اتوار، 1 فروری، 2026

جیرڈ کشنر - خاموش مگر مؤثر کردار





جیرڈ کشنر - خاموش مگر مؤثر کردار

عالمی سیاست میں بعض کردار ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر پس منظر میں رہتے ہیں، مگر فیصلوں کی سمت انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ جیرڈ کشنر بھی اسی نوعیت کا کردار ہے۔ ایک رئیل اسٹیٹ سرمایہ کار سے لے کر امریکی خارجہ پالیسی کے اہم معمار تک، کشنر کا سفر محض ذاتی ترقی کی کہانی نہیں بلکہ طاقت، رشتوں اور نظریات کے گہرے امتزاج کی مثال ہے۔

جیرڈ کوری کشنر، 1981 میں پیدا ہوئے، تعلیم کے میدان میں ہارورڈ اور نیویارک یونیورسٹی جیسے اداروں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے خاندانی کاروبار کشنر کمپنیز کو سنبھالا اور بعد ازاں رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری کے جدید پلیٹ فارم 
Cadre
 کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کی اصل شناخت اس وقت ابھری جب وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد ہونے کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس کے سینئر ایڈوائزر بن گئے۔

ٹرمپ دور میں کشنر کو غیر معمولی اختیارات حاصل تھے۔ مشرقِ وسطیٰ پالیسی، امریکہ–اسرائیل تعلقات، ایران کے خلاف سخت مؤقف، اور نام نہاد امن منصوبے—سب میں کشنر مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ان کا نام بار بار اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ جڑتا ہے۔

یہ محض سفارتی تعلق نہیں تھا۔ نیتن یاہو اور کشنر خاندان کے درمیان تعلقات برسوں پر محیط ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنے ابتدائی امریکی دوروں کے دوران کشنر خاندان کے گھر قیام بھی کیا، جس سے جیرڈ کشنر کے ساتھ ذاتی قربت کم عمری ہی میں قائم ہو گئی۔ یہی ذاتی رشتہ بعد ازاں سیاسی ہم آہنگی میں بدل گیا۔

جیرڈ کشنر آرتھوڈوکس یہودی ہیں، اور اسرائیل سے ان کا تعلق محض سیاسی نہیں بلکہ مذہبی اور جذباتی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ دور میں امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا، سفارت خانہ منتقل کیا، اور ابراہیم معاہدوں کے ذریعے عرب دنیا میں اسرائیل کے لیے نئی راہیں ہموار کیں۔ ان تمام فیصلوں کے پیچھے کشنر کی سوچ اور نیتن یاہو کی حکمتِ عملی میں غیر معمولی مماثلت نظر آتی ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا کشنر ایک ثالث تھے یا فریق؟ ناقدین کے نزدیک وہ امریکی مفادات سے زیادہ اسرائیلی ترجیحات کے نمائندہ دکھائی دیتے ہیں، جبکہ حامی انہیں ایک “عملی مذاکرات کار” قرار دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جیرڈ کشنر نے طاقت کے ان مراکز تک رسائی حاصل کی جو اکثر روایتی سفارت کاروں کے لیے بھی خواب ہوتی ہے۔

آج جیرڈ کشنر بظاہر سیاست سے فاصلے پر ہیں، مگر ان کے اثرات اب بھی عالمی سیاست میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ جدید سیاست میں صرف عہدہ نہیں، رشتہ، شناخت اور نظریہ بھی فیصلہ کن طاقت رکھتے ہیں۔