بدھ، 21 جنوری، 2026

کرد۔ایران کشیدگی (2)



کرد۔ایران کشیدگی (2)

ایران اور کردوں کے درمیان کشیدگی کو محض کسی حالیہ سیاسی یا سیکورٹی مسئلے تک محدود کرنا زمینی حقائق سے صرفِ نظر کے مترادف ہوگا۔ درحقیقت یہ کشیدگی ایک صدی پر محیط تاریخی، نسلی، ریاستی اور نظریاتی تضادات کا نتیجہ ہے، جو وقت کے ساتھ مختلف شکلوں میں سامنے آتی رہی ہے۔ ایرانی ریاست کا مرکزی، وحدانی اور فارسی محور قومی تصور اور کردوں کی الگ ثقافتی و لسانی شناخت—یہی وہ بنیادی تصادم ہے جس نے اس تعلق کو مسلسل تناؤ میں رکھا ہے۔

ایران کی کل آبادی کا تقریباً آٹھ سے دس فیصد کردوں پر مشتمل ہے، جو زیادہ تر کردستان، کرمانشاہ، ایلام اور مغربی آذربائیجان کے صوبوں میں آباد ہیں۔ ان علاقوں میں رہنے والے کرد خود کو تاریخی طور پر ایک الگ قوم سمجھتے ہیں، مگر ایرانی ریاست نے ہمیشہ قومی وحدت کو مرکزیت اور یکسانیت کے ساتھ جوڑ کر دیکھا ہے۔ اس تضاد میں ایک اور اہم عنصر یہ ہے کہ ایرانی کردوں کی اکثریت سنی مسلمان ہے، جبکہ ایران ایک شیعہ اکثریتی ریاست ہے۔ یہ فرق کشیدگی کو محض نسلی نہیں بلکہ مسلکی اور نظریاتی سطح پر بھی حساس بنا دیتا ہے۔

تاریخی طور پر اس کشیدگی کی جڑیں رضا شاہ کے دور تک جاتی ہیں، جب ایران کو ایک مضبوط مرکزی قوم پرستانہ ریاست بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس عمل میں علاقائی شناختوں کو دبایا گیا، کردی زبان اور ثقافت پر پابندیاں لگیں، اور قبائلی خودمختاری کو ختم کر دیا گیا۔ یہی وہ دور تھا جب کردوں میں یہ احساس گہرا ہونا شروع ہوا کہ ریاست ان کی شناخت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

کرد۔ایران تعلقات کا ایک فیصلہ کن اور علامتی لمحہ جمہوریہ مہاباد تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد شمال مغربی ایران میں کردوں نے ایک مختصر مدت کے لیے خودمختار ریاست قائم کی، جس کے صدر قاضی محمد تھے اور جسے سوویت یونین کی وقتی حمایت حاصل تھی۔ جیسے ہی سوویت افواج نے ایران سے انخلا کیا، ایرانی فوج نے مہاباد پر قبضہ کر لیا اور قاضی محمد کو پھانسی دے دی گئی۔ یہ واقعہ آج بھی ایرانی کردوں کے اجتماعی شعور میں مظلومیت اور وعدہ خلافی کی ایک گہری علامت کے طور پر زندہ ہے۔

1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد کردوں میں یہ امید پیدا ہوئی کہ نئی اسلامی حکومت نسلی اور مذہبی تنوع کو تسلیم کرے گی اور علاقائی خودمختاری پر بات چیت کا آغاز ہوگا۔ مگر یہ امید جلد ہی مایوسی میں بدل گئی۔ آیت اللہ خمینی نے کرد خودمختاری کے مطالبات کو اسلامی وحدت کے خلاف بغاوت قرار دیا، کرد علاقوں میں فوجی آپریشن کیے گئے، اور ہزاروں افراد ہلاک یا گرفتار ہوئے۔ یوں انقلاب، جو نجات کی علامت سمجھا جا رہا تھا، کردوں کے لیے مزید ریاستی جبر کی صورت اختیار کر گیا۔

وقت کے ساتھ ایران میں مختلف کرد سیاسی و مسلح تنظیمیں سامنے آئیں۔ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی آف ایران نے بائیں بازو کے قوم پرستانہ نظریات کے تحت مسلح جدوجہد بھی کی اور مذاکرات کی کوششیں بھی، جو اکثر ناکام رہیں۔ کوملہ جیسی تنظیموں نے سماجی انصاف اور خودمختاری کا مطالبہ کیا، مگر انہیں بھی شدید ریاستی کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد کے برسوں میں
 PJAK 
جیسی تنظیمیں سامنے آئیں، جنہیں ایران( پی کے کے ) سے منسلک قرار دے کر دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے، اور سرحدی علاقوں میں جھڑپیں جاری رہتی ہیں۔

مذہبی پہلو اس کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اگرچہ ایرانی آئین سنی اقلیتوں کو تسلیم کرتا ہے، مگر عملی طور پر اعلیٰ ریاستی مناصب تک ان کی رسائی محدود ہے، مذہبی اداروں پر کڑی نگرانی رہتی ہے اور سیاسی شکوک و شبہات برقرار رہتے ہیں۔ اس صورتحال میں نسلی محرومی اور مسلکی احساسِ بیگانگی ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔

ایرانی ریاست اپنے سیکورٹی بیانیے میں کرد تحریکوں کو اکثر بیرونی سازش، اسرائیل اور امریکہ کے اثر و رسوخ، اور علاقائی عدم استحکام کا ذریعہ قرار دیتی ہے۔ اسی بیانیے کے تحت سرحدی علاقوں میں سخت فوجی کنٹرول، کرد کارکنوں کی گرفتاریاں اور بعض اوقات عراقی سرزمین پر کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں۔

دلچسپ اور متنازع پہلو یہ ہے کہ ایران نے ماضی میں صدام حسین کے خلاف عراقی کردوں کی حمایت کی، مگر اپنے ہاں کرد خودمختاری کے کسی تصور کو قبول نہیں کیا۔ یہ دوہرا معیار ایرانی کردوں کے نزدیک ریاستی پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔

آج کی صورتِ حال یہ ہے کہ کرد۔ایران کشیدگی مکمل جنگ کی شکل اختیار نہیں کر سکی، مگر یہ ایک دبی ہوئی آگ کی مانند ہے۔ مسلح جدوجہد کم ضرور ہوئی ہے، مگر ختم نہیں ہوئی۔ سیاسی حقوق، ثقافتی آزادی اور شناخت کے مطالبات بدستور موجود ہیں، جبکہ ریاستی سطح پر سخت سیکورٹی کنٹرول برقرار ہے۔ یہ کشیدگی وقتاً فوقتاً سر اٹھاتی ہے اور خطے کے مجموعی عدم استحکام میں اپنا حصہ ڈالتی رہتی ہے۔


کرد: کون ہیں (1)



کرد: کون ہیں (1)

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو اگر سمجھنا ہو تو کرد قوم کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ کرد ایک قدیم نسلی و لسانی قوم ہیں جو بنیادی طور پر کردی زبان بولتی ہے، جو ہند۔ایرانی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ کرمانجی، سورانی اور پہلوانی جیسے لہجے اس زبان کی لسانی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ آج کرد زیادہ تر ترکی، ایران، عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں آباد ہیں، جسے مجموعی طور پر کردستان کہا جاتا ہے، مگر اس جغرافیے کے باوجود کردوں کی اپنی کوئی آزاد قومی ریاست موجود نہیں۔

آبادی کے اعتبار سے کرد دنیا کی ان بڑی قوموں میں شامل ہیں جن کا اپنا ملک نہیں۔ اندازاً تین سے چار کروڑ کرد مختلف ریاستوں میں بٹے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی تقسیم ان کی تاریخ کا سب سے مستقل اور تکلیف دہ پہلو رہی ہے۔

تاریخی اعتبار سے بہت سے مؤرخین کردوں کو قدیم میڈیائی تہذیب کا تسلسل قرار دیتے ہیں، جو ساتویں صدی قبل مسیح میں ایران کے خطے میں ایک طاقتور سلطنت تھی۔ اسلامی دور میں کرد علاقے مختلف مسلم سلطنتوں کا حصہ بنے، اور کرد تاریخ کی سب سے نمایاں شخصیت سلطان صلاح الدین ایوبی سامنے آئے۔ بارہویں صدی میں ایوبی سلطنت کا قیام اور بیت المقدس کی صلیبیوں سے آزادی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کرد تاریخ محض محرومی نہیں بلکہ قیادت اور وقار کی تاریخ بھی ہے۔

سولہویں صدی کے بعد کرد علاقے عثمانی اور صفوی سلطنتوں کے درمیان تقسیم ہو گئے۔ کرد سرداروں کو محدود خودمختاری تو ملی، مگر کوئی متحد قومی ریاست وجود میں نہ آ سکی۔ یہ صورتحال پہلی جنگِ عظیم کے بعد مزید پیچیدہ ہو گئی۔ معاہدۂ سیورے میں اگرچہ کرد ریاست کا امکان ظاہر کیا گیا، مگر معاہدۂ لوزان نے اس امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ یوں کرد مستقل طور پر چار ریاستوں میں تقسیم ہو گئے۔

اس کے بعد جدید کرد تاریخ بغاوتوں، ریاستی جبر، ثقافتی و لسانی پابندیوں اور خودمختاری کی تحریکوں سے عبارت رہی ہے۔ ہر ملک میں کردوں کا تجربہ مختلف رہا، مگر محرومی اور عدمِ تحفظ کا احساس تقریباً مشترک ہے۔

اسی پس منظر میں کرد۔اسرائیل تعلقات کو سمجھنا ضروری ہے، جو اکثر سادہ بیانیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاریخی طور پر اسرائیل اور بعض کرد گروہوں کے رابطے 1950 اور 1960 کی دہائی میں سامنے آئے۔ یہ روابط اسرائیل کی اس علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ تھے جسے “Peripheral Doctrine” کہا جاتا ہے، یعنی عرب اکثریتی ریاستوں کے گرد غیر عرب اقوام اور اقلیتوں سے تعلقات استوار کرنا۔

اسی تناظر میں اسرائیل نے شاہِ ایران کے دور میں ایران، ترکی اور بعض کرد گروہوں سے خفیہ اور محدود نوعیت کے روابط قائم کیے۔ خصوصاً عراق میں 1960 اور 1970 کی دہائی کے دوران اسرائیل کے بعض کرد دھڑوں، خاص طور پر مصطفیٰ بارزانی کے گروپ سے تعلقات رہے، جن کی نوعیت انٹیلی جنس اور عسکری تعاون تک محدود تھی۔ ان روابط کا مقصد کسی کرد ریاست کا قیام نہیں بلکہ عراق جیسی عرب ریاست پر اسٹریٹیجک دباؤ ڈالنا تھا۔

جدید دور میں عراقی کردستان ایک نیم خودمختار خطے کی حیثیت رکھتا ہے۔ 2017 میں جب کردستان کی آزادی کے لیے ریفرنڈم ہوا تو اسرائیل وہ واحد ریاست تھی جس نے کھل کر اس کی اخلاقی حمایت کی۔ اس اقدام پر عرب دنیا اور ایران میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ تاہم یہ بات نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ تمام کرد اسرائیل نواز نہیں، اور نہ ہی کرد سیاست یا عوام ایک ہی موقف رکھتے ہیں۔ بہت سے کرد گروہ فلسطینی مؤقف سے ہمدردی بھی رکھتے ہیں۔

یہاں ایک فکری تضاد بھی نمایاں ہوتا ہے۔ ایک طرف کرد خود کو ایک مظلوم اور بے ریاست قوم کے طور پر پیش کرتے ہیں، دوسری طرف اسرائیل سے تعلقات انہیں ایسے منصوبوں سے جوڑ دیتے ہیں جنہیں خطے میں توسیع پسندانہ یا استعماری تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے خود کرد سیاست کے اندر بھی ان تعلقات پر سنجیدہ اختلافات موجود ہیں۔

خلاصہ یہ کہ کرد ایک قدیم، بڑی اور باوقار قوم ہیں جن کی تاریخ جدوجہد، تقسیم اور مزاحمت سے بھری ہوئی ہے۔ اسرائیل سے ان کے تعلقات نہ تو نسلی ہیں اور نہ ہی عوامی، بلکہ مخصوص سیاسی حالات اور محدود قیادتوں کے فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔ ان تعلقات کو پوری کرد قوم کی ترجمانی سمجھنا نہ تاریخی طور پر درست ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر منصفانہ۔

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست میں کرد مسئلہ آج بھی ایک کھلا سوال ہے—ایسا سوال جو محض طاقت نہیں بلکہ انصاف، تاریخ اور تدبر کے تقاضوں کا بھی متقاضی ہے۔

منگل، 20 جنوری، 2026

اجتماعیت کہاں کھو گئی؟





 اجتماعیت کہاں کھو گئی؟

دنیا کے سب سے بڑے فرنیچر اسٹور 
IKEA
 کے بانی
 Ingvar Kamprad
 کی کہانی بظاہر ایک سرمایہ دار کی کامیابی کی داستان ہے، مگر درحقیقت یہ ایک اخلاقی سوال ہے۔ ساٹھ ارب ڈالر کی ذاتی دولت، چالیس ارب یورو سالانہ آمدنی—اور اس کے باوجود ایک سادہ زندگی، اکانومی کلاس سفر، پرانی گاڑی اور سیکنڈ ہینڈ کپڑے۔ یہ سب کچھ اس شخص کی زندگی کا حصہ رہا جو چاہتا تو شاہانہ طرزِ زندگی اپنا سکتا تھا، مگر اس نے دولت کو فرد کے بجائے اجتماع کے لیے وقف کر دیا۔
یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے:
دولت اگر ہاتھ میں ہو تو کیا وہ لازماً طرزِ زندگی کا معیار بن جانی چاہیے؟
مذہب—خصوصاً اسلام—اس سوال کا جواب بہت واضح دیتا ہے۔ اسلام فرد کو نہیں، معاشرے کو مرکز بناتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
"كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ"
(تاکہ دولت تمہارے امیروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتی رہے)
— الحشر: 7
یہ آیت مذہب کی معاشی اور اخلاقی اجتماعیت کا خلاصہ ہے۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ آج مذہب کی نمائندگی کرنے والے بعض حلقوں میں ایک نیا کلچر جنم لے چکا ہے۔ وہ مذہبی رہنما جو منبر سے سادگی، قناعت اور زہد کے درس دیتے ہیں، خود برانڈڈ لباس، وسیع و عریض رہائش گاہیں، پرتعیش گاڑیاں اور پروٹوکول والی زندگی اختیار کر چکے ہیں۔ مذہب کی اجتماعی نصیحت اب ان کے ہاں ذاتی جواز میں بدل چکی ہے۔
کہا جاتا ہے:
“اللہ نے دیا ہے، اس کا شکر ادا کر رہے ہیں۔”
مگر سوال یہ ہے کہ کیا شکر کا مفہوم صرف خرچ کرنا ہے، یا بانٹنا بھی؟
رسول اللہ کا طرزِ زندگی اس معاملے میں معیار ہے۔ آپ کے پاس اگر دولت آئی تو وہ ٹھہری نہیں۔ کبھی فاقہ آیا تو صبر کیا، کبھی مال آیا تو تقسیم کر دیا۔ حضرت عمرؓ خلیفہ تھے مگر لباس میں پیوند، حضرت علیؓ بیت المال کے چراغ میں ذاتی بات نہیں کرتے تھے، اور حضرت عثمانؓ جیسا تاجر اپنی دولت عوام کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ یہ سب مثالیں مذہب کی اجتماعی روح کی عملی تصویر ہیں۔
اس کے برعکس، آج بعض مذہبی طبقات میں دین ایک برانڈ بن چکا ہے—مہنگے ملبوسات، قیمتی گھڑیاں، سیکیورٹی اسکواڈ، اور خطابات کے نرخ۔ مسئلہ دولت نہیں، مسئلہ نمونہ 
(Example) 
ہے۔ جب مذہبی رہنما خود آسائش کو معمول بنا لیں تو عوام کے لیے صبر، قناعت اور ایثار محض خطیبانہ الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں 
Ingvar Kamprad
 جیسے غیر مسلم انسان ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں۔ اس نے نہ مذہب کا دعویٰ کیا، نہ منبر سنبھالا، مگر اپنی دولت کو انسانیت کے لیے وقف کر دیا۔ اس نے اپنی اولاد کو ارب پتی بنانے کے بجائے لاکھوں خاندانوں کو جینے کا موقع دیا۔
یہ سوال اب ہمارے اجتماعی شعور سے ہے:
کیا مذہب صرف وعظ کا نام ہے، یا ذاتی مثال کا بھی تقاضا کرتا ہے؟
اگر مذہب اجتماعیت سکھاتا ہے تو اس کا پہلا امتحان وہی لوگ ہیں جو اس کے نمائندے کہلاتے ہیں۔ جب رہنما خود کو عوام سے الگ کر لے، تو مذہب بھی ایک طبقاتی شے بن جاتا ہے—اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دین کمزور نہیں ہوتا، بدنام ہو جاتا ہے۔
اصل عظمت اس میں نہیں کہ انسان کیا کہتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کیسا جیتا ہے۔
Ingvar Kamprad 
نے مذہب کے بغیر اجتماعیت کو سمجھ لیا—اور ہم مذہب کے ہوتے ہوئے بھی اسے بھولتے جا رہے ہیں۔






منظم جنون
یہ سوال محض سیاسی نعرہ نہیں رہتا کہ “کیا مغربی لبرل نظام اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے؟” اس کا جواب واشنگٹن 
کے دعوؤں میں نہیں، بلکہ برسلز کی خاموشی، تذبذب اور بے بسی میں لکھا جا رہا ہے۔


واشنگٹن پوسٹ کی  رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ناروے کے وزیرِاعظم کو ارسال کردہ پیغام میں گرین لینڈ کو نوبل امن انعام سے جوڑ دیا۔ مفہوم یہ تھا کہ چونکہ نوبل کمیٹی نے انہیں یہ اعزاز نہیں دیا، اس لیے وہ خود کو صرف امن کے تقاضوں تک محدود رکھنے کے پابند نہیں رہے۔ یہ خارجہ پالیسی نہیں، بلکہ عالمی سیاست کا ذاتی رنجش میں تبدیل ہو جانا ہے۔ جب ریاستوں کے فیصلے انعام نہ ملنے کے غصے سے جڑ جائیں تو اسے حکمت نہیں، منظم جنون کہنا زیادہ درست ہے۔

یہاں ایک اہم اور نظرانداز کیا جانے والا پہلو بھی ہے۔ پاکستان نے غزہ میں امن کی کوششوں کے تناظر میں ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔ یہ نامزدگی اس امید پر تھی کہ عالمی سطح پر جنگ بندی اور انسانی جانوں کے تحفظ کی کوششوں کو سراہا جائے گا۔ مگر نوبل انعام ایک ایسی شخصیت کو دیا گیا جس کا دل تل ابیب میں اٹکا ہوا تھا اور جس کی نگاہ اصل میں امن پر نہیں بلکہ اپنے ملک کی صدارت پر مرکوز تھی۔ یوں نوبل انعام بھی اخلاقی وزن کے بجائے سیاسی سمت کا عکاس بن گیا—اور یہی وہ لمحہ تھا جب انا نے پالیسی کی جگہ لے لی۔

اسی پس منظر میں یورپ کی بے بسی سب سے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ یورپی یونین کے پاس اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ کی صورت میں ایک طاقتور معاشی ہتھیار موجود ہے، جسے خود یورپی مبصرین “تجارتی بازوکا” کہتے ہیں۔ مگر یہ ہتھیار چلایا نہیں جا سکتا، کیونکہ امریکہ کے خلاف اس کا استعمال یورپ کے لیے معاشی خودکشی کے مترادف ہوگا۔ یوں یورپ ایک ایسے اسلحے سے لیس ہے جو طاقتور تو ہے، مگر ناقابلِ استعمال۔ نتیجہ یہ ہے کہ یورپ دو تباہ کن راستوں کے درمیان کھڑا ہے: یا دباؤ قبول کر کے اپنی خودمختاری قربان کرے، یا مزاحمت کر کے اپنی معیشت کو بحران میں دھکیل دے۔

یہ کیفیت ہمیں وینزویلا کے انجام کی یاد دلاتی ہے، جہاں ایک ملک اس وقت عالمی بساط پر تنہا پڑ گیا جب اس کے اتحادی پیچھے ہٹ گئے۔ مگر گرین لینڈ کا معاملہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ وینزویلا روس کی اتحادی تھی، جبکہ گرین لینڈ نیٹو کے دائرے میں آتی ہے۔ یہاں پسپائی کسی ایک خطے کی قربانی نہیں ہوگی، بلکہ پورے نیٹو اتحاد کی اخلاقی بنیادوں پر ضرب ہوگی۔ اگر نیٹو اپنے ہی دائرے میں شامل ایک خطے کی حفاظت نہ کر سکا تو اس کے وجود کا جواز خود سوال بن جائے گا۔

اس کے باوجود یورپ ایک خوش فہمی پر تکیہ کیے بیٹھا ہے، جسے واشنگٹن کی سیاسی لغت میں 
TACO
کہا جاتا ہے—یعنی یہ یقین کہ “ٹرمپ آخرکار پیچھے ہٹ جائے گا”۔ مگر حالات بتاتے ہیں کہ اس بار معاملہ مختلف ہے۔ ٹرمپ داخلی دباؤ میں ہے، مقبولیت کی گراوٹ کا سامنا کر رہا ہے، اور اسے ایک بڑی علامتی فتح درکار ہے۔ گرین لینڈ اب جغرافیہ نہیں، اس کی سیاسی مردانگی اور طاقت کے اظہار کا استعارہ بن چکا ہے۔ سوال یہ نہیں رہا کہ مطالبہ کتنا غیر معقول ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ ایک برفانی جزیرے کے لیے پورے اتحاد کو قربان کر سکتا ہے؟ موجودہ شواہد اس امکان کو رد نہیں کرتے۔

اسی دوران روس خاموشی سے اس سارے منظرنامے کو دیکھ رہا ہے اور چین گہری توجہ سے مشاہدہ کر رہا ہے۔ ان دونوں کے لیے یہ کسی جنگ سے کم اہم نہیں، کیونکہ یہاں امریکہ اپنے ہی ہاتھوں اس عالمی نظام کو کمزور کر رہا ہے جسے اس نے 1945 کے بعد خود تشکیل دیا تھا۔ پیغام صاف ہے: بیرونی دشمنوں سے زیادہ خطرناک وہ اتحادی ہوتا ہے جو اپنی طاقت کو عقل کے بجائے انا کے تابع کر دے۔

اصل سانحہ یہ ہے کہ یورپ نے بہت دیر سے یہ حقیقت دریافت کی کہ اس نے اپنی سلامتی ایک ایسے اتحادی کے ساتھ باندھ رکھی تھی جو اپنے غرور پر قابو کھو چکا ہے۔ آنے والے دن صرف گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ “مغرب” کے تصور کی بقا یا زوال کا بھی تعین کریں گے۔ یا تو یورپ جھک جائے گا اور اتحادوں کا تصور کھوکھلا ہو جائے گا، یا وہ مزاحمت کرے گا اور خود اتحاد ٹوٹ جائیں گے۔ دونوں صورتوں میں فائدہ ماسکو اور بیجنگ کو پہنچے گا۔

شاید یہی وہ لمحہ ہے جب یہ سوال محض سیاسی نعرہ نہیں رہتا کہ “کیا مغربی لبرل نظام اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے؟” اس کا جواب واشنگٹن کے دعوؤں میں نہیں، بلکہ برسلز کی خاموشی، تذبذب اور بے بسی میں لکھا جا رہا ہے۔
آج کے عالمی منظرنامے کو محض سفارتی کشیدگی یا تجارتی دباؤ کا نام دینا حقیقت سے فرار ہے۔ جو کچھ سامنے آ رہا ہے، وہ مغربی نظام کی اندرونی شکست ہے—ایک ایسی شکست جو کسی بیرونی دشمن نے مسلط نہیں کی، بلکہ خود اسی نظام کے مرکز میں بیٹھے غرور نے جنم دی ہے۔ ریاستی مفاد، اجتماعی سلامتی اور طویل المدت حکمتِ عملی اب ذاتی انا، ضد اور انتقامی نفسیات کے تابع دکھائی دیتی ہیں۔

جب طاقت بے بسی بن جائے





جب طاقت بے بسی بن جائے
جو کچھ آج دنیا دیکھ رہی ہے، وہ نہ روایتی جنگ کا آغاز ہے اور نہ کسی منظم پسپائی کا اعلان۔ یہ دراصل ایک نایاب لمحہ ہے—وہ لمحہ جب امریکی طاقت کے گرد قائم وہم میں دراڑ پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مطلق قوت اب فیصلہ کرنے سے قاصر ہو چکی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ واشنگٹن نے فضائی طاقت کو مسئلے کا حتمی حل سمجھا ہو، مگر اس بار منظرنامہ مختلف ہے۔ مغربی رپورٹس خود اس حقیقت کا اعتراف کر رہی ہیں کہ امریکہ ایران کے معاملے میں 1999ء کے یوگوسلاویہ ماڈل کو دہرانا چاہتا ہے۔ اُس وقت نیٹو کی فضائی بمباری نے ایک کمزور اور منقسم ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مگر ایران یوگوسلاویہ نہیں۔
ایران ایک منظم ریاست ہے، جس کے پاس صرف میزائل ہی نہیں بلکہ ایک غصے سے بھرا ہوا سماج، نظریاتی ڈھانچہ اور جوہری صلاحیت کے قریب پہنچتی ہوئی تکنیکی مہارت بھی موجود ہے۔ واشنگٹن اب یہ سمجھنے پر مجبور ہے کہ جو فضائی حملے یوگوسلاویہ کو 78 دن میں توڑ گئے تھے، وہی ایران میں 78 مہینوں پر پھیلی ایک ایسی جنگ کو جنم دے سکتے ہیں جس کا انجام کسی کے قابو میں نہ ہو۔
امریکی حکمتِ عملی کا دوسرا، اور شاید زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ اب براہِ راست نظام گرانے کے بجائے ’’اندرونی تقسیم‘‘ پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ منصوبہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ اسلامی انقلابی گارڈز (پاسدارانِ انقلاب) کو کمزور کیا جائے، بسیج کو نشانہ بنایا جائے، مگر روایتی فوجی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ نہ کیا جائے—اس امید پر کہ کسی مرحلے پر فوج خود اقتدار سنبھال لے۔
لیکن یہاں وہ سوال کھڑا ہوتا ہے جس کا جواب امریکہ کے پاس نہیں
اگر فوج نے اقتدار سنبھال لیا… اور وہ ملک کو کنٹرول نہ کر سکی تو کیا ہو گا؟
اس سوال کے سائے میں ایک اور خوفناک حقیقت موجود ہے—جوہری خطرہ۔ مسئلہ صرف ایٹمی بم کا نہیں، بلکہ ’’کھوئے ہوئے یورینیم‘‘ کا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 400 کلوگرام ایسا یورینیم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ ہے۔ تکنیکی طور پر یہ مقدار چار ابتدائی نوعیت کے جوہری دھماکوں کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔
اگرچہ یہ مواد بیلسٹک میزائل کے لیے موزوں نہیں، مگر امریکی اسٹریٹجک حلقوں کا اصل ڈر کچھ اور ہے
اگر یہی یورینیم کسی تیز رفتار کشتی پر رکھ کر آبنائے ہرمز میں دھماکے کے طور پر استعمال ہو جائے؟
یا کسی صحرا میں ایک ’’تجرباتی دھماکہ‘‘ کر کے پوری جنگی حکمتِ عملی کو روک دیا جائے؟
یا اس سے بھی بدتر، اگر یہ مواد کسی ایسی ملیشیا تک پہنچ جائے جس کا کوئی واضح پتہ، پرچم یا جواب دہی نہ ہو؟
یہی وہ خوف ہے جو کسی ہمہ گیر امریکی حملے کو ایک وجودی خطرے میں بدل دیتا ہے—ایک ایسا خطرہ جو فائدے سے زیادہ نقصان کا امکان رکھتا ہے۔
ادھر یورپ بھی اس بحران میں واضح طور پر بکھرا ہوا نظر آتا ہے۔ گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ کے جارحانہ بیانات، یورپی ردعمل کی کمزوری، فرانس کی وقتی للکار، جرمنی کی خاموش پسپائی—یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ نیٹو اب ایک مضبوط اتحاد نہیں رہا۔ وہ اب ایسی ریاستوں کا مجموعہ بن چکا ہے جو امریکی ناراضی سے خوفزدہ تو ہیں، مگر اس کے ساتھ کھڑے ہونے پر آمادہ نہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ اگر ایران پر حملے کا لمحہ آتا ہے تو امریکہ اس بار نہ کسی مضبوط اتحاد کے ساتھ ہو گا، نہ کسی عالمی اخلاقی جواز کے 
سائے میں۔
صیہونی ڈاکٹرائن پر عمل پیرا ہو کر 
آج واشنگٹن کے سامنے سب راستے بند گلیوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں
وسیع فضائی حملہ—جو ناقابلِ اندازہ ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔
محدود کارروائی—جو کمزوری کا تاثر دے گی اور ایران کو اندر سے متحد کر دے گی۔
بالکل حملہ نہ کرنا—جو امریکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچائے گا۔
یوں امریکہ اپنی ہی مختصر المدت پالیسیوں کی قیمت ادا کر رہا ہے، جبکہ ایران برسوں سے غیر متناسب صلاحیتیں تعمیر کر کے اس لمحے کی تیاری کرتا رہا ہے۔
سب سے زیادہ پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ شاید ہم اس وقت امریکی طاقت کے عروج کو نہیں، بلکہ اس کے انکشاف کے نقطۂ آغاز کو دیکھ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے پاس تاریخ کی سب سے بڑی فوج ہے، مگر اس کے پاس ایک سادہ سوال کا جواب نہیں:
حملے کے بعد کیا؟
ایران یہ جانتا ہے۔ یورپ اسے سمجھ چکا ہے۔ روس اور چین خاموشی سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اور دنیا ایک ایسے فیصلے کی منتظر ہے جو شاید کبھی آئے ہی نہ—کیونکہ جب ضرب فتح کی ضمانت نہ دے، تو وہ فیصلہ نہیں بلکہ جوا بن جاتی ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں کبھی کبھی ہچکچاہٹ، غلطی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ اور شاید آنے والے دن طاقت کا نہیں، اس حقیقت کو قبول کرنے کا امتحان ہوں گے کہ
سب سے طاقتور ہونا، لازماً سب سے زیادہ مؤثر ہونا نہیں ہوتا۔