقتدار کے ڈھانچے کو ہلا سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک اس کشیدگی کے ماحول میں سب سے زیادہ جارحانہ موقف رکھنے والے رہنما بنیامین نیتن یاہو ہیں، جو ایران کے خلاف سخت اقدامات کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ دور کی سیاست میں اصل جنگ محاذوں پر نہیں بلکہ امکانات میں لڑی جا رہی ہے۔ افواہیں، اتحاد، معاہدے اور بیانات — سب مل کر ایک ایسا منظرنامہ تشکیل دے رہے ہیں جہاں خاموشی بھی خبر ہے اور سکوت بھی اعلان۔ مشرقِ وسطیٰ کی کہانی  اب  فوجی توازن سے  نہیں،بلکہ  ممکنات سے  لکھی جا رہی ہے۔

جمعرات، 19 فروری، 2026

فتح کی تعریف




ہم اکثر افغانوں کی زبان سے ایک فخر آمیز جملہ سنتے ہیں: “ہم نے روس کو توڑا اور امریکہ کو شکست دی۔” بظاہر یہ الفاظ فتح کی گھن گرج محسوس ہوتے ہیں، مگر جب تاریخ اور سیاست کی آنکھ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ طاقت کا شور اکثر حقیقت کی خاموشی کو چھپا لیتا ہے۔ کسی طاقت کو گرانا بذاتِ خود کامیابی نہیں ہوتا؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے بعد اپنی سرزمین، اپنے لوگوں اور اپنی نسلوں کے حصے میں کیا آیا۔

سیاسی حکمت کا اصول سادہ مگر گہرا ہے: دشمن کی کمزوری تبھی معنی رکھتی ہے جب اپنی قوم کی مضبوطی میں ڈھل جائے۔ اگر میدانِ جنگ میں فتح کے باوجود بازار ویران ہوں، گھروں کے چراغ بجھ جائیں اور بچوں کے خواب ٹوٹ جائیں، تو پھر فتح اور شکست کے درمیان لکیر دھندلا جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس، امریکہ اور افغانستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کے تصادم اکثر عوام کی روزمرہ زندگی کو سب سے پہلے قربان کرتے ہیں۔

آج کی عالمی سیاست میں بھی یہی سبق زندہ ہے۔ ایران کا موجودہ رویہ اسی شعور کی جھلک دکھاتا ہے کہ اصل جنگ دشمن کے خلاف نہیں بلکہ حالات کے خلاف ہوتی ہے۔ ریاستیں جب سنجیدہ ہوتی ہیں تو ان کا ہدف نعروں کی گونج نہیں بلکہ معیشت کی بحالی، پابندیوں کا خاتمہ، روزگار کی فراہمی اور معاشرتی استحکام ہوتا ہے۔ کیونکہ اقتدار کی سب سے بڑی علامت میزائل نہیں بلکہ وہ سکون ہے جس میں ایک مزدور شام کو گھر لوٹ کر اپنے بچوں کے چہروں پر اطمینان دیکھ سکے۔

فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قوت محض عسکری برتری کا نام نہیں؛ یہ بصیرت، تدبر اور سمت کا مجموعہ ہے۔ سمت کے بغیر طاقت طوفان بن جاتی ہے—اور طوفان اپنے اور پرائے میں فرق نہیں کرتا۔ جو قومیں صرف مخالف کو توڑنے کے خواب دیکھتی ہیں، تاریخ اکثر انہیں خود ٹوٹتے ہوئے دکھاتی ہے۔ اس کے برعکس جو قومیں اپنے لوگوں کو سنبھالنے، اپنے اداروں کو مضبوط کرنے اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے پر توجہ دیتی ہیں، وہی اصل فاتح ٹھہرتی ہیں۔

حقیقی حکمت یہی ہے کہ دشمن کے زوال کو مقصد نہ بنایا جائے بلکہ اپنی قوم کے عروج کو نصب العین رکھا جائے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سیاست دانائی بنتی ہے اور فلسفہ عملی زندگی کا چراغ — ایک ایسی روشنی جو بتاتی ہے کہ سب سے بڑی فتح میدان میں نہیں بلکہ معاشرے کے دل میں حاصل ہوتی ہے۔

پیر، 16 فروری، 2026

جنگ کا نیا پیمانہ



جنگ کا نیا پیمانہ 
کامیابی کی تعریف ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی، خصوصاً جنگ اور سیاست کی دنیا میں۔ روایتی سوچ یہ تھی کہ فتح کا معیار صرف زمین کا قبضہ، دشمن کا جانی نقصان یا عسکری برتری ہوتی ہے۔ مگر اکیسویں صدی میں جنگ کا تصور بدل چکا ہے۔ اب کامیابی  نئے پیمانوں سے ناپی جاتی ہے: دنیا آپ کو کیسے دیکھتی ہے، آپ کی کہانی کون بیان کرتا ہے، اور آپ نے قدم کب اٹھایا۔ یہی عناصر جدید حکمتِ عملی کی اصل روح ہیں۔
سات اکتوبر کا واقعہ اسی حقیقت کی نمایاں مثال بن کر سامنے آیا۔ اس دن نے یہ دکھایا کہ نسبتاً کمزور فریق بھی اگر ادراک، بیانیہ اور وقت کا درست استعمال کرے تو طاقتور حریف کو وقتی طور پر دفاعی پوزیشن میں لا سکتا ہے۔ یہ محض عسکری کارروائی نہیں تھی بلکہ نفسیاتی اور سیاسی سطح پر اثر ڈالنے والی حکمتِ عملی تھی۔
یحییٰ سنوار اس تناظر میں ایک اہم شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ طویل قید، تنظیمی تجربہ اور خفیہ حکمتِ عملی کی مہارت نے ان کی سوچ کو روایتی عسکری قیادت سے مختلف بنایا۔ ان کے نزدیک جنگ صرف گولی اور بارود کا نام نہیں بلکہ ذہن، میڈیا اور عالمی رائے عامہ کا میدان بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی حکمتِ عملی میں عسکری اقدام ہمیشہ ایک بڑے سیاسی پیغام کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
سات اکتوبر نے مشرقِ وسطیٰ کی سفارتی بساط بھی بدل دی۔ چند ماہ قبل تک خطے میں تعلقات کی نئی صف بندی کی بات ہو رہی تھی اور بعض ممکنہ معاہدے تاریخ ساز قرار دیے جا رہے تھے۔ لیکن اچانک پیش آنے والے واقعے نے اس پیش رفت کو سست کر دیا۔ عوامی ردعمل نے حکومتوں کو محتاط بنا دیا اور سفارتی رفتار رک گئی۔ یوں ایک دن کی کارروائی نے برسوں کی سفارت کاری کو وقتی طور پر پس منظر میں دھکیل دیا۔
اس واقعے کا ایک اور اثر دفاعی برتری کے تصور پر پڑا۔ طویل عرصے سے جدید ٹیکنالوجی، نگرانی کے نظام اور انٹیلی جنس صلاحیت کو ناقابلِ شکست ڈھال سمجھا جاتا تھا، مگر اچانک حملے نے یہ تاثر کمزور کر دیا۔ عسکری ماہرین کو ماننا پڑا کہ ہائبرڈ جنگ — یعنی روایتی اور غیر روایتی حربوں کا امتزاج — طاقت کے توازن کو غیر متوقع انداز میں بدل سکتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس دن نے بیانیہ تبدیل کیا۔ جو تنازعہ عالمی ترجیحات میں نیچے چلا گیا تھا وہ دوبارہ عالمی بحث کا مرکز بن گیا۔ میڈیا، پارلیمانوں اور عوامی حلقوں میں گفتگو کا رخ بدل گیا اور بڑی طاقتوں کو اپنے مؤقف واضح کرنے پڑے۔ اس طرح ایک علاقائی واقعہ عالمی سیاسی گفتگو کا محور بن گیا۔
یہ سب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آج کی جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں۔ اصل معرکہ ذہنوں، خبروں، سفارت کاری اور تاثر کے میدان میں ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک دن کی کارروائی برسوں کے توازن بدل دیتی ہے اور طاقت کی تعریف نئے سرے سے لکھی جاتی ہے۔
تاریخ ہمیشہ اپنا فیصلہ دیر سے سناتی ہے، مگر اتنا واضح ہے کہ سات اکتوبر نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے — ایسا مرحلہ جہاں قوت، کمزوری اور حکمتِ عملی کے معنی بدل چکے ہیں۔

جمعرات، 12 فروری، 2026

H اشرافیہ کا کردار



اشرافیہ کا کردار

کنفیوشس نےکہا تھا “ اخلاق کے بغیر اقتدار محض ایک وقتی سایہ ہے۔” کیا آج کی اشرافیہ اس سایے کو حقیقت سمجھ بیٹھی ہے، یا دنیا واقعی ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں اخلاق اقتدار کے مقابلے میں ایک کمزور آواز بن گیا ہے

جو لوگ 1980 کی دہائی میں فکری شعور رکھتے تھے، انہیں ایک نام ضرور یاد ہوگا—زبگنیو برژنسکی۔ وہ محض ایک سرکاری عہدہ رکھنے والے شخص نہیں تھے، بلکہ عالمی سیاست کی گہری پرتوں کو سمجھنے والے مفکر تھے۔ 1977 سے 1981 تک صدر جمی کارٹر کے قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے برژنسکی نے 1970 میں ایک ایسی کتاب لکھی جو آج نصف صدی بعد پیش گوئی نہیں بلکہ تشریح بن چکی ہے

Between Two Ages: America’s Role in the Technetronic Era۔

اگر اس کتاب کا نچوڑ ایک سطر میں بیان کیا جائے تو مفہوم یہ تھا کہ مستقبل میں جمہور کے نام پر فیصلے جمہور نہیں کریں گے، بلکہ ایک محدود اور غیر مرئی گروہ کرے گا۔ یہ وہ طبقہ ہوگا جس کے ہاتھ میں پانچ بنیادی قوتیں مرکوز ہوں گی: میڈیا اور کمیونیکیشن، انسانی شعور پر اثراندازی، روایتی سیاست کا زوال، ڈیٹا اور نگرانی، اور قوم سے بالاتر طاقتوں کا ابھار۔

برژنسکی نے لکھا تھا کہ ٹی وی، سیٹلائٹ، اور پھر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عوامی رائے کو تشکیل دیں گے۔ ریاستیں اور طاقتور ادارے انسانی سوچ، رویّوں اور ترجیحات کو اس حد تک متاثر کرنے کے قابل ہو جائیں گے کہ فرد خود کو آزاد سمجھتے ہوئے بھی ایک طے شدہ فریم میں سوچ رہا ہوگا۔ جماعتیں، نظریات اور پارلیمان کمزور پڑیں گی، جبکہ ٹیکنوکریٹس، ماہرین اور غیر منتخب قوتیں فیصلہ ساز بن جائیں گی۔ ڈیٹا نگرانی کا ہتھیار بنے گا، پرائیویسی ایک تصور رہ جائے گی، اور طاقت قومی سرحدوں سے آزاد ہو کر ملٹی نیشنل اداروں اور عالمی نیٹ ورکس میں منتقل ہو جائے گی۔

آج، جب ایپسٹین فائلز سے متعلق خبریں اور انکشافات عالمی میڈیا میں گردش کر رہے ہیں، تو برژنسکی کی وہ باتیں محض نظریہ نہیں رہتیں بلکہ ایک عملی حقیقت کا عکس دکھائی دیتی ہیں۔ ان خبروں نے کم از کم یہ ضرور واضح کر دیا ہے کہ عالمی اشرافیہ کسی ایک ملک، نسل یا خطے کی نمائندہ نہیں۔ اس کی شناخت اس کی  ذہنیت ہے۔ یوں یہ طبقہ ایک قوم نہیں بلکہ ایک غیر مرئی کلب ہے—مشترکہ سوچ، مشترکہ مفاد اور مشترکہ خواہشات کا حامل۔

یہ لوگ دنیا پر اپنا تسلظ  فیصلوں، منصوبہ بندی اور بیانیے کے ذریعے قائم کرتے  ہیں۔ ان کے اقدامات عام آنکھ کو دکھائی نہیں دیتے، مگر ان کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ان کا پہلا محاذ سائبر ڈومین ہے—جہاں الفاظ تراشے جاتے ہیں، معنی گھڑے جاتے ہیں اور بیانیہ ترتیب پاتا ہے۔ یہاں انسانی سوچ کو ہموار کیا جاتا ہے، جذبات کو سمت دی جاتی ہے، اور رائے عامہ آہستہ آہستہ ایک مخصوص دائرے میں بند ہو جاتی ہے۔ طاقت  خاموشی سے کام کرتی ہے، مگر اس کی گرفت وسیع اور دیرپا ہوتی ہے۔

ان کا دوسرا محاذ معیشت ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی اور جدید مالی نظام کے ذریعے وسائل، محنت اور فیصلے ایک ایسے ڈھانچے میں ڈھلتے ہیں جہاں ہر لین دین ڈیٹا بن جاتا ہے۔ یہ ڈیٹا نگرانی اور کنٹرول کا مؤثر ذریعہ ہے۔ بظاہر سہولت اور ترقی کی زبان بولی جاتی ہے، مگر حقیقت میں مالی آزادی بتدریج مشروط ہوتی جاتی ہے اور اختیار کہیں اور مرتکز ہو جاتا ہے۔

ایپسٹین فائلز سے جڑی بحث نے ایک اور حقیقت بھی نمایاں کی ہے: طاقت خود کو جواب دہ نہیں سمجھتی۔ قوانین اور اصول اکثر دوسروں کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ طاقتور طبقات کے لیے بیانیہ، وضاحتیں اور خاموشی کافی سمجھی جاتی ہے۔  یہ اشرافیہ  کنٹرول کے تصور کی وارث ہے—ایک ایسی غیر مرئی قوت جو انسانی سوچ، رویّوں اور وسائل پر اثرانداز ہوتی ہے۔

آج سیاستدان بولتے ضرور ہیں، مگر فیصلوں کے پیچھے اکثر کسی اور طاقت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ذہن سائبر میں لکھے جاتے ہیں، وسائل ڈیجیٹل میں بندھتے ہیں، اور انسانی رویّے ایک خاص فریم میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔ اقتدار نے اب ایک نیا روپ اختیار کر لیا ہے—خاموش، مگر نہایت طاقتور۔

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کبھی قبائل میں بٹی، پھر عقائد کی بنیاد پر منقسم رہی۔ آج لگتا ہے دنیا دو ذہنیتوں میں بٹ گئی ہے۔ ایک طرف خیر، بھلائی، ایثار اور انسان دوستی؛ اور دوسری طرف ہوس، لالچ، غیر انسانی رویّے اور اقتدار کی بے لگام خواہش۔

کنفیوشس نے ڈھائی ہزار سال پہلے خبردار کر دیا تھا: “اگر تم دنیا پر حکمرانی چاہتے ہو تو پہلے اپنے کردار پر حکمرانی کرو۔ اخلاق کے بغیر اقتدار محض ایک وقتی سایہ ہے۔” سوال یہ ہے کہ آج کی اشرافیہ اس سایے کو حقیقت سمجھ بیٹھی ہے، یا دنیا واقعی ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں اخلاق اقتدار کے مقابلے میں ایک کمزور آواز بن گیا ہے

بدھ، 11 فروری، 2026

گمان اور رویے





ہماری زندگی کی سب سے مسلسل جستجو اگر کسی شے کی ہے تو وہ خوشی اور سکون ہیں—وہ دو نایاب موتی جن کے لیے انسان عمر بھر سمندرِ حیات میں غوطے لگاتا رہتا ہے۔ مگر عجیب المیہ یہ ہے کہ جس سکون کی تلاش میں ہم دنیا بھر کے راستے ناپتے ہیں، اکثر اسی سکون کے سب سے بڑے دشمن ہم خود ہوتے ہیں۔ ہمارے خیالات، ہمارے گمان، اور ہمارے رویّے—یہی وہ نادیدہ معمار ہیں جو یا تو زندگی کے افق پر روشنی کی عمارت کھڑی کرتے ہیں یا اسے بدگمانی کے اندھیروں میں ڈبو دیتے ہیں۔
مثبت سوچ ایک نرم ہوا کی طرح ہے جو دل کے موسم کو معتدل رکھتی ہے، جبکہ غلط فہمیاں خزاں کی سرد آندھی بن کر رشتوں کے پتّے جھاڑ دیتی ہیں۔ جب انسان کو دوسروں میں خوبی دکھائی دینا بند ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے باطن میں منفی خیال کی کوئی خاموش بیماری جنم لے چکی ہے—ایسی بیماری جو شور نہیں کرتی مگر دلوں کے درمیان فاصلے اگا دیتی ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن نے نہایت سادہ مگر تہہ دار الفاظ میں بیان کیا:
"اِجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ، إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ"
یعنی بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔
انسان کا ذہن ایک عجب کارخانہ ہے—یہ حقیقت سے زیادہ قیاس پر یقین کر لیتا ہے، اور ثبوت سے پہلے فیصلہ صادر کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ محبت کے رشتے شکوک کے کانٹوں میں الجھ جاتے ہیں۔ ڈیل کارنیگی کا قول اس نفسیاتی حقیقت کا آئینہ ہے کہ دنیا کی اکثر دشمنیاں غلط فہمیوں کے بطن سے جنم لیتی ہیں۔ ہم دوسروں کے بارے میں رائے بنانے میں جلدی کرتے ہیں، مگر اپنے گمانوں کا محاسبہ کرنے میں سستی۔
منفی سوچ کا پہلا زخم خود سوچنے والے کے دل پر لگتا ہے۔ کارل یونگ کے بقول جو شخص ہر چہرے میں عیب تلاش کرتا ہے، دراصل اپنے ہی باطن کے سایوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان روشنی پہچاننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے—وہ تعریف کرنا بھول جاتا ہے، شکرگزاری سے کترانے لگتا ہے، اور ہر مسکراہٹ میں سازش کا عکس ڈھونڈنے لگتا ہے۔
اس کے برعکس مثبت سوچ ایک شفا بخش روشنی ہے۔ یہ مسئلے مٹاتی نہیں، مگر ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ نورمن ونسنٹ پیل نے اسی سچ کو یوں بیان کیا کہ مثبت فکر مشکلات کو ختم نہیں کرتی بلکہ انسان کو ان سے بلند کر دیتی ہے۔ یہی کیفیت دل میں وہ اطمینان پیدا کرتی ہے جس کا ذکر قرآن نے یوں کیا:
"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"
یعنی یادِ الٰہی سے دلوں کو قرار نصیب ہوتا ہے۔
یہ قرار صرف عبادت کی ساعتوں میں نہیں اترتا؛ یہ طرزِ فکر کی زمین میں بھی اگتا ہے۔ جب انسان دوسروں کے لیے حسنِ ظن اختیار کرتا ہے، ان کے ارادوں کو خیر پر محمول کرتا ہے، اور ہر حال میں خیر تلاش کرتا ہے تو اس کے اپنے دل کا چراغ روشن ہو جاتا ہے۔ حضرت علیؓ کا ارشاد ہے کہ بدگمانی محبت کو کھا جاتی ہے، اور رومیؒ نے اسے دل کے اندر بھڑکتے جہنم سے تعبیر کیا ہے۔
دانائی یہ نہیں کہ انسان عیبوں کی فہرست یاد رکھے؛ دانائی یہ ہے کہ وہ خوبیوں کی تلاش میں رہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے خیالات کا احتساب کریں—اگر ہماری گفتگو میں تلخی بڑھ رہی ہے، اگر ہماری نظر ہر منظر میں نقص تلاش کرتی ہے، تو یہ اشارہ ہے کہ ہمارے باطن کا موسم بدل رہا ہے۔ ایسے وقت علاج بھی ہمارے ہی ہاتھ میں ہے: شکرگزاری کو عادت بنانا، حسنِ ظن کو شعار بنانا، اور خود سے یہ عہد کرنا کہ ہم دوسروں کو ویسا دیکھیں گے جیسا ہم خود بننا چاہتے ہیں۔
زندگی اپنی اصل میں دشوار ضرور ہے مگر تاریک نہیں۔ روشنی کا سرچشمہ باہر نہیں، انسان کے اندر ہے۔ جو شخص لوگوں میں خامیاں نہیں بلکہ خوبیاں تلاش کرنے لگتا ہے، اس کے لیے دنیا کی سختیاں بھی نرم ہو جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خوشی کوئی خارجی انعام نہیں، یہ دل کی داخلی کیفیت ہے—اور یہ کیفیت اسی دل میں اترتی ہے جو دوسروں کے لیے خیر سوچنے کا ہنر جانتا ہو۔
زندگی کو خوبصورت بنانے کا راز شاید اتنا ہی سادہ ہے:
لوگوں کے چہروں پر دھبے نہیں، روشنی تلاش کرو۔

منگل، 10 فروری، 2026

دوسروں کو راہِ راست پر لانے کا جنون




دوسروں کو راہِ راست پر لانے کا جنون
کچھ لوگ مان لیتے ہیں کہ انہیں دوسروں کی زندگیاں درست کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سچ ان کے پاس ہے  بظاہر یہ جذبہ اصلاح اور خیرخواہی کا لبادہ اوڑھے ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ رویّہ ایک فکری جنون کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایسا جنون جو  نصیحت کو حکم اور اخلاق کو جبر میں بدل دیتا ہے۔
راہِ راست کوئی ایک لکیر نہیں جس پر تمام انسان یکساں چل سکیں۔ ہر انسان اپنے تجربے، شعور اور حالات کے مطابق زندگی کو سمجھتا ہے۔ جب کوئی فرد یا گروہ اپنی فہم کو حتمی سچ قرار دے کر دوسروں پر نافذ کرنے لگے تو مکالمہ ختم اور تصادم شروع ہو جاتا ہے۔ اسی لمحے خیرخواہی اپنی روح کھو بیٹھتی ہے اور طاقت اس کی جگہ لے لیتی ہے۔
علم اس رویّے کے بالکل برعکس سمت میں رہنمائی کرتا ہے۔ سقراط نے حکمت کا آغاز خود احتسابی سے کیا اور کہا کہ اصل دانائی اپنی لاعلمی کا ادراک ہے۔ بدھ نے دکھ کی نشاندہی ضرور کی، مگر نجات کو ہر فرد کا ذاتی سفر قرار دیا۔ کانٹ کے نزدیک اخلاق وہ نہیں جو بیرونی دباؤ سے مسلط کیا جائے، بلکہ وہ ہے جسے انسان اپنے ضمیر کی آواز سمجھ کر قبول کرے۔ ان مفکرین کے ہاں اصلاح کا مرکز ہمیشہ انسان کا باطن رہا، نہ کہ دوسروں کی نگرانی۔
دوسروں کو راہِ راست پر لانے کا جنون دراصل اکثر اپنی ذات سے فرار کا راستہ ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے خوف، تضادات اور ناکامیوں کا سامنا نہیں کر پاتا، وہ دوسروں کے اعمال میں عیب تلاش کرنے لگتا ہے۔ نطشے نے اسی رویّے کو اخلاقی بالادستی کی بیماری کہا تھا، جہاں کمزور انسان اپنی کمزوری کو نیکی کا نام دے کر دوسروں پر مسلط کرتا ہے۔
جب یہی ذہنیت اجتماعی طاقت یا ریاستی اختیار کے ساتھ جڑ جائے تو نتائج مزید خطرناک ہو جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ “درست انسان” بنانے کی ہر مہم نے آخرکار سوال کرنے والوں کو مجرم اور اختلاف رکھنے والوں کو باغی قرار دیا۔ جان اسٹورٹ مل نے خبردار کیا تھا کہ فرد کی آزادی وہ بنیاد ہے جس کے بغیر کوئی تہذیب قائم نہیں رہ سکتی، اور جو معاشرہ بھلائی کے نام پر شعور پر قبضہ کرے، وہ دراصل آمریت کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سچ اگر واقعی سچ ہو تو اسے زبردستی نافذ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ برٹرینڈ رسل کے مطابق، جبر سے منوایا گیا نظریہ ذہن پر بوجھ بن جاتا ہے، یقین نہیں۔ انسان کو بدلنے کا واحد پائیدار طریقہ مثال، مکالمہ اور برداشت ہے، نہ کہ حکم، نگرانی اور خوف 
شاید اسی لیے لیو ٹالسٹائی نے کہا تھا
“ہر شخص دنیا کو بدلنے کی فکر میں رہتا ہے، مگر کوئی خود کو بدلنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔”
اصل راہِ راست دوسروں کو سیدھا کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے اندر جھانکنے میں ہے۔ جب انسان یہ سیکھ لیتا ہے تو اسے دوسروں کو زبردستی ہدایت دینے کی حاجت نہیں رہتی — کیونکہ اس وقت اس کا وجود خود ایک خاموش دلیل بن چکا ہوتا ہے۔

اسرائیل کی امریکی ساکھ کا خاتمہ



اسرائیل کی امریکی ساکھ کا خاتمہ
تاریخ میں بعض فیصلے میدانِ جنگ سے زیادہ ذہنوں اور بیانیوں میں نتائج   پیدا کرتے ہیں۔ یحییٰ سنوار کا ’’طوفان‘‘ کی جنگ چھیڑنے کا فیصلہ بھی ایسا ہی ایک قدم ثابت ہوا، جس نے نہ صرف غزہ اور اسرائیل کے درمیان محاذ کھولا بلکہ امریکہ کے اندر اسرائیل کی سب سے قیمتی متاع—عوامی حمایت—کو آگ لگا دی۔
یہ محض عسکری تصادم نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا سیاسی دھماکہ تھا جس نے اسرائیل کو امریکہ میں عوامی رائے کا مسئلہ بنا دیا۔ وہ اسرائیل جو دہائیوں تک امریکی سیاست میں ایک ’’ناقابلِ سوال‘‘ اتحادی رہا، اچانک ایک ناپسندیدہ علامت میں بدلنے لگا—ایسی علامت جو امریکی عوام کے ذہن میں اپنے ہی ملک میں بڑھتی بدعنوانی، اخلاقی زوال اور بیرونی جنگوں کے بوجھ سے جڑ گئی۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ اسرائیل امریکہ میں سیاسی طور پر ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دائیں بازو سے بائیں بازو تک، کیمپسوں سے سڑکوں تک، نوجوانوں سے دانش وروں تک—ہر سطح پر اس کی غیر مشروط حمایت میں واضح دراڑ پڑ چکی ہے۔ یہ وہ کاری ضرب ہے جس نے اسرائیل کے سب سے اہم اسٹریٹجک اثاثے، یعنی امریکہ کے ساتھ اس کے مستقبل کے تعلق، کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یہ کہنا اب محض قیاس نہیں رہا کہ امریکہ میں جلد یا بدیر ایسا صدر منتخب ہوگا جو اسرائیل کا مخالف ہوگا—اور سخت مخالف ہوگا۔ اسی طرح ایک ایسا سیاسی دھارا بھی ابھرے گا جس کی اسرائیل سے دشمنی نظریاتی نوعیت کی ہوگی۔ جب وہ وقت آئے گا، تو اسرائیل کے پاس سہارا لینے کے لیے نہ خطے میں کوئی اخلاقی جواز بچے گا، نہ عالمی سطح پر کوئی مضبوط کریڈٹ۔
غزہ کے محاذ پر بھی اسرائیل کی حکمتِ عملی ایک اسٹریٹجک ناکامی کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوئی۔ اسرائیلی قیادت نے دانستہ   ایک ایسی جنگِ نیست و نابود چھیڑی، جس میں ہزاروں جانیں تو لے لی گئیں، شہر ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے، مگر بدلے میں اسرائیل نے اپنی ہی وجودی قانونی حیثیت جلا ڈالی۔ نہ وہ تاریخی فلسطین میں آبادیاتی حقیقت بدل سکے، نہ اپنی سرحدوں پر جغرافیائی توازن کو اپنے حق میں موڑ پائے۔
اس کے برعکس، یہ دلیل زیادہ وزنی ہوتی جا رہی ہے کہ اسرائیل نے اپنے گرد و نواح کو پہلے سے زیادہ خطرناک بارودی سرنگوں کے میدان میں بدل دیا۔ یمن میں انصار اللہ جیسے زیادہ منظم، زیادہ اہل اور زیادہ دشمن عناصر کو اخلاقی جواز ملا، اور ان عرب حکومتوں کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو گئی جو اسرائیل کو خطے کے تانے بانے میں ضم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
اس تمام منظرنامے میں ایک تلخ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے: نیتن یاہو کی سیاسی حماقت، یحییٰ سنوار کی توقعات سے بھی کہیں زیادہ ثابت ہوئی۔ سات اکتوبر سے قبل شاید کسی نے اندازہ نہیں لگایا تھا کہ اسرائیلی قیادت خود اپنے ہاتھوں سے اپنے سب سے مضبوط قلعے—امریکی حمایت—میں شگاف ڈال دے گی۔
یہ جنگ بارود اور ٹیکنالوجی سے لڑی گئی، مگر فیصلہ تاریخ، رائے عامہ اور اخلاقی بیانیے کے میدان میں ہو چکا ہے۔

ایران اور طاقت کا کھیل




ایران اور طاقت کا کھیل

تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ سب سے خطرناک طاقت وہ نہیں جو شور مچائے، بلکہ وہ ہے جو صرف موجود رہے، اور اپنی خاموشی سے ماحول کو قابو میں رکھے۔ کبھی کبھی، یہی خاموشی زمین کے نقشے بدل دیتی ہے، اور انسانیت کو ایسے فیصلوں کے سامنے کھڑا کر دیتی ہے جن کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

آج ایران کے ارد گرد کی سرگرمیاں بھی کچھ ایسا منظر پیش کر رہی ہیں۔ فضاؤں میں ایندھن بھرتے طیارے، سرحدوں پر قطار در قطار توپ خانے، اور سفارتی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی سخت زبان—یہ سب محض ایک سادہ نتیجے کی طرف نہیں جاتے۔ سوال اب پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے: کیا یہ سب مذاکرات کی کامیابی کی حکمت ہے، یا ایک ایسی جنگ کی خاموشی، جس کی بازگشت نقشے بدل دے؟

ایران کے صحرائے سمنان میں نصب کردہ میزائل اور سرحدوں پر ٹنگی ہوئی توپ خانے کی قطاریں بظاہر طاقت کے مظاہرے ہیں، لیکن بعض ماہرین انہیں دباؤ کی زبان کہتے ہیں۔ یہ وہ زبان ہے جو بولتی نہیں، مگر بات چیت کے دروازے کھولتی ہے، ایک قسم کی چپ مگر گونجدار حکمت۔

طاقت تاکہ بات ہو سکے
ایک گروہ کے مطابق، امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کو جنگ کے دہانے تک لا کر مذاکرات کی میز پر بٹھانا چاہتے ہیں۔ معروف اسٹریٹجک مبصر اسٹیفن والٹ کہتے ہیں:
"طاقت کا ارتکاز ہمیشہ جنگ کے لیے نہیں ہوتا، اکثر اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جنگ کی نوبت ہی نہ آئے۔"
یہی وجہ ہے کہ فضائی تیاریوں، طیاروں کی آمد، اور سرحدوں پر مضبوط پوزیشنز کا مقصد ایران کو یہ باور کرانا ہے کہ اگر بات نہ بنی تو قیمت بہت بھاری ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے بعض مشرق وسطیٰ کے حلیف بھی اطمینان ظاہر کر چکے ہیں کہ فوری حملہ فی الحال متوقع نہیں۔

رچرڈ ہاس کے مطابق:
"امریکہ کی اصل دلچسپی نظام گرانے میں نہیں، بلکہ نظام کو اس حد تک خوف میں مبتلا کرنے میں ہے کہ وہ رعایت دینے پر مجبور ہو جائے۔"

دوسرا رخ: فیصلہ کن دباؤ یا جنگ کی چھاپ
تصویر کا دوسرا رخ کہیں زیادہ تاریک ہے۔ کچھ ماہرین کے نزدیک یہ محض دباؤ نہیں، بلکہ ایک ایسے فیصلے کی تیاری ہے جس میں ایران کو 'سلامت رہنے' کا موقع شاید نہ دیا جائے۔ جون 2025 کی مثال ابھی تازہ ہے، جب مذاکرات کی آڑ میں ایران کو الجھایا گیا اور عملی کارروائی کی تیاری ساتھ ساتھ جاری رہی۔

اسرائیلی سلامتی ماہر ایال زِسر کے مطابق:
"یہ مرحلہ محض انتباہ کا نہیں، حتمی فیصلے کا لگتا ہے۔ اس بار ہدف صرف پروگرام نہیں، پورا اسٹرکچر ہے۔"
یہ ماہرین مزید کہتے ہیں کہ امریکہ میں اسرائیلی اثر و رسوخ صرف مشورے تک محدود نہیں رہا، بلکہ واشنگٹن پر اس کا عملی اثر بڑھ چکا ہے۔ اسی لیے خطرے کو 'قابلِ انتظام' دکھانے کے پیچھے رائے عامہ کو ذہنی طور پر ایک بڑے اقدام کے لیے تیار کرنے کی کوشش چھپی ہوئی ہے۔

ایران: جاگتا ہوا، تنہا نہیں
دونوں نظریات کے بیچ ایک حقیقت واضح ہے: ایران اس بار غافل نہیں۔ وہ ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے، ردِعمل کی تیاری میں ہے، اور اپنی بقاء کی حکمت عملی کو ہر لمحہ تازہ رکھتا ہے۔ خطے کی دیگر طاقتیں بھی خاموش تماشائی نہیں؛ سب جانتے ہیں کہ اگر یہ نازک توازن ٹوٹا تو آگ صرف ایک سرحد تک محدود نہیں رہے گی۔

مشرق وسطی کا یہ لمحہ تاریخ کی سانس روکنے کے مترادف ہے۔ ممکن ہے یہ سب حکمتِ عملی مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہو، اور ممکن ہے یہ ایک ایسی جنگ کی تمہید ہو جو زبان سے زیادہ، نقشے اور تقدیر بدل دے۔

طاقت کی دنیا میں سب سے خطرناک سوال کبھی یہ نہیں ہوتا کہ جنگ ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے: کیا جنگ کو اب روکا جا سکتا ہے؟
یہ سوال آج مشرق وسطی کی خاموش گونج میں سب سے بلند سنائی دے رہا ہے—ایک سوال جو نہ صرف ممالک بلکہ انسانیت کے ضمیر پر بھی بھاری ہے، اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خاموشی بھی کبھی کبھی تیزترین تلوار سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔

لاہور میں بسنت






لاہور میں بسنت

 جنریشن زی کے لیے یہ دو دن محض واقعات نہیں، بلکہ دو متضاد تجربات ہیں: ایک دن جب ہم نے خود کو بکھرتے دیکھا، اور دوسرا دن جب ہم نے خود کو سمیٹنے کی ایک روشن کوشش کی۔

آٹھ فروری کو لاہور کی فضا بدلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ چھتوں پر صرف گڈے نہیں اڑے، ذہنوں کا بوجھ بھی ہلکا ہوا۔ ڈھول کی تھاپ پر قدم خود بخود تھرکنے لگے، قہقہے فضا میں گھل گئے، اور اجنبی ایک دوسرے کے لیے مانوس ہو گئے۔ بزرگ نسل نے نئی نسل کو گڈے دلائے، تجربہ کار ہاتھوں نے نو آموز ہاتھوں کو گڈا اڑانے کے رموز سکھائے۔ لوگ ایک دوسرے کی چھتوں تک پہنچے، مگر اصل میں وہ ایک دوسرے کے دلوں تک پہنچے—وہ دل جو مدتوں سے بند پڑے تھے۔

یہ صرف بسنت نہیں تھی، یہ سماج کی ازسرِنو جڑت تھی۔
یہ ان قدروں کی خاموش واپسی تھی جنہیں ہم نے خوف اور بدگمانی کے نام پر پسِ پشت ڈال دیا تھا۔

اس سے پہلے ہمارا رویہ کیا بن چکا تھا؟
ہم نے اپنے گھروں کو قلعوں میں بدل لیا تھا۔ اونچی دیواریں، خاردار تاریں اور بھاری گیٹ—سب کچھ تحفظ کے نام پر، مگر انجام تنہائی کی صورت میں نکلا۔ عدمِ اعتماد نے ہمارے تعلقات کی ساخت بدل دی تھی۔ ہم سلام سے پہلے سوال اور ملاقات سے پہلے اندیشے پالنے لگے تھے۔

یہ وہ لمحہ تھا جہاں سیاست کو رہنمائی کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا—مگر وہ کہیں راستہ بھٹک گئی۔

سیاست اپنی اصل میں کوئی داغ دار سرگرمی نہیں، یہ ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ سچی سیاست وہ ہوتی ہے جو معاشرے میں امید بانٹے، لوگوں کو مثبت سوچ عطا کرے، مستقبل کی سمت واضح کرے، اور بالخصوص نوجوانوں کو مقصد دکھائے۔ سیاستدان کا کام محض نعرہ لگانا نہیں، بلکہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے سیاسی، اخلاقی اور سماجی رہنمائی فراہم کرنا ہوتا ہے۔

یہ راستہ آسان نہیں ہوتا۔
اکثر یہ سفر اتنا کٹھن ہو جاتا ہے کہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد کئی نام ہماری اجتماعی یادداشت میں محفوظ ہیں—وہ لوگ جنہوں نے اس راہ میں اپنی آسائشیں، اپنی عزت، حتیٰ کہ اپنی جان تک قربان کر دی، مگر اپنے وژن سے پیچھے نہ ہٹے۔ یہی سیاست کا اصل وقار ہے، یہی اس کا اخلاقی وزن ہے۔

اسی تناظر میں آٹھ فروری کی بسنت کو دیکھنا چاہیے۔
یہ کوئی سیاسی مظاہرہ نہیں تھا، مگر ایک سماجی کوشش ضرور تھی—ایک غیر اعلانیہ اعلان کہ معاشرہ ابھی مکمل طور پر بے حس نہیں ہوا۔ کہ ہم اب بھی اکٹھے ہو سکتے ہیں، بغیر نفرت کے، بغیر اشتعال کے۔

اور پھر ذہن نا چاہتے ہوئے نو مئی کی طرف چلا جاتا ہے۔

نو مئی وہ دن تھا جب سیاست رہنمائی کے بجائے اشتعال میں بدل گئی۔ یہ دن کسی بیرونی دشمن کا نہیں، ہماری اندرونی شکست کا دن تھا۔ نو مئی ایک ایسا خنجر تھا جو ہم نے خود اپنے ہاتھ میں لیا، اور خود کو زخمی کرنے کے لیے استعمال کیا۔

اس دن نفرت کے بیانیے تراشے گئے، زبانیں سخت ہو گئیں، اور اختلاف دشمنی میں بدل گیا۔ احتجاج اور تخریب کے درمیان حد مٹا دی گئی۔ ہم نے خود اپنا گریبان چاک کیا، اور پھر حیران ہوئے کہ آئینہ ہمیں ٹوٹا ہوا کیوں دکھا رہا ہے۔

نو مئی صرف تشدد کی ایک تاریخ نہیں، یہ اخلاقی زوال کی علامت ہے۔
اس دن ہم نے اپنی تہذیب، اپنی روایات اور اپنے اجتماعی شعور کو خود ہی اپنے ہاتھوں مجروح کیا۔ نتیجتاً خوشیاں ہم سے روٹھ گئیں، اور معاشرہ ایک بار پھر بند گھروں، بند دلوں اور بند ذہنوں میں قید ہو گیا۔

جنریشن زی نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
انہوں نے یہ سبق سیکھا کہ جب جذبات عقل سے آزاد ہو جائیں تو نعرے بوجھ بن جاتے ہیں، اور جب سیاست اخلاق سے خالی ہو جائے تو قومیں خود اپنی بنیادیں کمزور کر لیتی ہیں۔

اور اسی لیے آٹھ فروری اہم ہے۔
یہ دن یاد دلاتا ہے کہ سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ کہ اگر سیاست دوبارہ اپنی اصل روح—امید، سمت اور اخلاق—کی طرف لوٹ آئے، تو سماج دوبارہ سانس لے سکتا ہے۔ کہ ہم نفرت کے خنجروں کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔

اب سوال یہ نہیں کہ نو مئی کیوں پیش آیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم آٹھ فروری کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

کیونکہ تاریخ صرف واقعات محفوظ نہیں کرتی،
تاریخ یہ لکھتی ہے کہ قوموں نے کس لمحے کیا انتخاب کیا۔

اور انتخاب—
ہمیشہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہوتا ہے۔