جمعہ، 20 فروری، 2026
مشرقِ وسطیٰ کی کہانی فوجی توازن سے نہیں،بلکہ ممکنات سے لکھی جا رہی ہے
جمعرات، 19 فروری، 2026
فتح کی تعریف
پیر، 16 فروری، 2026
جنگ کا نیا پیمانہ
جمعرات، 12 فروری، 2026
H اشرافیہ کا کردار
اشرافیہ کا کردار
کنفیوشس نےکہا تھا “ اخلاق کے بغیر اقتدار محض ایک وقتی سایہ ہے۔” کیا آج کی اشرافیہ اس سایے کو حقیقت سمجھ بیٹھی ہے، یا دنیا واقعی ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں اخلاق اقتدار کے مقابلے میں ایک کمزور آواز بن گیا ہے
جو لوگ 1980 کی دہائی میں فکری شعور رکھتے تھے، انہیں ایک نام ضرور یاد ہوگا—زبگنیو برژنسکی۔ وہ محض ایک سرکاری عہدہ رکھنے والے شخص نہیں تھے، بلکہ عالمی سیاست کی گہری پرتوں کو سمجھنے والے مفکر تھے۔ 1977 سے 1981 تک صدر جمی کارٹر کے قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے برژنسکی نے 1970 میں ایک ایسی کتاب لکھی جو آج نصف صدی بعد پیش گوئی نہیں بلکہ تشریح بن چکی ہے
Between Two Ages: America’s Role in the Technetronic Era۔
اگر اس کتاب کا نچوڑ ایک سطر میں بیان کیا جائے تو مفہوم یہ تھا کہ مستقبل میں جمہور کے نام پر فیصلے جمہور نہیں کریں گے، بلکہ ایک محدود اور غیر مرئی گروہ کرے گا۔ یہ وہ طبقہ ہوگا جس کے ہاتھ میں پانچ بنیادی قوتیں مرکوز ہوں گی: میڈیا اور کمیونیکیشن، انسانی شعور پر اثراندازی، روایتی سیاست کا زوال، ڈیٹا اور نگرانی، اور قوم سے بالاتر طاقتوں کا ابھار۔
برژنسکی نے لکھا تھا کہ ٹی وی، سیٹلائٹ، اور پھر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عوامی رائے کو تشکیل دیں گے۔ ریاستیں اور طاقتور ادارے انسانی سوچ، رویّوں اور ترجیحات کو اس حد تک متاثر کرنے کے قابل ہو جائیں گے کہ فرد خود کو آزاد سمجھتے ہوئے بھی ایک طے شدہ فریم میں سوچ رہا ہوگا۔ جماعتیں، نظریات اور پارلیمان کمزور پڑیں گی، جبکہ ٹیکنوکریٹس، ماہرین اور غیر منتخب قوتیں فیصلہ ساز بن جائیں گی۔ ڈیٹا نگرانی کا ہتھیار بنے گا، پرائیویسی ایک تصور رہ جائے گی، اور طاقت قومی سرحدوں سے آزاد ہو کر ملٹی نیشنل اداروں اور عالمی نیٹ ورکس میں منتقل ہو جائے گی۔
آج، جب ایپسٹین فائلز سے متعلق خبریں اور انکشافات عالمی میڈیا میں گردش کر رہے ہیں، تو برژنسکی کی وہ باتیں محض نظریہ نہیں رہتیں بلکہ ایک عملی حقیقت کا عکس دکھائی دیتی ہیں۔ ان خبروں نے کم از کم یہ ضرور واضح کر دیا ہے کہ عالمی اشرافیہ کسی ایک ملک، نسل یا خطے کی نمائندہ نہیں۔ اس کی شناخت اس کی ذہنیت ہے۔ یوں یہ طبقہ ایک قوم نہیں بلکہ ایک غیر مرئی کلب ہے—مشترکہ سوچ، مشترکہ مفاد اور مشترکہ خواہشات کا حامل۔
یہ لوگ دنیا پر اپنا تسلظ فیصلوں، منصوبہ بندی اور بیانیے کے ذریعے قائم کرتے ہیں۔ ان کے اقدامات عام آنکھ کو دکھائی نہیں دیتے، مگر ان کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ان کا پہلا محاذ سائبر ڈومین ہے—جہاں الفاظ تراشے جاتے ہیں، معنی گھڑے جاتے ہیں اور بیانیہ ترتیب پاتا ہے۔ یہاں انسانی سوچ کو ہموار کیا جاتا ہے، جذبات کو سمت دی جاتی ہے، اور رائے عامہ آہستہ آہستہ ایک مخصوص دائرے میں بند ہو جاتی ہے۔ طاقت خاموشی سے کام کرتی ہے، مگر اس کی گرفت وسیع اور دیرپا ہوتی ہے۔
ان کا دوسرا محاذ معیشت ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی اور جدید مالی نظام کے ذریعے وسائل، محنت اور فیصلے ایک ایسے ڈھانچے میں ڈھلتے ہیں جہاں ہر لین دین ڈیٹا بن جاتا ہے۔ یہ ڈیٹا نگرانی اور کنٹرول کا مؤثر ذریعہ ہے۔ بظاہر سہولت اور ترقی کی زبان بولی جاتی ہے، مگر حقیقت میں مالی آزادی بتدریج مشروط ہوتی جاتی ہے اور اختیار کہیں اور مرتکز ہو جاتا ہے۔
ایپسٹین فائلز سے جڑی بحث نے ایک اور حقیقت بھی نمایاں کی ہے: طاقت خود کو جواب دہ نہیں سمجھتی۔ قوانین اور اصول اکثر دوسروں کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ طاقتور طبقات کے لیے بیانیہ، وضاحتیں اور خاموشی کافی سمجھی جاتی ہے۔ یہ اشرافیہ کنٹرول کے تصور کی وارث ہے—ایک ایسی غیر مرئی قوت جو انسانی سوچ، رویّوں اور وسائل پر اثرانداز ہوتی ہے۔
آج سیاستدان بولتے ضرور ہیں، مگر فیصلوں کے پیچھے اکثر کسی اور طاقت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ذہن سائبر میں لکھے جاتے ہیں، وسائل ڈیجیٹل میں بندھتے ہیں، اور انسانی رویّے ایک خاص فریم میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔ اقتدار نے اب ایک نیا روپ اختیار کر لیا ہے—خاموش، مگر نہایت طاقتور۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کبھی قبائل میں بٹی، پھر عقائد کی بنیاد پر منقسم رہی۔ آج لگتا ہے دنیا دو ذہنیتوں میں بٹ گئی ہے۔ ایک طرف خیر، بھلائی، ایثار اور انسان دوستی؛ اور دوسری طرف ہوس، لالچ، غیر انسانی رویّے اور اقتدار کی بے لگام خواہش۔
کنفیوشس نے ڈھائی ہزار سال پہلے خبردار کر دیا تھا: “اگر تم دنیا پر حکمرانی چاہتے ہو تو پہلے اپنے کردار پر حکمرانی کرو۔ اخلاق کے بغیر اقتدار محض ایک وقتی سایہ ہے۔” سوال یہ ہے کہ آج کی اشرافیہ اس سایے کو حقیقت سمجھ بیٹھی ہے، یا دنیا واقعی ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں اخلاق اقتدار کے مقابلے میں ایک کمزور آواز بن گیا ہے
بدھ، 11 فروری، 2026
گمان اور رویے
منگل، 10 فروری، 2026
دوسروں کو راہِ راست پر لانے کا جنون
اسرائیل کی امریکی ساکھ کا خاتمہ
اسرائیل کی امریکی ساکھ کا خاتمہ
ایران اور طاقت کا کھیل
لاہور میں بسنت
لاہور میں بسنت
جنریشن زی کے لیے یہ دو دن محض واقعات نہیں، بلکہ دو متضاد تجربات ہیں: ایک دن جب ہم نے خود کو بکھرتے دیکھا، اور دوسرا دن جب ہم نے خود کو سمیٹنے کی ایک روشن کوشش کی۔
آٹھ فروری کو لاہور کی فضا بدلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ چھتوں پر صرف گڈے نہیں اڑے، ذہنوں کا بوجھ بھی ہلکا ہوا۔ ڈھول کی تھاپ پر قدم خود بخود تھرکنے لگے، قہقہے فضا میں گھل گئے، اور اجنبی ایک دوسرے کے لیے مانوس ہو گئے۔ بزرگ نسل نے نئی نسل کو گڈے دلائے، تجربہ کار ہاتھوں نے نو آموز ہاتھوں کو گڈا اڑانے کے رموز سکھائے۔ لوگ ایک دوسرے کی چھتوں تک پہنچے، مگر اصل میں وہ ایک دوسرے کے دلوں تک پہنچے—وہ دل جو مدتوں سے بند پڑے تھے۔
یہ صرف بسنت نہیں تھی، یہ سماج کی ازسرِنو جڑت تھی۔
یہ ان قدروں کی خاموش واپسی تھی جنہیں ہم نے خوف اور بدگمانی کے نام پر پسِ پشت ڈال دیا تھا۔
اس سے پہلے ہمارا رویہ کیا بن چکا تھا؟
ہم نے اپنے گھروں کو قلعوں میں بدل لیا تھا۔ اونچی دیواریں، خاردار تاریں اور بھاری گیٹ—سب کچھ تحفظ کے نام پر، مگر انجام تنہائی کی صورت میں نکلا۔ عدمِ اعتماد نے ہمارے تعلقات کی ساخت بدل دی تھی۔ ہم سلام سے پہلے سوال اور ملاقات سے پہلے اندیشے پالنے لگے تھے۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں سیاست کو رہنمائی کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا—مگر وہ کہیں راستہ بھٹک گئی۔
سیاست اپنی اصل میں کوئی داغ دار سرگرمی نہیں، یہ ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ سچی سیاست وہ ہوتی ہے جو معاشرے میں امید بانٹے، لوگوں کو مثبت سوچ عطا کرے، مستقبل کی سمت واضح کرے، اور بالخصوص نوجوانوں کو مقصد دکھائے۔ سیاستدان کا کام محض نعرہ لگانا نہیں، بلکہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے سیاسی، اخلاقی اور سماجی رہنمائی فراہم کرنا ہوتا ہے۔
یہ راستہ آسان نہیں ہوتا۔
اکثر یہ سفر اتنا کٹھن ہو جاتا ہے کہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔
پاکستان کے قیام کے بعد کئی نام ہماری اجتماعی یادداشت میں محفوظ ہیں—وہ لوگ جنہوں نے اس راہ میں اپنی آسائشیں، اپنی عزت، حتیٰ کہ اپنی جان تک قربان کر دی، مگر اپنے وژن سے پیچھے نہ ہٹے۔ یہی سیاست کا اصل وقار ہے، یہی اس کا اخلاقی وزن ہے۔
اسی تناظر میں آٹھ فروری کی بسنت کو دیکھنا چاہیے۔
یہ کوئی سیاسی مظاہرہ نہیں تھا، مگر ایک سماجی کوشش ضرور تھی—ایک غیر اعلانیہ اعلان کہ معاشرہ ابھی مکمل طور پر بے حس نہیں ہوا۔ کہ ہم اب بھی اکٹھے ہو سکتے ہیں، بغیر نفرت کے، بغیر اشتعال کے۔
اور پھر ذہن نا چاہتے ہوئے نو مئی کی طرف چلا جاتا ہے۔
نو مئی وہ دن تھا جب سیاست رہنمائی کے بجائے اشتعال میں بدل گئی۔ یہ دن کسی بیرونی دشمن کا نہیں، ہماری اندرونی شکست کا دن تھا۔ نو مئی ایک ایسا خنجر تھا جو ہم نے خود اپنے ہاتھ میں لیا، اور خود کو زخمی کرنے کے لیے استعمال کیا۔
اس دن نفرت کے بیانیے تراشے گئے، زبانیں سخت ہو گئیں، اور اختلاف دشمنی میں بدل گیا۔ احتجاج اور تخریب کے درمیان حد مٹا دی گئی۔ ہم نے خود اپنا گریبان چاک کیا، اور پھر حیران ہوئے کہ آئینہ ہمیں ٹوٹا ہوا کیوں دکھا رہا ہے۔
نو مئی صرف تشدد کی ایک تاریخ نہیں، یہ اخلاقی زوال کی علامت ہے۔
اس دن ہم نے اپنی تہذیب، اپنی روایات اور اپنے اجتماعی شعور کو خود ہی اپنے ہاتھوں مجروح کیا۔ نتیجتاً خوشیاں ہم سے روٹھ گئیں، اور معاشرہ ایک بار پھر بند گھروں، بند دلوں اور بند ذہنوں میں قید ہو گیا۔
جنریشن زی نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
انہوں نے یہ سبق سیکھا کہ جب جذبات عقل سے آزاد ہو جائیں تو نعرے بوجھ بن جاتے ہیں، اور جب سیاست اخلاق سے خالی ہو جائے تو قومیں خود اپنی بنیادیں کمزور کر لیتی ہیں۔
اور اسی لیے آٹھ فروری اہم ہے۔
یہ دن یاد دلاتا ہے کہ سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ کہ اگر سیاست دوبارہ اپنی اصل روح—امید، سمت اور اخلاق—کی طرف لوٹ آئے، تو سماج دوبارہ سانس لے سکتا ہے۔ کہ ہم نفرت کے خنجروں کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔
اب سوال یہ نہیں کہ نو مئی کیوں پیش آیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم آٹھ فروری کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
کیونکہ تاریخ صرف واقعات محفوظ نہیں کرتی،
تاریخ یہ لکھتی ہے کہ قوموں نے کس لمحے کیا انتخاب کیا۔
اور انتخاب—
ہمیشہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہوتا ہے۔
کتے اور بھیریے کی کہانی
کتے اور بھیڑیے کی کہانی
رتقاء کے کسی دھندلے، نیم روشن موڑ پر کتا اور بھیڑیا ایک ہی قبیلے کے فرد تھے۔ جبلّت مشترک تھی، بدن میں مماثلت تھی، اور بقا کی خواہش دونوں کے سینے میں یکساں دھڑکتی تھی۔ نہ فطرت نے ان کے درمیان لکیر کھینچی، نہ وقت نے انہیں جدا کیا۔ یہ فرق کسی حادثے کا نتیجہ نہیں تھا—یہ فرق ایک سوچے سمجھے انتخاب سے پیدا ہوا۔
کتے نے انسان کے قریب رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے جنگل کی وسعتوں کے بجائے دہلیز کو چنا۔ یہ قربت سہولت نہیں تھی، ایک ذمہ داری تھی—بھاری، مسلسل اور خاموش۔ اس نے انسان کے گھر، اس کے بچوں اور اس کے مال مویشی کی رکھوالی کی۔ اس نے اپنی ذات کو ڈھال بنایا، اپنے وجود کو خطرے کے سامنے رکھا، تاکہ پیچھے رہ جانے والے محفوظ رہیں۔
اس انتخاب کی قیمت بھی تھی۔ آزادی محدود ہوئی، اختیار مکمل نہ ملا، مگر دہلیز محفوظ رہی۔ اور یوں یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ حفاظت طاقت کا مظاہرہ نہیں، قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔
بھیڑیے نے جنگل کی بے کنار وسعتوں کو چنا۔ اس نے کسی دہلیز سے وابستگی قبول نہ کی، کسی ذمے داری کو اپنے گلے کا ہار نہ بنایا۔ بھوک مٹانے کے لیے وہ کھلے میدان میں اترا، حملہ کیا، نوچا، اور خوف کو اپنی پہچان بنا لیا۔ اس کے نزدیک زندگی حفاظت کا نام نہیں، غلبے کا دوسرا نام ہے؛ ذمہ داری اس کے ہاں بوجھ ہے، فتح ہی اس کی اخلاقیات ہے۔
کتا آج بھی دہلیز پر بیٹھا ہے۔ اس کی خواہش سادہ ہے: جو اس کے پیچھے ہیں، وہ محفوظ رہیں۔ مگر انسانی سماج نے وقت کے ساتھ ایک عجیب اور سفاک فیصلہ کیا۔ اس نے وفاداری کو کمزوری قرار دے دیا۔ جب کسی ہم جنس کو کمتر دکھانا مقصود ہو، اسے “کتا” کہا جاتا ہے۔ یوں اصول پسندی، قانون کی پاسداری اور اخلاقی انکار تمسخر کا نشانہ بن جاتے ہیں، اور کردار کی جگہ چالاکی کو فضیلت کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔
انسانی تاریخ ایسے محافظوں سے بھری پڑی ہے جو دروازوں پر کھڑے رہے، مگر فیصلہ ساز کمروں تک نہ پہنچ سکے۔ ان کے نام قراردادوں کے حاشیوں میں دب گئے، کیونکہ وہ فاتح نہیں تھے۔ فاتح وہ تھے جن کے ہاتھوں میں نقشے تھے، جنہوں نے سرخ لکیروں سے زمین بانٹی، اور جن کے فیصلوں کے بعد شہروں کے نام ملبے میں بدل گئے۔
یہ بھی تاریخ کا ایک تلخ تضاد ہے کہ خونخواری کو بہادری کہا جاتا ہے۔ کہیں آسمان سے آگ برستی ہے، کہیں بستیاں اجڑتی ہیں، اور کہیں ایوانوں میں بیٹھے لوگ اسے “ضروری اقدام” کا نام دے دیتے ہیں۔ میزوں پر فائلیں کھلتی ہیں، نقشوں پر نئی حد بندیاں بنتی ہیں، اور انسان صرف اعداد میں ڈھل جاتے ہیں—کسی رپورٹ کا ایک پیراگراف، کسی بریفنگ کی ایک سطر۔
رفتہ رفتہ یہی بھیڑیے دنیا کی بڑی کہانیوں کے مرکزی کردار بن جاتے ہیں۔ ان کے لیے زبان نرم ہو جاتی ہے، الفاظ محتاط ہو جاتے ہیں، اور ظلم کو “توازن”، “سلامتی” یا “قومی مفاد” کا خوش نما عنوان دے دیا جاتا ہے۔ جو اس بیانیے سے اختلاف کرے، جو طاقت کے بجائے اصول کی بات کرے، وہ غیر حقیقت پسند، جذباتی یا غیر ذمہ دار قرار پاتا ہے۔
مسئلہ بھیڑیوں کی موجودگی نہیں—طاقت ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ اصل مسئلہ وہ عالمی ہجوم ہے جو ان کے پیچھے چلتا ہے۔ وہ تالیاں ہیں جو ہر گرتے ہوئے شہر کے بعد بجتی ہیں۔ وہ خاموشی ہے جو ہر چیخ کے بعد چھا جاتی ہے۔ اصل بحران یہ ہے کہ ہم نے طاقت کو عقل کا مترادف، اور اخلاق کو رکاوٹ سمجھ لیا ہے۔
جب پیمانے بگڑ جائیں تو محافظ مجرم دکھائی دینے لگتا ہے، اور آگ لگانے والا رہنما۔ پھر دہلیز پر بیٹھا کتا مضحکہ خیز محسوس ہوتا ہے، اور جنگل سے آنے والا بھیڑیا معتبر۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرے اپنی ہی حفاظت پر شرمندہ ہونے لگتے ہیں۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ کتا درست ہے یا بھیڑیا طاقتور۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کن فیصلوں کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ ہم کن ہاتھوں سے مصافحہ کرتے ہیں، اور کن آنکھوں سے نظریں چرا لیتے ہیں۔ کیونکہ جس دن دنیا اپنے محافظوں کو بوجھ، اور اپنے جلادوں کو ناگزیر سمجھ لے، اس دن ظلم محض ایک عمل نہیں رہتا—وہ عالمی روایت بن جاتا ہے۔
اور جب ظلم روایت بن جائے،
تو تاریخ نہیں مرتی—
انسان مرنے لگتا ہے۔
خناس کی فطرت
پیر، 9 فروری، 2026
بند گلی
فلسطینیوں کی امریکہ سےبے دخلی کا نیا المیہ
سرکاری خاموشی کے باوجود ایک سوال اپنی جگہ قائم ہے: جب ریاستی اختیار عملی طور پر نجی ملکیت بن جائے، اور بے دخلی ایک انسانی المیے کے بجائے محض ایک انتظامی کارروائی بن کر رہ جائے، تو پھر انصاف—قومی ہو یا بین الاقوامی—کہاں باقی رہ جاتا ہے؟
اتوار، 8 فروری، 2026
عدل کی میزان
ترکیے کا اسرائیل کو بڑا تھپڑ
جمعہ، 6 فروری، 2026
ہمارا دشمن ہے کون؟
ہم برسوں سے لڑتے آئے ہیں۔ کبھی نظریات کے نام پر، کبھی سرحدوں کے دفاع میں، کبھی مسالک کی شناخت پر، اور کبھی اقتدار کے خوابوں کی خاطر۔ ہم نے اپنے ہی قریب کو دشمن سمجھا، دور بیٹھے ہاتھوں کو نجات دہندہ مانا، اور ہر اس شخص پر شک کیا جو ہماری ہی طرح کلمہ گو تھا۔ آج ترلائی کی امام بارگاہ میں بہنے والا خون اسی طویل غلط فہمی کا تازہ ثبوت ہے—کہ ہم اب صرف دوسروں سے نہیں، خود اپنے آپ سے لڑ رہے ہیں۔
یہ حملہ کسی بیرونی لشکر نے نہیں کیا، نہ کسی اجنبی فوج نے شہر پر چڑھائی کی۔ یہ زخم اندر سے لگا ہے۔ یہ وہ دراڑ ہے جو ہمارے اپنے معاشرتی، فکری اور مذہبی انتشار نے پیدا کی ہے۔ مسلمان دنیا آج کسی ایک بیرونی یلغار کی زد میں نہیں، بلکہ اندرونی نفرت، عدم برداشت اور فرقہ وارانہ جنون کے نرغے میں ہے۔ ترلائی کی فضا میں پھیلی چیخیں اسی اندرونی شکست کی گواہی دے رہی ہیں۔
ہم نگاہ دوڑائیں تو یہی کہانی بڑے پیمانے پر بھی نظر آتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں وہ ریاستیں جو کبھی ایک ہی صف میں کھڑی دکھائی دیتی تھیں، اب ایک دوسرے کو ذہنی طور پر حریف سمجھنے لگی ہیں۔ سفارتی جملے، معاشی دباؤ اور علاقائی اثر و رسوخ کی کشمکش اس بات کا اعلان ہے کہ تصادم اب صرف وقت کا سوال ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب ریاستیں ذہنوں میں دشمن تراش لیں تو میدانِ جنگ خود بخود تیار ہو جاتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں بھی یہی المیہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ محض سرحدی جھڑپ نہیں، بلکہ اس گہرے عدم اعتماد کی علامت ہے جو برسوں کی جنگ، بیرونی مداخلت اور اندرونی کمزوریوں نے جنم دیا۔ جو سرحد کبھی ثقافت، رشتوں اور تاریخ کو جوڑتی تھی، آج شکوک، گولیوں اور الزام تراشیوں سے بھری ہوئی ہے۔
اور پھر ایران و عراق کی وہ آٹھ سالہ جنگ—جس نے پورے خطے کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا—آج بھی ہمارے اجتماعی شعور پر نقش ہے۔ اجڑی بستیاں، کھوئی ہوئی نسلیں، بے معنی فتوحات۔ اس جنگ نے ایک سبق دیا تھا: جب مسلمان کا سب سے بڑا دشمن مسلمان خود بن جائے تو فتح کسی کی نہیں ہوتی۔ مگر ترلائی کا واقعہ بتاتا ہے کہ یہ سبق ہم نے یادداشت میں تو رکھا، شعور میں نہیں اتارا۔
سب سے الم ناک پہلو یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد ہم خود احتسابی کے بجائے نئے محاذ کھول لیتے ہیں۔ ہم طاقت کو حل سمجھتے ہیں، مکالمے کو کمزوری، اور صبر کو شکست۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو معاشرے مستقل جنگی کیفیت میں جیتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ اپنی روح کھو دیتے ہیں—پھر انہیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی، وہ خود اپنے لیے کافی ہو جاتے ہیں۔ ترلائی کی امام بارگاہ میں یہ حقیقت خون کی صورت لکھی گئی۔
آج مسلم دنیا کا سب سے بڑا بحران وسائل کا نہیں، قیادت کا بھی نہیں—یہ سمت کا بحران ہے۔ ہم یہ طے نہیں کر پائے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ جینا ہے یا ایک دوسرے کو مٹانا ہے۔ ہم اتحاد کی بات کرتے ہیں تو اس میں بھی غلبے کی خواہش چھپی ہوتی ہے، اور اخوت کا ذکر بھی مشروط مفادات کے ساتھ آتا ہے۔
یہ لمحہ خارجہ پالیسی کا نہیں، اجتماعی شعور کا ہے۔ اگر ہم نے اختلاف کو جنگ اور اختلافِ رائے کو غداری سمجھنا نہ چھوڑا، اگر ہم نے مسجد، امام بارگاہ اور مدرسے کو نفرت کے میدان بننے سے نہ بچایا، تو آنے والی لڑائیاں سرحدوں پر نہیں ہوں گی—وہ ہمارے شہروں میں ہوں گی، ہمارے محلّوں میں، ہمارے عبادت خانوں میں، اور بالآخر ہمارے ذہنوں میں۔
ہم نے سب سے لڑ کر دیکھ لیا۔آج ترلائی کی گواہی کے ساتھ یہ سچ اور بھی واضح ہے کہ ہم اب خود سے لڑ رہے ہیں۔
سوال صرف یہ ہے: کیا ہم اس مقام پر رک کر سوچنے کو تیار ہیں؟
یا تاریخ ہمیں ایک اور مثال کے طور پر محفوظ کر لے گی—
ایک ایسی قوم کی مثال، جو دشمن کی تلاش میں خود کو ہی کھو بیٹھی۔






