منگل، 15 ستمبر، 2026

عزم ، عوامی حمائت اور جغرافیے کی فتح


عزم ، عوامی حمائت اور جغرافیے کی فتح

 طاقتور ملک اپنے مقابل کو صرف اپنی طاقت کے پیمانے سے دیکھتا ہے۔ اسے اپنی فوج کی تعداد، اپنے ہتھیاروں، ٹیکنالوجی، دولت اور وسائل پر اتنا اعتماد ہوتا ہے کہ وہ مخالف کے عزم، جغرافیے، حکمتِ عملی اور عوامی حمایت کو معمولی سمجھنے لگتا ہے۔ پھر بظاہر کمزور قوم میدانِ جنگ میں طاقتور کو ایسا سبق سکھا دیتی ہے جسے تاریخ صدیوں تک یاد رکھتی ہے۔

ایک طرف فرانس تھا؛ ایک بڑی یورپی طاقت، ایک وسیع نوآبادیاتی سلطنت کا مالک، جدید اسلحے اور تربیت یافتہ فوج کا حامل۔ دوسری طرف ویت منہ 
 کی وہ قوت تھی جو بنیادی طور پر مقامی ویت نامی مزاحمت کی نمائندگی کرتی تھی۔ ظاہری موازنے میں دونوں کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ فرانس کے پاس جدید فوجی سازوسامان تھا، فضائی طاقت تھی، توپ خانہ تھا اور جنگی تجربہ تھا، جبکہ ویت منہ کے پاس وسائل محدود تھے۔

مگر جنگ صرف وسائل سے نہیں لڑی جاتی۔
فرانس نے "ڈین بین پھو " کے علاقے میں ایک مضبوط فوجی اڈہ قائم کیا۔ فرانسیسی قیادت کا خیال تھا کہ ویت منہ کی افواج اس قلعہ بند مقام پر براہِ راست حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گی۔ یہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں فرانسیسی فوج اپنے جدید ہتھیاروں اور فضائی طاقت سے مخالف کو شکست دینے کا تصور کر رہی تھی۔
لیکن فرانسیسی قیادت ایک چیز کو سمجھنے میں ناکام رہی: جس جنگ کو وہ ہتھیاروں کی جنگ سمجھ رہے تھے، ویت منہ اسے ارادے، وقت اور جغرافیے کی جنگ سمجھ رہا تھا۔

ویت منہ کے کمانڈر جنرل "وو نگوین جیاپ"  نے روایتی انداز میں حملہ کرنے کے بجائے فرانسیسی اڈے کا محاصرہ شروع کردیا۔ توپیں پہاڑوں میں چھپائی گئیں۔ ہزاروں مقامی لوگ رسد پہنچانے کے لیے استعمال ہوئے۔ دشوار گزار راستوں سے خوراک، گولہ بارود اور فوجی سامان محاذ تک پہنچایا گیا۔

فرانس کے پاس طاقتور توپیں تھیں، مگر ویت منہ کے پاس وہ پہاڑ تھے جن پر توپیں چھپائی جاسکتی تھیں۔
فرانس کے پاس طیارے تھے، مگر ویت منہ نے زمین پر ایسا محاصرہ قائم کردیا تھا کہ فضائی رسد بھی مسلسل خطرے میں آگئی۔
فرانس کے پاس جدید فوج تھی، مگر جیاپ کے پاس وقت تھا۔
اور جنگ میں کبھی کبھی وقت بھی ایک ہتھیار بن جاتا ہے۔

 مارچ 1954ء کو ڈین بین پھو کی جنگ شروع ہوئی۔ فرانسیسی فوج کو ابتدا میں شاید اندازہ نہیں تھا کہ وہ جس مقام کو اپنی طاقت کا مظہر سمجھ رہی ہے، وہی اس کے لیے ایک جال بننے والا ہے۔
ویت منہ نے فرانسیسی دفاعی پوزیشنوں پر مسلسل دباؤ بڑھایا۔ خندقیں آگے بڑھتی گئیں۔ فرانسیسی فوج کا دائرہ سکڑتا گیا۔ رسد مشکل ہوتی گئی اور بالآخر وہ لمحہ آگیا جب جدید فوجی طاقت رکھنے والی فرانسیسی فوج ایک ایسے محاصرے میں پھنس چکی تھی جس سے نکلنا آسان نہیں تھا۔
7 ، صرف 56 روز بعد 
، 7 مئی 1954ء کو فرانسیسی فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔
ایک بڑی نوآبادیاتی طاقت ایک نسبتاً کم وسائل رکھنے والی مقامی قوت کے ہاتھوں فیصلہ کن شکست کھا چکی تھی۔
یہ صرف ایک فوجی شکست نہیں تھی۔ اس شکست نے فرانس کے پورے نوآبادیاتی منصوبے کو ہلا کر رکھ دیا اور فرانسیسی ہندچین میں اس کے مستقبل پر بنیادی سوال کھڑا کردیا۔ بالآخر فرانس کو ویت نام اور خطے سے اپنے نوآبادیاتی اقتدار کے خاتمے کی طرف جانا پڑا۔

ڈین بین پھو  کی لڑائی ہمیں ایک بنیادی حقیقت یاد دلاتی ہے:
طاقت اور فتح ایک ہی چیز نہیں۔
ایک ملک کے پاس زیادہ ٹینک ہوسکتے ہیں، زیادہ طیارے ہوسکتے ہیں، جدید ترین میزائل ہوسکتے ہیں، بڑی فوج ہوسکتی ہے، زیادہ دولت ہوسکتی ہے؛ لیکن اگر اسے یہ یقین ہوجائے کہ مخالف صرف اس لیے ہار جائے گا کہ وہ کمزور ہے، تو یہی یقین اس کی سب سے بڑی کمزوری بن سکتا ہے۔

تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ بڑی طاقتیں چھوٹی قوموں کو محض اعداد و شمار کی نظر سے دیکھتی رہیں اور پھر جنگ کے میدان میں انہیں معلوم ہوا کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑتیں، اپنے یقین سے بھی لڑتی ہیں۔

ڈین بین پھو میں فرانس کے پاس بندوقیں زیادہ تھیں، مگر ویت منہ کے پاس مقصد زیادہ واضح تھا۔
فرانس کے پاس جدید فوجی ٹیکنالوجی تھی، مگر جیاپ نے جنگ کو اپنی شرائط پر لڑا۔
فرانس کے پاس طاقت تھی، مگر ویت منہ نے اس طاقت کو استعمال کرنے کا موقع ہی محدود کردیا۔
یہاں ایک اور اہم سبق بھی ہے۔ کمزور فریق کا کامیاب ہونا محض جذبات یا بہادری کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس کے پیچھے حکمتِ عملی، مقامی جغرافیے کا گہرا علم، رسد کا غیر معمولی انتظام، طویل جنگ برداشت کرنے کی صلاحیت اور عوامی تعاون موجود تھا۔


آج دنیا پھر طاقت کے مظاہروں کے دور میں داخل ہے۔ بڑی طاقتیں اپنے جنگی بجٹ، جدید میزائلوں، ڈرونز، طیارہ بردار جہازوں اور ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد گنواتی ہیں۔ چھوٹے ممالک اپنی کمزوری جانتے ہیں، مگر تاریخ انہیں یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت کا توازن ہمیشہ جنگ کا نتیجہ طے نہیں کرتا۔



جنگ جیتنے کے لیے صرف دشمن سے زیادہ طاقتور ہونا کافی نہیں؛ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ دشمن کس چیز کے لیے لڑ رہا ہے، کتنی دیر لڑ سکتا ہے اور اس کی زمین اس کے لیے کتنی بڑی طاقت بن سکتی ہے۔


طاقت اگر غرور بن جائے تو کمزوری بن سکتی ہے۔

اور کمزوری اگر عزم، حکمت اور صبر کے ساتھ کھڑی ہوجائے تو تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے۔

اتوار، 13 ستمبر، 2026

بڑی بہوکا پچھتاوا




بڑی بہو کا پچھتاوا

بعض گھروں میں رشتے کسی ایک بڑے واقعے سے نہیں ٹوٹتے؛ وہ چھوٹی چھوٹی خاموشیوں، ادھورے سوالوں اور دل میں رکھے ہوئے گلے شکووں سے آہستہ آہستہ کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ باہر سے گھر ویسا ہی دکھائی دیتا ہے، مگر اندر رہنے والے لوگ ایک دوسرے سے دور ہوچکے ہوتے ہیں۔

میرے بچپن کا ایک دوست ایک روز میرے سامنے غیر معمولی خاموش بیٹھا تھا۔ وہ زندگی کے سرد و گرم سے گزر چکا تھا، معاملہ فہم، ہنس مکھ اور لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے والا انسان تھا۔ مشکل آتی تو گھبرانے کے بجائے مسئلے کو سمجھتا، سب کی بات سنتا اور ایسا راستہ تلاش کرتا جس پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ساتھ لے کر چلا جاسکے۔ شاید اسی لیے اس نے اپنے بیٹے کے گھر میں پیدا ہونے والی تبدیلی کو بھی جلد بھانپ لیا تھا۔
میں نے پوچھا، ’’کیا ہوا؟‘‘
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا
’’میرے بڑے بیٹے کا گھر مشکل میں ہے۔‘‘
اس کا بڑا بیٹا ایک سرکاری افسر ہے؛ محنتی، ذمہ دار، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خاندان کا خیال رکھنے والا۔ اس کی شادی بھی ایک تعلیم یافتہ لڑکی سے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد دونوں نے مل کر فیصلہ کیا تھا کہ بیوی ملازمت کے بجائے گھر اور بچوں کو ترجیح دے گی۔
اس نے یہ ذمہ داری پوری دیانت داری سے نبھائی۔ بچوں کی پرورش، ان کی تعلیم، بیماری میں دیکھ بھال، گھر کے روزمرہ معاملات اور مہمانوں کی خاطر مدارت، سب کچھ اس نے اپنے ذمے لے لیا۔ ساس کی وفات کے بعد بھی اس نے گھر کو محبت اور سلیقے سے سنبھالا۔ سسر، دیور اور گھر آنے والی بیٹیاں اس کے حسنِ سلوک کی معترف تھیں۔
پھر چھوٹے دیور نے اپنی ایک کولیگ سے شادی کا فیصلہ کیا۔ بڑی بھابی نے خوش دلی سے شادی کے انتظامات میں حصہ لیا۔ یوں ایک ہی گھر میں دو بہوئیں آگئیں۔
چھوٹی بہو نے شادی سے پہلے ہی طے کرلیا تھا کہ وہ اپنی ملازمت جاری رکھے گی۔ اس کے شوہر نے بھی اس فیصلے کی حمایت کی۔ دونوں میاں بیوی اس انتخاب پر متفق تھے، اس لیے خاندان کے لیے بھی اعتراض کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی۔
وہ جانتی تھی کہ ملازمت کے باعث وہ گھر کے تمام کاموں میں برابر حصہ نہیں لے سکے گی۔ چنانچہ اس نے اپنے شوہر کے ذریعے سسر کو گھر میں ملازمہ رکھنے پر آمادہ کیا اور اس کی تنخواہ خود ادا کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کرلی۔ دفتر سے واپسی کے بعد وہ کچن میں بڑی بھابی کا ہاتھ بھی بٹاتی۔ دونوں کے تعلقات بھی خوشگوار تھے اور بظاہر گھر کا نظام بھی بہتر انداز میں چل رہا تھا۔
مگر بعض مسائل گھر کے شور میں نہیں، انسان کے اندر خاموشی سے پیدا ہوتے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ بڑی بہو کو چھوٹی بہو کی زندگی مختلف دکھائی دینے لگی۔ اسے کبھی خیال آتا
’’میں بھی پڑھی لکھی تھی۔ اگر میں نے ملازمت جاری رکھی ہوتی تو شاید آج میری زندگی مختلف ہوتی۔‘‘
اس خیال کے ساتھ ایک اور احساس بھی آتا
’’میں نے گھر اور بچوں کے لیے اپنی ملازمت چھوڑ دی۔ آج میں اپنی ذاتی ضروریات کے لیے بھی شوہر کی محتاج ہوں۔ میری اپنی آمدنی نہیں۔‘‘
اگرچہ اس کا شوہر کی تنخواہ بینک میں  آتی تھی  اور  شوہر نے اسے اپنا بینک کارڈ بھی دے رکھا تھا، لیکن اس کے باوجود اسے محسوس ہوتا تھا کہ بینک کارڈ اور اپنی آمدنی میں فرق ہوتا ہے۔ ایک میں سہولت ہوتی ہے، دوسرے میں اپنی مالی خود مختاری 
ہوتی ہے۔
یہ احساس کسی عورت کی ناشکری نہیں ہوتا۔ انسان کبھی کبھی اس زندگی پر بھی سوال اٹھاتا ہے جسے اس نے خود چنا ہوتا ہے، خصوصاً جب اسے اپنے سامنے کسی دوسرے راستے پر چلتی ہوئی زندگی دکھائی دیتی ہے۔
چھوٹی بہو کی ملازمت، اس کی آمدنی اور مالی خودمختاری بڑی بہو کو اپنے ماضی کی طرف دیکھنے پر مجبور کرتی تھی۔ شاید اسے یہ سوال پریشان کرنے لگا تھا کہ گھر اور بچوں کے لیے کیا جانے والا فیصلہ کہیں اس کی اپنی شناخت اور پیشہ ورانہ زندگی کی قیمت پر تو نہیں ہوا تھا۔
 ازدواجی زندگی کے بہت سے فیصلے کسی ایک شخص کے فیصلے نہیں ہوتے۔ کبھی ایک کی خواہش ہوتی ہے، دوسرا رضامند ہوجاتا ہے؛ کبھی حالات فیصلہ کرتے ہیں اور بعد میں انسان اس فیصلے کو اپنا سمجھ لیتا ہے۔
برسوں بعد یہ طے کرنا بھی شاید بے معنی تھا کہ اصل فیصلہ کس نے کیا تھا۔ فیصلہ گزر چکا تھا۔ اب اصل سوال یہ تھا کہ اس فیصلے کے ساتھ پیدا ہونے والے احساسات کو کیسے سمجھا جائے۔
پچھتاوا اگر وقت پر گفتگو میں تبدیل نہ ہو تو شکایت بن جاتا ہے، شکایت موازنے میں بدل جاتی ہے اور موازنہ رفتہ رفتہ دلوں کے درمیان فاصلے پیدا کردیتا ہے۔
میرے دوست کے مطابق اس کے بڑے بیٹے کے گھر میں بھی کچھ ایسا ہی ہورہا تھا۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے تھے۔
یہاں ایک اور حقیقت بھی قابلِ غورہے۔ ہم برسوں سے ’’جنریشن گیپ‘‘ کی بات کرتے آئے ہیں، مگر آج یہ فاصلہ صرف دو نسلوں کے درمیان نہیں رہ گیا۔ زندگی اتنی تیزی سے بدل رہی تھی کہ کبھی پانچ سال کا عمر کا فرق بھی دو انسانوں کے تجربات، ترجیحات اور زندگی کے تصور میں نمایاں فرق پیدا کردیتاہے۔
میرے دوست کے دونوں بیٹوں  کی عمر میں بھی تقریباً پانچ سال کا فرق تھا۔
بڑے بھائی نے جس ماحول میں جوانی دیکھی تھی، وہاں ایک آمدنی پر گھر چلانا، شوہر کا کمانا اور بیوی کا گھر سنبھالنا ایک عام خاندانی تصور تھا۔ چھوٹے بھائی کے زمانے تک معاشی حالات بدل چکے تھے۔ مہنگائی بڑھی، اخراجات میں اضافہ ہوا، خواتین کی پیشہ ورانہ شمولیت عام ہوئی اور مالی خودمختاری نے خاندانی زندگی کے بارے میں سوچنے کا انداز بدل دیا۔
چنانچہ بھائیوں کے درمیان عمر کا فرق صرف پانچ سال تھا، مگر ان کے تجربات اور ترجیحات کے درمیان فاصلہ کہیں زیادہ تھا۔
دونوں بہوئیں بھی اسی تبدیلی کی نمائندہ تھیں۔ ایک نے گھر اور بچوں کو اپنی زندگی کا مرکز بنایا تھا، دوسری نے گھر کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ شناخت کو بھی برقرار رکھا تھا۔ دونوں کے انتخاب اپنی جگہ قابلِ احترام تھے۔
ہم اکثر دوسروں کی زندگی کا حاصل دیکھتے ہیں، اس کی قیمت نہیں۔
چھوٹی بہو کی ملازمت اور آمدنی دکھائی دیتی تھی، مگر اس کے پیچھے دفتر کی ذمہ داریاں، وقت کی کمی، ذہنی دباؤ اور گھر و ملازمت کے درمیان توازن قائم رکھنے کی مسلسل کوشش بھی موجود تھی۔
دوسری طرف بڑی بہو کی گھریلو زندگی بظاہر آسودہ دکھائی دیتی تھی، مگر اس کے پیچھے برسوں کی محنت، بچوں کی پرورش، خاندان کی خدمت اور اپنی خواہشات کو پیچھے رکھنے کی قیمت بھی موجود تھی۔ اب اگر اسے مالی خودمختاری کی کمی محسوس ہوتی تھی تو اس احساس کو محض حسد یا شکایت کہہ دینا بھی ناانصافی ہوتی۔
خواہش اپنی جگہ فطری عمل ہے۔ اپنی شناخت، مالی خودمختاری اور اپنے لیے کچھ کرنے کی خواہش بھی انسانی ضرورت ہوسکتی ہے۔ اسی طرح گھر، بچوں اور خاندان کو اپنی زندگی کی ترجیح بنانا بھی کوئی کمتر انتخاب نہیں۔
مسئلہ انتخاب میں نہیں تھا؛ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے انتخاب کو دوسرے کے انتخاب سے ناپنے لگتا ہے۔
زندگی کا المیہ یہ ہے کہ ہمیں اکثر دوسرے کا حاصل دکھائی دیتا ہے، اس کی قیمت نہیں۔  کسی گھر میں اختلاف پیدا ہو تو فوراً یہ طے کرنا ضروری نہیں کہ غلط کون ہےا۔ کبھی یہ سمجھنا زیادہ ضروری ہوتا ہے کہ کون کس احساس کے ساتھ کھڑا ہے۔
بڑی بہو شاید اپنے گزرے ہوئے فیصلے کا بوجھ محسوس کررہی تھی۔ شوہر شاید یہ سمجھ رہا تھا کہ اس نے کبھی اس پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا۔ چھوٹی بہو شاید اپنی ملازمت کو حق سمجھتی تھی، جبکہ بڑی بہو کو اس میں اپنے چھوڑے ہوئے راستے کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔
سب اپنی اپنی جگہ کسی نہ کسی حقیقت کے ساتھ کھڑے تھے۔
شاید اس گھر کو کسی ایک شخص کو قصوروار قرار دینے کے بجائے ایک ایسی گفتگو کی ضرورت تھی جس میں پرانے فیصلوں کا مقدمہ نہ چلایا جاتا، بلکہ موجودہ احساسات کو سمجھا جاتا۔
کیونکہ زندگی میں ہر فیصلہ اپنے وقت کے حالات، معلومات، ضرورتوں اور ترجیحات کے تحت کیا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے بعد ماضی کا فیصلہ نئے حالات کی روشنی میں غلط دکھائی دے سکتا ہے، مگر فیصلہ کرتے وقت انسان کے پاس مستقبل کا علم نہیں ہوتا۔
اسی لیے فیصلہ کرنے سے پہلے رکنا چاہیے، سوچنا چاہیے، شریکِ زندگی سے بات کرنی چاہیے، ممکنہ نتائج پر غور کرنا چاہیے اور جہاں ضروری ہو وہاں یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ آج کا انتخاب کل ہماری شخصیت اور زندگی پر کیا اثر ڈال سکتا ہے۔
لیکن فیصلہ ہوجانے کے بعد ماضی کو بار بار کریدتے رہنا بھی دانش مندی نہیں۔ انسان ماضی کو تبدیل نہیں کرسکتا، البتہ ماضی کے ساتھ اپنے تعلق کو ضرور بدل سکتا ہے۔
 زندگی کا سلیقہ یہی ہے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے عقل، تجربے اور مشورے سے کام لیا جائے؛ لیکن فیصلہ ہوجانے کے بعد اسے مسلسل پچھتاوے کی سزا نہ بنایا جائے۔
 ڈینش مفکر سورن کیرکیگارڈ  1813–1855) نے زندگی کے اسی تضاد کو ایک مختصر مگر گہری بات میں سمیٹ دیا تھا
“زندگی کو صرف پیچھے مڑ کر سمجھا جاسکتا ہے، لیکن اسے آگے کی طرف بڑھتے ہوئے جینا پڑتا ہے۔”


جمعہ، 11 ستمبر، 2026

یمن اور سعودی عرب: پڑوسی، حریف یا ناگزیر ساتھی؟




اگر یمن اور سعودی عرب کے تعلقات کو محض موجودہ حوثی جنگ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس تعلق کی تاریخی پیچیدگی

 نظرانداز ہوجاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان رشتہ سرحد، سلامتی، قبائلی تعلقات، معاشی مفادات، علاقائی سیاست اور ایران کے اثر و رسوخ کے کئی دھاگوں سے بنا ہے۔ موجودہ کشیدگی اسی طویل تاریخ کا تازہ ترین باب ہے۔

یمن اور سعودی عرب: پڑوسی، حریف یا ناگزیر ساتھی؟

یمن اور سعودی عرب دو ایسے پڑوسی ہیں جنہیں جغرافیہ نے ایک دوسرے سے جدا ہونے کے بجائے ایک دوسرے سے باندھ رکھا ہے۔ سعودی عرب کی جنوبی سرحد یمن سے ملتی ہے، جبکہ یمن بحیرۂ احمر، خلیجِ عدن اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کے دہانے پر واقع ہے۔ اس لیے ریاض کے لیے یمن محض ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ اس کی قومی سلامتی کا براہِ راست حصہ ہے۔ دوسری طرف یمن کے لیے سعودی عرب ایک طاقتور ہمسایہ، معاشی مرکز اور سیاسی اثر رکھنے والی علاقائی قوت ہے۔

دونوں ملکوں کے تعلقات کی بنیاد دوستی سے زیادہ ضرورت پر رہی ہے۔ 1934 میں دونوں کے درمیان جنگ ہوئی اور اسی سال طائف معاہدے نے تعلقات کو ایک عارضی بنیاد فراہم کی۔ بعد کے عشروں میں سرحدی تنازعات ختم نہ ہوسکے۔ بالآخر 12 جون 2000 کو جدہ میں ہونے والے بین الاقوامی سرحدی معاہدے نے دونوں ملکوں کی زمینی سرحد کے دیرینہ تنازع کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی۔ 

لیکن سرحد کا مسئلہ حل ہونے کے باوجود ایک بڑا سوال باقی رہا: یمن میں اقتدار کس کے ہاتھ میں ہو؟

یہ سوال اس لیے اہم تھا کہ سعودی عرب ایک مستحکم اور ایسا یمن چاہتا تھا جو اس کی جنوبی سرحد کے لیے خطرہ نہ بنے۔ یمن میں کمزور مرکزی حکومت، قبائلی تقسیم اور مسلسل سیاسی بحران نے سعودی پالیسی کو ہمیشہ محتاط رکھا۔ ریاض نے مختلف ادوار میں یمنی حکومتوں کے ساتھ تعاون بھی کیا اور یمن کی داخلی سیاست میں اثر و رسوخ بھی استعمال کیا۔

1990 کی خلیجی جنگ نے اس تعلق کو شدید دھچکا پہنچایا۔ یمن کے اس وقت کے صدر علی عبداللہ صالح نے عراق کے کویت پر حملے کے معاملے میں ایسا موقف اختیار کیا جس سے سعودی عرب اور یمن کے تعلقات میں سخت کشیدگی پیدا ہوئی۔ سعودی عرب میں موجود بڑی تعداد میں یمنی کارکنوں کی واپسی نے یمن کی معیشت پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ یوں دونوں ملکوں کے تعلقات میں یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ سیاسی اختلاف صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہتا بلکہ عام یمنی شہری کی زندگی تک پہنچ سکتا ہے۔

پھر 2014 آیا، جب حوثی تحریک نے صنعاء پر قبضہ کرلیا۔ یمن کا بحران داخلی سیاسی تنازع سے بڑھ کر علاقائی طاقتوں کی کشمکش بن گیا۔ سعودی عرب نے حوثیوں کو اپنے لیے ایک ایسا خطرہ سمجھا جس میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا عنصر بھی شامل تھا۔ مارچ 2015 میں سعودی قیادت میں عسکری اتحاد نے یمن میں مداخلت کی۔ مقصد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو سہارا دینا اور حوثیوں کی پیش قدمی روکنا تھا۔ 

مگر جنگ نے سعودی عرب کو وہ آسان فتح نہیں دی جس کی توقع ابتدائی مرحلے میں کی جاسکتی تھی۔ یمن کا دشوار جغرافیہ، قبائلی سیاست، مختلف مسلح گروہوں کے باہمی اختلافات اور حوثیوں کی گوریلا جنگ نے تنازع کو طویل کردیا۔ سعودی عرب کے لیے مسئلہ صرف حوثی نہیں رہے؛ جنوبی یمن میں علیحدگی پسند قوتیں، القاعدہ اور مختلف مقامی دھڑے بھی اس بحران کو مزید پیچیدہ بناتے رہے۔

یہاں ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے: یمن کو صرف فوجی طاقت سے قابو نہیں کیا جاسکتا۔

سعودی عرب دنیا کی بڑی فوجی اور معاشی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے، لیکن یمن کی جنگ نے ثابت کیا کہ فوجی برتری اور سیاسی فتح دو مختلف چیزیں ہیں۔ ایک ریاست کسی علاقے پر بمباری کرسکتی ہے، سرحد محفوظ کرسکتی ہے اور مخالف کے عسکری ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے، لیکن وہ محض طاقت کے ذریعے ایک منقسم معاشرے میں پائیدار سیاسی نظم پیدا نہیں کرسکتی۔

اسی لیے 2022 کی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب نے براہِ راست عسکری تصادم کے بجائے مذاکرات کی طرف بھی قدم بڑھایا۔ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ہوئیں اور عمان نے بھی ثالثی میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن یہ امن مکمل سیاسی تصفیے میں تبدیل نہیں ہوسکا۔

اور اب 2026 میں صورتحال ایک بار پھر خطرناک رخ اختیار کر رہی ہے۔ ستمبر 2026 میں حوثیوں کی نئی پیش قدمی، سعودی سرحد اور اہداف پر حملوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی قوتوں کی جوابی کارروائی نے برسوں سے قائم نازک توازن کو شدید متاثر کیا ہے۔ باب المندب کی اہمیت اس بحران کو محض سعودی-یمنی تنازع نہیں رہنے دیتی؛ یہ عالمی تجارت، بحیرۂ احمر اور توانائی کی ترسیل کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ 

یہاں ایران کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سعودی نقطۂ نظر سے حوثیوں کی مضبوطی کا مطلب صرف یمن میں ایک مخالف گروہ کی طاقت نہیں بلکہ جنوبی سرحد کے قریب ایرانی اثر و رسوخ کا بڑھنا بھی ہے۔ دوسری طرف حوثی خود کو محض ایرانی مہرہ قرار دینے کو مسترد کرتے ہیں اور یمنی قومی سیاست، زیدی شناخت اور اپنے داخلی مفادات کو اپنی جدوجہد کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ اس لیے یمن کے بحران کو صرف سعودی عرب بمقابلہ ایران کہنا بھی حقیقت کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دینا ہوگا۔

اصل المیہ یہ ہے کہ اس کشمکش کی قیمت یمنی عوام ادا کررہے ہیں۔ ایک غریب ملک طویل جنگ، بے گھر ہونے، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے اور انسانی بحران کا شکار ہے۔ جنگ نے یمن کی ریاست کو کمزور کیا، معیشت کو تباہ کیا اور معاشرے کو مزید تقسیم کردیا۔

سعودی عرب کے لیے بھی یہ جنگ ایک سبق ہے۔ جنوبی سرحد پر مستقل امن صرف سرحد پار فوجی طاقت سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اسے ایک ایسے سیاسی حل کی ضرورت ہے جس میں یمن کی مختلف قوتوں کو قابلِ قبول سیاسی نظام میں جگہ ملے، سعودی سلامتی کی ضمانت ہو اور یمن کو کسی دوسری علاقائی طاقت کا میدانِ جنگ بننے سے روکا جائے۔

یمن کے لیے بھی حقیقت تلخ ہے۔ سعودی عرب کو مکمل طور پر نظرانداز کرکے پائیدار استحکام حاصل کرنا مشکل ہے، لیکن سعودی سرپرستی پر مکمل انحصار بھی یمن کی خودمختاری کا متبادل نہیں ہوسکتا۔

اس لیے مستقبل کا راستہ نہ سعودی غلبے میں ہے، نہ حوثی عسکری فتح میں اور نہ ایرانی اثر و رسوخ کے پھیلاؤ میں۔ راستہ ایک ایسے یمنی سیاسی سمجھوتے سے نکلتا ہے جس میں طاقت بندوق سے پارلیمان، مقامی حکومت اور سیاسی مذاکرات کی طرف منتقل ہو۔

یمن اور سعودی عرب کا جغرافیہ انہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہونے دے گا۔ سوال یہ نہیں کہ دونوں ایک دوسرے سے دور رہ سکتے ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کے ذریعے رہیں گے یا ایک دوسرے کی سلامتی کو تسلیم کرتے ہوئے امن کے ذریعے؟

موجودہ بحران کا اصل فیصلہ میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اسی سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے۔

زمین ، زر اور زردار



زمین، زر اور زردار

کسی ملک کی معیشت کا اصل چہرہ اس کے بینک بیلنس، بلند عمارتوں یا ارب پتیوں کی تعداد نہیں؛ اس کے عام آدمی کی زندگی ہے۔ اگر قومی دولت بڑھ رہی ہو لیکن عوام کی قوتِ خرید کم ہوتی جائے، نوجوان کے لیے روزگار اور متوسط طبقے کے لیے اپنا گھر خواب بنتا جائے تو سوال صرف یہ نہیں کہ معیشت کتنی بڑھی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ اس ترقی کا فائدہ کس کو پہنچا؟

ڈاکٹر محبوب الحق نے 1990ء میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی پہلی انسانی ترقی رپورٹ کے آغاز میں لکھا تھا
“کسی قوم کی اصل دولت اس کے لوگ ہیں۔”
یہ محض ایک خوب صورت جملہ نہیں بلکہ ترقی کے روایتی تصور میں ایک بنیادی تبدیلی تھی۔ محبوب الحق کے نزدیک قومی آمدن اور پیداوار اہم ضرور ہیں، مگر معیشت کا حتمی مقصد انسان کی زندگی بہتر بنانا ہے؛ اسے تعلیم، صحت، روزگار، مواقع اور باوقار زندگی فراہم کرنا ہے۔

اسی لیے صرف شرحِ نمو کو ترقی کا پیمانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ اگر قومی آمدن بڑھے مگر عام آدمی کی قوتِ خرید گھٹ جائے، روزگار غیر یقینی ہو، تعلیم اور علاج مہنگے ہوجائیں اور اپنا گھر خریدنا اس کی استطاعت سے باہر نکل جائے تو معاشی اعداد و شمار خوش حالی کی مکمل تصویر نہیں دیتے۔

زمین اس تضاد کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ جائیداد کی قیمت بڑھتی ہے تو مالک کی دولت بڑھ جاتی ہے، مگر اسی شہر میں ایک نوجوان کے لیے گھر خریدنا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح سرمایہ اس وقت حقیقی قومی دولت بنتا ہے جب وہ صنعت، ٹیکنالوجی، پیداوار اور روزگار پیدا کرے۔ غیر پیداواری اثاثوں میں گردش کرتا سرمایہ دولت کی قیمت تو بڑھا سکتا ہے، معیشت کی پیداواری قوت نہیں۔

مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی شخص دولت مند کیوں ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دولت کیسے پیدا ہورہی ہے اور اس کے مواقع کتنے لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔ صحت مند معیشت وہ ہے جس میں سرمایہ  پیداوار کو بڑھائے، کاروبار روزگار پیدا کرے، مسابقت قائم رہے اور عام شہری کے لیے آگے بڑھنے کے راستے کھلے ہوں۔

پاکستان میں معاشی کامیابی کا پیمانہ بھی اسی بنیاد پر بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ شرحِ نمو کتنی ہے یا قومی آمدن میں کتنا اضافہ ہوا؛ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ عام آدمی کی قوتِ خرید کتنی باقی رہی، کتنے نوجوانوں کو باعزت روزگار ملا اور کتنے خاندان اپنے گھر کا خواب پورا کرسکے۔

کیونکہ آخرکار معیشت کا حساب قومی خزانے میں نہیں، انسان کی زندگی میں ہوتا ہے۔
اور اس زندگی کا سب سے پہلا امتحان گھر اور باورچی خانے میں ہوتا ہے۔ جب گھر بنانا دور کا خواب بن جائے اور باورچی خانہ چلانا روزمرہ جدوجہد کا محور، تو معاشی ترقی کے بڑے بڑے دعوے عام آدمی کے لیے بے معنی ہوجاتے ہیں۔

زمین ہماری دولت ہے، زر ہماری ضرورت ہے اور زردار معیشت کا حصہ ہیں؛ مگر قوم کی اصل دولت اس کے لوگ ہیں۔

مگر پاکستانی انسان کی زندگی کیسے کٹ رہی ہے۔
بقول غالب 
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

منگل، 8 ستمبر، 2026

نئے تجربے کا پرانا مشورہ



نئے تجربے کا پرانا مشورہ

سہیل وڑائچ صاحب ملک کے قابلِ احترام، باخبر اور تجربہ کار صحافی ہیں۔  دہائیوں سے پاکستانی سیاست اور ریاستی معاملات کو قریب سے دیکھنے والے شخص کی حیثیت سے ان کی آرا یقیناً سنجیدہ غور و فکر کی مستحق ہیں۔ سانحہ پمز کے تناظر میں انہوں نے انتظامی اصلاح کے حوالے سے جو تجاویز پیش کی ہیں، ان کا بنیادی مقصد بھی یہی دکھائی دیتا ہے کہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں اور اسلام آباد کا انتظامی نظام زیادہ مؤثر بنایا جائے۔ اس مقصد سے اختلاف کی گنجائش کم ہے؛ اختلاف صرف اس سوال پر ہے کہ اس مقصد کے حصول کا بہترین انتظامی راستہ کیا ہونا چاہیے؟

سانحہ پمز ایک قومی المیہ ہے۔ اس نے اداروں کے درمیان رابطے، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری، ذمہ داری کے تعین اور انتظامی جواب دہی کے کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ ایسے واقعات کے بعد اصلاحات ناگزیر ہوتی ہیں، لیکن اصلاح کا پہلا اصول یہ ہونا چاہیے کہ پہلے موجودہ نظام کی کمزوریوں کی درست تشخیص کی جائے، پھر یہ طے کیا جائے کہ خرابی کہاں ہے اور اسے دور کرنے کے لیے کس سطح پر تبدیلی درکار ہے۔

سہیل وڑائچ صاحب نے اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاح، مزید خودمختاری، سی ڈی اے کو اضافی اختیارات، بعض سرکاری اداروں کو ایک انتظامی چھتری تلے لانے اور ماضی کے مقامی حکومتوں کے تجربے سے استفادہ کرنے جیسی تجاویز دی ہیں۔ ان میں کئی نکات قابلِ غور ہیں، خصوصاً مقامی سطح پر اختیار اور انتظامی رابطے کو بہتر بنانے کی ضرورت سے شاید ہی کوئی اختلاف کرے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اختیار کو ایک ادارے میں مزید مرتکز کرنا واقعی انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کا مؤثر طریقہ ہوگا؟

مثلاً سی ڈی اے کو اگر شہری منصوبہ بندی، ترقی، سڑکوں اور شہری سہولتوں کے ساتھ اسکولوں اور اسپتالوں کی ذمہ داریاں بھی دے دی جائیں تو ممکن ہے انتظامی رابطہ کسی حد تک آسان ہوجائے، لیکن اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ ایک ادارے پر اس کی بنیادی استعداد سے زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوجائیں۔ صحت اور تعلیم اپنے الگ تقاضے رکھتے ہیں؛ ان کے لیے ماہر افرادی قوت، مخصوص انتظامی ڈھانچہ، پیشہ ورانہ نگرانی اور الگ جواب دہی درکار ہوتی ہے۔

اسی طرح اسلام آباد کو زیادہ خودمختاری دینے کی تجویز اصولی طور پر قابلِ بحث نہیں بلکہ قابلِ غور ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ اختیار کس کو منتقل کیا جائے۔ اگر مقصد منتخب مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا ہے تو یہ جمہوری اور انتظامی دونوں اعتبار سے ایک مثبت قدم ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر اختیار ایک غیر منتخب سرکاری ادارے سے دوسرے غیر منتخب ادارے کو منتقل ہو تو اسے عوامی خودمختاری کہنا مشکل ہوگا؛ یہ محض انتظامی مرکزیت کی ایک نئی شکل بن سکتی ہے۔

مختلف محکموں کو ایک انتظامی چھتری تلے لانے کے بجائے ان کے درمیان مضبوط رابطے کا نظام بھی ایک متبادل راستہ ہوسکتا ہے۔ صحت کا محکمہ صحت کی ذمہ داری پوری کرے، تعلیم کا محکمہ تعلیم کی، پولیس امن و امان کی، ریسکیو ہنگامی حالات کی اور سی ڈی اے شہری ترقی کی۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ بحران کی صورت میں ان اداروں کے درمیان رابطہ فوری، واضح اور مؤثر ہو، ذمہ داریاں پہلے سے متعین ہوں اور ناکامی کی صورت میں جواب دہی بھی واضح ہو۔

وزیرِ صحت یا کسی اعلیٰ افسر کی باقاعدہ موجودگی یقیناً نگرانی اور احساسِ ذمہ داری کو بہتر بنا سکتی ہے، لیکن مستقل اصلاح کسی ایک شخصیت کی موجودگی سے نہیں بلکہ ایسے نظام سے آتی ہے جو شخصیتوں سے بالاتر ہو۔ اچھے نظام میں وزیر موجود ہو تو بھی کام ہوتا ہے اور وزیر موجود نہ ہو تو بھی۔

ماضی کے ضلعی حکومتوں کے تجربے سے بھی بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی کا تصور اپنی جگہ اہم تھا، لیکن اس نظام کی خامیوں نے بھی یہ ثابت کیا کہ صرف ڈھانچہ تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اصل کامیابی اس وقت آتی ہے جب اختیار، وسائل، ذمہ داری اور جواب دہی ایک ہی سطح پر متوازن ہوں۔

شاید پاکستان کا سب سے بڑا انتظامی مسئلہ یہی ہے کہ ہم اصلاح کے بجائے اکثر نئے تجربے کی طرف چلے جاتے ہیں۔ ایک نظام کی خامیوں کو دور کرنے کے بجائے دوسرا نظام لے آتے ہیں۔ پھر کچھ عرصے بعد اس کی خامیاں سامنے آتی ہیں اور ایک نیا ماڈل تجویز کردیا جاتا ہے۔ ہمیں اب نظام بدلنے سے زیادہ نظام کو درست طور پر چلانے پر توجہ دینا ہوگی۔

یہاں عوام کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستانی عوام کو سیاسی اور انتظامی شعور سے محروم سمجھنا درست نہیں۔ وہ اپنے علاقے کے اسکول، اسپتال، سڑک، پانی اور صفائی کے مسائل کو بخوبی سمجھتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے نے کیا وعدہ کیا تھا اور کیا پورا کیا۔ اس لیے مقامی مسائل کا بہترین حل یہی ہے کہ جہاں ممکن ہو، فیصلہ سازی اور وسائل عوام کے منتخب نمائندوں کے قریب لائے جائیں اور انہیں براہِ راست عوام کے سامنے جواب دہ بنایا جائے۔

پاکستان نے آٹھ دہائیوں میں بہت سے انتظامی تجربات کیے ہیں۔ اب شاید وقت آگیا ہے کہ ہم ہر مسئلے کا جواب ایک نئے ادارے، نئی اتھارٹی یا نئے ماڈل میں تلاش کرنے کے بجائے موجودہ اداروں کی استعداد، رابطے اور جواب دہی کو بہتر بنائیں۔ سی ڈی اے کو مزید اختیارات دینا ایک ممکنہ راستہ ہوسکتا ہے، مگر اسے واحد یا لازمی حل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ زیادہ پائیدار راستہ یہ ہے کہ ہر ادارہ اپنی ذمہ داری پوری کرے، اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ہو، مقامی حکومتیں بااختیار ہوں اور منتخب نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔
آخرکار مسئلہ کسی ایک ادارے یا کسی ایک انتظامی ماڈل کا نہیں؛ مسئلہ حکمرانی کے اس اصول کا ہے کہ اختیار جہاں ہو، ذمہ داری بھی وہیں ہو اور جواب دہی بھی وہیں ہو۔ پاکستان کو اب تجربات سے زیادہ تسلسل، نعروں سے زیادہ نظام اور مرکزیت سے زیادہ عوامی اختیار کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک اور انتظامی تجربے کو مسترد کرنے کے بجائے ہر تجویز کو اس کی عملی افادیت کے پیمانے پر پرکھنا چاہیے—اور جہاں اختیار عوام تک منتقل کرنے، اداروں کو مؤثر بنانے اور جواب دہی یقینی بنانے کا راستہ نکلتا ہو، اسے اختیار کرنا چاہیے۔