جمعہ، 20 فروری، 2026

مشرقِ وسطیٰ کی کہانی فوجی توازن سے نہیں،بلکہ ممکنات سے لکھی جا رہی ہے




چند دن پہلے سوشل میڈیا کی گرد میں ایک خبر اڑی اور پھر خود ہی بیٹھ گئی: کہا گیا کہ محمد بن سلمان علیل ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں ان کے بھائی خالد بن سلمان کو ولی عہد بنانے کی سرگوشیاں جاری ہیں۔ خبر کی تردید تو جلد ہو گئی، مگر اس واقعے نے ایک اہم حقیقت آشکار کر دی — مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اصل خبریں وہ نہیں ہوتیں جو سچ ہوں، بلکہ وہ ہوتی ہیں جو ممکن نظر آئیں۔
خلیجی سیاست بظاہر استحکام کا تاثر دیتی ہے، لیکن اندرونی سطح پر اعتماد کی دراڑیں نمایاں ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات سفارتی مسکراہٹوں کے باوجود مفادات کی سرد جنگ میں ڈھلے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ اختلافات وقتی نہیں بلکہ اس بدلتی دنیا کا عکس ہیں جہاں علاقائی طاقتیں خود کو عالمی طاقتوں کے زیرِ سایہ رکھنے کے بجائے اپنی الگ حیثیت بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہی تبدیلی عالمی اتحادوں میں بھی نظر آتی ہے۔ نیٹو کے اندر بھی پالیسی اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ اور ترکی جیسے ممالک کئی معاملات میں امریکہ کی ترجیحات سے مختلف راستہ اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ منظر اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی سیاست اب یک قطبی نظم سے نکل کر طاقت کے متعدد مراکز کی طرف بڑھ رہی ہے۔
اس وسیع شطرنج میں ایران ایک منفرد مہرہ ہے۔ اس کی مذہبی حکومت دہائیوں سے قائم ہے اور اس کے حامی اسے نظریاتی استقامت کی علامت سمجھتے ہیں۔ تاریخی طور پر اس پر حملہ عراق نے کیا تھا، جس کے نتائج نے پورے خطے کو بدل دیا اور بالآخر صدام حسین کو انجام تک پہنچایا۔ اس مثال کو اکثر اس دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ جنگ شروع کرنے والا ہمیشہ فاتح نہیں ہوتا۔
مذہب اور نظریہ جب سیاست میں شامل ہو جائیں تو طاقت کا مفہوم بدل جاتا ہے۔ ایران کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ وہاں لاکھوں افراد اپنے عقیدے کو ذاتی مفاد سے مقدم رکھتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی قوت کو صرف عسکری برتری سے شکست دینا مشکل ہوتا ہے۔
ادھر خلیجی سفارت کاری بھی خاموشی سے نئی سمتیں تراش رہی ہے۔ سلمان بن عبدالعزیز کا دورۂ روس اور اس دوران ہونے والے معاہدے اس بات کی علامت تھے کہ عالمی صف بندیاں جامد نہیں رہیں۔ اسی دوران چین اپنی بحری اور معاشی موجودگی کے ساتھ خلیج فارس میں اثر بڑھا رہا ہے، جبکہ ماسکو کا خیال ہے کہ اسے یوکرین کے محاذ پر الجھا کر کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس پیچیدہ منظرنامے میں ایک سوال بار بار ابھرتا ہے: اگر واشنگٹن تہران کے خلاف براہِ راست کارروائی نہیں کرتا تو کیا اس کی عالمی برتری پر سوال اٹھیں گے؟ اور اگر کرتا ہے تو کیا وہ ایک ایسی جنگ میں داخل ہو جائے گا جس کا انجام اس کے اپنے اثر و رسوخ کو کمزور کر دے؟ طاقت کے کھیل میں بعض فیصلے جیت کر بھی ہار جاتے ہیں۔
اسی لیے مشرقِ وسطیٰ آج ایک حساس توازن پر کھڑا ہے۔ اگر ایران میں کسی بیرونی مداخلت سے نظام بدلتا ہے تو اس کے جھٹکے صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کے اقتدار کے ڈھانچے کو ہلا سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک اس کشیدگی کے ماحول میں سب سے زیادہ جارحانہ موقف رکھنے والے رہنما بنیامین نیتن یاہو ہیں، جو ایران کے خلاف سخت اقدامات کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ دور کی سیاست میں اصل جنگ محاذوں پر نہیں بلکہ امکانات میں لڑی جا رہی ہے۔ افواہیں، اتحاد، معاہدے اور بیانات — سب مل کر ایک ایسا منظرنامہ تشکیل دے رہے ہیں جہاں خاموشی بھی خبر ہے اور سکوت بھی اعلان۔ مشرقِ وسطیٰ کی کہانی  اب  فوجی توازن سے  نہیں،بلکہ  ممکنات سے  لکھی جا رہی ہے۔

جمعرات، 19 فروری، 2026

فتح کی تعریف




ہم اکثر افغانوں کی زبان سے ایک فخر آمیز جملہ سنتے ہیں: “ہم نے روس کو توڑا اور امریکہ کو شکست دی۔” بظاہر یہ الفاظ فتح کی گھن گرج محسوس ہوتے ہیں، مگر جب تاریخ اور سیاست کی آنکھ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ طاقت کا شور اکثر حقیقت کی خاموشی کو چھپا لیتا ہے۔ کسی طاقت کو گرانا بذاتِ خود کامیابی نہیں ہوتا؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے بعد اپنی سرزمین، اپنے لوگوں اور اپنی نسلوں کے حصے میں کیا آیا۔

سیاسی حکمت کا اصول سادہ مگر گہرا ہے: دشمن کی کمزوری تبھی معنی رکھتی ہے جب اپنی قوم کی مضبوطی میں ڈھل جائے۔ اگر میدانِ جنگ میں فتح کے باوجود بازار ویران ہوں، گھروں کے چراغ بجھ جائیں اور بچوں کے خواب ٹوٹ جائیں، تو پھر فتح اور شکست کے درمیان لکیر دھندلا جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس، امریکہ اور افغانستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کے تصادم اکثر عوام کی روزمرہ زندگی کو سب سے پہلے قربان کرتے ہیں۔

آج کی عالمی سیاست میں بھی یہی سبق زندہ ہے۔ ایران کا موجودہ رویہ اسی شعور کی جھلک دکھاتا ہے کہ اصل جنگ دشمن کے خلاف نہیں بلکہ حالات کے خلاف ہوتی ہے۔ ریاستیں جب سنجیدہ ہوتی ہیں تو ان کا ہدف نعروں کی گونج نہیں بلکہ معیشت کی بحالی، پابندیوں کا خاتمہ، روزگار کی فراہمی اور معاشرتی استحکام ہوتا ہے۔ کیونکہ اقتدار کی سب سے بڑی علامت میزائل نہیں بلکہ وہ سکون ہے جس میں ایک مزدور شام کو گھر لوٹ کر اپنے بچوں کے چہروں پر اطمینان دیکھ سکے۔

فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قوت محض عسکری برتری کا نام نہیں؛ یہ بصیرت، تدبر اور سمت کا مجموعہ ہے۔ سمت کے بغیر طاقت طوفان بن جاتی ہے—اور طوفان اپنے اور پرائے میں فرق نہیں کرتا۔ جو قومیں صرف مخالف کو توڑنے کے خواب دیکھتی ہیں، تاریخ اکثر انہیں خود ٹوٹتے ہوئے دکھاتی ہے۔ اس کے برعکس جو قومیں اپنے لوگوں کو سنبھالنے، اپنے اداروں کو مضبوط کرنے اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے پر توجہ دیتی ہیں، وہی اصل فاتح ٹھہرتی ہیں۔

حقیقی حکمت یہی ہے کہ دشمن کے زوال کو مقصد نہ بنایا جائے بلکہ اپنی قوم کے عروج کو نصب العین رکھا جائے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سیاست دانائی بنتی ہے اور فلسفہ عملی زندگی کا چراغ — ایک ایسی روشنی جو بتاتی ہے کہ سب سے بڑی فتح میدان میں نہیں بلکہ معاشرے کے دل میں حاصل ہوتی ہے۔

پیر، 16 فروری، 2026

جنگ کا نیا پیمانہ



جنگ کا نیا پیمانہ 
کامیابی کی تعریف ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی، خصوصاً جنگ اور سیاست کی دنیا میں۔ روایتی سوچ یہ تھی کہ فتح کا معیار صرف زمین کا قبضہ، دشمن کا جانی نقصان یا عسکری برتری ہوتی ہے۔ مگر اکیسویں صدی میں جنگ کا تصور بدل چکا ہے۔ اب کامیابی  نئے پیمانوں سے ناپی جاتی ہے: دنیا آپ کو کیسے دیکھتی ہے، آپ کی کہانی کون بیان کرتا ہے، اور آپ نے قدم کب اٹھایا۔ یہی عناصر جدید حکمتِ عملی کی اصل روح ہیں۔
سات اکتوبر کا واقعہ اسی حقیقت کی نمایاں مثال بن کر سامنے آیا۔ اس دن نے یہ دکھایا کہ نسبتاً کمزور فریق بھی اگر ادراک، بیانیہ اور وقت کا درست استعمال کرے تو طاقتور حریف کو وقتی طور پر دفاعی پوزیشن میں لا سکتا ہے۔ یہ محض عسکری کارروائی نہیں تھی بلکہ نفسیاتی اور سیاسی سطح پر اثر ڈالنے والی حکمتِ عملی تھی۔
یحییٰ سنوار اس تناظر میں ایک اہم شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ طویل قید، تنظیمی تجربہ اور خفیہ حکمتِ عملی کی مہارت نے ان کی سوچ کو روایتی عسکری قیادت سے مختلف بنایا۔ ان کے نزدیک جنگ صرف گولی اور بارود کا نام نہیں بلکہ ذہن، میڈیا اور عالمی رائے عامہ کا میدان بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی حکمتِ عملی میں عسکری اقدام ہمیشہ ایک بڑے سیاسی پیغام کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
سات اکتوبر نے مشرقِ وسطیٰ کی سفارتی بساط بھی بدل دی۔ چند ماہ قبل تک خطے میں تعلقات کی نئی صف بندی کی بات ہو رہی تھی اور بعض ممکنہ معاہدے تاریخ ساز قرار دیے جا رہے تھے۔ لیکن اچانک پیش آنے والے واقعے نے اس پیش رفت کو سست کر دیا۔ عوامی ردعمل نے حکومتوں کو محتاط بنا دیا اور سفارتی رفتار رک گئی۔ یوں ایک دن کی کارروائی نے برسوں کی سفارت کاری کو وقتی طور پر پس منظر میں دھکیل دیا۔
اس واقعے کا ایک اور اثر دفاعی برتری کے تصور پر پڑا۔ طویل عرصے سے جدید ٹیکنالوجی، نگرانی کے نظام اور انٹیلی جنس صلاحیت کو ناقابلِ شکست ڈھال سمجھا جاتا تھا، مگر اچانک حملے نے یہ تاثر کمزور کر دیا۔ عسکری ماہرین کو ماننا پڑا کہ ہائبرڈ جنگ — یعنی روایتی اور غیر روایتی حربوں کا امتزاج — طاقت کے توازن کو غیر متوقع انداز میں بدل سکتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس دن نے بیانیہ تبدیل کیا۔ جو تنازعہ عالمی ترجیحات میں نیچے چلا گیا تھا وہ دوبارہ عالمی بحث کا مرکز بن گیا۔ میڈیا، پارلیمانوں اور عوامی حلقوں میں گفتگو کا رخ بدل گیا اور بڑی طاقتوں کو اپنے مؤقف واضح کرنے پڑے۔ اس طرح ایک علاقائی واقعہ عالمی سیاسی گفتگو کا محور بن گیا۔
یہ سب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آج کی جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں۔ اصل معرکہ ذہنوں، خبروں، سفارت کاری اور تاثر کے میدان میں ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک دن کی کارروائی برسوں کے توازن بدل دیتی ہے اور طاقت کی تعریف نئے سرے سے لکھی جاتی ہے۔
تاریخ ہمیشہ اپنا فیصلہ دیر سے سناتی ہے، مگر اتنا واضح ہے کہ سات اکتوبر نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے — ایسا مرحلہ جہاں قوت، کمزوری اور حکمتِ عملی کے معنی بدل چکے ہیں۔

جمعرات، 12 فروری، 2026

H اشرافیہ کا کردار



اشرافیہ کا کردار

کنفیوشس نےکہا تھا “ اخلاق کے بغیر اقتدار محض ایک وقتی سایہ ہے۔” کیا آج کی اشرافیہ اس سایے کو حقیقت سمجھ بیٹھی ہے، یا دنیا واقعی ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں اخلاق اقتدار کے مقابلے میں ایک کمزور آواز بن گیا ہے

جو لوگ 1980 کی دہائی میں فکری شعور رکھتے تھے، انہیں ایک نام ضرور یاد ہوگا—زبگنیو برژنسکی۔ وہ محض ایک سرکاری عہدہ رکھنے والے شخص نہیں تھے، بلکہ عالمی سیاست کی گہری پرتوں کو سمجھنے والے مفکر تھے۔ 1977 سے 1981 تک صدر جمی کارٹر کے قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے برژنسکی نے 1970 میں ایک ایسی کتاب لکھی جو آج نصف صدی بعد پیش گوئی نہیں بلکہ تشریح بن چکی ہے

Between Two Ages: America’s Role in the Technetronic Era۔

اگر اس کتاب کا نچوڑ ایک سطر میں بیان کیا جائے تو مفہوم یہ تھا کہ مستقبل میں جمہور کے نام پر فیصلے جمہور نہیں کریں گے، بلکہ ایک محدود اور غیر مرئی گروہ کرے گا۔ یہ وہ طبقہ ہوگا جس کے ہاتھ میں پانچ بنیادی قوتیں مرکوز ہوں گی: میڈیا اور کمیونیکیشن، انسانی شعور پر اثراندازی، روایتی سیاست کا زوال، ڈیٹا اور نگرانی، اور قوم سے بالاتر طاقتوں کا ابھار۔

برژنسکی نے لکھا تھا کہ ٹی وی، سیٹلائٹ، اور پھر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عوامی رائے کو تشکیل دیں گے۔ ریاستیں اور طاقتور ادارے انسانی سوچ، رویّوں اور ترجیحات کو اس حد تک متاثر کرنے کے قابل ہو جائیں گے کہ فرد خود کو آزاد سمجھتے ہوئے بھی ایک طے شدہ فریم میں سوچ رہا ہوگا۔ جماعتیں، نظریات اور پارلیمان کمزور پڑیں گی، جبکہ ٹیکنوکریٹس، ماہرین اور غیر منتخب قوتیں فیصلہ ساز بن جائیں گی۔ ڈیٹا نگرانی کا ہتھیار بنے گا، پرائیویسی ایک تصور رہ جائے گی، اور طاقت قومی سرحدوں سے آزاد ہو کر ملٹی نیشنل اداروں اور عالمی نیٹ ورکس میں منتقل ہو جائے گی۔

آج، جب ایپسٹین فائلز سے متعلق خبریں اور انکشافات عالمی میڈیا میں گردش کر رہے ہیں، تو برژنسکی کی وہ باتیں محض نظریہ نہیں رہتیں بلکہ ایک عملی حقیقت کا عکس دکھائی دیتی ہیں۔ ان خبروں نے کم از کم یہ ضرور واضح کر دیا ہے کہ عالمی اشرافیہ کسی ایک ملک، نسل یا خطے کی نمائندہ نہیں۔ اس کی شناخت اس کی  ذہنیت ہے۔ یوں یہ طبقہ ایک قوم نہیں بلکہ ایک غیر مرئی کلب ہے—مشترکہ سوچ، مشترکہ مفاد اور مشترکہ خواہشات کا حامل۔

یہ لوگ دنیا پر اپنا تسلظ  فیصلوں، منصوبہ بندی اور بیانیے کے ذریعے قائم کرتے  ہیں۔ ان کے اقدامات عام آنکھ کو دکھائی نہیں دیتے، مگر ان کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ان کا پہلا محاذ سائبر ڈومین ہے—جہاں الفاظ تراشے جاتے ہیں، معنی گھڑے جاتے ہیں اور بیانیہ ترتیب پاتا ہے۔ یہاں انسانی سوچ کو ہموار کیا جاتا ہے، جذبات کو سمت دی جاتی ہے، اور رائے عامہ آہستہ آہستہ ایک مخصوص دائرے میں بند ہو جاتی ہے۔ طاقت  خاموشی سے کام کرتی ہے، مگر اس کی گرفت وسیع اور دیرپا ہوتی ہے۔

ان کا دوسرا محاذ معیشت ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی اور جدید مالی نظام کے ذریعے وسائل، محنت اور فیصلے ایک ایسے ڈھانچے میں ڈھلتے ہیں جہاں ہر لین دین ڈیٹا بن جاتا ہے۔ یہ ڈیٹا نگرانی اور کنٹرول کا مؤثر ذریعہ ہے۔ بظاہر سہولت اور ترقی کی زبان بولی جاتی ہے، مگر حقیقت میں مالی آزادی بتدریج مشروط ہوتی جاتی ہے اور اختیار کہیں اور مرتکز ہو جاتا ہے۔

ایپسٹین فائلز سے جڑی بحث نے ایک اور حقیقت بھی نمایاں کی ہے: طاقت خود کو جواب دہ نہیں سمجھتی۔ قوانین اور اصول اکثر دوسروں کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ طاقتور طبقات کے لیے بیانیہ، وضاحتیں اور خاموشی کافی سمجھی جاتی ہے۔  یہ اشرافیہ  کنٹرول کے تصور کی وارث ہے—ایک ایسی غیر مرئی قوت جو انسانی سوچ، رویّوں اور وسائل پر اثرانداز ہوتی ہے۔

آج سیاستدان بولتے ضرور ہیں، مگر فیصلوں کے پیچھے اکثر کسی اور طاقت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ذہن سائبر میں لکھے جاتے ہیں، وسائل ڈیجیٹل میں بندھتے ہیں، اور انسانی رویّے ایک خاص فریم میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔ اقتدار نے اب ایک نیا روپ اختیار کر لیا ہے—خاموش، مگر نہایت طاقتور۔

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کبھی قبائل میں بٹی، پھر عقائد کی بنیاد پر منقسم رہی۔ آج لگتا ہے دنیا دو ذہنیتوں میں بٹ گئی ہے۔ ایک طرف خیر، بھلائی، ایثار اور انسان دوستی؛ اور دوسری طرف ہوس، لالچ، غیر انسانی رویّے اور اقتدار کی بے لگام خواہش۔

کنفیوشس نے ڈھائی ہزار سال پہلے خبردار کر دیا تھا: “اگر تم دنیا پر حکمرانی چاہتے ہو تو پہلے اپنے کردار پر حکمرانی کرو۔ اخلاق کے بغیر اقتدار محض ایک وقتی سایہ ہے۔” سوال یہ ہے کہ آج کی اشرافیہ اس سایے کو حقیقت سمجھ بیٹھی ہے، یا دنیا واقعی ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں اخلاق اقتدار کے مقابلے میں ایک کمزور آواز بن گیا ہے

بدھ، 11 فروری، 2026

گمان اور رویے





ہماری زندگی کی سب سے مسلسل جستجو اگر کسی شے کی ہے تو وہ خوشی اور سکون ہیں—وہ دو نایاب موتی جن کے لیے انسان عمر بھر سمندرِ حیات میں غوطے لگاتا رہتا ہے۔ مگر عجیب المیہ یہ ہے کہ جس سکون کی تلاش میں ہم دنیا بھر کے راستے ناپتے ہیں، اکثر اسی سکون کے سب سے بڑے دشمن ہم خود ہوتے ہیں۔ ہمارے خیالات، ہمارے گمان، اور ہمارے رویّے—یہی وہ نادیدہ معمار ہیں جو یا تو زندگی کے افق پر روشنی کی عمارت کھڑی کرتے ہیں یا اسے بدگمانی کے اندھیروں میں ڈبو دیتے ہیں۔
مثبت سوچ ایک نرم ہوا کی طرح ہے جو دل کے موسم کو معتدل رکھتی ہے، جبکہ غلط فہمیاں خزاں کی سرد آندھی بن کر رشتوں کے پتّے جھاڑ دیتی ہیں۔ جب انسان کو دوسروں میں خوبی دکھائی دینا بند ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے باطن میں منفی خیال کی کوئی خاموش بیماری جنم لے چکی ہے—ایسی بیماری جو شور نہیں کرتی مگر دلوں کے درمیان فاصلے اگا دیتی ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن نے نہایت سادہ مگر تہہ دار الفاظ میں بیان کیا:
"اِجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ، إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ"
یعنی بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔
انسان کا ذہن ایک عجب کارخانہ ہے—یہ حقیقت سے زیادہ قیاس پر یقین کر لیتا ہے، اور ثبوت سے پہلے فیصلہ صادر کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ محبت کے رشتے شکوک کے کانٹوں میں الجھ جاتے ہیں۔ ڈیل کارنیگی کا قول اس نفسیاتی حقیقت کا آئینہ ہے کہ دنیا کی اکثر دشمنیاں غلط فہمیوں کے بطن سے جنم لیتی ہیں۔ ہم دوسروں کے بارے میں رائے بنانے میں جلدی کرتے ہیں، مگر اپنے گمانوں کا محاسبہ کرنے میں سستی۔
منفی سوچ کا پہلا زخم خود سوچنے والے کے دل پر لگتا ہے۔ کارل یونگ کے بقول جو شخص ہر چہرے میں عیب تلاش کرتا ہے، دراصل اپنے ہی باطن کے سایوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان روشنی پہچاننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے—وہ تعریف کرنا بھول جاتا ہے، شکرگزاری سے کترانے لگتا ہے، اور ہر مسکراہٹ میں سازش کا عکس ڈھونڈنے لگتا ہے۔
اس کے برعکس مثبت سوچ ایک شفا بخش روشنی ہے۔ یہ مسئلے مٹاتی نہیں، مگر ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ نورمن ونسنٹ پیل نے اسی سچ کو یوں بیان کیا کہ مثبت فکر مشکلات کو ختم نہیں کرتی بلکہ انسان کو ان سے بلند کر دیتی ہے۔ یہی کیفیت دل میں وہ اطمینان پیدا کرتی ہے جس کا ذکر قرآن نے یوں کیا:
"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"
یعنی یادِ الٰہی سے دلوں کو قرار نصیب ہوتا ہے۔
یہ قرار صرف عبادت کی ساعتوں میں نہیں اترتا؛ یہ طرزِ فکر کی زمین میں بھی اگتا ہے۔ جب انسان دوسروں کے لیے حسنِ ظن اختیار کرتا ہے، ان کے ارادوں کو خیر پر محمول کرتا ہے، اور ہر حال میں خیر تلاش کرتا ہے تو اس کے اپنے دل کا چراغ روشن ہو جاتا ہے۔ حضرت علیؓ کا ارشاد ہے کہ بدگمانی محبت کو کھا جاتی ہے، اور رومیؒ نے اسے دل کے اندر بھڑکتے جہنم سے تعبیر کیا ہے۔
دانائی یہ نہیں کہ انسان عیبوں کی فہرست یاد رکھے؛ دانائی یہ ہے کہ وہ خوبیوں کی تلاش میں رہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے خیالات کا احتساب کریں—اگر ہماری گفتگو میں تلخی بڑھ رہی ہے، اگر ہماری نظر ہر منظر میں نقص تلاش کرتی ہے، تو یہ اشارہ ہے کہ ہمارے باطن کا موسم بدل رہا ہے۔ ایسے وقت علاج بھی ہمارے ہی ہاتھ میں ہے: شکرگزاری کو عادت بنانا، حسنِ ظن کو شعار بنانا، اور خود سے یہ عہد کرنا کہ ہم دوسروں کو ویسا دیکھیں گے جیسا ہم خود بننا چاہتے ہیں۔
زندگی اپنی اصل میں دشوار ضرور ہے مگر تاریک نہیں۔ روشنی کا سرچشمہ باہر نہیں، انسان کے اندر ہے۔ جو شخص لوگوں میں خامیاں نہیں بلکہ خوبیاں تلاش کرنے لگتا ہے، اس کے لیے دنیا کی سختیاں بھی نرم ہو جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خوشی کوئی خارجی انعام نہیں، یہ دل کی داخلی کیفیت ہے—اور یہ کیفیت اسی دل میں اترتی ہے جو دوسروں کے لیے خیر سوچنے کا ہنر جانتا ہو۔
زندگی کو خوبصورت بنانے کا راز شاید اتنا ہی سادہ ہے:
لوگوں کے چہروں پر دھبے نہیں، روشنی تلاش کرو۔

منگل، 10 فروری، 2026

دوسروں کو راہِ راست پر لانے کا جنون




دوسروں کو راہِ راست پر لانے کا جنون
کچھ لوگ مان لیتے ہیں کہ انہیں دوسروں کی زندگیاں درست کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سچ ان کے پاس ہے  بظاہر یہ جذبہ اصلاح اور خیرخواہی کا لبادہ اوڑھے ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ رویّہ ایک فکری جنون کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایسا جنون جو  نصیحت کو حکم اور اخلاق کو جبر میں بدل دیتا ہے۔
راہِ راست کوئی ایک لکیر نہیں جس پر تمام انسان یکساں چل سکیں۔ ہر انسان اپنے تجربے، شعور اور حالات کے مطابق زندگی کو سمجھتا ہے۔ جب کوئی فرد یا گروہ اپنی فہم کو حتمی سچ قرار دے کر دوسروں پر نافذ کرنے لگے تو مکالمہ ختم اور تصادم شروع ہو جاتا ہے۔ اسی لمحے خیرخواہی اپنی روح کھو بیٹھتی ہے اور طاقت اس کی جگہ لے لیتی ہے۔
علم اس رویّے کے بالکل برعکس سمت میں رہنمائی کرتا ہے۔ سقراط نے حکمت کا آغاز خود احتسابی سے کیا اور کہا کہ اصل دانائی اپنی لاعلمی کا ادراک ہے۔ بدھ نے دکھ کی نشاندہی ضرور کی، مگر نجات کو ہر فرد کا ذاتی سفر قرار دیا۔ کانٹ کے نزدیک اخلاق وہ نہیں جو بیرونی دباؤ سے مسلط کیا جائے، بلکہ وہ ہے جسے انسان اپنے ضمیر کی آواز سمجھ کر قبول کرے۔ ان مفکرین کے ہاں اصلاح کا مرکز ہمیشہ انسان کا باطن رہا، نہ کہ دوسروں کی نگرانی۔
دوسروں کو راہِ راست پر لانے کا جنون دراصل اکثر اپنی ذات سے فرار کا راستہ ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے خوف، تضادات اور ناکامیوں کا سامنا نہیں کر پاتا، وہ دوسروں کے اعمال میں عیب تلاش کرنے لگتا ہے۔ نطشے نے اسی رویّے کو اخلاقی بالادستی کی بیماری کہا تھا، جہاں کمزور انسان اپنی کمزوری کو نیکی کا نام دے کر دوسروں پر مسلط کرتا ہے۔
جب یہی ذہنیت اجتماعی طاقت یا ریاستی اختیار کے ساتھ جڑ جائے تو نتائج مزید خطرناک ہو جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ “درست انسان” بنانے کی ہر مہم نے آخرکار سوال کرنے والوں کو مجرم اور اختلاف رکھنے والوں کو باغی قرار دیا۔ جان اسٹورٹ مل نے خبردار کیا تھا کہ فرد کی آزادی وہ بنیاد ہے جس کے بغیر کوئی تہذیب قائم نہیں رہ سکتی، اور جو معاشرہ بھلائی کے نام پر شعور پر قبضہ کرے، وہ دراصل آمریت کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سچ اگر واقعی سچ ہو تو اسے زبردستی نافذ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ برٹرینڈ رسل کے مطابق، جبر سے منوایا گیا نظریہ ذہن پر بوجھ بن جاتا ہے، یقین نہیں۔ انسان کو بدلنے کا واحد پائیدار طریقہ مثال، مکالمہ اور برداشت ہے، نہ کہ حکم، نگرانی اور خوف 
شاید اسی لیے لیو ٹالسٹائی نے کہا تھا
“ہر شخص دنیا کو بدلنے کی فکر میں رہتا ہے، مگر کوئی خود کو بدلنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔”
اصل راہِ راست دوسروں کو سیدھا کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے اندر جھانکنے میں ہے۔ جب انسان یہ سیکھ لیتا ہے تو اسے دوسروں کو زبردستی ہدایت دینے کی حاجت نہیں رہتی — کیونکہ اس وقت اس کا وجود خود ایک خاموش دلیل بن چکا ہوتا ہے۔

اسرائیل کی امریکی ساکھ کا خاتمہ



اسرائیل کی امریکی ساکھ کا خاتمہ
تاریخ میں بعض فیصلے میدانِ جنگ سے زیادہ ذہنوں اور بیانیوں میں نتائج   پیدا کرتے ہیں۔ یحییٰ سنوار کا ’’طوفان‘‘ کی جنگ چھیڑنے کا فیصلہ بھی ایسا ہی ایک قدم ثابت ہوا، جس نے نہ صرف غزہ اور اسرائیل کے درمیان محاذ کھولا بلکہ امریکہ کے اندر اسرائیل کی سب سے قیمتی متاع—عوامی حمایت—کو آگ لگا دی۔
یہ محض عسکری تصادم نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا سیاسی دھماکہ تھا جس نے اسرائیل کو امریکہ میں عوامی رائے کا مسئلہ بنا دیا۔ وہ اسرائیل جو دہائیوں تک امریکی سیاست میں ایک ’’ناقابلِ سوال‘‘ اتحادی رہا، اچانک ایک ناپسندیدہ علامت میں بدلنے لگا—ایسی علامت جو امریکی عوام کے ذہن میں اپنے ہی ملک میں بڑھتی بدعنوانی، اخلاقی زوال اور بیرونی جنگوں کے بوجھ سے جڑ گئی۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ اسرائیل امریکہ میں سیاسی طور پر ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دائیں بازو سے بائیں بازو تک، کیمپسوں سے سڑکوں تک، نوجوانوں سے دانش وروں تک—ہر سطح پر اس کی غیر مشروط حمایت میں واضح دراڑ پڑ چکی ہے۔ یہ وہ کاری ضرب ہے جس نے اسرائیل کے سب سے اہم اسٹریٹجک اثاثے، یعنی امریکہ کے ساتھ اس کے مستقبل کے تعلق، کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یہ کہنا اب محض قیاس نہیں رہا کہ امریکہ میں جلد یا بدیر ایسا صدر منتخب ہوگا جو اسرائیل کا مخالف ہوگا—اور سخت مخالف ہوگا۔ اسی طرح ایک ایسا سیاسی دھارا بھی ابھرے گا جس کی اسرائیل سے دشمنی نظریاتی نوعیت کی ہوگی۔ جب وہ وقت آئے گا، تو اسرائیل کے پاس سہارا لینے کے لیے نہ خطے میں کوئی اخلاقی جواز بچے گا، نہ عالمی سطح پر کوئی مضبوط کریڈٹ۔
غزہ کے محاذ پر بھی اسرائیل کی حکمتِ عملی ایک اسٹریٹجک ناکامی کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوئی۔ اسرائیلی قیادت نے دانستہ   ایک ایسی جنگِ نیست و نابود چھیڑی، جس میں ہزاروں جانیں تو لے لی گئیں، شہر ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے، مگر بدلے میں اسرائیل نے اپنی ہی وجودی قانونی حیثیت جلا ڈالی۔ نہ وہ تاریخی فلسطین میں آبادیاتی حقیقت بدل سکے، نہ اپنی سرحدوں پر جغرافیائی توازن کو اپنے حق میں موڑ پائے۔
اس کے برعکس، یہ دلیل زیادہ وزنی ہوتی جا رہی ہے کہ اسرائیل نے اپنے گرد و نواح کو پہلے سے زیادہ خطرناک بارودی سرنگوں کے میدان میں بدل دیا۔ یمن میں انصار اللہ جیسے زیادہ منظم، زیادہ اہل اور زیادہ دشمن عناصر کو اخلاقی جواز ملا، اور ان عرب حکومتوں کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو گئی جو اسرائیل کو خطے کے تانے بانے میں ضم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
اس تمام منظرنامے میں ایک تلخ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے: نیتن یاہو کی سیاسی حماقت، یحییٰ سنوار کی توقعات سے بھی کہیں زیادہ ثابت ہوئی۔ سات اکتوبر سے قبل شاید کسی نے اندازہ نہیں لگایا تھا کہ اسرائیلی قیادت خود اپنے ہاتھوں سے اپنے سب سے مضبوط قلعے—امریکی حمایت—میں شگاف ڈال دے گی۔
یہ جنگ بارود اور ٹیکنالوجی سے لڑی گئی، مگر فیصلہ تاریخ، رائے عامہ اور اخلاقی بیانیے کے میدان میں ہو چکا ہے۔

ایران اور طاقت کا کھیل




ایران اور طاقت کا کھیل

تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ سب سے خطرناک طاقت وہ نہیں جو شور مچائے، بلکہ وہ ہے جو صرف موجود رہے، اور اپنی خاموشی سے ماحول کو قابو میں رکھے۔ کبھی کبھی، یہی خاموشی زمین کے نقشے بدل دیتی ہے، اور انسانیت کو ایسے فیصلوں کے سامنے کھڑا کر دیتی ہے جن کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

آج ایران کے ارد گرد کی سرگرمیاں بھی کچھ ایسا منظر پیش کر رہی ہیں۔ فضاؤں میں ایندھن بھرتے طیارے، سرحدوں پر قطار در قطار توپ خانے، اور سفارتی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی سخت زبان—یہ سب محض ایک سادہ نتیجے کی طرف نہیں جاتے۔ سوال اب پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے: کیا یہ سب مذاکرات کی کامیابی کی حکمت ہے، یا ایک ایسی جنگ کی خاموشی، جس کی بازگشت نقشے بدل دے؟

ایران کے صحرائے سمنان میں نصب کردہ میزائل اور سرحدوں پر ٹنگی ہوئی توپ خانے کی قطاریں بظاہر طاقت کے مظاہرے ہیں، لیکن بعض ماہرین انہیں دباؤ کی زبان کہتے ہیں۔ یہ وہ زبان ہے جو بولتی نہیں، مگر بات چیت کے دروازے کھولتی ہے، ایک قسم کی چپ مگر گونجدار حکمت۔

طاقت تاکہ بات ہو سکے
ایک گروہ کے مطابق، امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کو جنگ کے دہانے تک لا کر مذاکرات کی میز پر بٹھانا چاہتے ہیں۔ معروف اسٹریٹجک مبصر اسٹیفن والٹ کہتے ہیں:
"طاقت کا ارتکاز ہمیشہ جنگ کے لیے نہیں ہوتا، اکثر اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جنگ کی نوبت ہی نہ آئے۔"
یہی وجہ ہے کہ فضائی تیاریوں، طیاروں کی آمد، اور سرحدوں پر مضبوط پوزیشنز کا مقصد ایران کو یہ باور کرانا ہے کہ اگر بات نہ بنی تو قیمت بہت بھاری ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے بعض مشرق وسطیٰ کے حلیف بھی اطمینان ظاہر کر چکے ہیں کہ فوری حملہ فی الحال متوقع نہیں۔

رچرڈ ہاس کے مطابق:
"امریکہ کی اصل دلچسپی نظام گرانے میں نہیں، بلکہ نظام کو اس حد تک خوف میں مبتلا کرنے میں ہے کہ وہ رعایت دینے پر مجبور ہو جائے۔"

دوسرا رخ: فیصلہ کن دباؤ یا جنگ کی چھاپ
تصویر کا دوسرا رخ کہیں زیادہ تاریک ہے۔ کچھ ماہرین کے نزدیک یہ محض دباؤ نہیں، بلکہ ایک ایسے فیصلے کی تیاری ہے جس میں ایران کو 'سلامت رہنے' کا موقع شاید نہ دیا جائے۔ جون 2025 کی مثال ابھی تازہ ہے، جب مذاکرات کی آڑ میں ایران کو الجھایا گیا اور عملی کارروائی کی تیاری ساتھ ساتھ جاری رہی۔

اسرائیلی سلامتی ماہر ایال زِسر کے مطابق:
"یہ مرحلہ محض انتباہ کا نہیں، حتمی فیصلے کا لگتا ہے۔ اس بار ہدف صرف پروگرام نہیں، پورا اسٹرکچر ہے۔"
یہ ماہرین مزید کہتے ہیں کہ امریکہ میں اسرائیلی اثر و رسوخ صرف مشورے تک محدود نہیں رہا، بلکہ واشنگٹن پر اس کا عملی اثر بڑھ چکا ہے۔ اسی لیے خطرے کو 'قابلِ انتظام' دکھانے کے پیچھے رائے عامہ کو ذہنی طور پر ایک بڑے اقدام کے لیے تیار کرنے کی کوشش چھپی ہوئی ہے۔

ایران: جاگتا ہوا، تنہا نہیں
دونوں نظریات کے بیچ ایک حقیقت واضح ہے: ایران اس بار غافل نہیں۔ وہ ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے، ردِعمل کی تیاری میں ہے، اور اپنی بقاء کی حکمت عملی کو ہر لمحہ تازہ رکھتا ہے۔ خطے کی دیگر طاقتیں بھی خاموش تماشائی نہیں؛ سب جانتے ہیں کہ اگر یہ نازک توازن ٹوٹا تو آگ صرف ایک سرحد تک محدود نہیں رہے گی۔

مشرق وسطی کا یہ لمحہ تاریخ کی سانس روکنے کے مترادف ہے۔ ممکن ہے یہ سب حکمتِ عملی مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہو، اور ممکن ہے یہ ایک ایسی جنگ کی تمہید ہو جو زبان سے زیادہ، نقشے اور تقدیر بدل دے۔

طاقت کی دنیا میں سب سے خطرناک سوال کبھی یہ نہیں ہوتا کہ جنگ ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے: کیا جنگ کو اب روکا جا سکتا ہے؟
یہ سوال آج مشرق وسطی کی خاموش گونج میں سب سے بلند سنائی دے رہا ہے—ایک سوال جو نہ صرف ممالک بلکہ انسانیت کے ضمیر پر بھی بھاری ہے، اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خاموشی بھی کبھی کبھی تیزترین تلوار سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔

لاہور میں بسنت






لاہور میں بسنت

 جنریشن زی کے لیے یہ دو دن محض واقعات نہیں، بلکہ دو متضاد تجربات ہیں: ایک دن جب ہم نے خود کو بکھرتے دیکھا، اور دوسرا دن جب ہم نے خود کو سمیٹنے کی ایک روشن کوشش کی۔

آٹھ فروری کو لاہور کی فضا بدلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ چھتوں پر صرف گڈے نہیں اڑے، ذہنوں کا بوجھ بھی ہلکا ہوا۔ ڈھول کی تھاپ پر قدم خود بخود تھرکنے لگے، قہقہے فضا میں گھل گئے، اور اجنبی ایک دوسرے کے لیے مانوس ہو گئے۔ بزرگ نسل نے نئی نسل کو گڈے دلائے، تجربہ کار ہاتھوں نے نو آموز ہاتھوں کو گڈا اڑانے کے رموز سکھائے۔ لوگ ایک دوسرے کی چھتوں تک پہنچے، مگر اصل میں وہ ایک دوسرے کے دلوں تک پہنچے—وہ دل جو مدتوں سے بند پڑے تھے۔

یہ صرف بسنت نہیں تھی، یہ سماج کی ازسرِنو جڑت تھی۔
یہ ان قدروں کی خاموش واپسی تھی جنہیں ہم نے خوف اور بدگمانی کے نام پر پسِ پشت ڈال دیا تھا۔

اس سے پہلے ہمارا رویہ کیا بن چکا تھا؟
ہم نے اپنے گھروں کو قلعوں میں بدل لیا تھا۔ اونچی دیواریں، خاردار تاریں اور بھاری گیٹ—سب کچھ تحفظ کے نام پر، مگر انجام تنہائی کی صورت میں نکلا۔ عدمِ اعتماد نے ہمارے تعلقات کی ساخت بدل دی تھی۔ ہم سلام سے پہلے سوال اور ملاقات سے پہلے اندیشے پالنے لگے تھے۔

یہ وہ لمحہ تھا جہاں سیاست کو رہنمائی کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا—مگر وہ کہیں راستہ بھٹک گئی۔

سیاست اپنی اصل میں کوئی داغ دار سرگرمی نہیں، یہ ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ سچی سیاست وہ ہوتی ہے جو معاشرے میں امید بانٹے، لوگوں کو مثبت سوچ عطا کرے، مستقبل کی سمت واضح کرے، اور بالخصوص نوجوانوں کو مقصد دکھائے۔ سیاستدان کا کام محض نعرہ لگانا نہیں، بلکہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے سیاسی، اخلاقی اور سماجی رہنمائی فراہم کرنا ہوتا ہے۔

یہ راستہ آسان نہیں ہوتا۔
اکثر یہ سفر اتنا کٹھن ہو جاتا ہے کہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد کئی نام ہماری اجتماعی یادداشت میں محفوظ ہیں—وہ لوگ جنہوں نے اس راہ میں اپنی آسائشیں، اپنی عزت، حتیٰ کہ اپنی جان تک قربان کر دی، مگر اپنے وژن سے پیچھے نہ ہٹے۔ یہی سیاست کا اصل وقار ہے، یہی اس کا اخلاقی وزن ہے۔

اسی تناظر میں آٹھ فروری کی بسنت کو دیکھنا چاہیے۔
یہ کوئی سیاسی مظاہرہ نہیں تھا، مگر ایک سماجی کوشش ضرور تھی—ایک غیر اعلانیہ اعلان کہ معاشرہ ابھی مکمل طور پر بے حس نہیں ہوا۔ کہ ہم اب بھی اکٹھے ہو سکتے ہیں، بغیر نفرت کے، بغیر اشتعال کے۔

اور پھر ذہن نا چاہتے ہوئے نو مئی کی طرف چلا جاتا ہے۔

نو مئی وہ دن تھا جب سیاست رہنمائی کے بجائے اشتعال میں بدل گئی۔ یہ دن کسی بیرونی دشمن کا نہیں، ہماری اندرونی شکست کا دن تھا۔ نو مئی ایک ایسا خنجر تھا جو ہم نے خود اپنے ہاتھ میں لیا، اور خود کو زخمی کرنے کے لیے استعمال کیا۔

اس دن نفرت کے بیانیے تراشے گئے، زبانیں سخت ہو گئیں، اور اختلاف دشمنی میں بدل گیا۔ احتجاج اور تخریب کے درمیان حد مٹا دی گئی۔ ہم نے خود اپنا گریبان چاک کیا، اور پھر حیران ہوئے کہ آئینہ ہمیں ٹوٹا ہوا کیوں دکھا رہا ہے۔

نو مئی صرف تشدد کی ایک تاریخ نہیں، یہ اخلاقی زوال کی علامت ہے۔
اس دن ہم نے اپنی تہذیب، اپنی روایات اور اپنے اجتماعی شعور کو خود ہی اپنے ہاتھوں مجروح کیا۔ نتیجتاً خوشیاں ہم سے روٹھ گئیں، اور معاشرہ ایک بار پھر بند گھروں، بند دلوں اور بند ذہنوں میں قید ہو گیا۔

جنریشن زی نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
انہوں نے یہ سبق سیکھا کہ جب جذبات عقل سے آزاد ہو جائیں تو نعرے بوجھ بن جاتے ہیں، اور جب سیاست اخلاق سے خالی ہو جائے تو قومیں خود اپنی بنیادیں کمزور کر لیتی ہیں۔

اور اسی لیے آٹھ فروری اہم ہے۔
یہ دن یاد دلاتا ہے کہ سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ کہ اگر سیاست دوبارہ اپنی اصل روح—امید، سمت اور اخلاق—کی طرف لوٹ آئے، تو سماج دوبارہ سانس لے سکتا ہے۔ کہ ہم نفرت کے خنجروں کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔

اب سوال یہ نہیں کہ نو مئی کیوں پیش آیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم آٹھ فروری کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

کیونکہ تاریخ صرف واقعات محفوظ نہیں کرتی،
تاریخ یہ لکھتی ہے کہ قوموں نے کس لمحے کیا انتخاب کیا۔

اور انتخاب—
ہمیشہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہوتا ہے۔

کتے اور بھیریے کی کہانی





کتے اور بھیڑیے کی کہانی

 رتقاء کے کسی دھندلے، نیم روشن موڑ پر کتا اور بھیڑیا ایک ہی قبیلے کے فرد تھے۔ جبلّت مشترک تھی، بدن میں مماثلت تھی، اور بقا کی خواہش دونوں کے سینے میں یکساں دھڑکتی تھی۔ نہ فطرت نے ان کے درمیان لکیر کھینچی، نہ وقت نے انہیں جدا کیا۔ یہ فرق کسی حادثے کا نتیجہ نہیں تھا—یہ فرق ایک سوچے سمجھے انتخاب سے پیدا ہوا۔

کتے نے انسان کے قریب رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے جنگل کی وسعتوں کے بجائے دہلیز کو چنا۔ یہ قربت سہولت نہیں تھی، ایک ذمہ داری تھی—بھاری، مسلسل اور خاموش۔ اس نے انسان کے گھر، اس کے بچوں اور اس کے مال مویشی کی رکھوالی کی۔ اس نے اپنی ذات کو ڈھال بنایا، اپنے وجود کو خطرے کے سامنے رکھا، تاکہ پیچھے رہ جانے والے محفوظ رہیں۔
اس انتخاب کی قیمت بھی تھی۔ آزادی محدود ہوئی، اختیار مکمل نہ ملا، مگر دہلیز محفوظ رہی۔ اور یوں یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ حفاظت طاقت کا مظاہرہ نہیں، قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔

بھیڑیے نے جنگل کی بے کنار وسعتوں کو چنا۔ اس نے کسی دہلیز سے وابستگی قبول نہ کی، کسی ذمے داری کو اپنے گلے کا ہار نہ بنایا۔ بھوک مٹانے کے لیے وہ کھلے میدان میں اترا، حملہ کیا، نوچا، اور خوف کو اپنی پہچان بنا لیا۔ اس کے نزدیک زندگی حفاظت کا نام نہیں، غلبے کا دوسرا نام ہے؛ ذمہ داری اس کے ہاں بوجھ ہے، فتح ہی اس کی اخلاقیات ہے۔

کتا آج بھی دہلیز پر بیٹھا ہے۔ اس کی خواہش سادہ ہے: جو اس کے پیچھے ہیں، وہ محفوظ رہیں۔ مگر انسانی سماج نے وقت کے ساتھ ایک عجیب اور سفاک فیصلہ کیا۔ اس نے وفاداری کو کمزوری قرار دے دیا۔ جب کسی ہم جنس کو کمتر دکھانا مقصود ہو، اسے “کتا” کہا جاتا ہے۔ یوں اصول پسندی، قانون کی پاسداری اور اخلاقی انکار تمسخر کا نشانہ بن جاتے ہیں، اور کردار کی جگہ چالاکی کو فضیلت کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔

انسانی تاریخ ایسے محافظوں سے بھری پڑی ہے جو دروازوں پر کھڑے رہے، مگر فیصلہ ساز کمروں تک نہ پہنچ سکے۔ ان کے نام قراردادوں کے حاشیوں میں دب گئے، کیونکہ وہ فاتح نہیں تھے۔ فاتح وہ تھے جن کے ہاتھوں میں نقشے تھے، جنہوں نے سرخ لکیروں سے زمین بانٹی، اور جن کے فیصلوں کے بعد شہروں کے نام ملبے میں بدل گئے۔

یہ بھی تاریخ کا ایک تلخ تضاد ہے کہ خونخواری کو بہادری کہا جاتا ہے۔ کہیں آسمان سے آگ برستی ہے، کہیں بستیاں اجڑتی ہیں، اور کہیں ایوانوں میں بیٹھے لوگ اسے “ضروری اقدام” کا نام دے دیتے ہیں۔ میزوں پر فائلیں کھلتی ہیں، نقشوں پر نئی حد بندیاں بنتی ہیں، اور انسان صرف اعداد میں ڈھل جاتے ہیں—کسی رپورٹ کا ایک پیراگراف، کسی بریفنگ کی ایک سطر۔

رفتہ رفتہ یہی بھیڑیے دنیا کی بڑی کہانیوں کے مرکزی کردار بن جاتے ہیں۔ ان کے لیے زبان نرم ہو جاتی ہے، الفاظ محتاط ہو جاتے ہیں، اور ظلم کو “توازن”، “سلامتی” یا “قومی مفاد” کا خوش نما عنوان دے دیا جاتا ہے۔ جو اس بیانیے سے اختلاف کرے، جو طاقت کے بجائے اصول کی بات کرے، وہ غیر حقیقت پسند، جذباتی یا غیر ذمہ دار قرار پاتا ہے۔

مسئلہ بھیڑیوں کی موجودگی نہیں—طاقت ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ اصل مسئلہ وہ عالمی ہجوم ہے جو ان کے پیچھے چلتا ہے۔ وہ تالیاں ہیں جو ہر گرتے ہوئے شہر کے بعد بجتی ہیں۔ وہ خاموشی ہے جو ہر چیخ کے بعد چھا جاتی ہے۔ اصل بحران یہ ہے کہ ہم نے طاقت کو عقل کا مترادف، اور اخلاق کو رکاوٹ سمجھ لیا ہے۔

جب  پیمانے بگڑ جائیں تو محافظ مجرم دکھائی دینے لگتا ہے، اور آگ لگانے والا رہنما۔ پھر دہلیز پر بیٹھا کتا مضحکہ خیز محسوس ہوتا ہے، اور جنگل سے آنے والا بھیڑیا معتبر۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرے اپنی ہی حفاظت پر شرمندہ ہونے لگتے ہیں۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ کتا درست ہے یا بھیڑیا طاقتور۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کن فیصلوں کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ ہم کن ہاتھوں سے مصافحہ کرتے ہیں، اور کن آنکھوں سے نظریں چرا لیتے ہیں۔ کیونکہ جس دن دنیا اپنے محافظوں کو بوجھ، اور اپنے جلادوں کو ناگزیر سمجھ لے، اس دن ظلم محض ایک عمل نہیں رہتا—وہ عالمی روایت بن جاتا ہے۔

اور جب ظلم روایت بن جائے،
تو تاریخ نہیں مرتی—
انسان مرنے لگتا ہے۔





خناس کی فطرت



خناس کی فطرت


صیہونیت کے سر تاج  برطانیہ نے رکھا۔ یورپ نے  ہولوکاسٹ کے کفارے کے بوجھ تلےاسےمضبوط کیا۔مگر اصل موڑ اس وقت آیا، مریکی سرپرستی نے اس تاج میں نسلی برتری کا ہیرا جڑ دیا۔یوں اسرائیل ایک مقدس استثنا بن گیا۔
 طاقت اگر حد سے بڑھا دی جائے، اگر اسے جواب دہی اور قانون کے بغیر تقدس عطا کر دیا جائے، تو پھر وہ طاقت نظم نہیں رہتی، وہ وحشت بن جاتی ہے۔
صیہونیت کے سر پر تاج سب سے پہلے برطانیہ نے رکھا۔ بالفور اعلامیے کے کاغذ پر محض ایک وعدہ نہیں لکھا گیا تھا، بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل پر ایک مستقل زخم کندہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں یورپ نے ہمدردی کے نام پر، ہولوکاسٹ کے کفارے کے بوجھ تلے، اور نوآبادیاتی مفادات کے تحفظ کی خاطر اس تاج کو مزید مضبوط کیا۔مگر اصل موڑ وہاں آیا، جہاں امریکی سرپرستی نے اس تاج میں نسلی برتری کا ہیرا جڑ دیا۔یہاں سے یہ تاج محض تحفظ کی علامت نہ رہا، بلکہ ایک کھلا اجازت نامہ بن گیا—ہر دیوار گرانے کا
ہر بستی اجاڑنے کا،اور ہر لاش کو “دفاع” کے جواز میں دفن کرنے کا۔یوں اسرائیل ایک ریاست نہیں رہا،بلکہ ایک مقدس استثنا بن گیا۔
اقوامِ عالم کے قوانین اس کے لیے کاغذ کے ٹکڑے ٹھہرے،انسانی حقوق اس کے سامنے بے آواز ہو گئے،اور اخلاقیات اس کی دہلیز پر جوتے اتار کر داخل ہونے لگیں۔
فلسطین کی گلیوں میں جب پتھر اٹھے،تو جواب میں فولاد اترا۔
جب بچوں کی چیخیں بلند ہوئیں، تو اسے حقِ دفاع کہا گیا۔
اور جب دنیا نے سوال کیا، تو ویٹو کی مہر نے ہر سوال کو دفن کر دیا۔
تاج کی تاریخ ہے ۔ وہ پہلے تحفظ دیتا ہے، پھر بے خوفی،اور آخرکار خود سری
آج المیہ یہ ہے کہ وہی امریکہ، جس نے اس تاج پر ہیرا پرویا تھا،اب خود اسی تاج کے سائے میں کھڑا ہے۔اسرائیل کو روکنے کی بات واشنگٹن میں سرگوشی بن چکی ہے،اور سرگوشی وہاں جرم سمجھی جاتی ہے۔کانگریس کے ایوان ہوں یا میڈیا کے کمرے،پٹہ دکھانا سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔کیونکہ جسے برسوں یہ بتایا گیا ہو کہ وہ غلط نہیں ہو سکتا،وہ ایک دن یہ یقین کر لیتا ہے کہ اسے روکا بھی نہیں جا سکتا۔
یہ کہانی نئی نہیں۔روم میں محافظوں نے قیصر کو نگل لیا تھا
بغداد میں غلاموں نے خلیفہ کو کٹھ پتلی بنا دیا تھا، اور جدید دنیا میں پراکسی اپنے خالقوں کے لیے وبال بنتی دیکھی جا چکی ہے
مگر صیہونیت کا معاملہ سب سے مختلف اس لیے ہے کہ یہاں طاقت کے ساتھ اخلاقی برتری کا سرٹیفکیٹ بھی دیا گیا۔اور یہی وہ خناس ہے جو سب سے آہستہ اور دیرسے اترتا ہے۔
آج آگ پورے خطے میں پھیل رہی ہے۔امن ایک لفظ رہ گیا ہے، حقیقت نہیں۔
اور وہ ہاتھ جو کبھی تاج رکھنے کے لیے اٹھے تھے،آج کانپ رہے ہیں۔کیونکہ پٹہ ڈالنے کی ہمت کسی میں نہیں۔
اصل غلطی آج نہیں ہو رہی۔اصل غلطی اُس دن ہوئی تھی جب صیہونیت کو بغیر حساب کے عزت دے دی گئی تھی۔
تاریخ یہی لکھتی ہے جو تاج کا عادی ہو جائے، وہ قانون کو توہین سمجھتا ہے
اور جب قانون کو ویٹو تلے مسخ کر دیا جائے،تو تاج پہنے لاڈلے کو پٹہ ڈالنا
مشکل نہیں،ناممکن ہو جاتا ہے۔
قدیم رومی کہاوت  ہے-"ایک مرتبہ کتے کے سر پر تاج رکھ دیا جائے،تو پھر اسے پٹہ پہنانا ممکن نہیں رہتا۔"

پیر، 9 فروری، 2026

بند گلی



بند گلی

تاریخ میں کچھ مراحل ایسے آتے ہیں جب طاقت آگے بڑھنے کے بجائے خود اپنے گرد گھومنے لگتی ہے۔ فیصلہ کرنے کی  جرأت ختم ہو جاتی ہے۔ امریکہ  ایران  کشیدگی اسی کیفیت کی نمائندہ ہے—ایسا لمحہ جہاں ہر اقدام نقصان اور ہر تاخیر مزید نقصان کا پیش خیمہ ہے۔

واشنگٹن یہ حقیقت جانتا ہے کہ ایران پر حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں ہوگا، بلکہ ایک ایسا عمل ہوگا جو سرحدوں، اتحادوں اور طے شدہ حدوں کو بے معنی کر دے گا۔ اسی طرح پیچھے ہٹنا بھی ممکن نہیں، کیونکہ امریکی سیاسی ڈھانچہ پسپائی کو شکست اور ضبط کو کمزوری سمجھتا ہے۔ یوں فیصلہ اور عدم فیصلہ دونوں یکساں خطرناک بن چکے ہیں۔
ایسے ہی حالات میں سلطنتیں براہِ راست فیصلے کرنے کے بجائے بالواسطہ راستے اختیار کرتی ہیں۔ سفارتی پیغامات، ثالثی کی کوششیں اور محدود تصادم کے فارمولے اسی سوچ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک خلیجی ریاست کے ذریعے پیش کی گئی تجویز بھی اسی منطق پر مبنی تھی --محدود امریکی حملہ، محدود ایرانی جواب، اور یوں جنگ کو قابو میں رکھنے کا دعویٰ
تہران کا موقف واضح تھا  نہ محدود جنگ، نہ علامتی تصادم۔ یا تو مکمل تصفیہ—جس میں پابندیوں کا خاتمہ اور سیاسی حقیقت کا اعتراف شامل ہو—یا پھر کھلی محاذ آرائی۔ ایران کے نزدیک جزوی جنگ صرف ایک طویل، تدریجی تباہی کا دوسرا نام ہے۔
یہ موقف واشنگٹن کے لیے اس لیے پریشان کن ثابت ہوا کہ وہ جذباتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک تھا۔ اس نے اس مفروضے کو چیلنج کر دیا کہ جنگ کو ہمیشہ منظم اور محدود رکھا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ادھوری جنگیں تصادم کو ختم نہیں کرتیں، بلکہ اسے مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیتی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی امریکی فیصلہ سازی اندرونی دباؤ کا شکار ہے۔ سیاسی تقسیم، قانونی تنازعات اور سماجی اخلاقی بحران اس صلاحیت کو کمزور کر چکے ہیں کہ امریکہ بیرونی محاذ پر واضح اور مستقل پالیسی اختیار کر سکے۔ جو طاقت اندر سے منقسم ہو، وہ باہر استحکام پیدا نہیں کر سکتی۔
اس بحران کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ کوئی انجام بھی استحکام کی ضمانت نہیں دیتا۔
اگر امریکہ عسکری طور پر غالب آ جاتا ہے تو اس کا نتیجہ امن نہیں بلکہ خطے کی مزید تقسیم ہوگا۔ کمزور ریاستیں، غیر یقینی سرحدیں اور مستقل کشیدگی—یہی وہ نقشہ ہوگا جو “فتح” کے بعد ابھرے گا۔
اور اگر ایران اس تصادم سے مضبوط ہو کر نکلتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثرورسوخ کا دور اختتام کو پہنچ جائے گا۔ اس کے نتیجے میں علاقائی طاقتیں خلا کو پُر کرنے کے لیے آگے بڑھیں گی، عالمی قوتیں نئے اتحاد تشکیل دیں گی، اور خطہ ایک بار پھر غیر یقینی طاقت آزمائی کا میدان بن جائے گا۔
یوں مسئلہ صرف جنگ یا امن کا نہیں رہا۔ مسئلہ یہ ہے کہ طاقت کے تمام روایتی فارمولے ناکام ہو چکے ہیں۔ سفارت کاری کمزوری سمجھی جا رہی ہے، جنگ ناقابلِ پیش گوئی ہے، اور تاخیر مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں گہرا کر رہی ہے۔
یہ بحران دراصل ایک بڑی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے: امریکہ اپنی حدوں کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں، اور ایران اپنی سیاسی و معاشی گھٹن کو خاموشی سے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اس ٹکراؤ میں سب سے خطرناک مفروضہ یہ ہے کہ صورتحال کو اب بھی مکمل طور پر قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
 جب حالات اس نہج پر پہنچ جائیں تو فیصلے مذاکرات سے نہیں، طاقت کے ذریعے ہوتے ہیں۔
اسی تناظر میں سابق امریکی صدر جارج بش سینئر کا 1991 میں دیا گیا بیان آج بھی گونجتا ہے
یہ جنگ امریکہ کی سرزمین سے بہت دور لڑی جائے گی، اور امریکی عوام کو اس کی قیمت اپنے شہروں اور گلیوں میں ادا نہیں کرنا پڑے گی۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ایسی یقین دہانیاں وقتی ہوتی ہیں۔ جنگیں ابتدا میں دور رہ سکتی ہیں، مگر ان کے اثرات کبھی مستقل طور پر دور نہیں رہتے۔

فلسطینیوں کی امریکہ سےبے دخلی کا نیا المیہ

 



“شیڈو فلائٹس” اسکینڈل

تاریخ اکثر ظلم کو اس لمحے قلم بند نہیں کرتی جب وہ وقوع پذیر ہوتا ہے، بلکہ ابتظار کیا جاتا ہے کہ  اسے کوئی نام دیا جا چکا ہو ۔ آج جس معاملے کو “شیڈو فلائٹس” کہا جا رہا ہے، وہ بھی ایسا ہی ایک نام ہے—ایک ایسا دعویٰ جو  دولت، سیاسی طاقت اور نظریاتی وابستگی کے اس خوفناک گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتا ہے جو بند کمروں میں انسانوں کی تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے۔
سوژل میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں ایک خطرناک حد عبور کی گئی ہے، جب ریاستی اختیار اور نجی مفادات کے درمیان لکیر مٹا دی گئی۔ رپورٹس کے مطابق   امریکی سکیورٹی اداروں کو ایک طرح کی “جبری ٹریول ایجنسی” میں تبدیل کر دیا گیا، جس کا مقصد قانونی امیگریشن کا نفاذ نہیں بلکہ ایک مخصوص صہیونی بے دخلی ایجنڈے کی تکمیل تھا۔
اس بیانیے کا مرکزی کردار ایک اسرائیلی نژاد امریکی ارب پتی ہے، جس کا ذاتی طیارہ مبینہ طور پر امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے زیرِ استعمال رہا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ارب پتی ٹرمپ خاندان کے نہایت قریب تھا، اور اس کا طیارہ معمول کی انتظامی ضروریات کے بجائے ایک خفیہ اور سیاسی طور پر نہایت حساس مشن کے لیے استعمال ہوا۔
سب سے سنگین الزام فلسطینی قیدیوں سے متعلق ہے۔ دعویٰ ہے کہ انہیں ریاستِ ایریزونا سے براہِ راست تل ابیب منتقل کیا گیا—خاموشی سے، جبر کے ساتھ، اور دانستہ تذلیل کے ماحول میں۔ یہ کارروائی کسی ایک افسر کی زیادتی نہیں بلکہ ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ بتائی جاتی ہے، جس کا مقصد فلسطینی وجود کو صرف مقبوضہ  فلسطینی زمین سے ہی نہیں بلکہ جلاوطنی میں بھی مٹانا ہے ۔
ایسے واقعات اس تلخ حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں جس کا اظہار امریکی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کے ناقدین برسوں سے کرتے آ رہے ہیں: کہ امریکی خارجہ پالیسی اب عوامی اداروں کی پیداوار کم اور طاقتور مالی اشرافیہ کے ہاتھوں میں ایک آلہ زیادہ بن چکی ہے۔ اس منظرنامے میں امریکی ریاست—اپنے قوانین، اداروں اور وسائل سمیت—قابض قوت کی سلامتی کے مفادات کے لیے استعمال ہوتی دکھائی دیتی ہے، جبکہ بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی حقوق کو بوجھ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
“شیڈو فلائٹس” کا اسکینڈل محض طیاروں یا ملک بدری کا معاملہ نہیں۔ یہ طاقت کے اخلاقی ڈھانچے پر ایک سوال ہے: ریاستی مشینری کو کون چلا رہا ہے، کس کا دکھ نظر انداز کیا جا رہا ہے، اور جب دولت اور نظریہ ایک ہی سمت میں کھینچنے لگیں تو قانون کس قدر آسانی سے مڑ جاتا ہے۔

سرکاری  خاموشی کے باوجود ایک سوال اپنی جگہ قائم ہے: جب ریاستی اختیار عملی طور پر نجی ملکیت بن جائے، اور بے دخلی ایک انسانی المیے کے بجائے محض ایک انتظامی کارروائی بن کر رہ جائے، تو پھر انصاف—قومی ہو یا بین الاقوامی—کہاں باقی رہ جاتا ہے؟

اتوار، 8 فروری، 2026

عدل کی میزان




عدل کی میزان
قیامت کا منظر  تھا، مگر اس کے کردار حقیقت کے دھاگوں سے جُڑے ہوئے تھے۔ ابتدا میں ہر طرف شور تھا—بکھرتے قدم، چیختی آوازیں، اور خوف زدہ چہرے۔ پھر اچانک ایسا سکوت طاری ہوا جیسے کائنات نے اپنی سانس روک لی ہو۔ آوازیں دب گئیں، انسان رُک گئے، اور ایک غیر مرئی قوت نے وقت کو اپنے قبضے میں لے لیا۔
اسی سکوت میں ایک وسیع اسٹیج نمودار ہوا۔ یہ نہ شاہانہ تھا، نہ پرشکوہ۔ بس ایک سادہ مگر ہیبت ناک منظر، جس پر ایک شفاف آلہ رکھا گیا تھا۔ اتنا شفاف کہ کسی بھی عمل، کسی بھی نیت، کسی بھی جرم کو چھپایا نہیں جا سکتا تھا۔ لوگوں کی نگاہیں اسی آلے پر جم گئیں اور سب نے سمجھ لیا یہ عدل کی میزان ہے۔
منصف کی موجودگی کا سب کو احساس تھا مگر  نہ چہرہ، نہ آواز، نہ کوئی علامت۔ مگر یقین ایسا پختہ تھا کہ کسی کو شک نہ رہا- یہاں فیصلہ ہو گا—اور فیصلہ کسی طاقت، کسی اثر و رسوخ، کسی سیاسی مصلحت، کسی مالی چمک یا خاندانی وجاہت کے نام پر متاثر نہیں ہوگا۔ یہ عدالت صرف انسان کے عمل کو تول رہی تھی۔
پہلے گواہوں کے طور پر جو چہرے سامنے آئے، وہ کسی ایک زمانے کے نہ تھے۔ یہ انسانی تاریخ کے مظلوم اور دفن شدہ صفحات تھے—کم عمر بچیاں، جنہیں ہر دور نے اپنے اندازسے مارا۔
ایک بچی آگے بڑھی۔  جسے صرف لڑکی ہونے کی سزا میں زندہ دفن کر دیا گیا۔ اس کا جرم صرف وجود تھا۔ خاموشی کے باوجود اس کی موجودگی نے پورے نظام پر سوال کھڑا کیا: میرا ہونا کب جرم بنا؟
دوسری بچی قرونِ وسطیٰ کی تھی۔ اسے خاندانی یا سیاسی مفاد کے لیے وقت سے پہلے بالغ کر دیا گیا تھا۔ اس کا بچپن چھین لیا گیا، لیکن آج میزان کے سامنے وہ اپنی پوری انسانی پہچان کے ساتھ کھڑی تھی۔
تیسری بچی نوآبادیاتی دور کی نمائندہ تھی۔ فاتح نے زمین کے ساتھ اس کے جسم کو بھی فتح سمجھا۔ اسے تاریخ میں ایک سطر میں “ضمنی نقصان” کہا گیا، مگر میزان کے سامنے وہ ایک مکمل انسان تھی، اور اس کے سوال نے پوری تہذیب کے خلاف فردِ جرم قائم کر دیا۔
پھر جدید دور کی بچیاں آئیں۔ کسی کے ہاتھ میں بم سے ٹوٹی گڑیا تھی، جو جنگ زدہ شہروں کی داستان سناتی تھی۔ کسی کی آنکھوں میں وہ خوف تھا جو جنسی تشدد کے بعد کبھی نہیں جاتا۔ کسی کا جسم بھوک سے نڈھال تھا، ایسی دنیا میں جہاں اناج وافر تھا ۔ یہ سب بول نہیں رہی تھیں، الزام نہیں لگا رہی تھیں، بس موجود تھیں—اور یہی موجودگی سب سے بڑی گواہی تھی۔
اسی لمحے سب پر حقیقت واضح ہو گئی: یہاں کسی ملک کا، کسی ادارے یا سیاسی بلاک کا محاسبہ نہیں ہو گا۔ نہ کسی تنظیم، نہ کسی مالی ادارے، نہ کسی نظریے یا اتحاد کی صفائی قبول کی جائے گی۔ فیصلہ فرد کے خلاف ہو گا۔
وہ فرد جو حکم دیتا، وہ جس نے دستخط کیے، جو خاموش رہا، جو فائدہ اٹھایا—سب اس میزان کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ یہاں کسی کو کہنا ممکن نہ ہوگا کہ “میں نظام کا حصہ تھا” کیونکہ یہاں نظام نہیں،عمل تولا جا رہا تھا ۔
 میزان میں ذرا بھی لغزش نہ تھی۔ اس کے لیے انسان کے پردے—قوم، ریاست، ادارہ، نظریہ—معنی نہیں رکھتے تھے۔ یہاں صرف عمل کا وزن لیا جا رہا تھا۔
فضا میں ایک سوال معلق تھا
جب تاریخ میں یہ سب ہو رہا تھا، تم کہاں کھڑے تھے؟
میں جاگ اٹھا، مگر یقین ہو گیا کہ یہ محض خواب نہیں تھا۔ یہ ایک انتباہ تھا: ایک دن منصف نظر نہیں آئے گا، مگر عدل ہر فرد کو پہچان لے گا۔


ترکیے کا اسرائیل کو بڑا تھپڑ






ترکیے کا اسرائیل کو بڑا تھپڑ
عالمی انٹیلی جنس تاریخ میں بعض گرفتاریاں محض قانونی کارروائیاں نہیں ہوتیں بلکہ وہ ریاستوں کے درمیان جاری خاموش جنگ کے پوشیدہ ابواب کو آشکار کر دیتی ہیں۔ ترکیے کی خفیہ ایجنسی ایم آئی ٹی (Milli İstihbarat Teşkilatı) کی حالیہ کارروائی بھی اسی نوعیت کی ہے، جس میں اسرائیلی خفیہ ادارے موساد سے منسلک ایک طویل المدت نیٹ ورک کو بے نقاب کیا گیا۔ یہ نیٹ ورک نہ صرف خفیہ نگرانی اور جاسوسی میں ملوث تھا بلکہ عالمی تجارتی نظام کو تخریب کاری کے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔
ترک انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق سامنے آنے والا نیٹ ورک کوئی عارضی سیل نہیں بلکہ کم از کم بارہ برس سے سرگرم ایک منظم آپریشن تھا۔ اس کے مرکزی کردار محمد بودک دریا اور ان کے ساتھی فیصل کریم اوغلو—جو فلسطینی نژاد ترک شہری ہیں—یورپ اور ایشیا میں درجنوں فرنٹ کمپنیوں، جعلی ویب پورٹلز اور متعدد بینک اکاؤنٹس کے ذریعے سرگرم رہے۔
بظاہر ان کمپنیوں کا کاروبار سنگِ مرمر، لاجسٹکس، ڈرون ٹیکنالوجی اور صنعتی آلات کی تجارت تھا، مگر ترک تفتیش کے مطابق یہ تمام ڈھانچہ دراصل ایک کور انٹیلی جنس انفراسٹرکچر تھا، جس کا مقصد حساس ٹیکنالوجی تک رسائی، ہدفی نگرانی اور تخریب کاری تھا۔
اس نیٹ ورک کا سب سے خطرناک پہلو عالمی سپلائی چین میں دراندازی تھا۔ جدید دنیا میں اسلحہ، ڈرونز اور مواصلاتی آلات کی ترسیل اکثر نجی لاجسٹک کمپنیوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ موساد سے منسلک اس سیل نے اسی کمزوری کو ہدف بنایا۔
ڈرون پرزہ جات اور مواصلاتی آلات راستے میں ری پیک یا ری کنفیگر کیے جاتے
بعض کیسز میں آلات کو بارودی مواد یا ریموٹ ایکسیس کوڈز سے آلودہ کیا جاتا
حتمی صارف—خصوصاً فلسطینی مزاحمتی نیٹ ورکس یا اسرائیل مخالف حلقے—اس بات سے مکمل لاعلم رہتے کہ استعمال ہونے والا آلہ دراصل ایک انٹیلی جنس ٹریپ ہے
یہ طریقۂ واردات جدید ہائبرڈ وارفیئر 
 کی ایک واضح مثال ہے، جس میں تجارت، ٹیکنالوجی اور جنگ کی سرحدیں مٹ جاتی ہیں۔
اس نیٹ ورک کی سرگرمیاں کسی خلا میں نہیں ہو رہیں۔ ترک تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ یہی سیل تیونسی ایوی ایشن انجینئر محمد الزواری کے نیٹ ورک میں دراندازی کی کوشش کر چکا تھا۔ الزواری وہی سائنس دان تھے جنہیں 2016 میں تیونس میں موساد نے قتل کیا—یہ قتل خود اسرائیلی میڈیا اور مغربی رپورٹس میں بھی بالواسطہ تسلیم شدہ ہے۔
نیٹ ورک نے الزواری کو ڈرون کے نمونے فراہم کرنے کی پیشکش کی
یہ نمونے دراصل نگرانی اور ڈیٹا ایکسٹرکشن کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے
مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ مستقبل کی ہدفی کارروائیوں کی تیاری تھا
یہ پہلو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ موساد کی کارروائیاں وقتی نہیں بلکہ لانگ ٹرم اسٹریٹجک ٹریکنگ پر مبنی ہوتی ہیں۔
حساس موڈمز اور آلات ترکی کے بجائے دیگر ممالک سے اسمگل کیے تاکہ لوکل نگرانی سے بچا جا سکے
یہ تمام عناصر اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ معاملہ کسی نجی گروہ کا نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی یافتہ انٹیلی جنس آپریشن کا تھا۔
یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حالیہ برسوں میں پیجر ڈیوائسز، موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات کے ذریعے فلسطینی اور لبنانی اسرائیل مخالف شخصیات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ تمام واقعات ایک ہی پیٹرن کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
یعنی الیکٹرانک سپلائی چین کو بطور قاتل ہتھیار استعمال کرنا۔
ترکیے کی یہ کارروائی محض ایک انٹیلی جنس کامیابی نہیں بلکہ ایک واضح ریاستی اعلان ہے
ترکی اپنی سرزمین پر خفیہ قتل اور تخریب کاری برداشت نہیں کرے گا
عالمی تجارت کو انٹیلی جنس جنگ کا میدان بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
یہ کیس عالمی سطح پر ایک بنیادی سوال کھڑا کرتا ہے
اگر ریاستی انٹیلی جنس ادارے تجارتی نظام کو یوں مسخ کرتے رہیں تو عالمی سلامتی، اعتماد اور انسانی جانوں کا مستقبل کیا ہوگا؟
اگر یہ نیٹ بے نقاب نہ ہوتا تو کتنے افراد اپنی ہی استعمال کردہ ٹیکنالوجی کے ہاتھوں مارے جاتے؟
ترکیے کی اس کارروائی کو اسی لیے محض ایک گرفتاری نہیں بلکہ جدید خفیہ جنگ کے خلاف ایک فیصلہ کن، دستاویزی اور تاریخی ضرب قرار دیا جا رہا ہے—ایسی ضرب جس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب عقاب صرف آسمان میں نہیں، سپلائی چین اور سرکٹ بورڈز پر بھی نظریں گاڑے بیٹھے ہیں۔

جمعہ، 6 فروری، 2026

ہمارا دشمن ہے کون؟



 ہمارا دشمن ہے کون؟
اسلام آباد کے محلے ترلائی میں ایک امام بارگاہ پر ہونے والا خودکش حملہ محض ایک اور خبر نہیں، یہ ایک سوال ہے—اور وہ سوال یہ ہے: ہمارا دشمن آخر ہے کون؟
ہم برسوں سے لڑتے آئے ہیں۔ کبھی نظریات کے نام پر، کبھی سرحدوں کے دفاع میں، کبھی مسالک کی شناخت پر، اور کبھی اقتدار کے خوابوں کی خاطر۔ ہم نے اپنے ہی قریب کو دشمن سمجھا، دور بیٹھے ہاتھوں کو نجات دہندہ مانا، اور ہر اس شخص پر شک کیا جو ہماری ہی طرح کلمہ گو تھا۔ آج ترلائی کی امام بارگاہ میں بہنے والا خون اسی طویل غلط فہمی کا تازہ ثبوت ہے—کہ ہم اب صرف دوسروں سے نہیں، خود اپنے آپ سے لڑ رہے ہیں۔
یہ حملہ کسی بیرونی لشکر نے نہیں کیا، نہ کسی اجنبی فوج نے شہر پر چڑھائی کی۔ یہ زخم اندر سے لگا ہے۔ یہ وہ دراڑ ہے جو ہمارے اپنے معاشرتی، فکری اور مذہبی انتشار نے پیدا کی ہے۔ مسلمان دنیا آج کسی ایک بیرونی یلغار کی زد میں نہیں، بلکہ اندرونی نفرت، عدم برداشت اور فرقہ وارانہ جنون کے نرغے میں ہے۔ ترلائی کی فضا میں پھیلی چیخیں اسی اندرونی شکست کی گواہی دے رہی ہیں۔
ہم نگاہ دوڑائیں تو یہی کہانی بڑے پیمانے پر بھی نظر آتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں وہ ریاستیں جو کبھی ایک ہی صف میں کھڑی دکھائی دیتی تھیں، اب ایک دوسرے کو ذہنی طور پر حریف سمجھنے لگی ہیں۔ سفارتی جملے، معاشی دباؤ اور علاقائی اثر و رسوخ کی کشمکش اس بات کا اعلان ہے کہ تصادم اب صرف وقت کا سوال ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب ریاستیں ذہنوں میں دشمن تراش لیں تو میدانِ جنگ خود بخود تیار ہو جاتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں بھی یہی المیہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ محض سرحدی جھڑپ نہیں، بلکہ اس گہرے عدم اعتماد کی علامت ہے جو برسوں کی جنگ، بیرونی مداخلت اور اندرونی کمزوریوں نے جنم دیا۔ جو سرحد کبھی ثقافت، رشتوں اور تاریخ کو جوڑتی تھی، آج شکوک، گولیوں اور الزام تراشیوں سے بھری ہوئی ہے۔
اور پھر ایران و عراق کی وہ آٹھ سالہ جنگ—جس نے پورے خطے کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا—آج بھی ہمارے اجتماعی شعور پر نقش ہے۔ اجڑی بستیاں، کھوئی ہوئی نسلیں، بے معنی فتوحات۔ اس جنگ نے ایک سبق دیا تھا: جب مسلمان کا سب سے بڑا دشمن مسلمان خود بن جائے تو فتح کسی کی نہیں ہوتی۔ مگر ترلائی کا واقعہ بتاتا ہے کہ یہ سبق ہم نے یادداشت میں تو رکھا، شعور میں نہیں اتارا۔
سب سے الم ناک پہلو یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد ہم خود احتسابی کے بجائے نئے محاذ کھول لیتے ہیں۔ ہم طاقت کو حل سمجھتے ہیں، مکالمے کو کمزوری، اور صبر کو شکست۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو معاشرے مستقل جنگی کیفیت میں جیتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ اپنی روح کھو دیتے ہیں—پھر انہیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی، وہ خود اپنے لیے کافی ہو جاتے ہیں۔ ترلائی کی امام بارگاہ میں یہ حقیقت خون کی صورت لکھی گئی۔
آج مسلم دنیا کا سب سے بڑا بحران وسائل کا نہیں، قیادت کا بھی نہیں—یہ سمت کا بحران ہے۔ ہم یہ طے نہیں کر پائے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ جینا ہے یا ایک دوسرے کو مٹانا ہے۔ ہم اتحاد کی بات کرتے ہیں تو اس میں بھی غلبے کی خواہش چھپی ہوتی ہے، اور اخوت کا ذکر بھی مشروط مفادات کے ساتھ آتا ہے۔
یہ لمحہ خارجہ پالیسی کا نہیں، اجتماعی شعور کا ہے۔ اگر ہم نے اختلاف کو جنگ اور اختلافِ رائے کو غداری سمجھنا نہ چھوڑا، اگر ہم نے مسجد، امام بارگاہ اور مدرسے کو نفرت کے میدان بننے سے نہ بچایا، تو آنے والی لڑائیاں سرحدوں پر نہیں ہوں گی—وہ ہمارے شہروں میں ہوں گی، ہمارے محلّوں میں، ہمارے عبادت خانوں میں، اور بالآخر ہمارے ذہنوں میں۔
ہم نے سب سے لڑ کر دیکھ لیا۔آج ترلائی کی گواہی کے ساتھ یہ سچ اور بھی واضح ہے کہ ہم اب خود سے لڑ رہے ہیں۔
سوال صرف یہ ہے: کیا ہم اس مقام پر رک کر سوچنے کو تیار ہیں؟
یا تاریخ ہمیں ایک اور مثال کے طور پر محفوظ کر لے گی—
ایک ایسی قوم کی مثال، جو دشمن کی تلاش میں خود کو ہی کھو بیٹھی۔

اتوار، 1 فروری، 2026

جیرڈ کشنر - خاموش مگر مؤثر کردار





جیرڈ کشنر - خاموش مگر مؤثر کردار

عالمی سیاست میں بعض کردار ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر پس منظر میں رہتے ہیں، مگر فیصلوں کی سمت انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ جیرڈ کشنر بھی اسی نوعیت کا کردار ہے۔ ایک رئیل اسٹیٹ سرمایہ کار سے لے کر امریکی خارجہ پالیسی کے اہم معمار تک، کشنر کا سفر محض ذاتی ترقی کی کہانی نہیں بلکہ طاقت، رشتوں اور نظریات کے گہرے امتزاج کی مثال ہے۔

جیرڈ کوری کشنر، 1981 میں پیدا ہوئے، تعلیم کے میدان میں ہارورڈ اور نیویارک یونیورسٹی جیسے اداروں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے خاندانی کاروبار کشنر کمپنیز کو سنبھالا اور بعد ازاں رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری کے جدید پلیٹ فارم 
Cadre
 کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کی اصل شناخت اس وقت ابھری جب وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد ہونے کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس کے سینئر ایڈوائزر بن گئے۔

ٹرمپ دور میں کشنر کو غیر معمولی اختیارات حاصل تھے۔ مشرقِ وسطیٰ پالیسی، امریکہ–اسرائیل تعلقات، ایران کے خلاف سخت مؤقف، اور نام نہاد امن منصوبے—سب میں کشنر مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ان کا نام بار بار اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ جڑتا ہے۔

یہ محض سفارتی تعلق نہیں تھا۔ نیتن یاہو اور کشنر خاندان کے درمیان تعلقات برسوں پر محیط ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنے ابتدائی امریکی دوروں کے دوران کشنر خاندان کے گھر قیام بھی کیا، جس سے جیرڈ کشنر کے ساتھ ذاتی قربت کم عمری ہی میں قائم ہو گئی۔ یہی ذاتی رشتہ بعد ازاں سیاسی ہم آہنگی میں بدل گیا۔

جیرڈ کشنر آرتھوڈوکس یہودی ہیں، اور اسرائیل سے ان کا تعلق محض سیاسی نہیں بلکہ مذہبی اور جذباتی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ دور میں امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا، سفارت خانہ منتقل کیا، اور ابراہیم معاہدوں کے ذریعے عرب دنیا میں اسرائیل کے لیے نئی راہیں ہموار کیں۔ ان تمام فیصلوں کے پیچھے کشنر کی سوچ اور نیتن یاہو کی حکمتِ عملی میں غیر معمولی مماثلت نظر آتی ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا کشنر ایک ثالث تھے یا فریق؟ ناقدین کے نزدیک وہ امریکی مفادات سے زیادہ اسرائیلی ترجیحات کے نمائندہ دکھائی دیتے ہیں، جبکہ حامی انہیں ایک “عملی مذاکرات کار” قرار دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جیرڈ کشنر نے طاقت کے ان مراکز تک رسائی حاصل کی جو اکثر روایتی سفارت کاروں کے لیے بھی خواب ہوتی ہے۔

آج جیرڈ کشنر بظاہر سیاست سے فاصلے پر ہیں، مگر ان کے اثرات اب بھی عالمی سیاست میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ جدید سیاست میں صرف عہدہ نہیں، رشتہ، شناخت اور نظریہ بھی فیصلہ کن طاقت رکھتے ہیں۔

جمعہ، 30 جنوری، 2026

اسرائیل کا مستقبل



اسرائیل کا مستقبل
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو اگر سادہ زبان میں سمجھا جائے تو یہ امریکہ اور ایران کے درمیان کھلی جنگ نہیں، بلکہ ایک منظم دباؤ کا مرحلہ ہے۔ اس مرحلے میں ہر طاقت یہ کوشش کر رہی ہے کہ وہ خود کو بچا لے، کم سے کم نقصان اٹھائے اور آنے والے نظام میں اپنی جگہ محفوظ کر لے۔ ایران اور خلیجی ریاستیں شاید یہ کھیل کسی نہ کسی طرح سنبھال لیں—مگر سوال یہ ہے کہ اسرائیل اس نئے منظرنامے میں کہاں کھڑا ہوگا؟
ایران اس دباؤ کو جنگ میں بدلنے کے بجائے محدود  ردِعمل کی حکمتِ عملی پر چل رہا ہے۔ وہ ایسا جواب دے رہا ہے جو اس کی طاقت بھی دکھائے اور مکمل تصادم سے بھی بچائے۔
ایران جانتا ہے کہ اس کا اصل ہدف حکومت کا تحفظ اور خطے میں اپنے اثر کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ ایسی جنگ جس سے وہ خود بھی ٹوٹ جائے۔ اسی لیے وہ ہرمز، توانائی، اڈوں اور اتحادی محاذوں کے ذریعے دباؤ بڑھاتا ہے مگر دروازہ بند نہیں کرتا۔
سعودی عرب، قطر اور عمان اس کشیدگی میں فریق بننے کے بجائے خود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کی اولین ترجیح ہے کہ تیل کی برآمدات، معیشت اور داخلی استحکام محفوظ رہے۔ اسی لیے وہ نہ کھل کر ایران کے خلاف کھڑے ہیں اور نہ اسرائیل کی جنگی مہم کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
یہ ریاستیں ثالثی، رابطوں اور توازن کے ذریعے وقت خرید رہی ہیں—اور بڑی حد تک کامیاب بھی دکھائی دیتی ہیں۔
مگر اسرائیل…؟
یہاں آ کر تصویر بدل جاتی ہے۔ اسرائیل کے پاس ایران یا خلیجی ریاستوں جیسی گنجائش نہیں۔
اسرائیل کا مسئلہ یہ ہے کہ 
(وہ سیاسی محاذ پر تہنا کھڑا ہے (یا اس کے ساتھ خطے کا وہ ملک ہے جس کی اپنی سیاسی حیثیت قابل ذکر بھی نہیں ہے ۔
اگر امریکہ پیچھے ہٹتا ہے اور خلیجی ریاستیں غیرجانبداری یا ثالثی کی راہ لیتی ہیں تو ایران کے ممکنہ ردِعمل کا قدرتی ہدف اسرائیل ہی بنتا ہے۔
اسرائیل نہ جغرافیائی طور پر بچ سکتا ہے، نہ سیاسی طور پر غیرجانبدار رہ سکتا ہے۔
ایران دباؤ بڑھانے کے لیے اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے کیونکہ اس سے عالمی توجہ بھی ملتی ہے اور امریکہ بھی کھنچتا ہے۔
اسرائیل کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ وہ نہ پوری جنگ جیت سکتا ہے اور نہ خود کو اس دائرے سے نکال سکتا ہے۔

خلیجی ریاستیں اب اسرائیل کو اپنے تحفظ کی ضمانت نہیں سمجھتیں بلکہ ایک خطرہ بننے والا فریق تصور کرنے لگی ہیں۔
ریاض، انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان ابھرتا ہوا محور اسرائیل کے لیے اس لیے خطرناک ہے کہ یہ نہ اس کے کنٹرول میں ہے اور نہ اس کے بیانیے کا حصہ۔
 ممکنہ نئے نظام میں  ایران اور خلیج کے لیے گنجائش نظر آتی ہے مگر اسرائیل کے لیے تنگ دائرہ
کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا
اگر موجودہ دباؤ کے بعد نیا علاقائی نظام بنتا ہے تو

ایران ایک “برداشت کرنے والی طاقت” کے طور پر اپنی جگہ بنا لے گا
خلیجی ریاستیں ثالث اور معاشی ستون بن سکتی ہیں،
مگر اسرائیل ایک ایسا سوالیہ نشان بن جائے گا جو نہ  جنگ جیتا، نہ امن کا معمار بن سکا۔
اسرائیل کے سامنے انتخاب محدود ہوتے جا رہے ہیں یا تو وہ مسلسل تصادم میں رہے، یا اپنے علاقائی کردار پر نظرِ ثانی کرے—جو اس کی موجودہ قیادت کے لیے سب سے مشکل راستہ ہے۔
ایران اور خلیجی ریاستیں شاید اس طوفان میں خود کو بچا لیں، مگر اسرائیل کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں۔
یہ بحران اس کی عسکری طاقت کا نہیں، بلکہ اس کی علاقائی حیثیت اور سیاسی بقا کا امتحان ہے۔
جب موجودہ بے یقینی کے بادل چھٹنے کے بعد سیاسی آسمان صاف ہو گا تو
 ایران اور خلیج سنبھل چکے ہوں گے—تو اسرائیل کہاں کھڑا ہوگا
اس کا جواب آنے والا وقت دے گا اور 
وقت
کے بارے میں 

 سینیکا  

نے کہا تھا

" وقت تیزی سے نہیں گزرتا، ہم اسے ضائع کر دیتے ہیں۔"

 

ابراہیم لنکن کی واپسی کا سوال



 ابراہیم لنکن کی  واپسی کا سوال

امریکی بحری بیڑا، جسے دنیا کا سب سے قدیم اور طاقتور بحری بیڑا سمجھا جاتا ہے، بمشرقِ وسطیٰ کے دروازے پر پہرہ دے رہا ہے۔ اس موجودگی کو کبھی عالمی امن، کبھی بحری تجارت کے تحفظ اور کبھی خطے کے استحکام کا نام دیا گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس پہرے کے پیچھے تیل، اثر و رسوخ اور عالمی بالادستی کی وہی پرانی جنگ چھپی ہوئی ہے۔ اسی طاقت کی سب سے نمایاں علامت امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہیم لنکن ہے، جو محض ایک جنگی جہاز نہیں بلکہ امریکی عسکری غرور اور ناقابلِ شکست ہونے کے دعوے کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔

جب ابراہیم لنکن جیسے جہاز مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں داخل ہوتے ہیں تو یہ صرف اسلحہ نہیں لاتے، بلکہ ایک واضح پیغام بھی دیتے ہیں کہ فیصلہ سازی اب بھی واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔ آبنائے ہرمز، خلیج اور بحیرۂ عرب میں امریکی بحری موجودگی دراصل اس یقین کی علامت رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی شہ رگ—تیل—پر کنٹرول برقرار رکھنا امریکی مفادات کے لیے ناگزیر ہے۔

لیکن آج کا مشرقِ وسطیٰ وہ نہیں رہا جو ماضی میں تھا۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے، اور وہ قوتیں جو کبھی دفاعی پوزیشن میں تھیں، اب کھلے عام مزاحمت کا اعلان کر رہی ہیں۔ اسی پس منظر میں ایران کا وہ بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے جس میں کہا گیا: “ہم تیار ہیں، اور ہماری انگلی ٹرگر پر ہے۔” یہ محض ایک عسکری دھمکی نہیں بلکہ ایک ایسا جملہ ہے جس نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

دنیا حیرت اور خوف کے امتزاج میں یہ سوال کر رہی ہے کہ وہ انگلی کس بندوق کے ٹرگر پر ہے؟ کیا یہ عام اسلحہ ہے، یا پھر وہ بندوق ہے جس میں پہلے ہی “نیوکلیائی گولی” بھری جا چکی ہے؟ اگرچہ اس سوال کا براہِ راست جواب کسی کے پاس نہیں، مگر حالات، بیانات اور زمینی حقائق یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اس بار معاملہ معمول کا نہیں۔ آثار بتاتے ہیں کہ اس دفعہ بندوق عام نہیں ہے، اور یہی غیر یقینی کیفیت عالمی طاقتوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امریکی رویے میں بھی ایک نمایاں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ وہ امریکہ جو کبھی طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرتا تھا، آج سفارت کاری، ثالثی اور “ڈی ایسکلیشن” کی زبان بولنے پر مجبور نظر آتا ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق واشنگٹن اب کسی کھلے تصادم کے بجائے واپسی کا ایک باعزت راستہ تلاش کر رہا ہے—ایسا راستہ جس میں نہ شکست کا اعتراف ہو اور نہ ہی طاقت کے تصور کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے۔

اگر ابراہیم لنکن جیسے طیارہ بردار جہاز کو کسی حقیقی خطرے کا سامنا ہوا تو یہ صرف ایک فوجی نقصان نہیں ہوگا، بلکہ امریکی بالادستی کے بیانیے پر کاری ضرب ہوگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگے، تو زوال کا سفر وہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔

یوں ابراہیم لنکن کی کہانی اب صرف امریکی فخر کی داستان نہیں رہی، بلکہ یہ اس عالمی سوال کی علامت بن چکی ہے کہ کیا طاقت کے سائے میں دنیا کو ہمیشہ قابو میں رکھا جا سکتا ہے؟ یا پھر مشرقِ وسطیٰ کی یہ کشیدگی اس حقیقت کو آشکار کرنے جا رہی ہے کہ بعض اوقات سب سے بڑی کامیابی، بروقت اور باعزت واپسی ہوتی ہے۔